• الحمدللہ محدث فورم کو نئےسافٹ ویئر زین فورو 2.1.7 پر کامیابی سے منتقل کر لیا گیا ہے۔ شکایات و مسائل درج کروانے کے لئے یہاں کلک کریں۔
  • آئیے! مجلس التحقیق الاسلامی کے زیر اہتمام جاری عظیم الشان دعوتی واصلاحی ویب سائٹس کے ساتھ ماہانہ تعاون کریں اور انٹر نیٹ کے میدان میں اسلام کے عالمگیر پیغام کو عام کرنے میں محدث ٹیم کے دست وبازو بنیں ۔تفصیلات جاننے کے لئے یہاں کلک کریں۔

الرحیق المختوم تیسرا مرحلہ ...غزوۂ حنین

محمد نعیم یونس

خاص رکن
رکن انتظامیہ
شمولیت
اپریل 27، 2013
پیغامات
26,589
ری ایکشن اسکور
6,779
پوائنٹ
1,207
تیسرا مرحلہ ... غزوۂ حنین

یہ رسول اللہ ﷺ کی پیغمبرانہ زندگی کا آخری مرحلہ ہے۔ جو آپ کی اسلامی دعوت کے ان نتائج کی نمائندگی کرتا ہے جنہیں آپ نے تقریباً ۲۳ سال کی طویل جدوجہد، مشکلات و مشقت، ہنگاموں اور فتنوں، فسادات اور جنگوں اور خونریز معرکوں کے بعد حاصل کیا تھا۔
ان طویل برسوں میں فتح مکہ سب سے اہم ترین کامیابی تھی جو مسلمانوں نے حاصل کی۔ اس کی وجہ سے حالات کا دھارا بدل گیا اور عرب کی فضا میں تغیر آ گیا۔ یہ فتح درحقیقت اپنے ماقبل اور مابعد کے دونوں زمانوں کے درمیان حدِ فاصل کی حیثیت رکھتی ہے۔ کیونکہ قریش، اہل عرب کی نظر میں دین کے محافظ اور انصار تھے۔ اور پورا عرب اس بارے میں ان کے تابع تھا، اس لیے قریش کی سپر اندازی کے معنی یہ تھے کہ پورے جزیرہ نمائے عرب میں بت پرستانہ دین کا کام تمام ہو گیا۔
یہ آخری مرحلہ دو حصوں میں تقسیم ہے:
مجاہدہ اور قتال
قبول اسلام کے لیے قوموں اور قبیلوں کی دوڑ

یہ دونوں صورتیں ایک دوسرے سے جڑی ہوئی ہیں اور اس مرحلے میں آگے پیچھے بھی اور ایک دوسرے کے دوران بھی پیش آتی رہی ہیں۔ البتہ ہم نے کتابی ترتیب یہ اختیار کی ہے کہ ایک کو دوسرے سے الگ ذکر کریں۔ چونکہ پچھلے صفحات میں معرکہ و جنگ کا تذکرہ چل رہا تھا اور اگلی جنگ اسی کی ایک شاخ کی حیثیت رکھتی ہے، اس لیے یہاں جنگوں ہی کا ذکر پہلے کیا جا رہا ہے۔
****​
 

محمد نعیم یونس

خاص رکن
رکن انتظامیہ
شمولیت
اپریل 27، 2013
پیغامات
26,589
ری ایکشن اسکور
6,779
پوائنٹ
1,207
غزوۂ حنین

