• الحمدللہ محدث فورم کو نئےسافٹ ویئر زین فورو 2.1.7 پر کامیابی سے منتقل کر لیا گیا ہے۔ شکایات و مسائل درج کروانے کے لئے یہاں کلک کریں۔
  • آئیے! مجلس التحقیق الاسلامی کے زیر اہتمام جاری عظیم الشان دعوتی واصلاحی ویب سائٹس کے ساتھ ماہانہ تعاون کریں اور انٹر نیٹ کے میدان میں اسلام کے عالمگیر پیغام کو عام کرنے میں محدث ٹیم کے دست وبازو بنیں ۔تفصیلات جاننے کے لئے یہاں کلک کریں۔

الرحیق المختوم غزوۂ احزاب و قریظہ کے بعد کی جنگی مہمات

محمد نعیم یونس

خاص رکن
رکن انتظامیہ
شمولیت
اپریل 27، 2013
پیغامات
26,588
ری ایکشن اسکور
6,779
پوائنٹ
1,207
غزوۂ احزاب و قریظہ کے بعد کی جنگی مہمات

۱۔ سلام بن ابی الحُقَیق کا قتل:
سلام بن ابی الحقیق - جس کی کنیت ابو رافع تھی - یہود کے ان اکابر مجرمین میں تھا جنہوں نے مسلمانوں کے خلاف مشرکین کو ورغلانے میں بڑھ چڑھ کر حصہ لیا تھا۔ اور مال اور رسد سے ان کی امداد کی تھی۔ (دیکھئے: فتح الباری ۷/۳۴۳)
اس کے علاوہ رسول اللہ ﷺ کو ایذا بھی پہنچاتا تھا۔ اس لیے جب مسلمان بنو قریظہ سے فارغ ہو چکے تو قبیلہ خزرج کے لوگوں نے رسول اللہ ﷺ سے اس کے قتل کی اجازت چاہی چونکہ اس سے پہلے کعب بن اشرف کا قتل قبیلہ اوس کے چند صحابہ کے ہاتھوں ہو چکا تھا، اس لیے قبیلہ خزرج کی خواہش تھی کہ ایسا ہی کوئی کارنامہ ہم بھی انجام دیں، اس لیے انہوں نے اجازت مانگنے میں جلدی کی۔
رسول اللہ ﷺ نے انہیں اجازت تو دے دی لیکن تاکید فرما دی کہ عورتوں اور بچوں کو قتل نہ کیا جائے۔ اس کے بعد ایک مختصر سا دستہ جو پانچ آدمیوں پر مشتمل تھا اپنی مہم پر روانہ ہوا۔ یہ سب کے سب قبیلہ خزرج کی شاخ بنو سلمہ سے تعلق رکھتے تھے۔ اور ان کے کمانڈر حضرت عبد اللہ بن عتیک تھے۔
اس جماعت نے سیدھے خیبر کا رخ کیا کیونکہ ابو رافع کا قلعہ وہیں تھا۔ جب قریب پہنچے تو سورج غروب ہو چکا تھا۔ اور لوگ اپنے ڈھور ڈنگر لے کر واپس ہو چکے تھے۔ عبد اللہ بن عتیک نے کہا: تم لوگ یہیں ٹھہرو۔ میں جاتا ہوں اور دروازے کے پہرے دار کے ساتھ کوئی لطیف حیلہ اختیار کرتا ہوں۔ ممکن ہے اندر داخل ہو جاؤں۔اس کے بعد وہ تشریف لے گئے اور دروازے کے قریب جا کر سر پر کپڑا ڈال کر یوں بیٹھ گئے گویا قضائے حاجت کر رہے ہیں۔ پہرے دار نے زور سے پکار کر کہا: او اے اللہ کے بندے! اگر اندر آنا ہے تو آجاؤ ورنہ میں دروازہ بند کرنے جا رہا ہوں۔
عبد اللہ بن عتیک کہتے ہیں کہ میں اندر گھس گیا اور چھپ گیا۔ جب سب لوگ اندر آ گئے تو پہرے دار نے دروازہ بند کر کے ایک کھونٹی پر چابیاں لٹکا دیں۔ (کچھ دیر بعد جب ہر طرف سکون ہو گیا تو) میں نے اٹھ کر چابیاں لیں۔ اور دروازہ کھول دیا۔ ابو رافع بالاخانے میں رہتا تھا۔ اور وہاں مجلس ہوا کرتی تھی۔ جب اہل مجلس چلے گئے تو میں اس کے بالاخانے کی طرف چڑھا۔ میں جو کوئی دروازہ بھی کھولتا تھا اسے اندر کی جانب سے بند کر لیتا تھا۔ میں نے سوچا کہ اگر لوگوں کو میرا پتہ لگ بھی گیا تو اپنے پاس ان کے پہنچنے سے پہلے پہلے ابو رافع کو قتل کر لوں گا۔ اس
 

