• الحمدللہ محدث فورم کو نئےسافٹ ویئر زین فورو 2.1.7 پر کامیابی سے منتقل کر لیا گیا ہے۔ شکایات و مسائل درج کروانے کے لئے یہاں کلک کریں۔
  • آئیے! مجلس التحقیق الاسلامی کے زیر اہتمام جاری عظیم الشان دعوتی واصلاحی ویب سائٹس کے ساتھ ماہانہ تعاون کریں اور انٹر نیٹ کے میدان میں اسلام کے عالمگیر پیغام کو عام کرنے میں محدث ٹیم کے دست وبازو بنیں ۔تفصیلات جاننے کے لئے یہاں کلک کریں۔

مختصر صحیح بخاری - زین العابدین احمد بن عبداللطیف - حصہ سوم (یونیکوڈ)

Aamir

خاص رکن
شمولیت
مارچ 16، 2011
پیغامات
13,382
ری ایکشن اسکور
17,099
پوائنٹ
1,033
باب۔ جب مشرک لوگ مسلمانوں سے غداری کریں تو کیا (ان کی یہ خطا) ان کو معاف کر دی جائے ؟
(۱۳۴۲)۔ سیدنا ابو ہریرہؓ کہتے ہیں کہ جب خیبر فتح ہوا تو (یہود کی طرف سے) ایک بکری (بھنی ہوئی) جس میں زہر ملا ہوا تھا نبیﷺ کے پاس ہدیہ میں آئی تو نبیﷺ نے فرمایا :'' جس قدر یہودی یہاں ہیں ان کو جمع کرو۔ '' چنانچہ وہ آپﷺ کے سامنے جمع کیے گئے تو آپﷺ نے فرمایا :'' میں تم سے ایک بات پوچھنے والا ہوں تو کیا تم مجھ کو سچ مچ بتا دو گے ؟'' انھوں نے کہا ،جی ہاں ،تو نبیﷺ نے ان سے فرمایا :'' (اچھا بتاؤ) تمہارا باپ کون ہے ؟'' ان لوگوں نے کہا کہ فلاں شخص۔ آپﷺ نے فرمایا'' تم نے جھوٹ کہا تمہارا باپ تو فلاں شخص ہے۔ '' انھوں نے کہا آپﷺ سچ کہتے ہیں۔ آپﷺ نے فرمایا :'' اب ایک اور بات پوچھتا ہوں ، کیا تم مجھے سچ بتاؤ گے ؟ '' انھوں نے کہا ہاں اے ابو القاسم ! اگر ہم جھوٹ بولیں گے تو آپﷺ ہمارا جھوٹ معلوم کر لیں گے جس طرح آپﷺ نے ہمارا جھوٹ ہمارے باپ (کے نام) میں معلوم کر لیا تو آپﷺ نے ان سے پوچھا (بتاؤ) دوزخ والے لوگ کون ہیں ؟'' انھوں نے کہا کہ ہم تو دوزخ میں تھوڑے ہی دن رہیں گے پھر ہمارے بعد تم اس میں جانشین ہو گے۔ نبیﷺ نے فرمایا:'' تم اس میں ذلیل رہو گے۔ اللہ کی قسم ! ہم کبھی اس میں تمہاری جانشینی نہیں کریں گے۔ '' پھر آپﷺ نے فرمایا :'' (اچھا اب) اگر تم کوئی بات پوچھو ں تو کیا سچ بولو گے ؟'' ان لوگوں نے کہا جی ہاں اے ابو القاسم (ﷺ)۔ آپﷺ نے فرمایا :'' کیا تم نے اس بکری میں زہر ملایا تھا ؟'' انھوں نے کہا جی ہاں۔ آپﷺ نے فرمایا :'' تم کو کس چیز نے اس بات پر آمادہ کیا ؟'' تو ان لوگوں نے کہا کہ ہم نے چاہا تھا کہ آپﷺ اگر جھوٹے ہیں تو ہمیں آپﷺ سے نجات مل جائے گی اور اگر آپﷺ نبی ہیں تو یہ آپﷺ کو کوئی نقصان نہ دے گا۔
 