مکہ کی فتح ایک اچانک ضرب کے بعد حاصل ہوئی تھی جس پر عرب ششدر تھے اور ہمسایہ قبائل میں اتنی سکت نہ تھی کہ اس ناگہانی امر واقعہ کو دفع کر سکیں۔ اس لیے بعض اڑیل، طاقتور اور متکبر قبائل کو چھوڑ کر بقیہ سارے قبیلوں نے سپر ڈال دی تھی۔ اڑیل قبیلوں میں ہوازن اور ثقیف سر فہرست تھے۔ ان کے ساتھ مُضَر، جُشَم اور سعد بن بکر کے قبائل اور بنو ہلال کے کچھ لوگ بھی شامل ہو گئے تھے۔ ان سب قبیلوں کا تعلق قیسِ عیلان سے تھا۔ انہیں یہ بات اپنی خودی اور عزّتِ نفس کے خلاف معلوم ہو رہی تھی کہ مسلمانوں کے سامنے سپر انداز ہو جائیں۔ اس لیے ان قبائل نے مالک بن عوف نصری کے پاس جمع ہو کر طے کیا کہ مسلمانوں پر یلغار کی جائے۔
دشمن کی روانگی اور اَوْطَاس میں پڑاؤ:
اس فیصلے کے بعد مسلمانوں سے جنگ کے لیے ان کی روانگی عمل میں آئی تو جنرل کمانڈر - مالک بن عوف - ان کے ساتھ ان کے مال مویشی اور بال بچے بھی ہانک لایا۔ اور آگے بڑھ کر وادی اوطاس میں خیمہ زن ہوا۔ یہ حنین کے قریب بنو ہوازن کے علاقے میں ایک وادی ہے۔ لیکن یہ وادی حنین سے علیحدہ ہے۔ حنین ایک دوسری وادی ہے جو ذو المجاز کے بازو میں واقع ہے۔ وہاں سے عرفات ہوتے ہوئے مکے کا فاصلہ دس میل سے زیادہ ہے۔ (فتح الباری ۸/۲۷، ۴۲)
ماہر جنگ کی زبانی سپہ سالار کی تغلیط:
اوطاس میں اترنے کے بعد لوگ کمانڈر کے پاس جمع ہوئے۔ ان میں دُرَیْد بن صمّہ بھی تھا ... یہ بہت بوڑھا ہو چکا تھا اور اب اپنی جنگی واقفیت اور مشورے کے سوا کچھ کرنے کے لائق نہ تھا۔ لیکن وہ اصلاً بڑا بہادر اور ماہر جنگجو رہ چکا تھا... اس نے دریافت کیا: تم لوگ کس وادی میں ہو؟ جواب دیا: اوطاس میں۔ اس نے کہا: یہ سواروں کی بہترین جولان گاہ ہے۔ نہ پتھریلی اور کھائی دار ہے ، نہ بھربھری نشیب۔ لیکن کیا بات ہے کہ میں اونٹوں کی بلبلاہٹ، گدھوں کی ڈھینچ، بچوں کا گریہ اور بکریوں کی ممیاہٹ سن رہا ہوں؟ لوگوں نے کہا: مالک بن عوف، فوج کے ساتھ، ان کی عورتوں، بچوں اور مال مویشی بھی ہانک لایا ہے۔ اس پر دُرَید نے مالک کو بلایا اور پوچھا کہ تم نے ایسا کیوں کیا ہے؟ اس نے کہا: میں نے سوچا کہ ہر آدمی کے پیچھے اس کے اہل اور مال کو لگا دوں، تاکہ وہ ان کی حفاظت کے جذبے کے ساتھ جنگ کرے۔ دُرید نے کہا : اللہ کی قسم! بھیڑ کے چرواہے ہو۔ بھلا شکست کھانے
 