محمد نعیم یونس

خاص رکن
رکن انتظامیہ
شمولیت
اپریل 27، 2013
پیغامات
26,588
ری ایکشن اسکور
6,779
پوائنٹ
1,207
طرح میں اس کے پاس پہنچ تو گیا، (لیکن) وہ اپنے بال بچوں کے درمیان ایک تاریک کمرے میں تھا۔ اور مجھے معلوم نہ تھا کہ وہ اس کمرے میں کس جگہ ہے۔ اس لیے میں نے کہا: ابو رافع! اس نے کہا: یہ کون ہے؟ میں نے جھٹ آواز کی طرف لپک کر اس پر تلوار کی ایک ضرب لگائی لیکن میں اس وقت ہڑبڑایا ہوا تھا۔ اس لیے کچھ نہ کر سکا۔ ادھر اس نے زور کی چیخ ماری۔ لہٰذا میں جھٹ کمرے سے باہر نکل گیا اور ذرا دور ٹھہر کر پھر آ گیا۔ اور (آواز بدل کر) بولا : ابو رافع! یہ کیسی آواز تھی؟ اس نے کہا: تیری ماں برباد ہو۔ ایک آدمی نے ابھی مجھے اس کمرے میں تلوار ماری ہے۔ عبد اللہ بن عتیک کہتے ہیں کہ اب میں نے ایک زور دار ضرب لگائی۔ جس سے وہ خون میں لت پت ہو گیا لیکن اب بھی میں اسے قتل نہ کر سکا تھا۔ اس لیے میں نے تلوار کی نوک اس کے پیٹ پر رکھ کر دبا دیا۔ اور وہ اس کی پیٹھ تک جا رہی۔ میں سمجھ گیا کہ میں نے اسے قتل کر لیا ہے۔ اس لیے اب میں ایک ایک دروازہ کھولتا ہوا واپس ہوا اور ایک سیڑھی کے پاس پہنچ کر یہ سمجھتے ہوئے کہ زمین تک پہنچ چکا ہوں۔ پاؤں رکھا تو نیچے گر پڑا۔ چاندنی رات تھی۔ پنڈلی سرک گئی، میں نے پگڑی سے اسے کس کر باندھا۔ اور دروازے پر آ کر بیٹھ گیا۔ اور جی ہی جی میں کہا کہ آج جب تک کہ یہ معلوم نہ ہو جائے کہ میں نے اسے قتل کر لیا ہے یہاں سے نہیں نکلوں گا۔ چنانچہ جب مرغ نے بانگ دی تو موت کی خبر دینے والا قلعے کی فصیل پر چڑھا۔ اور بلند آواز سے پکارا کہ میں اہلِ حجاز کے تاجر ابو رافع کی موت کی اطلاع دے رہا ہوں۔ اب میں اپنے ساتھیوں کے پاس پہنچا اور کہا: بھاگ چلو۔ اللہ نے ابو رافع کو کیفر کردار تک پہنچا دیا۔ چنانچہ میں نبی ﷺ کی خدمت میں حاضر ہوا۔ اور آپ سے واقعہ بیان کیا تو آپ ﷺ نے فرمایا: اپنا پاؤں پھیلاؤ۔ میں نے اپنا پاؤں پھیلایا، آپ ﷺ نے اس پر اپنا دست مُبارک پھیرا۔ اور ایسا لگا گویا کوئی تکلیف تھی ہی نہیں۔ (صحیح بخاری ۲/۵۷۷)
یہ صحیح بخاری کی روایت ہے۔ ابن اسحاق کی روایت یہ ہے کہ ابو رافع کے گھر میں پانچوں صحابہ کرام رضی اللہ عنہم گھسے تھے۔ اور سب نے اس کے قتل میں شرکت کی تھی۔ اور جس صحابی نے اس کے اوپر تلوار کا بوجھ ڈال کر قتل کیا تھا وہ حضرت عبد اللہ بن انیس تھے۔ اس روایت میں یہ بھی بتایا گیا ہے کہ ان لوگوں نے رات میں ابو رافع کو قتل کر لیا اور عبد اللہ بن عتیک کی پنڈلی ٹوٹ گئی تو انہیں اٹھا لائے۔ اور قلعہ کی دیوار کے آر پار ایک جگہ چشمے کی نہر گئی ہوئی تھی اسی میں گھُس گئے۔ ادھر یہود نے آگ جلائی اور ہر طرف دوڑ دوڑ کر دیکھا۔ جب مایوس ہو گئے تو مقتول کے پاس واپس پلٹ آئے۔ صحابہ کرام رضی اللہ عنہم واپس ہوئے تو حضرت عبد اللہ بن عتیک کو لاد کر رسول اللہ ﷺ کی خدمت میں لے آئے۔ (ابن ہشام ۲/۲۷۴، ۲۷۵)
اس سرِیہ کی روانگی ذی قعدہ یا ذی الحجہ ۵ھ میں زیر عمل آئی تھی۔ (رحمۃ للعالمین ۲/۲۲۳ اور غزوہ احزاب میں مذکور دوسرے مآخذ۔)
 