Aamir

خاص رکن
شمولیت
مارچ 16، 2011
پیغامات
13,382
ری ایکشن اسکور
17,099
پوائنٹ
1,033
باب۔ مشرکوں سے مال وغیرہ پر صلح کرنا ، لڑائی چھوڑ دینا (جائز ہے) اور اس شخص کا گناہ بہت سخت ہے جو عہد کو پورا نہ کرے۔
(۱۳۴۳)۔ سیدنا سہل بن ابی حثمہؓ کہتے ہیں کہ عبداللہ بن سہل اور محیصہ بن مسعود بن زید خیبر گئے اور ان دنوں نبیﷺ سے یہودیوں کی صلح تھی۔ پھر وہ دونوں (کسی ضرورت سے) جدا ہو گئے تو پھر محیصہ جو عبداللہ بن سہل کے پاس آئے تو دیکھا کہ وہ اپنے خون میں لت پت ہے ، کسی نے اس کو قتل کر ڈالا خیر محیصہ نے اس کو دفن کیا پھر مدینہ میں آئے۔ عبدالرحمن بن سہل (عبداللہ بن سہل) مقتول کے بھائی اور محیصہ اور ان کے بھائی حوصہ جو مسعود کے بیٹے تھے ، نبیﷺ کے پاس گئے۔ عبدالرحمن نے گفتگو شروع کی تو نبیﷺ فرمایا :'' بڑے کو بولنے دو ، بڑے کو بات کرنے دو۔ '' عبدالرحمن تینوں میں کم سن تھے ، یہ سن کر وہ خاموش ہو گئے ، تب محیصہ اور حویصہ نے گفتگو کی۔ آپﷺ نے فرمایا :'' تم کیا چاہتے ہو ؟'' یا تو قسم کھاؤ کہ عبداﷲ کو فلاں شخص نے مارا ہے اور قاتل پر اپنا حق ثابت کر لو۔ انھوں نے عرض کی کہ ہم کیونکر قسم کھائیں ؟ ہم نے تو آنکھ سے نہیں دیکھا۔ آپﷺ نے فرمایا :'' تو پھر یہودی پچاس قسمیں کھا کر اپنی برأت کر لیں گے۔ '' انھوں نے عرض کی کہ وہ تو کافر ہیں ، ہم ان کی قسموں پر کیسے اعتبار کریں ؟ آخر نبیﷺ نے عبدالرحمن کی دیت اپنے پاس سے ادا کر دی۔ (رضی اللہ عنہ)
 

Aamir

خاص رکن
شمولیت
مارچ 16، 2011
پیغامات
13,382
ری ایکشن اسکور
17,099
پوائنٹ
1,033
باب۔ اگر ذمی جادو کر ے تو کیا اس کو معاف کر دیا جائے ؟
(۱۲۳۴)۔ ام المومنین عائشہؓ کہتی ہیں کہ نبیﷺ پر (ایک مرتبہ) جادو کیا گیا ، یہاں تک کہ آپﷺ کو (اس جادو کے اثر سے) یہ خیال ہوتا تھا کہ آپﷺ نے ایک کام کیا ہے ، حالانکہ وہ کام آپﷺ نے نہ کیا ہوتا۔
 