محمد نعیم یونس

خاص رکن
رکن انتظامیہ
شمولیت
اپریل 27، 2013
پیغامات
26,589
ری ایکشن اسکور
6,779
پوائنٹ
1,207
والے کو بھی کوئی چیز روک سکتی ہے؟ دیکھو اگر جنگ میں تم غالب رہے تو بھی مفید تو محض آدمی ہی اپنی تلوار اور نیزے سمیت ہو گا اور اگر شکست کھا گئے تو پھر تمہیں اپنے اہل اور مال کے سلسلے میں رسوا ہونا پڑے گا۔ پھر دُرید نے بعض قبائل اور سرداروں کے متعلق سوال کیا۔ اور اس کے بعد کہا: اے مالک! تم نے بنو ہوازن کی عورتوں اور بچوں کو سواروں کے حلق میں لا کر کوئی صحیح کام نہیں کیا۔ انہیں ان کے علاقے کے محفوظ مقامات اور ان کی قوم کی بالا جگہوں میں بھیج دو۔ اس کے بعد گھوڑوں کی پیٹھ پر بیٹھ کر بددینوں سے ٹکر لو۔ اگر تم نے فتح حاصل کی تو پیچھے والے تم سے آن ملیں گے اور اگر تمہیں شکست سے دوچار ہونا پڑا تو تمہارے اہل و عیال اور مال مویشی بہر حال محفوظ رہیں گے۔
لیکن جنرل کمانڈر، مالک نے یہ مشورہ مسترد کر دیا اور کہا: اللہ کی قسم! میں ایسا نہیں کر سکتا۔ تم بوڑھے ہو چکے ہو اور تمہاری عقل بھی بوڑھی ہو چکی ہے۔ واللہ! یا تو ہوازن میری اطاعت کریں گے یا میں اس تلوار پر ٹیک لگا دوں گا اور یہ میری پیٹھ کے آرپار نکل جائے گی۔ درحقیقت مالک کو یہ گوارا نہ ہوا کہ اس جنگ میں درید کا بھی نام یا مشورہ شامل ہو۔ ہوازن نے کہا: ہم نے تمہاری اطاعت کی۔ اس پر درید نے کہا: یہ ایسی جنگ ہے جس میں میں نہ شریک ہوں اور نہ یہ مجھ سے فوت ہوئی ہے۔
یا لیـتـنـی فـیہــا جــذع أخب فیہــا وأضــع
أقــود وطفــاء الـدمــع کأنہــا شــاۃ صـدع
''کاش! میں اس میں جوان ہوتا۔ تگ و تاز اور بھاگ دوڑ کرتا۔ ٹانگ کے لمبے بالوں والے اور میانہ قسم کی بکری جیسے گھوڑے کی قیادت کرتا۔ ''
دشمن کے جاسوس:
اس کے بعد مالک کے وہ جاسوس آئے جو مسلمانوں کے حالات کا پتہ لگانے پر مامور کیے گئے تھے۔ ان کی حالت یہ تھی کہ ان کا جوڑ جوڑ ٹوٹ پھوٹ گیا تھا۔ مالک نے کہا: تمہاری تباہی ہو تمہیں یہ کیا ہو گیا ہے؟ انہوں نے کہا: ہم نے کچھ چتکبرے گھوڑوں پر سفید انسان دیکھے، اور اتنے میں واللہ ہماری وہ حالت ہو گئی جسے تم دیکھ رہے ہو۔
رسول اللہ ﷺ کے جاسوس:
ادھر رسول اللہ ﷺ کو بھی دشمن کی روانگی کی خبریں مل چکی تھیں۔ چنانچہ آپ نے ابو حَدْرَدْ اسلمیؓ کو یہ حکم دے کر روانہ فرمایا کہ لوگوں کے درمیان گھس کر قیام کریں اور ان کے حالات کا ٹھیک ٹھیک پتہ لگا کر واپس آئیں اور آپ کو اطلاع دیں تو انہوں نے ایسا ہی کیا۔
رسول اللہ ﷺ مکہ سے حنین کی طرف:
سنیچر ۶ شوال ۸ھ کو رسول اللہ ﷺ نے مکہ سے کوچ فرمایا۔ آج آپ کو مکہ میں آئے ہوئے انیسواں دن تھا۔ بارہ ہزار کی فوج آپ کے ہمرکاب تھی۔ دس ہزار وہ جو فتح مکہ کے لیے آپ کے ہمراہ تشریف لائی تھی اور دو ہزار باشندگان مکہ سے، جن میں اکثریت نو مسلموں کی تھی۔ نبی ﷺ نے صفوان بن امیہ سے سو زِرہیں مع آلات و اوزار ادھار لیں۔ اور عَتّاب بن اَسیدؓ کو مکہ کا گورنر مقرر فرمایا۔
دوپہر بعد ایک سوار نے آ کر بتایا کہ میں نے فلاں اور فلاں پہاڑ پر چڑھ کر دیکھا تو کیا دیکھتا ہوں کہ بنو ہوازن چیٹ پیٹ سمیت آگے ہیں۔ ان کی عورتوں، چوپائے اور بکریاں سب ساتھ ہیں۔ رسول اللہ ﷺ نے تبسم فرماتے ہوئے فرمایا: یہ سب ان شاء اللہ کل مسلمانوں کا مالِ غنیمت ہو گا۔ رات آئی تو حضرت انس بن ابی مرثد غنویؓ نے رضاکارانہ طور پر سنتری کے فرائض انجام دیے۔ (دیکھئے: سنن ابی داؤد مع عون المعبود ۲/ ۳۱۷ باب فضل الحرس فی سبیل اللّٰہ)
حنین جاتے ہوئے لوگوں نے بیر کا ایک بڑا سا ہرا درخت دیکھا، جس کو ''ذات اَنْوَاط'' کہا جاتا تھا - (مشرکین) عرب اس پر اپنے ہتھیار لٹکاتے تھے۔ اس کے پاس جانور ذبح کرتے تھے اور وہاں درگاہ اور میلہ لگاتے تھے۔ بعض فوجیوں نے رسول اللہ ﷺ سے کہا: آپ ﷺ ہمارے لیے بھی ذات انواط بنا دیجیے۔ جیسے ان کے لیے ذات انواط ہے۔ آپ ﷺ نے فرمایا: اللہ اکبر، اس ذات کی قسم جس کے ہاتھ میں محمد ﷺ کی جان ہے تم نے ویسی ہی بات کہی جیسی موسیٰ علیہ السلام کی قوم نے کہی تھی کہ قَالُوا يَا مُوسَى اجْعَل لَّنَا إِلَـٰهًا كَمَا لَهُمْ آلِهَةٌ (۷: ۱۳۸)
''ہمارے لیے بھی ایک معبود بنا دیجیے جس طرح ان کے لیے معبود ہیں ''... یہ طور طریقے ہیں۔ تم لوگ بھی یقینا پہلوں کے طور طریقوں پر سوار ہو گئے۔ (ترمذی فتن، باب لترکبن سنن من کان قبلکم ۲/۴۱ مسند احمد ۵/۲۸۱) (اثناء راہ میں) بعض لوگوں نے لشکر کی کثرت کے پیش نظر کہا تھا کہ ہم آج ہرگز مغلوب نہیں ہو سکتے اور یہ بات رسول اللہ ﷺ پر گراں گزری تھی۔
 