محمد نعیم یونس

خاص رکن
رکن انتظامیہ
شمولیت
اپریل 27، 2013
پیغامات
26,588
ری ایکشن اسکور
6,779
پوائنٹ
1,207
جب رسول اللہ ﷺ احزاب اور قریظہ کی جنگوں سے فارغ ہو گئے۔ اور جنگی مجرمین سے نمٹ چکے تو ان قبائل اور اعراب کے خلاف تادیبی حملے شروع کی جو امن و سلامتی کی راہ میں سنگ گراں بنے ہوئے تھے۔ اور قُوتِ قاہرہ کے بغیر پُر سکون نہیں رہ سکتے تھے۔ ذیل میں اس سلسلے کے سرایا اور غزوات کا اجمالی ذکر کیا جا رہا ہے۔
۲۔ سریۂ محمد بن مسلمہ:
احزاب و قریظہ کی جنگوں سے فراغت کے بعد یہ پہلا سریہ ہے جس کی روانگی عمل میں آئی۔ یہ تیس آدمیوں کی مختصر سی نفری پر مشتمل تھا۔
اس سریہ کو نجد کے اندر بکرات کے علاقہ میں ضریہ کے آس پاس قرطاء نامی مقام پر بھیجا گیا تھا۔ ضریہ اور مدینہ کے درمیان سات رات کا فاصلہ ہے۔ روانگی ۱۰ محرم ۶ھ کو عمل میں آئی تھی۔ اور نشانہ بنو بکر بن کلاب کی ایک شاخ تھی۔ مسلمانوں نے چھاپہ مارا تو دشمن کے سارے افراد بھاگ نکلے۔ مسلمانوں نے چوپائے اور بکریاں ہانک لیں۔ اور محرم میں ایک دن باقی تھا کہ مدینہ آ گئے۔ یہ لوگ بنو حنیفہ کے سردار ثمامہ بن اثال حنفی کو بھی گرفتار کر لائے تھے۔ وہ مسیلمہ کذاب کے حکم سے بھیس بدل کر نبی ﷺ کو قتل کرنے نکلے تھے۔ (سیرت حلبیہ ۲/۲۹۷)
لیکن مسلمانوں نے انہیں گرفتار کر لیا۔ اور مدینہ لا کر مسجد نبوی کے ایک کھمبے سے باندھ دیا۔نبی ﷺ تشریف لائے تو دریافت فرمایا: ثمامہ! تمہارے نزدیک کیا ہے؟ انہوں نے کہا: اے محمد! میرے نزدیک خیر ہے۔ اگر تم قتل کرو تو ایک خون والے کو قتل کرو گے۔ اور اگر احسان کرو تو ایک قدردان پر احسان کرو گے۔ اور اگر مال چاہتے ہو تو جو چاہو مانگ لو۔ اس کے بعد آپ ﷺ نے انہیں اسی حال میں چھوڑ دیا۔ پھر آپ دوبارہ گزرے تو پھر وہی سوال کیا۔ اور ثمامہ نے پھر وہی جواب دیا۔ اس کے بعد آپ ﷺ تیسری بار گزرے۔ تو پھر وہی سوال و جواب ہوا۔ اس کے بعد آپ ﷺ نے صحابہ سے فرمایا کہ ثمامہ کو آزاد کر دو۔ انہوں نے آزاد کر دیا۔ ثمامہ مسجد نبوی کے قریب کھجور کے ایک باغ میں گئے۔ غسل کیا اور آپ ﷺ کے پاس واپس آ کر مشرف باسلام ہو گئے۔ پھر کہا: اللہ کی قسم! روئے زمین پر کوئی چہرہ میرے نزدیک آپ ﷺ کے چہرے سے زیادہ مبغوض نہ تھا، لیکن اب آپ ﷺ کا چہرہ دوسرے تمام چہروں سے زیادہ محبوب ہو گیا ہے۔ اور اللہ کی قسم! روئے زمین پر کوئی دین میرے نزدیک آپ کے دین سے زیادہ مبغوض نہ تھا۔ مگر اب آپ کا دین دوسرے تمام ادیان سے زیادہ محبوب ہو گیا ہے۔ اور آپ کے سواروں نے مجھے اس حالت میں گرفتار کیا تھا کہ میں عمرہ کا ارادہ کر رہا تھا۔ رسول اللہ ﷺ نے انہیں بشارت دی اور حکم دیا کہ عمرہ کر لیں۔ جب وہ دیارِ قریش میں پہنچے تو انہوں نے کہا کہ ثمامہ! تم بد دین ہو گئے؟ ثمامہ نے کہا: نہیں! بلکہ میں محمد ﷺ کے ہاتھ پر مسلمان ہو گیا ہوں۔ اور سنو! اللہ کی قسم! تمہارے پاس یمامہ سے گیہوں کا ایک دانہ نہیں آ سکتا جب
 

