- شمولیت
- اپریل 27، 2013
- پیغامات
- 26,588
- ری ایکشن اسکور
- 6,779
- پوائنٹ
- 1,207
غزوہ بنو قریظہ
جس روز رسول اللہ ﷺ خندق سے واپس تشریف لائے اسی روز ظہر کے وقت جبکہ آپ حضرت اُمِ سلمہؓ کے مکان میں غسل فرما رہے تھے حضرت جبریل علیہ السلام تشریف لائے۔ اور فرمایا: کیا آپ نے ہتھیار رکھ دیئے حالانکہ ابھی فرشتوں نے ہتھیار نہیں رکھے۔ اور میں بھی قوم کا تعاقب کرکے بس واپس چلا آ رہا ہوں۔ اُٹھئے! اور اپنے رفقاء کو لے کر بنو قریظہ کا رخ کیجیے۔ میں آگے آگے جا رہا ہوں۔ ان کے قلعوں میں زلزلہ برپا کروں گا، اور ان کے دلوں میں رعب و دہشت ڈالوں گا۔ یہ کہہ کر حضرت جبریل ؑ فرشتوں کے جلو میں روانہ ہو گئے۔
ادھر رسول اللہ ﷺ نے ایک صحابی سے منادی کروائی کہ جو شخص سمع و طاعت پر قائم ہے وہ عصر کی نماز بنو قریظہ ہی میں پڑھے۔ اس کے بعد مدینے کا انتظام حضرت ابن ام مکتوم کو سونپا۔ اور حضرت علیؓ کو جنگ کا پھریرا دے کر آگے روانہ فرما دیا۔ وہ بنو قریظہ کے قلعوں کے قریب پہنچے تو بنو قریظہ نے رسول اللہ ﷺ پر گالیوں کی بوچھاڑ کر دی۔
اتنے میں رسول اللہ ﷺ بھی مہاجرین و انصار کے جلو میں روانہ ہو چکے تھے۔ آپ نے بنو قریظہ کے دیار میں پہنچ کر ''انا'' نامی ایک کنویں پر نزول فرمایا۔ عام مسلمانوں نے بھی لڑائی کا اعلان سن کر فوراً دیارِ بنی قریظہ کا رُخ کیا۔ راستے میں عصر کی نماز کا وقت آ گیا تو بعض نے کہا: ہم - جیسا کہ ہمیں حکم دیا گیا ہے - بنو قریظہ پہنچ کر ہی عصر کی نماز پڑھیں گے حتیٰ کہ بعض نے عصر کی نماز عشاء کے بعد پڑھی، لیکن دوسرے صحابہ نے کہا: آپ کا مقصود یہ نہیں تھا بلکہ یہ تھا کہ ہم جلد از جلد روانہ ہو جائیں۔ اس لیے انہوں نے راستے ہی میں نماز پڑھ لی البتہ جب رسول اللہ ﷺ کے سامنے یہ قضیہ پیش ہوا تو آپ ﷺ نے کسی بھی فریق کو سخت سُست نہیں کہا۔
بہرکیف مختلف ٹکڑیوں میں بٹ کر اسلامی لشکر دیارِ بنو قریظہ میں پہنچا اور نبی ﷺ کے ساتھ جا شامل ہوا۔ پھر بنو قریظہ کے قلعوں کا محاصرہ کر لیا، اس لشکر کی کل تعداد تین ہزار تھی اور اس میں تیس گھوڑے تھے۔
جب محاصرہ سخت ہو گیا تو یہود کے سردار کعب بن اسد نے ان کے سامنے تین متبادل تجویزیں پیش کیں:
یا تو اسلام قبول کر لیں۔ اور محمد ﷺ کے دین میں داخل ہو کر اپنی جان، مال اور بال بچوں کو محفوظ کر لیں۔ کعب بن اسد نے اس تجویز کو پیش کرتے ہوئے یہ بھی کہا کہ واللہ! تم لوگوں پر یہ بات واضح ہو چکی ہے کہ وہ واقعی نبی اور رسول ہیں۔ اور وہ وہی ہیں جنہیں تم اپنی کتاب میں پاتے ہو۔