محمد نعیم یونس

خاص رکن
رکن انتظامیہ
شمولیت
اپریل 27، 2013
پیغامات
26,589
ری ایکشن اسکور
6,779
پوائنٹ
1,207
اسلامی لشکر پر تیر اندازوں کا اچانک حملہ:
اسلامی لشکر منگل اور بدھ کی درمیانی رات ۱۰ شوال کو حنین پہنچا۔ لیکن مالک بن عوف یہاں پہلے ہی پہنچ کر اور اپنا لشکر رات کی تاریکی میں اس وادی کے اندر اتار کر اسے راستوں، گزر گاہوں گھاٹیوں، پوشیدہ جگہوں اور درّوں میں پھیلا اور چھپا چکا تھا۔ اور اسے یہ حکم دے چکا تھا مسلمان جونہی نمودار ہوں انہیں تیروں سے چھلنی کر دینا، پھر ان پر ایک آدمی کی طرح ٹوٹ پڑنا۔
ادھر سحر کے وقت رسول اللہ ﷺ نے لشکر کی ترتیب و تنظیم فرمائی اور پرچم باندھ باندھ کر لوگوں میں تقسیم کیے پھر صبح کے جھٹپٹے میں مسلمانوں نے آگے بڑھ کر وادی حنین میں قدم رکھا۔ وہ دشمن کے وجود سے قطعی بے خبر تھے۔ انہیں مطلق علم نہ تھا کہ اس وادی کے تنگ دروں کے اندر ثقیف و ہوازن کے جیالے ان کی گھات میں بیٹھے ہیں۔ اس لیے وہ بے خبری کے عالم میں پورے اطمینان کے ساتھ اُتر رہے تھے کہ اچانک ان پر تیر وں کی بارش
 