محمد نعیم یونس

خاص رکن
رکن انتظامیہ
شمولیت
اپریل 27، 2013
پیغامات
26,588
ری ایکشن اسکور
6,779
پوائنٹ
1,207
تک کہ رسول اللہ ﷺ اس کی اجازت نہ دے دیں۔ یمامہ، اہل مکہ کے لیے کھیت کی حیثیت رکھتا تھا۔ حضرت ثمامہؓ نے وطن واپس جا کر مکہ کے لیے غلہ کی روانگی بند کر دی۔ جس سے قریش سخت مشکلات میں پڑ گئے۔ اور رسول اللہ ﷺ کو قرابت کا واسطہ دیتے ہوئے لکھا کہ ثمامہ کو لکھ دیں کہ وہ غلے کی روانگی بند نہ کریں، رسول اللہ ﷺ نے ایسا ہی کیا۔ (زاد المعاد ۲/۱۱۹ صحیح بخاری حدیث نمبر ۴۳۷۳ وغیرہ، فتح الباری ۷/۶۸۸)
۳۔ غزوہ بنو لحیان:
بنو لحیان وہی ہیں جنہوں نے مقام رجیع میں دس صحابہ کرام رضی اللہ عنہم کو دھوکے سے گھیر کر آٹھ کو قتل کر دیا تھا۔ اور دو کو اہل مکہ کے ہاتھوں فروخت کر دیا تھا۔ جہاں وہ بے دردی سے قتل کر دیئے گئے تھے لیکن چونکہ ان کا علاقہ حجاز کے اندر بہت دور حدودِ مکہ سے قریب واقع تھا، اور اس وقت مسلمانوں اور قریش و اعراب کے درمیان سخت کشاکش برپا تھی، اس لیے رسول اللہ ﷺ اس علاقے میں بہت اندر گھُس کر ''بڑے دشمن '' کے قریب چلے جانا مناسب نہیں سمجھتے تھے، لیکن جب کفار کے مختلف گروہوں کے درمیان پھوٹ پڑ گئی۔ ان کے عزائم کمزور پڑ گئے۔ اور انہوں نے حالات کے سامنے بڑی حد تک گھٹنے ٹیک دیئے تو آپ ﷺ نے محسوس کیا کہ اب بنو لحیان سے رجیع کے مقتولین کا بدلہ لینے کا وقت آ گیا ہے۔ چنانچہ آپ نے ربیع الاول یا جمادی الاولیٰ ۶ھ میں دو سو صحابہ کی معیت میں ان کا رُخ کیا۔ مدینے میں حضرت ابن ام مکتوم کو اپنا جانشین بنایا۔ اور ظاہر کیا کہ آپ ملک شام کا ارادہ رکھتے ہیں۔ اس کے بعد آپ ﷺ یلغار کرتے ہوئے امج اور عسفان کے درمیان بطن غران نامی ایک وادی میں -جہاں آپ کے صحابہ کرام رضی اللہ عنہم کو شہید کیا گیا تھا - پہنچے اور ان کے لیے رحمت کی دعائیں کیں۔ ادھر بنو لحیان کو آپ کی آمد کی خبر ہو گئی تھی۔ اس لیے وہ پہاڑ کی چوٹیوں پر نکل بھاگے۔ اور ان کا کوئی آدمی گرفت میں نہ آسکا۔ آپ ﷺ نے انکی سر زمین میں دو روز قیام فرمایا۔ اس دوران سریے بھی بھیجے، لیکن بنو لحیان نہ مل سکے۔ اس کے بعد آپ ﷺ نے عسفان کا قصد کیا۔ اور وہاں سے دس شہسوار کو کراع الغمیم بھیجا تاکہ قریش کو بھی آپ کی آمد کی خبر ہو جائے۔ اس کے بعد آپ کل چودہ دن مدینے سے باہر گزار کر مدینہ واپس آ گئے۔
اس مہم سے فارغ ہو کر رسول اللہ ﷺ نے پے درپے فوجی مہمات اور سریے روانہ فرمائے۔ ذیل میں ان کا مختصرا ذکر کیا جارہا ہے۔
۴۔ سریۂ غمر :
ربیع الاول یا ربیع الآخر ۶ھ میں حضرت عکاشہ بن محصنؓ کو چالیس افراد کی کمان دے کر مقام غمر کی جانب روانہ کیا گیا۔ یہ بنو اسد کے ایک چشمے کا نام ہے۔ مسلمانوں کی آمد سن کر دشمن بھاگ گئے۔ اور مسلمان ان
 

