- شمولیت
- اپریل 27، 2013
- پیغامات
- 26,588
- ری ایکشن اسکور
- 6,779
- پوائنٹ
- 1,207
فتح مکہ کے بعد کے سَرایَا اور عُمّال کی روانگی
اس طویل اور کامیاب سفر سے واپسی کے بعد رسول اللہ ﷺ نے مدینہ میں قدرے طویل قیام فرمایا۔ اس دوران آپ وفود کا استقبال فرماتے رہے۔ حکومت کے عُمّال بھیجتے رہے۔ داعیانِ دین کو روانہ فرماتے رہے اور جنہیں اللہ کے دین میں داخلے اور عرب کے اندر برپا امر واقعہ کے سامنے سپر اندازی سے انکار واستکبار تھا، انہیں سرنگوں فرماتے رہے۔ ان امور کا مختصر سا خاکہ پیش خدمت ہے۔
تحصیلدارانِ زکوٰۃ :
گزشتہ مباحث سے معلوم ہو چکا ہے کہ فتح مکہ کے بعد رسول اللہ ﷺ ۸ھ کے اواخر میں تشریف لائے تھے۔ ۹ھ کا ہلالِ محرم طلوع ہوتے ہی آپ نے قبائل کے پاس صدقات کی وصولی کے لیے عمال روانہ فرمائے۔ جن کی فہرست یہ ہے :
عُمّال کے نام وہ قبیلہ جس سے زکوٰۃ وصول کرنی تھی
عُیینہ بن حصن بنو تمیم
یزید بن الحصین اسلم اور غفار
عباد بن بشیر اشہلی سلیم اور مُزینہ
رافع بن مکیث جُہَینہ
عُمرو بن العاص بنو فزارہ
ضحاک بن سفیان بنو کلاب
بشیر بن سفیان بنو کعب
ابن اللُتبِیَّہ ازدی بنو ذبیان
(مہاجر بن ابی امیہ شہر صنعاء (ان کی موجودگی میں ان کے خلاف اسود عنسی نے
صنعاء میں خروج کیا تھا)
زیاد بن لبید علاقہ حضرموت
عدی بن حاتم طی اور بنو اسد
مالک بن نُوَیرہ بنو حنظلہ
زبر قان بن بدر بنو سعد (کی ایک شاخ)
قیس بن عاصم بنو سعد (کی دوسری شاخ)
علاء بن الحضرمی علاقہ بحرین
علی بن ابی طالب علاقہ نجران (زکوٰۃ اور جزیہ دونوں وصول کرنے کے لیے )
واضح رہے کہ یہ سارے عمال محرم ۹ھ ہی میں روانہ نہیں کر دیے گئے تھے۔ بلکہ بعض بعض کی روانگی خاصی تاخیر سے اس وقت عمل میں آئی تھی جب متعلقہ قبیلہ نے اسلام قبول کر لیا تھا۔ البتہ اس اہتمام کے ساتھ ان عمال کی روانگی کی ابتدا محرم ۹ھ میں ہوئی تھی۔ اور اسی سے صلح حدیبیہ کے بعد اسلامی دعوت کی کامیابی کی وسعت کا اندازہ لگایا جا سکتا ہے۔ باقی رہا فتح مکہ کے بعد کا دور تو اس میں تو لوگ اللہ کے دین میں فوج در فوج داخل ہوئے۔