محمد نعیم یونس

خاص رکن
رکن انتظامیہ
شمولیت
اپریل 27، 2013
پیغامات
26,589
ری ایکشن اسکور
6,779
پوائنٹ
1,207
شروع ہو گئی۔ پھر فوراً ہی ان پر دشمن کے پَرے کے پَرے فردِ واحد کی طرح ٹوٹ پڑے (اس اچانک حملے سے مسلمان سنبھل نہ سکے اور ان میں ایسی بھگدڑ مچی کہ کوئی کسی کی طرف تاک نہ رہا تھا۔ بالکل فاش شکست تھی۔ یہاں تک کہ ابو سفیان بن حرب نے - جو ابھی نیا نیا مسلمان تھا - کہا: اب ان کی بھگدڑ سمندر سے پہلے نہ رکے گی۔ اور جبلہ یا کلدہ بن جنید نے چیخ کر کہا: دیکھو آج جادو باطل ہو گیا۔
یہ ابن اسحاق کا بیان ہے۔ بَرَاء بن عازبؓ کا بیان جو صحیح بخاری میں مروی ہے اس سے مختلف ہے۔ ان کا ارشاد ہے کہ ہوازن تیر انداز تھے۔ ہم نے حملہ کیا تو بھاگ کھڑے ہوئے۔ اس کے بعد ہم غنیمت پر ٹوٹ پڑے اور تیروں سے ہمارا استقبال کیا گیا۔ (صحیح بخاری: باب ویوم حنین اذ اعجبتکم الخ)
اور حضرت انسؓ کا بیان جو صحیح مسلم میں مروی ہے، وہ بظاہر اس سے بھی قدرے مختلف ہے مگر بڑی حد تک اس کا مؤید ہے۔ حضرت انسؓ کا ارشاد ہے کہ ہم نے مکہ فتح کیا۔ پھر حنین پر چڑھائی کی۔ مشرکین بہت عمدہ صفوں میں آئے جو میں نے کبھی نہ دیکھی۔ سواروں کی صف، پھر پیادوں کی صف، پھر ان کے پیچھے عورتیں، پھر بھیڑ بکریاں، پھر دوسرے چوپائے۔ ہم لوگ بڑی تعداد میں تھے۔ ہمارے سواروں کے میمنہ پر خالد بن ولید تھے۔ مگر ہمارے سوار ہماری پیٹھ کے پیچھے پناہ گیر ہونے لگے، اور ذرا سی دیر میں ہمارے سوار بھاگ کھڑے ہوئے۔ اعراب بھی بھاگے اور وہ لوگ بھی جنہیں تم جانتے ہو۔ (فتح الباری ۸/۲۹)
بہرحال جب بھگدڑ مچی تو رسول اللہ ﷺ نے دائیں طرف ہو کر پکارا :لوگو! میری طرف آؤ میں عبد اللہ کا بیٹا محمد ہوں۔ اس وقت اس جگہ آپ ﷺ کے ساتھ چند مہاجرین اور اہل خاندان کے سوا کوئی نہ تھا۔ ابن اسحاق کے بقول ان کی تعداد نو یا دس تھی۔ نووی کا ارشاد ہے کہ آپ ﷺ کے ساتھ بارہ آدمی ثابت قدم رہے۔ امام احمد اور حاکم (مستدرک ۲/۱۱۷) نے ابن مسعود سے روایت کی ہے کہ میں حنین کے روز رسول اللہ ﷺ کے ساتھ تھا۔ لوگ پیٹھ پھیر کر بھاگ گئے مگر آپ ﷺ کے ساتھ اسی مہاجرین و انصار ثابت قدم رہے۔ ہم اپنے قدموں پر (پیدل) تھے اور ہم نے پیٹھ نہیں پھیری۔ ترمذی نے بہ حسن، ابن عمر کی حدیث روایت کی ہے۔ ان کا بیان ہے کہ میں نے اپنے لوگوں کو حنین کے روز دیکھا کہ انہوں نے پیٹھ پھیر لی ہے اور رسول اللہ ﷺ کے ساتھ ایک سو آدمی بھی نہیں۔ (فتح الباری ۸/۲۹ ،۳۰ نیز دیکھئے: مسند ابی یعلی ۳/۳۸۸، ۳۸۹)
ان نازک ترین لمحات میں رسول اللہ ﷺ کی بے نظیر شجاعت کا ظہور ہوا۔ یعنی اس شدید بھگدڑ کے باوجود آپ ﷺ کا رخ کفار کی طرف تھا اور آپ ﷺ پیش قدمی کے لیے اپنے خچر کو ایڑ لگا رہے تھے اور یہ فرما رہے تھے:
أنا النبی لا کذب أنا ابن عبد المطلب
 