محمد نعیم یونس

خاص رکن
رکن انتظامیہ
شمولیت
اپریل 27، 2013
پیغامات
26,588
ری ایکشن اسکور
6,779
پوائنٹ
1,207
کے دو سو اونٹ مدینہ ہانک لائے۔
۵۔ سرِ یۂ ذو القصہ(۱):
ربیع الاول یا ربیع الآخر ۶ھ میں حضرت محمد بن مسلمہؓ کی سربراہی میں دس افراد کا ایک دستہ ذو القصہ کی جانب روانہ کیا گیا۔ یہ مقام بنو ثعلبہ کے دیار میں واقع تھا۔ دشمن جس کی تعداد ایک سو تھی کمین گاہ میں چھپ گیا۔ اور جب صحابہ کرام سو گئے تو اچانک حملہ کر کے انہیں قتل کر دیا۔ صرف محمد بن مسلمہؓ بچ نکلنے میں کامیاب ہو سکے اور وہ بھی زخمی ہو کر۔
۶۔ سریۂ ذو القصہ(۲):
محمد بن مسلمہؓ کے رفقاء کی شہادت کے بعد ربیع الآخر ۶ھ ہی میں نبی ﷺ نے حضرت ابو عبیدہؓ کو ذوالقصہ کی جانب روانہ فرمایا۔ انہوں نے چالیس افراد کی نفری لے کر مذکورہ صحابہ کرام رضی اللہ عنہم کی شہادت گاہ کا رخ کیا۔ اور رات بھر پیدل سفر کر کے علی الصباح بنو ثعلبہ کے دیار میں پہنچتے ہی چھاپہ مار دیا لیکن بنو ثعلبہ اس تیزی سے پہاڑوں میں بھاگے کہ مسلمانوں کی گرفت میں نہ آ سکے۔ صرف ایک آدمی پکڑا گیا اور وہ مسلمان ہو گیا۔ البتہ مویشی اور بکریاں ہاتھ آئیں۔
۷۔ سریۂ جموم:
یہ سریہ زید بن حارثہؓ کے زیر قیادت ربیع الآخر ۶ھ میں جموم کی جانب روانہ کیا گیا۔ جموم، مَرّ الظّہرَان (موجودہ وادی فاطمہ) میں بنو سُلیم کے ایک چشمے کا نام ہے۔ حضرت زید وہاں پہنچے تو قبیلہ مُزَیْنہ کی ایک عورت جس کا نام حلیمہ تھا گرفت میں آگئی۔ اس نے بنو سلیم کے ایک مقام کا پتہ بتایا جہاں سے بہت مویشی، بکریاں اور قیدی ہاتھ آئے۔ حضرت زید یہ سب لے کر مدینہ واپس آئے۔ رسول اللہ ﷺ نے اس مزنی عورت کو آزاد کر کے اس کی شادی کر دی۔
۸۔ سریۂ عِیْص:
یہ سریہ ایک سو ستر سواروں پر مشتمل تھا۔ اور اسے بھی حضرت زید بن حارثہؓ کے زیر قیادت جمادی الاولیٰ ۶ھ میں عیص کی جانب روانہ کیا گیا۔ اس مہم میں قریش کے ایک قافلے کا مال ہاتھ آیا جو رسول اللہ ﷺ کے داماد حضرت ابو العاص کی قیادت میں سفر کر رہا تھا۔ ابو العاصؓ اس وقت تک مسلمان نہ ہوئے تھے۔ وہ گرفتار تو نہ ہو سکے لیکن بھاگ کر سیدھے مدینہ پہنچے۔ اور حضرت زینب کی پناہ لے کر ان سے کہا کہ وہ رسول اللہ ﷺ سے کہہ کر قافلے کا مال واپس دلا دیں۔ حضرت زینب نے رسول اللہ ﷺ کے سامنے یہ بات پیش کی تو آپ نے کسی طرح کا دباؤ ڈالے بغیر صحابہ کرام رضی اللہ عنہم سے اشارہ کیا کہ مال واپس کر دیں۔ صحابہ کرام رضی اللہ عنہم نے تھوڑا زیادہ اور چھوٹا بڑا جو کچھ تھا سب واپس کر دیا۔ ابو العاص سارا مال لے کر مکہ پہنچے امانتیں ان کے مالکوں کے حوالے کیں۔ پھر مسلمان ہو کر مدینہ تشریف لائے۔ رسول اللہ ﷺ نے پہلے ہی نکاح کی بنیاد پر حضرت زینب کو ان کے حوالہ کر دیا، جیسا کہ صحیح حدیث سے ثابت ہے۔ (دیکھئے: سنن ابی داؤد مع شرح عون المعبود ، باب الی متی ترد علیہ امرأتہ اذا اسلم بعدہا)
