- شمولیت
- اپریل 27، 2013
- پیغامات
- 26,588
- ری ایکشن اسکور
- 6,779
- پوائنٹ
- 1,207
غزوہ مریْسیع کے بعد کی فوجی مہمات
۱۔ سرِیہ دیار بنی کلب۔ علاقہ دُومۃ الجندل:
یہ سریہ حضرت عبد الرحمن بن عوفؓ کی قیادت میں شعبان ۶ھ میں بھیجا گیا۔ رسول اللہ ﷺ نے انہیں اپنے سامنے بٹھا کر خود اپنے دستِ مبارک سے پگڑی باندھی۔ اور لڑائی میں سب سے اچھی صورت اختیار کرنے کی وصیت فرمائی۔ اور فرمایا کہ اگر وہ لوگ تمہاری اطاعت کر لیں تو تم ان کے بادشاہ کی لڑکی سے شادی کر لینا۔ حضرت عبد الرحمن بن عوفؓ نے وہاں پہنچ کر تین روز پیہم اسلام کی دعوت دی۔ بالآخر قو م نے اسلام قبول کر لیا۔ پھر حضرت عبد الرحمن بن عوفؓ نے تماضر بنت اصبغ سے شادی کی۔ یہی حضرت عبد الرحمن کے صاحبزادے ابو سلمہ کی ماں ہیں۔اس خاتون کے والد اپنی قوم کے سردار اور بادشاہ تھے۔
۲۔ سریہ دیار بنی سعد۔ علاقہ فدک:
یہ سریہ شعبان ۶ھ میں حضرت علیؓ کی سرکردگی میں روانہ کیا گیا۔ اس کی وجہ یہ ہوئی کہ رسول اللہ ﷺ کو معلوم ہوا کہ بنو سعد کی ایک جمعیت یہود کو کمک پہنچانا چاہتی ہے، لہٰذا آپ ﷺ نے حضرت علیؓ کو دو سو آدمی دے کر روانہ فرمایا۔ یہ لوگ رات میں سفر کرتے اور دن میں چھپے رہتے تھے، آخر ایک جاسوس گرفت میں آیا اور اس نے اقرار کیا کہ ان لوگوں نے خیبر کی کھجور کے عوض امداد فراہم کرنے کی پیشکش کی ہے جاسوس نے یہ بھی بتلایا کہ بنو سعد نے کس جگہ جتھ بندی کی ہے۔ چنانچہ حضرت علیؓ نے ان پر شبخون مار کر پانچ سو اونٹ اور دو ہزار بکریوں پر قبضہ کر لیا۔ البتہ بنو سعد اپنی عورتوں بچوں سمیت بھاگ نکلے ان کا سردار وبر بن علیم تھا۔
۳۔ سریہ وادی القری:
یہ سریہ حضر ت ابو بکر صدیقؓ یا حضرت زید بن حارثہؓ کے زیر قیادت رمضان ۶ھ میں روانہ کیا گیا۔ اس کا سبب یہ تھا کہ بنو فزارہ کی ایک شاخ نے دھوکے سے رسول اللہ ﷺ کو قتل کرنے کا پروگرام بنایا تھا۔ لہٰذا آپ ﷺ نے ابو بکر صدیقؓ کو روانہ فرمایا۔ حضرت سلمہ بن اکوعؓ کا بیان ہے کہ اس سریہ میں مَیں بھی آپ کے ساتھ تھا۔ جب ہم صبح کی نماز پڑھ چکے تو آپ کے حکم سے ہم لوگوں نے چھاپہ مارا۔ اور چشمے پر دھاوا بول دیا۔ ابو بکر صدیقؓ نے کچھ لوگوں کو قتل کیا۔ میں نے ایک گروہ کو دیکھا جس میں عورتیں اور بچے بھی تھے۔ مجھے اندیشہ ہوا کہ کہیں یہ لوگ مجھ سے پہلے پہاڑ پر نہ پہنچ جائیں۔ اس لیے میں نے ان کو جالیا اور ان کے اور پہاڑ کے درمیان ایک تیر چلایا۔ تیر دیکھ کر یہ لوگ ٹھہر گئے۔ ان میں ام قرفہ نامی ایک عورت تھی جس کے اوپر ایک پرانی پوستین تھی۔ اس کے ساتھ اس کی بیٹی بھی تھی جو عرب کی خوبصورت ترین عورتوں میں سے تھی۔ میں ان سب کو ہانکتا ہوا ابو بکر صدیقؓ کے پاس لے آیا۔ انہوں نے وہ لڑکی مجھے عطاکی ، لیکن میں نے اس کا کپڑا نہ کھولا۔ بعد میں رسول اللہ ﷺ نے یہ لڑکی حضرت سلمہ بن اکوعؓ سے مانگ کر مکہ بھیج دی۔ اور اس کے عوض وہاں کے متعدد مسلمان قیدیوں کو رہا کرا لیا۔ (دیکھئے: صحیح مسلم ۲/۸۹، کہا جاتا ہے کہ یہ سریہ ۷ھ میں پیش آیا)