Aamir

خاص رکن
شمولیت
مارچ 16، 2011
پیغامات
13,382
ری ایکشن اسکور
17,099
پوائنٹ
1,033
باب۔ دغا بازی سے باز رہنا۔
(۱۳۴۵)۔ سیدنا عوف بن مالکؓ کہتے ہیں کہ غزوۂ تبوک میں نبیﷺ کے پاس گیا اور آپﷺ (اس وقت) چمڑے کے ایک خیمے میں تھے تو آپﷺ نے فرمایا:'' چھ باتیں قیامت سے پہلے ہوں گی (ان کو)یاد کر لو۔ (۱) میری موت (۲) پھر فتح بیت المقدس (۳) پھر ایک بیماری جو تم میں اس طرح پھیلے گی جیسے بکریوں میں طاعون کی (بیماری پھیلتی ہے) (۴) پھر مال کا بکثرت ہونا یہاں تک کہ اگر کسی شخص کو سواشرفیاں دی جائیں گی تب بھی وہ ناخوش رہے گا۔ (۵)پھرا یک فتنہ ہو گا کہ عرب کا کوئی گھر ایسا نہ ہو گا کہ جس میں وہ داخل نہ ہو۔ (۶)پھر ایک صلح تمہارے عیسائیوں کے درمیان ہو گی اور وہ بے وفائی کریں گے اور اسّی جھنڈے لیے تم سے لڑنے آئیں گے اور ہر جھنڈ ے کے نیچے بارہ ہزار آدمی ہوں گے (یعنی نو لا کھ ساٹھ ہزار فوج۔ مجاہدو !خوشخبری ہے تمہارے لیے کہ آخری پیشین گوئی ابھی باقی ہے)
 

Aamir

خاص رکن
شمولیت
مارچ 16، 2011
پیغامات
13,382
ری ایکشن اسکور
17,099
پوائنٹ
1,033
باب۔ اس شخص کا گناہ جس نے عہد کیا پھر عہد شکنی کی۔
(۱۳۴۶)۔ سیدنا ابو ہریرہؓ سے روایت ہے کہ انھوں نے (ایک مرتبہ لوگوں سے) کہا کہ تمہارا کیا حال ہو گا جب جزیہ کی آمدنی میں سے ایک اشرفی یا ایک روپیہ بھی تم کو نہ ملے گا ؟ کسی نے پوچھا کہ اے ابو ہریرہ ! تم کیا سمجھتے ہو ، ایسا کیونکر ہو گا ؟ انھوں نے کہا ہاں ! قسم ہے اس کی جس کے ہاتھ میں ابو ہریرہ(رضی اللہ عنہ)کی جان ہے کہ صادق و مصدوقﷺ کے فرمانے سے (میں جانتا ہوں) لوگوں نے پوچھا کہ یہ کس سبب سے ہو گا ؟ انھوں نے کہا کہ اللہ اور اس کے رسولﷺ کے ذمہ کی بے حرمتی کی جائے گی (مسلمان دغا بازی کریں گے) پس اللہ تعالیٰ ذمیوں کے دل مضبوط کر دے گا اور وہ جزیہ نہ دیں گے۔
 

Aamir

خاص رکن
شمولیت
مارچ 16، 2011
پیغامات
13,382
ری ایکشن اسکور
17,099
پوائنٹ
1,033
باب۔ نیک یا گنہگار سے عہد شکنی کرنے والوں کا گناہ۔
(۱۳۴۷)۔ سیدنا عبد اللہ اور سیدنا انسؓ نبیﷺ سے روایت کرتے ہیں کہ آپﷺ نے فرمایا :'' قیامت کے دن ہر دغا باز کے لیے ایک جھنڈا ہو گا۔ '' ایک راوی کہتے ہیں :'' وہ جھنڈا نصب کیا جائے گا اور دوسرے کہتے ہیں کہ '' وہ قیامت کے دن دکھایا جائے گا جس سے وہ پہچان لیا جائے گا کہ یہ بندہ دغا باز تھا۔ ''
 

Aamir

خاص رکن
شمولیت
مارچ 16، 2011
پیغامات
13,382
ری ایکشن اسکور
17,099
پوائنٹ
1,033
آغاز تخلیق کا بیان