آپ نے پہلے ہی نکاح کی بنیاد پر اس لیے حوالہ کر دیا تھا کہ اس وقت تک کفار پر مسلمان عورتوں کے حرام کیے جانے کا حکم نازل نہیں ہوا تھا۔ اور ایک حدیث میں یہ جو آیا ہے کہ آپ نے نکاح جدید کے ساتھ رخصت کیا تھا۔ یا یہ کہ چھ برس کے بعد رخصت کیا تھا تو یہ نہ معنی صحیح ہے نہ سنداً۔ (دونوں حدیثوں پر کلام کے لیے ملاحظہ ہو: تحفۃ الاحوذی ۲/۱۹۵، ۱۹۶) بلکہ دونوں لحاظ سے ضعیف ہے اور جو لوگ اسی ضعیف حدیث کے قائل ہیں۔ وہ ایک عجیب متضاد بات کہتے ہیں۔ وہ کہتے ہیں کہ ابو العاص ۸ھ کے اواخر میں فتح مکہ سے کچھ پہلے مسلمان ہوئے تھے۔ پھر یہ بھی کہتے ہیں کہ ۸ھ کے اوائل میں حضرت زینب کا انتقال ہو گیا تھا۔ حالانکہ اگر یہ دونوں باتیں صحیح مان لی جائیں تو تضاد بالکل واضح ہے۔ سوال یہ ہے کہ ایسی صورت میں ابو العاص کے اسلام لانے اور ہجرت کر کے مدینہ پہنچنے کے وقت حضرت زینب زندہ ہی کہاں تھیں کہ انہیں ان کے پاس نکاحِ جدید یا نکاحِ قدیم کی بنیاد پر ابو العاص کے حوالے کیا جاتا۔ ہم نے اس موضوع پر بلوغ المرام کی تعلیق میں بسط سے گفتگو کی گئی ہے۔ (اس سریہ کو ابن حجر نے بھی فتح الباری میں ۶ھ کے واقعات میں شمار کیا۔ (۷/۴۹۸))
اس کے علاوہ رسول اللہ ﷺ سے یہ تصور بھی نہیں کیا جا سکتا کہ آپ حدیبیہ کی صلح فرما لینے کے باوجود قریش کے قافلے پر چھاپہ مارنے کے لیے مسلمانوں کو بھیجیں گے۔ تمام اہلِ سیر کا اتفاق ہے کہ اس صلح کی خلاف ورزی مسلمانوں نے نہیں بلکہ قریش نے کی تھی۔
مشہور صاحب مغازی موسیٰ بن عقبہ کا رجحان اس طرف ہے کہ یہ واقعہ ۷ھ میں ابو بصیر اور ان کے رفقاء کے ہاتھوں پیش آیا تھا لیکن یہ نہ حدیث صحیح کے موافق ہے نہ حدیث ضعیف کے۔
۹۔ سر یۂ طرف یا طرق:
یہ سریہ بھی حضرت زید بن حارثہؓ کی قیادت میں جمادی الآخرہ ۶ھ میں طرف یا طرق نامی مقام کی طرف روانہ کیا گیا۔ یہ مقام بنو ثعلبہ کے علاقہ میں تھا۔ حضرت زیدؓ کے ساتھ صرف پندرہ آدمی تھے لیکن بدوؤں نے خبر پاتے ہی راہ فرار اختیار کی۔ انہیں خطرہ تھا کہ رسول اللہ ﷺ تشریف لا رہے ہیں۔ حضرت زیدؓ کو چار اونٹ ہاتھ لگے۔ اور وہ چار روز بعد واپس آئے۔
۱۰۔ سریۂ وادی القریٰ:
یہ سریہ بارہ آدمیوں پر مشتمل تھا اور اس کے کمانڈر بھی حضرت زیدؓ ہی تھے۔ وہ رجب ۶ھ میں وادی القری
 