ام قرفہ ایک شیطان عورت تھی۔نبی ﷺ کے قتل کی تدبیریں کیا کرتی تھی۔ اور اس مقصد کے لیے اس نے اپنے خاندان کے تیس سوار بھی تیار کیے تھے ، لہٰذا اسے ٹھیک بدلہ مل گیا اور اس کے تیسوں سوار مارے گئے۔
۴۔ سریہ عرنییّن:
یہ سریہ شوال ۶ھ میں حضرت کرز بن جابر فہریؓ (یہ وہی حضرت کرز بن جابر فہری ہیں جنہوں نے غزوہ بدر سے پہلے غزوہ سفوان میں مدینہ کے چوپایوں پر چھاپہ مارا تھا۔ بعد میں انہوں نے اسلام قبول کیا اور فتح مکہ کے موقع پر خلعت شہادت سے سرفراز ہوئے) کی قیادت میں روانہ کیا گیا اس کا سبب یہ ہوا کہ عکل اور عُرینہ کے چند افراد نے مدینہ آ کر اسلام کا اظہار کیا اور مدینہ ہی میں قیام کیا، لیکن ان کے لیے مدینہ کی آب و ہوا راس نہ آئی اور نبی ﷺ نے انھیں چند اونٹوں کے ساتھ چراگاہ بھیج دیا اور حکم دیا کہ اونٹوں کا دودھ اور پیشاب پیئیں۔ جب یہ لوگ تندرست ہو گئے تو رسول اللہ ﷺ کے راعی کو قتل کر دیا۔ اونٹوں کو ہانک لے گئے۔ اور اظہارِ اسلام کے بعد اب پھر کفر اختیار کیا۔ لہٰذارسول اللہ ﷺ نے ان کی تلاش کے لیے کرز بن جابر فہری کو بیس صحابہ کی معیت میں روانہ فرمایا، اور یہ دعا فرمائی کہ: اے اللہ عُرنیوں پر راستہ اندھا کر دے اور کنگن سے بھی زیادہ تنگ بنا دے۔ اللہ نے یہ دعا قبول فرمائی، ان پر راستہ اندھا کر دیا۔ چنانچہ وہ پکڑ لیے گئے اور انہوں نے مسلمان چرواہوں کے ساتھ جو کچھ کیا تھا اس کے قصاص اور بدلے کے طور پر ان کے ہاتھ پاؤں کاٹ دیے گئے۔ آنکھیں داغ دی گئیں۔ اور انھیں حرّہ کے ایک گوشے میں چھوڑ دیا گیا۔ جہاں وہ زمین کریدتے کریدتے اپنے کیفر کردار کو پہنچ گئے (زاد المعاد ۲/۱۲۲ مع بعض اضافات) ان کا واقعہ صحیح بخاری وغیرہ میں حضرت انسؓ سے مروی ہے۔ (صحیح بخاری ۲/۶۰۲ وغیرہ)
اہل سیر اس کے بعد ایک اور سریہ کا ذکر کرتے ہیں جسے حضرت عَمرو بن امیّہ ضمریؓ نے حضرت سلمہ بن ابی سلمہ کی رفاقت میں شوال ۶ھ میں سر کیا تھا۔ اس کی تفصیل یہ بتائی گئی ہے کہ حضرت عمرو بن امیہ ضمری ابو سفیان کو قتل کرنے کے لیے مکہ تشریف لے گئے تھے کیونکہ ابو سفیان نے نبی ﷺ کو قتل کرنے کے لیے ایک اعرابی کو مدینہ بھیجا تھا۔ البتہ فریقین میں سے کوئی بھی اپنی مہم میں کامیاب نہ ہوسکا۔ اہل سیر یہ بھی کہتے ہیں کہ اسی سفر میں