یا اپنے بیوی بچوں کو خود اپنے ہاتھوں قتل کر دیں۔ پھر تلوار سونت کر نبی ﷺ کی طرف نکل پڑیں۔ اور پوری قوت سے ٹکرا جائیں۔ اس کے بعد یا تو فتح پائیں یا سب کے سب مارے جائیں۔
یا پھر رسول اللہ ﷺ اور صحابہ کرام رضی اللہ عنہم پر دھوکے سے سنیچر کے دن پل پڑیں کیونکہ انہیں اطمینان ہو گا کہ آج لڑائی نہیں ہو گی۔
لیکن یہود نے ان تینوں میں سے کوئی بھی تجویز منظور نہ کی۔ جس پر ان کے سردار کعب بن اسد نے (جھلا کر) کہا: تم میں سے کسی نے ماں کی کوکھ سے جنم لینے کے بعد ایک رات بھی ہوش مندی کے ساتھ نہیں گزاری ہے۔
ان تینوں تجاویز کو رد کر دینے کے بعد بنو قریظہ کے سامنے صرف ایک ہی راستہ رہ جاتا تھا کہ رسول اللہ ﷺ کے سامنے ہتھیار ڈال دیں۔ اور اپنی قسمت کا فیصلہ آپ پر چھوڑ دیں، لیکن انہوں نے چاہا کہ ہتھیار ڈالنے سے پہلے اپنے بعض مسلمان حلیفوں سے رابطہ قائم کر لیں۔ ممکن ہے پتہ لگ جائے کہ ہتھیار ڈالنے کا نتیجہ کیا ہو گا۔ چنانچہ انہوں نے رسول اللہ ﷺ کے پاس پیغام بھیجا کہ آپ ابو لبابہ کو ہمارے پاس بھیج دیں۔ ہم ان سے مشورہ کرنا چاہتے ہیں۔ ابو لبابہ ان کے حلیف تھے۔ اور ان کے باغات اور آل اولاد بھی اسی علاقے میں تھے۔ جب ابو لبابہ وہاں پہنچے تو مرد حضرات انہیں دیکھ کر ان کی طرف دوڑ پڑے۔ اور عورتوں اور بچے ان کے سامنے دھاڑیں مار مار کر رونے لگے۔ اس کیفیت کو دیکھ کر حضرت ابو لبابہؓ پر رقت طاری ہو گئی۔ یہود نے کہا: ابو لبابہ! کیا آپ مناسب سمجھتے ہیں کہ ہم محمد ﷺ کے فیصلے پر ہتھیار ڈال دیں؟ انہوں نے فرمایا: ہاں! لیکن ساتھ ہی ہاتھ سے حلق کی طرف اشارہ بھی کر دیا۔ جس کا مطلب یہ تھا کہ ذبح کر دیئے جاؤ گے، لیکن انہیں فورا احساس ہوا کہ یہ اللہ اور اس کے رسول کے ساتھ خیانت ہے۔ چنانچہ وہ رسول اللہ ﷺ کے پاس واپس آنے کے بجائے سیدھے مسجد نبوی پہنچے۔ اور اپنے آپ کو مسجد کے ایک کھمبے سے باندھ لیا۔ اور قسم کھائی کہ اب انہیں رسول اللہ ﷺ ہی اپنے دست مُبارک سے کھولیں گے۔ اور وہ آئندہ بنو قریظہ کی سرزمین میں کبھی داخل نہ ہوں گے۔ ادھر رسول اللہ ﷺ محسوس کر رہے تھے کہ ان کی واپسی میں دیر ہو رہی ہے۔ پھر جب تفصیلات کا علم ہوا تو فرمایا: اگر وہ میرے پاس آ گئے ہوتے تو میں ان کے لیے دعائے مغفرت کر دیئے ہوتا، لیکن جب وہ وہی کام کر بیٹھے ہیں تو اب میں بھی انہیں ان کی جگہ سے کھول نہیں سکتا، یہاں تک اللہ تعالیٰ ان کی توبہ قبول فرما لے۔