محمد نعیم یونس

خاص رکن
رکن انتظامیہ
شمولیت
اپریل 27، 2013
پیغامات
26,589
ری ایکشن اسکور
6,779
پوائنٹ
1,207
''میں نبی ہوں، جھوٹا نہیں، میں عبد المطلب کا بیٹا ہوں۔''
لیکن اس وقت ابو سفیان بن حارثؓ نے آپ کے خچر کی لگام پکڑ رکھی تھی۔ اور حضرت عباسؓ نے رکاب تھام لی تھی۔ دونوں خچر کو روک رہے تھے کہ کہیں تیزی سے آگے نہ بڑھ جائے۔ اس کے بعد آپ ﷺ اتر پڑے اپنے رب سے مدد کی دعا فرمائی: اے اللہ! اپنی مدد نازل فرما۔
مسلمانوں کی واپسی اور جنگ کی گرمی:
اس کے بعد رسول اللہ ﷺ نے اپنے چچا حضرت عباسؓ کو... جن کی آواز خاصی بلند تھی ...حکم دیا کہ صحابہ کرام کو پکاریں۔ حضرت عباسؓ کہتے ہیں کہ میں نے نہایت بلند آواز سے پکارا: درخت والو...! (بیعت رضوان والو...!) کہاں ہو؟ واللہ! وہ لوگ میری آواز سن کر اس طرح مڑے جیسے گائے اپنے بچوں پر مڑتی ہے اور جوابا کہا: ہاں ہاں آئے آئے۔(صحیح مسلم ۲/۱۰۰) حالت یہ تھی کہ آدمی اپنے اونٹ کو موڑنے کی کوشش کرتا اور نہ موڑ پاتا تو اپنی زرہ اس کی گردن میں ڈال پھینکتا۔ اور اپنی تلوار اور ڈھال سنبھال کر اونٹ سے کود جاتا۔ اور اونٹ کو چھوڑ چھاڑ کر آواز کی جانب دوڑتا۔ اس طرح جب آپ ﷺ کے پاس سو آدمی جمع ہو گئے تو انہوں نے دشمن کا استقبال کیا اور لڑائی شروع کر دی۔
اس کے بعد انصار کی پکار شروع ہوئی۔ او ... انصاریو! او ... انصاریو! پھر یہ پکار بنو حارث بن خزرج کے اندر محدود ہو گئی۔ ادھر مسلمان دستوں نے جس رفتار سے میدان چھوڑا تھا اسی رفتار سے ایک کے پیچھے ایک آتے چلے گئے۔ اور دیکھتے دیکھتے فریقین میں دھواں دھار جنگ شروع ہو گئی۔ رسول اللہ ﷺ نے میدانِ جنگ کی طرف نظر اٹھا کر دیکھا تو گھمسان کا رن پڑ رہا تھا۔ فرمایا: ''اب چولھا گرم ہو گیا ہے۔'' پھر آپ ﷺ نے زمین سے ایک مٹھی مٹی لے کر دشمن کی طرف پھینکتے ہوئے فرمایا: شاھت الوجوہ ''چہرے بگڑ جائیں۔'' یہ مٹھی بھر مٹی اس طرح پھیلی کہ دشمن کا کوئی آدمی ایسا نہ تھا جس کی آنکھ اس سے بھر نہ گئی ہو۔ اس کے بعد ان کی دھار کند ہوتی چلی گئی اور ان کا کام پشت پھیرتا چلا گیا۔
دشمن کی شکست فاش:
مٹی پھینکنے کے بعد چند ہی ساعت گزری تھی کہ دشمن کو فاش شکست ہو گئی۔ ثقیف کے تقریباً ستر آدمی قتل کیے گئے اور ان کے پاس جو کچھ مال، ہتھیار، عورتیں اور بچے تھے مسلمانوں کے ہاتھ آئے۔
یہی وہ تغیر ہے جس کی طرف اللہ سبحانہ وتعالیٰ نے اپنے اس قول میں ارشادفرمایا ہے:
 
