- شمولیت
- اپریل 27، 2013
- پیغامات
- 26,588
- ری ایکشن اسکور
- 6,779
- پوائنٹ
- 1,207
مسلح کشاکش
ہجرت کے بعد مسلمانوں کے خلاف قریش کی فتنہ خیزیاں اور عبد اللہ بن اُبی سے نامہ و پیام
پچھلے صفحات میں بتایا جا چکا ہے کہ کفارِ مکہ نے مسلمانوں پر کیسے کیسے ظلم و ستم کے پہاڑ توڑے تھے اور جب مسلمانوں نے ہجرت شروع کی تو ان کے خلاف کیسی کیسی کارروائیاں کی تھیں جن کی بنا پر وہ مستحق ہو چکے تھے کہ ان کے اموال ضبط کر لیے جائیں اور ان پر بزن بول دیا جائے۔ مگر اب بھی ان کی حماقت کا سلسلہ بند نہ ہوا اور وہ اپنی ستم رانیوں سے باز نہ آئے بلکہ یہ دیکھ کر ان کا جوشِ غضب اور بھڑک اُٹھا کہ مسلمان ان کی گرفت سے چھوٹ نکلے ہیں اور انہیں مدینے میں ایک پُر امن جائے قرار مل گئی ہے۔ چنانچہ انہوں نے عبد اللہ بن اُبی کو...جو ابھی تک کھلم کھلا مشرک تھا...اس کی حیثیت کی بنا پر ایک دھمکی آمیز خط لکھا کہ وہ انصار کا سردار ہے۔ کیونکہ انصار اس کی سربراہی پر متفق ہو چکے تھے اور اگر اسی دوران رسول اللہ ﷺ کی تشریف آوری نہ ہوئی ہوتی تو اس کو بادشاہ بھی بنا لیے ہوتے ...مشرکین نے اس خط میں عبد اللہ بن اُبیّ اور اس کے مشرک رفقاء کو مخاطب کرتے ہوئے دوٹوک لفظوں میں لکھا :
''آپ لوگوں نے ہمارے آدمی کو پناہ دے رکھی ہے، اس لیے ہم اللہ کی قسم کھا کر کہتے ہیں کہ یا تو آپ لوگ اس سے لڑائی کیجیے یا اسے نکال دیجیے یا پھر ہم اپنی پوری جمعیت کے ساتھ آپ لوگوں پر یورش کر کے آپ کے سارے مردانِ جنگی کو قتل کر دیں گے اور آپ کی عورتوں کی حرمت پامال کر ڈالیں گے۔'' (ابوداؤد: باب خبر النضیر ۲/۱۵۴)
اس خط کے پہنچتے ہی عبد اللہ بن اُبیّ مکے کے اپنے ان مشرک بھائیوں کے حکم کی تعمیل کے لیے اٹھ پڑا۔ اس لیے کہ وہ پہلے ہی سے نبی ﷺ کے خلاف رنج اور کینہ لیے بیٹھا تھا کیونکہ اس کے ذہن میں یہ بات بیٹھی ہوئی تھی کہ آپ ﷺ ہی نے اس سے بادشاہت چھینی ہے، چنانچہ جب یہ خط عبد اللہ بن اُبی اور اس کے بت پرست رفقاء کو موصول ہوا تو وہ رسول اللہ ﷺ سے جنگ کے لیے جمع ہو گئے۔ جب نبی ﷺ کو اس کی خبر ہوئی تو آپ ﷺ ان کے پاس تشریف لے گئے اور فرمایا: ''قریش کی دھمکی تم لوگوں پر بہت گہرا اثر کر گئی ہے تم خود اپنے آپ کو جتنا نقصان پہنچا دینا چاہتے ہو قریش اس سے زیادہ تم کو نقصان نہیں پہنچا سکتے تھے۔ تم اپنے بیٹوں اور