ادھر ابو لبابہ کے اشارے کے باوجود بنو قریظہ نے یہی طے کیا کہ رسول اللہ ﷺ کے سامنے ہتھیار ڈال دیں۔ اور وہ جو فیصلہ مناسب سمجھیں کریں حالانکہ بنو قریظہ ایک طویل عرصے تک محاصرہ برداشت کر سکتے تھے کیونکہ ایک طرف ان کے پاس وافر مقدارمیں سامان خورد و نوش تھا، پانی کے چشمے اور کنوئیں تھے۔ مضبوط اور محفوظ قلعے تھے۔ اور دوسری طرف مسلمان کھلے میدان میں خون منجمد کر دینے والے جاڑے اور بھُوک کی سختیاں سہ رہے تھے۔ اور آغازِ جنگِ خندق کے بھی پہلے سے مسلسل جنگی مصروفیات کے سبب تکان سے چور چور تھے، لیکن جنگ بنی قریظہ درحقیقت ایک اعصابی جنگ تھی۔ اللہ نے ان کے دلوں میں رعب ڈال دیا تھا۔ اور ان کے حوصلے ٹوٹتے جا رہے تھے۔ پھر حوصلوں کی یہ شکستگی اس وقت انتہا کو پہنچ گئی جب حضرت علی بن ابی طالبؓ اور حضرت زبیر بن عوامؓ نے پیش قدمی فرمائی۔ اور حضرت علیؓ نے گرج کر یہ اعلان کیا کہ ایمان کے فوجیو! اللہ کی قسم! اب میں بھی یا تو وہی چکھوں گا جو حمزہؓ نے چکھا یا ان کا قلعہ فتح کر کے رہوں گا۔
چنانچہ حضرت علیؓ کا یہ عزم سن کر بنو قریظہ نے جلدی سے اپنے آپ کو رسول اللہ ﷺ کے حوالے کر دیا کہ آپ جو فیصلہ مناسب سمجھیں کریں۔ رسول اللہ ﷺ نے حکم دیا کہ مردوں کو باندھ دیا جائے۔ چنانچہ محمد بن مسلمہ انصاریؓ کے زیر نگرانی ان سب کے ہاتھ باندھ دیئے گئے۔ اور عورتوں اور بچوں کو مَردوں سے الگ کر دیا گیا۔ قبیلہ اوس کے لوگ رسول اللہ ﷺ سے عرض پرداز ہوئے کہ آپ نے بنو قینقاع کے ساتھ جو سلوک فرمایا تھا وہ آپ کو یاد ہی ہے بنو قینقاع ہمارے بھائی خَزْرج کے حلیف تھے اور یہ لوگ ہمارے حلیف ہیں۔ لہٰذا ان پر احسان فرمائیں۔ آپ نے فرمایا: کیا آپ لوگ اس پر راضی نہیں کہ ان کے متعلق آپ ہی کا ایک آدمی فیصلہ کرے؟ انہوں نے کہا: کیوں نہیں! آپ نے فرمایا: تو یہ معاملہ سعد بن معاذ کے حوالے ہے۔ اَوس کے لوگوں نے کہا: ہم اس پر راضی ہیں۔
اس کے بعد آپ نے حضرت سعد بن معاذ کو بلا بھیجا۔ وہ مدینہ میں تھے، لشکر کے ہمراہ تشریف نہیں لائے تھے، کیونکہ جنگِ خندق کے دوران ہاتھ کی رگ کٹنے کے سبب زخمی تھے۔ انہیں ایک گدھے پر سوار کر کے رسول اللہ ﷺ کی خدمت میں لایا گیا۔ جب قریب پہنچے تو ان کے قبیلے کے لوگوں نے انہیں دونوں جانب سے گھیر لیا۔ اور کہنے لگے: سعد! اپنے حلیفوں کے بارے میں اچھائی اور احسان سے کام لیجئے گا ... رسول اللہ ﷺ نے آپ کو اسی لیے حَکم بنایا ہے کہ آپ ان سے حسن سلوک کریں۔ مگر وہ چپ چاپ تھے کوئی جواب نہ دے رہے تھے۔ جب لوگوں نے گزارش کی بھرمار کر دی تو بولے: اب وقت آ گیا ہے کہ سعد کو اللہ کے بارے میں کسی ملامت گر کی پروا نہ ہو۔ یہ سن کر بعض لوگ اسی وقت مدینہ آ گئے اور قیدیوں کی موت کا اعلان کر دیا۔
اس کے بعد جب حضرت سعد نبی ﷺ کے پاس پہنچے تو آپ نے فرمایا: اپنے سردار کی جانب اٹھ کر بڑھو۔ (لوگوں نے بڑھ کر) جب انہیں اتار لیا تو کہا: اے سعد! یہ لوگ آپ کے فیصلے پر اترے ہیں۔ حضرت سعد نے کہا: کیا میرا فیصلہ ان پر نافذ ہو گا؟ لوگوں نے کہا جی ہاں! انہوں نے کہا مسلمانوں پر بھی؟ لوگوں نے کہا: جی ہاں! انہوں نے پھر کہا: اور جو یہاں ہیں ان پر بھی؟ ان کا اشارہ رسول اللہ ﷺ کی فرودگاہ کی طرف تھا۔ مگر اجلال و تعظیم کے سبب چہرہ دوسری طرف کر رکھا تھا۔ آپ نے فرمایا: جی ہاں! مجھ پر بھی۔ حضرت سعد نے کہا: تو ان کے متعلق میرا فیصلہ یہ ہے کہ مردوں کو قتل کر دیا جائے، عورتوں اور بچوں کو قیدی بنا لیا جائے۔ اور اموال تقسیم کر دیے جائیں۔ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: تم نے ان کے بارے میں وہی فیصلہ کیا ہے جو سات آسمانوں کے اوپر سے اللہ تعالیٰ کا فیصلہ ہے۔
حضرت سعد کا یہ فیصلہ انتہائی عدل و انصاف پر مبنی تھا کیونکہ بنو قریظہ نے مسلمانوں کی موت و حیات کے نازک ترین لمحات میں جو خطرناک بدعہدی کی تھی وہ تو تھی ہی، اس کے علاوہ انہوں نے مسلمانوں کے خاتمے کے لیے ڈیڑھ ہزار تلواریں، دو ہزار نیزے، تین سو زِرہیں اور پانچ سو ڈھال مہیا کر رکھے تھے جس پر فتح کے بعد مسلمانوں نے قبضہ کیا۔
اس فیصلے کے بعد رسول اللہ ﷺ کے حکم پر بنو قریظہ کو مدینہ لا کر بنو نجار کی ایک عورت - جو حارث کی صاحبزادی تھیں - کے گھر میں قید کر دیا گیا۔ اور مدینہ کے بازار میں خندقیں کھودی گئیں، پھر انہیں ایک ایک جماعت کر کے لے جایا گیا۔ اور ان خندقوں میں ان کی گردنیں مار دی گئیں۔ کارروائی شروع ہونے کے تھوڑی دیر بعد باقی ماندہ قیدیوں نے اپنے سردار کعب بن اسد سے دریافت کیا کہ آپ کا کیا اندازہ ہے؟ ہمارے ساتھ کیا ہو رہا ہے؟ اس نے کہا: کیا تم لوگ کسی بھی جگہ سمجھ بوجھ نہیں رکھتے؟ دیکھتے نہیں کہ پکارنے والا رک نہیں رہا ہے اور جانے والا پلٹ نہیں رہا ہے؟ یہ اللہ کی قسم! قتل ہے۔ بہر کیف ان سب کی (جن کی تعداد چھ اور سات سو کے درمیان تھی) گردنیں مار دی گئیں۔
