• الحمدللہ محدث فورم کو نئےسافٹ ویئر زین فورو 2.1.7 پر کامیابی سے منتقل کر لیا گیا ہے۔ شکایات و مسائل درج کروانے کے لئے یہاں کلک کریں۔
  • آئیے! مجلس التحقیق الاسلامی کے زیر اہتمام جاری عظیم الشان دعوتی واصلاحی ویب سائٹس کے ساتھ ماہانہ تعاون کریں اور انٹر نیٹ کے میدان میں اسلام کے عالمگیر پیغام کو عام کرنے میں محدث ٹیم کے دست وبازو بنیں ۔تفصیلات جاننے کے لئے یہاں کلک کریں۔

یہاں امت سے کیا مراد ہے؟

Urdu

رکن
شمولیت
مئی 14، 2011
پیغامات
199
ری ایکشن اسکور
341
پوائنٹ
76
السلام علیکم فورم کے محترم علماء کرام۔
ہمارے ایک دوست نے ایک دفعہ سوال پوچھا کہ نبی ﷺ کی حدیث"بنی اسرائیل 72 فرقوں میں بٹ گئے،میری امت 73 فرقوں میں بٹ جائیگی اور۔۔" کے دائرے میں تو دوسرے مذاہب والوں کو بھی شمار کیا جا سکتا ہے نا،کیو نکہ وہ بھی نبی ﷺ کے امتی ہیں ۔۔؟
براہ کرم اس ناچیز اور کم علم شخص کی رہنمائی فرمائیں۔آپ علماء ہی ہماری امت کے لئے تاریکی میں چراغ کی حیثیت رکھتے ہیں۔جزاک اللہ خیرا
 

کفایت اللہ

عام رکن
شمولیت
مارچ 14، 2011
پیغامات
4,999
ری ایکشن اسکور
9,803
پوائنٹ
773
میرے خیال سے اس حدیث میں مسلم فرقے امت اجابت کے فرقے مراد ہیں نہ کہ کفار ۔
اس کی دلیل اس حدیث کا آخری ٹکڑا ہے جس میں اللہ کے نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ماانا علیہ واصحابی کہا ہے۔
یہ ٹکڑا بتلاتا ہے ہے کہ روئے سخن امت اجابت کی طرف ہے۔

نیز بنواسرائل کے کے جن فرقوں کا ذکر ہے ان کا تعلق بھی اس دور کی امت اجابت سے ہے یعنی وہ گروہ جو اپنے نبی پر ایمان رکھتے تھے وہ 72 فرقوں میں بٹ گئے ۔
اس لئے یہاں بھی مراد امت اجابت ہے۔
 

کفایت اللہ

عام رکن
شمولیت
مارچ 14، 2011
پیغامات
4,999
ری ایکشن اسکور
9,803
پوائنٹ
773
یادرہے کہ ماانا علیہ واصحابی والی روایت کی تاریخ واسط والی سند بالکل صحیح ہے ۔
شیخ زبیر کا اس کی سند کے ایک راوی کو مجہول کہنا درست نہیں کیونکہ دو ائمہ نے اس کی توثیق کی ہے ۔
اس روایت کی تحقیق میں نے اس وقت کی تھی جب جماعت المسلمین والوں سے مناظرہ کیا تھا کبھی وقت نکال کر اس مضمون کو بھی پیش کردیتاہوں۔
 

انس

منتظم اعلیٰ
رکن انتظامیہ
شمولیت
مارچ 03، 2011
پیغامات
4,178
ری ایکشن اسکور
15,357
پوائنٹ
800
السلام علیکم فورم کے محترم علماء کرام۔
ہمارے ایک دوست نے ایک دفعہ سوال پوچھا کہ نبی ﷺ کی حدیث"بنی اسرائیل 72 فرقوں میں بٹ گئے،میری امت 73 فرقوں میں بٹ جائیگی اور۔۔" کے دائرے میں تو دوسرے مذاہب والوں کو بھی شمار کیا جا سکتا ہے نا،کیو نکہ وہ بھی نبی ﷺ کے امتی ہیں ۔۔؟
براہ کرم اس ناچیز اور کم علم شخص کی رہنمائی فرمائیں۔آپ علماء ہی ہماری امت کے لئے تاریکی میں چراغ کی حیثیت رکھتے ہیں۔جزاک اللہ خیرا
وعلیکم السلام ورحمۃ اللہ وبرکاتہ!

اگرچہ بعض علماء - مثلاً امام صنعانی وغیرہ - کی رائے کے مطابق 72 فرقے ’امت دعوت وتبلیغ‘ کے ہیں جبکہ فرقہ ناجیہ ’امتِ اجابت‘ ہے۔ لیکن راجح بات - واللہ اعلم - یہی ہے کہ یہ تمام 73 فرقے ’امت اجابت‘ کے ہیں کیونکہ اس حدیث مبارکہ میں ہے کہ یہ امت اتنے فرقوں بٹ جائیگی۔ گویا یہ ’اس امت اجابت‘ کی بابت (نہ کہ دیگر قوموں کے متعلق) مستقبل کی پیش گوئی ہے۔ علاوہ ازیں اس امت کے 73 فرقوں کا تذکرہ یہود ونصاریٰ کے ساتھ موازنہ کرتے ہوئے کیا گیا اس سے بھی یہی مترشّح ہوتا ہے کہ بات ’امتِ اجابت‘ کی ہو رہی ہے کیونکہ نبی کریمﷺ کے تشریف لانے کے بعد تو یہود ونصاریٰ خود آپ کی ’امت دعوت‘ میں شامل ہیں۔
 
Top