Last edited:

محمد نعیم یونس

خاص رکن
رکن انتظامیہ
شمولیت
اپریل 27، 2013
پیغامات
26,589
ری ایکشن اسکور
6,779
پوائنٹ
1,207
وَغَدَوْا عَلَىٰ حَرْ‌دٍ قَادِرِ‌ينَ ﴿٢٥﴾ فَلَمَّا رَ‌أَوْهَا قَالُوا إِنَّا لَضَالُّونَ (۹: ۲۵،۲۶)
''اور (اللہ نے) حنین کے دن (تمہاری مدد کی) جب تمہیں تمہاری کثرت نے غرور میں ڈال دیا تھا۔ پس وہ تمہارے کچھ کام نہ آئی۔ اور زمین کشادگی کے باوجود تم پر تنگ ہو گئی، پھر تم لوگ پیٹھ پھیر کر بھاگے، پھر اللہ نے اپنے رسول اور مومنین پر اپنی سکینت نازل کی۔ اور ایسا لشکر نازل کیا جسے تم نے نہیں دیکھا۔ اور کفر کرنے والوں کو سزا دی اور یہی کافروں کا بدلہ ہے۔''
تعاقب:
شکست کھانے کے بعد دشمن کے ایک گروہ نے طائف کا رخ کیا۔ ایک نخلہ کی طرف بھاگا۔ اور ایک نے اوطاس کی راہ لی۔ رسول اللہ ﷺ نے ابو عامر اشعریؓ کی سرکردگی میں تعاقب کرنے والوں کی ایک جماعت اوطاس کی طرف روانہ کی۔ فریقین میں تھوڑی سی جھڑپ ہوئی۔ اس کے بعد مشرکین بھاگ کھڑے ہوئے، البتہ اسی جھڑپ میں اس دستے کے کمانڈر ابو عامر اشعریؓ شہید ہو گئے۔
مسلمان شہسواروں کی ایک دوسری جماعت نے نخلہ کی طرف پسپا ہونے والے مشرکین کا تعاقب کیا اور دُرید بن صمہ کو جاپکڑا۔ جسے ربیعہ بن رفیع نے قتل کردیا۔
شکست خوردہ مشرکین کے تیسرے اور سب سے بڑے گروہ کے تعاقب میں جس نے طائف کی راہ لی تھی۔ خود رسول اللہ ﷺ مال غنیمت جمع فرمانے کے بعد روانہ ہوئے۔
غنیمت:
مالِ غنیمت یہ تھا۔ قیدی چھ ہزار، اونٹ چوبیس ہزار، بکری چالیس ہزار سے زیادہ، چاندی چار ہزار اوقِیہ (یعنی ایک لاکھ ساٹھ ہزار درہم جس کی مقدار چھ کوئنٹل سے چند ہی کلو کم ہوتی ہے) رسول اللہ ﷺ نے ان سب کو جمع کرنے کا حکم دیا، پھر اسے جِعرانہ میں روک کر حضرت مسعود بن عمرو غفاریؓ کی نگرانی میں دے دیا۔ اور جب تک غزوہ طائف سے فارغ نہ ہو گئے اسے تقسیم نہ فرمایا۔
قیدیوں میں شیماء بنت حارث سعدیہ بھی تھیں۔ جو رسول اللہ ﷺ کی رضاعی بہن تھیں۔ جب انہیں رسول اللہ ﷺ کے پاس لایا گیا اور انہوں نے اپنا تعارف کرایا تو انہیں رسول اللہ ﷺ نے ایک علامت کے ذریعہ پہچان لیا۔ پھر ان کی بڑی قدر و عزت کی۔ اپنی چادر بچھا کر بٹھایا اور احسان فرماتے ہوئے انہیں ان کی قوم میں واپس کر دیا۔
****​
 
Top