اس کارروائی کے ذریعے غدر و خیانت کے ان سانپوں کا مکمل طور پر خاتمہ ہو گیا جنہوں نے پختہ عہد و پیمان توڑا تھا۔ مسلمانوں کے خاتمے کے لیے ان کی زندگی کے نہایت سنگین اور نازک ترین لمحات میں دشمن کو مدد دے کر جنگ کے اکابر مجرمین کا کردار ادا کیا تھا۔ اور اب وہ واقعتا مقدمے اور پھانسی کے مستحق ہو چکے تھے۔
بنو قریظہ کی اس تباہی کے ساتھ بنو نضیر کا شیطان اور جنگ احزاب کا ایک بڑا مجرم حیی بن اخطب بھی اپنے کیفر کردار کو پہنچ گیا۔ یہ شخص اُم المومنین حضرت صفیہ ؓ کا باپ تھا۔ قریش و غَطفان کی واپسی کے بعد جب بنو قریظہ کا محاصرہ کیا گیا۔ اور انہوں نے قلعہ بندی اختیار کی تو یہ بھی ان کے ہمراہ قلعہ بند ہو گیا تھا۔ کیونکہ غزوۂ احزاب کے ایام میں یہ شخص جب کعب بن اسد کو غدر و خیانت پر آمادہ کرنے کے لیے آیا تھا تو اس کا وعدہ کر رکھا تھا۔ اور اب اسی وعدے کو نباہ رہا تھا، اسے جس وقت خدمت نبوی صلی اللہ علیہ وسلم میں لایا گیا، ایک جوڑا زیب تن کیے ہوئے تھا جسے خود ہی ہر جانب سے ایک ایک انگل پھاڑ رکھا تھا تاکہ اسے مال غنیمت میں نہ رکھوا لیا جائے۔ اس کے دونوں ہاتھ گردن کے پیچھے رسی سے یکجا بندھے ہوئے تھے۔ اس نے رسول اللہ ﷺ کو مخاطب کرکے کہا: سنئے! میں نے آپ کی عداوت پر اپنے آپ کو ملامت نہیں کی، لیکن جو اللہ سے لڑتا ہے مغلوب ہو جاتا ہے۔ پھر لوگوں کو مخاطب کرکے کہا: اللہ کے فیصلے میں کوئی حرج نہیں۔ یہ تو نوشتہ تقدیر ہے اور ایک بڑا قتل ہے۔ جو اللہ نے بنی اسرائیل پر لکھ دیا تھا۔ اس کے بعد وہ بیٹھا اور اس کی گردن مار دی گئی۔
اس واقعہ میں بنو قریظہ کی ایک عورت بھی قتل کی گئی۔ اس نے حضرت خَلاّد بن سُویدؓ پر چَکیّ کا پاٹ پھینک کر انہیں قتل کر دیا تھا اسی کے بدلے اسے قتل کیا گیا۔
رسول اللہ ﷺ کا حکم تھا کہ جس کے زیر ناف بال آ چکے ہوں اسے قتل کر دیا جائے، چونکہ حضرت عطیہ قرظی کو ابھی بال نہیں آئے تھے۔ لہٰذا انہیں زندہ چھوڑ دیا گیا۔ چنانچہ وہ مسلمان ہو کر شرفِ صحبت سے مشرف ہوئے۔