باب۔ اللہ تعالیٰ کا (سورۂ روم میں) فرمانا '' وہی ہے جو پہلی بار مخلوق کو پیدا کرتا ہے پھر اسے دوبارہ پیدا کر ے گا۔ ''
(۱۳۴۹)۔ سیدنا عمران بن حصینؓ کہتے ہیں کہ بنی تمیم کے کچھ لو گ نبیﷺ کے پاس آئے تو آپﷺ نے ان سے فرمایا :'' اے بنی تمیم (کے لوگو) ! خوش ہو جاؤ۔ '' انھوں نے کہا کہ آپﷺ نے ہمیں بشارت دی اب (کچھ مال بھی) ہمیں دیجیے پس رسول اللہﷺ کے چہرہ مبارک کا رنگ بدل گیا پھر آپﷺ کے پاس یمن کے لوگ آئے تو آپﷺ نے فرمایا :'' اے اہل یمن ! تم بشارت کو قبول کر و کیونکہ اس کو بنی تمیم (کے لوگوں) نے قبول نہیں کیا۔ '' انھوں نے کہا کہ ہم نے قبول کیا۔ پھر نبیﷺ ابتدائے آفرینش اور عرش کی باتیں کرنے لگے۔ اتنے میں ایک شخص آیا اور اس نے (مجھ سے) کہا کہ اے عمران ! تمہاری اونٹنی کھل گئی ہے (اس کو جا کر پکڑ و۔ میں اٹھ کر چلا گیا مگر میرے دل میں یہ حسرت رہ گئی کہ) کا ش میں نہ اٹھتا۔

(۱۳۴۹)۔ سیدنا عمر ان بن حصینؓ ایک روایت میں کہتے ہیں کہ نبی کریمﷺ نے فرمایا :'' اللہ تھا اور اس کے سوا کچھ نہ تھا اور اس کا عرش پانی پر تھا اور لوح محفوظ میں اس نے ہر چیز لکھ دی تھی اور اس نے آسمان اور زمین کو پیدا کیا۔۔۔۔ '' پھر ایک شخص نے آواز دی کہ اے ابن حصین ! تمہاری اونٹنی کھل گئی تو میں چلا گیا مگر وہ اونٹنی اب سراب (یعنی وہ ریت جو دھوپ میں پانی کی طرح چمکتی ہے) سے آگے جاچکی تھی مگر اللہ کی قسم ! میں یہ چاہتا تھا کہ کا ش ! میں اس اونٹنی کو چھوڑ دیتا او روہاں سے نہ اٹھتا۔

(۱۳۵۰)۔ سیدنا ابو ہریرہؓ کہتے ہیں کہ رسول اللہﷺ نے فرمایا :'' اللہ عزوجل فرماتا ہے کہ ابن آدم مجھے گالی دیتا ہے ، اسے زیبا نہیں کر وہ مجھے گالی دے اور میری تکذیب کرتا ہے حالانکہ اسے زیبا نہیں۔ اس کا گالی دینا ، اس کا یہ قول ہے۔ کہ اللہ کی اولاد ہے اور تکذیب ، اس کا یہ کہنا ہے کہ اللہ مجھے پھر زندہ نہ کرے گا جیسے اس نے مجھے پیدا کیا تھا۔ ''

(۱۳۵۱)۔ سیدنا ابو ہریرہؓ کہتے ہیں کہ رسول اللہﷺ نے فرمایا :'' جب اللہ تعالیٰ مخلوق کو پیدا کر چکا تو اس نے اپنی کتاب میں لکھ دیا اور وہ کتاب اس کے پاس عرش کے اوپر ہے۔ کہ میری رحمت میرے غضب پر غالب ہے۔ ''
 

Aamir

خاص رکن
شمولیت
مارچ 16، 2011
پیغامات
13,382
ری ایکشن اسکور
17,099
پوائنٹ
1,033
باب۔ سات زمینوں کے بارے میں کیا وارد ہوا ہے ؟
(۱۳۵۲)۔ سیدنا ابو بکرؓ نبیﷺ سے روایت کرتے ہیں کہ آپﷺ نے فرمایا :'' زمانہ گھوم پھر کر اسی حالت پر آگیا جیسے اس دن تھا کہ جس دن اللہ نے آسمانوں کو اور زمین کو پیدا کیا تھا۔ سال بارہ مہینے کا ہوتا ہے ، اس میں سے چار مہینے حرام ہیں تین تو پے درپے ہیں ،ذی قعدہ ،ذوالحجہ ، محرم اور (چوتھا) رجب مضر، (مضر قبیلہ کے کافر اس کی بہت تعظیم کرتے تھے) جو جمادی الثانی اور شعبان کے درمیان ہوتا ہے۔ ''
 