محمد نعیم یونس

خاص رکن
رکن انتظامیہ
شمولیت
اپریل 27، 2013
پیغامات
26,588
ری ایکشن اسکور
6,779
پوائنٹ
1,207
کی جانب روانہ ہوئے۔ مقصد دشمن کی نقل و حرکت کا پتہ لگانا تھا مگر وادی القریٰ کے باشندوں نے ان پر حملہ کر کے نو صحابہ کو شہید کر دیا۔ اور صرف تین بچ سکے۔ جن میں ایک خود حضرت زیدؓ تھے۔ (رحمۃ للعالمین۲/۲۲۶، ان سرایا کی تفصیلات رحمۃ للعالمین ، زاد المعاد ۲/۱۲۰، ۱۲۱، ۱۲۲ اور تلقیح فہوم اہل الاثر کے حواشی ص ۲۸، ۲۹ میں ملاحظہ کی جا سکتی ہے)
۱۱۔ سریہ خبط:
اس سریہ کا زمانہ رجب ۸ھ بتایا جاتا ہے مگر سیاق بتاتا ہے کہ یہ حدیبیہ سے پہلے کا واقعہ ہے۔ حضرت جابر کا بیان ہے کہ نبی ﷺ نے تین سو سواروں کی جمعیت روانہ فرمائی۔ ہمارے امیر ابو عبیدہ بن جراحؓ تھے۔ قریش کے ایک قافلہ کا پتہ لگانا تھا۔ ہم اس مہم کے دوران سخت بھوک سے دوچار ہوئے۔ یہاں تک کہ پتے جھاڑ جھاڑ کر کھانا پڑے۔ اسی لیے اس کا نام جیش خبط پڑ گیا۔ (خبط جھاڑے جانے والے پتوں کو کہتے ہیں) آخر ایک آدمی نے تین اونٹ ذبح کیے۔ پھر تین اونٹ ذبح کیے۔ پھر تین اونٹ ذبح کیے، لیکن اس کے بعد ابو عبیدہ نے اسے منع کر دیا۔ پھر اس کے بعد ہی سمندر نے عنبر نامی ایک مچھلی پھینک دی۔ جس سے ہم آدھے مہینے تک کھاتے رہے۔ اور اس کا تیل بھی لگاتے رہے۔ یہاں تک کہ ہمارے جسم ہماری طرف پلٹ آئے۔ اور تندرست ہو گئے۔ ابو عبیدہؓ نے اس کی پسلی کا ایک کانٹا لیا۔ اور لشکر کے اندر سب سے لمبے آدمی اور سب سے لمبے اونٹ کو دیکھ کر آدمی کو اس پر سوار کیا۔ اور وہ (سوار ہو کر) کانٹے کے نیچے سے گزر گیا۔ ہم نے اس کے گوشت کے کچھ ٹکڑے توشہ کے طور پر رکھ لیے اور جب مدینہ پہنچے تو رسول اللہ ﷺ کی خدمت میں حاضر ہو کر اس کا تذکرہ کیا۔ آپ ﷺ نے فرمایا: یہ ایک رزق ہے، جو اللہ نے تمہارے لیے برآمد کیا تھا۔ اس کا گوشت تمہارے پاس ہو تو ہمیں بھی کھلاؤ۔ ہم نے رسول اللہ ﷺ کی خدمت میں کچھ گوشت بھیج دیا۔ (صحیح بخاری ۲/۶۲۶۶۲۵ صحیح مسلم ۲/۱۴۵، ۱۴۶) واقعہ کی تفصیل ختم ہوئی۔
اوپر جو یہ کہا گیا ہے کہ اس واقعے کا سیاق بتاتا ہے کہ یہ حدیبیہ سے پہلے کا ہے، اس کی وجہ یہ ہے کہ صلح حدیبیہ کے بعد مسلمان قریش کے کسی قافلے سے تعرض نہیں کرتے تھے۔
****​
 
Top