حضرت ثابت بن قیس نے گزارش کی کہ زبیر بن باطا اور اس کے اہل و عیال کو ان کے لیے ہبہ کر دیا جائے - اس کی وجہ یہ تھی کہ زبیر نے ثابت پر کچھ احسانات کیے تھے - ان کی گزارش منظور کر لی گئی۔ اس کے بعد ثابت بن قیس نے زبیر سے کہا کہ رسول اللہ ﷺ نے تم کو اور تمہارے اہل و عیال کو میرے لیے ہبہ کر دیا ہے۔ اور میں ان سب کو تمہارے حوالے کرتا ہوں۔ (یعنی تم بال بچوں سمیت آزاد ہو) لیکن جب زبیر بن باطا کو معلوم ہوا کہ اس کی قوم قتل کر دی گئی ہے تو اس نے کہا: ثابت! تم پر میں نے جو احسان کیا تھا اس کا واسطہ دے کر کہتا ہوں کہ مجھے بھی دوستوں تک پہنچا دو۔ چنانچہ اس کی بھی گردن مار کر اسے اس کے یہودی دوستوں تک پہنچا دیا گیا۔ البتہ حضرت ثابت نے زبیر بن باطا کے لڑکے عبد الرحمن کو زندہ رکھا، چنانچہ وہ اسلام لا کر شرف صحبت سے مشرف ہوئے۔ اسی طرح بنو نجار کی ایک خاتون حضرت ام المنذر سلمیٰ بنت قیس نے گزارش کی کہ سموأل قرظی کے لڑکے رفاعہ کو ان کے لیے ہبہ کر دیا جائے۔ ان کی بھی گزارش منظور ہوئی۔ اور رفاعہ کو ان کے حوالے کر دیا گیا۔ انہوں نے رفاعہ کو زندہ رکھا۔ اور وہ بھی اسلام لا کر شرفِ صحبت سے مشرف ہوئے۔
چند اور افراد نے بھی اسی رات ہتھیار ڈالنے کی کارروائی سے پہلے اسلام قبول کر لیا تھا۔ لہٰذا ان کی بھی جان و مال اور ذریت محفوظ رہی۔ اسی رات عَمر و نامی ایک اور شخص - جس نے بنو قریظہ کی بد عہدی میں شرکت نہ کی تھی - باہر نکلا۔ اسے پہرہ داروں کے کمانڈر محمد بن مسلمہ نے دیکھا لیکن پہچان کر چھوڑ دیا، پھر معلوم نہیں وہ کہاں گیا۔
بنو قریظہ کے اموال کو رسول اللہ ﷺ نے خمس نکال کر تقسیم فرما دیا۔ شہسوار کو تین حصے دیئے۔ ایک حصہ اس کا اپنا اور دو حصہ گھوڑوں کا۔ اور پیدل کو ایک حصہ دیا، قیدیوں اور بچوں کو حضرت سعد بن زید انصاریؓ کی نگرانی میں نجد بھیج کر ان کے عوض گھوڑے اور ہتھیار خرید لیے۔
رسول اللہ ﷺ نے اپنے لیے بنو قریظہ کی عورتوں میں سے حضرت ریحانہ بنت عمرو بن خنافہ کو منتخب کیا۔ یہ ابن اسحاق کے بقول آپ ﷺ کی وفات تک آپ کی ملکیت میں رہیں۔ (ابن ہشام ۲/۲۴۵)
لیکن کلبی کا بیان ہے کہ نبی ﷺ نے انہیں ۶ھ میں آزاد کر کے شادی کر لی تھی۔ پھر جب آپ حجۃ الوداع سے واپس تشریف لائے تو ان کا انتقال ہو گیا۔ اور آپ نے انہیں بقیع میں دفن فرما دیا۔ (تلقیح الفہوم ص ۱۲)
جب بنو قریظہ کا کام تمام ہو چکا تو بندہ صالح حضرت سعد بن معاذؓ کی اس دعا کی قبولیت کے ظہور کا وقت آ گیا جس کا ذکر غزوۂ احزاب کے دوران آ چکا ہے۔ چنانچہ ان کا زخم پھوٹ گیا۔ اس وقت وہ مسجد نبوی میں تھے۔ نبی ﷺ نے ان کے لیے وہیں خیمہ لگوا دیا تھا تاکہ قریب ہی سے ان کی عیادت کر لیا کریں۔ حضرت عائشہ ؓ