Aamir

خاص رکن
شمولیت
مارچ 16، 2011
پیغامات
13,382
ری ایکشن اسکور
17,099
پوائنٹ
1,033
باب۔ (سورۂ رحمن کی) آیت '' سورج اور چاند (مقررہ) حساب سے چلتے ہیں '' کی تفسیر
(۱۳۵۳)۔ سیدنا ابو ذرؓ کہتے ہیں کہ نبیﷺ نے ابو ذر (رضی اللہ عنہ) سے جبکہ آفتاب غروب ہو رہاتھا یہ فرمایا :'' کیا تم جانتے ہو کہ یہ کہاں جاتا ہے ؟میں نے کہا کہ اللہ اور اس کا رسولﷺ خوب واقف ہے آپﷺ نے فرمایا :'' وہ جا کر عرش کے نیچے سجدہ کرتا ہے پھر (مشرق سے) طلوع ہونے کی (اللہ سے) اجازت مانگتا ہے تو اس اجازت دے دی جاتی ہے اور قریب ہے کہ وہ سجدہ کرے اور اس کا سجدہ قبول نہ کیا جائے اور اجازت مانگے مگر اسے اجازت نہ ملے بلکہ اس سے کہہ دیا جائے کہ تو جہاں سے آیا ہے وہیں لوٹ جاپس وہ مغرب سے طلوع ہو گا یہی مطلب ہے اللہ تعالیٰ کے اس فرمان کا '' اور آفتاب اپنی جگہ پر چلتا ہے ، یہ غالب دانا کی مقرر کی ہو ئی بات ہے۔ '' (سورۂ یٰسین :۳۸)۔

(۱۳۵۴)۔ سیدنا ابو ہریرہؓ نبیﷺ سے روایت کرتے ہیں کہ آپﷺ نے فرمایا کہ سورج اور چاند قیامت کے دن لپٹ دیے جائیں گے۔ (بے نور ہو جائیں گے)۔
 

Aamir

خاص رکن
شمولیت
مارچ 16، 2011
پیغامات
13,382
ری ایکشن اسکور
17,099
پوائنٹ
1,033
باب۔ اللہ تعالیٰ کے قول '' اور وہی ہے جس نے اپنی رحمت (بارش) سے پہلے خوشخبری دینے والی ہوائیں چلائیں۔ '' (سورۂ الا عراف :۵۷) کی تفسیر میں کیا وارد ہوا ہے ؟
(۱۳۵۵)۔ ام المومنین عائشہ صدیقہؓ کہتی ہیں کہ نبیﷺ جب کوئی ابر کا ٹکڑا آسمان پر دیکھتے تو کبھی آگے بڑھتے کبھی پیچھے ہٹتے ، کبھی اندر آتے کبھی باہر جاتے اور چہرہ مبارک کا رنگ بدل جاتا۔ پھر جب پانی برسنے لگتا تو آپﷺ کی وہ حالت دُور ہو جاتی۔ ام المومنین عائشہ صدیقہؓ نے اس کا سبب پوچھا تو نبیﷺ نے فرمایا کہ مجھے کیا معلوم ، شاید یہ وہ بادل نہ ہو کہ جسے دیکھ کر قوم عادل نے کہا تھا '' پس جب انھوں نے اپنی وادیوں کی طرف بادل کو آتے دیکھا تو کہنے لگے کہ یہ ہم پر برسنے والا ہے۔۔۔ الآیۃ (سورۂ الاحقاف :۲۴)
 
Top