• الحمدللہ محدث فورم کو نئےسافٹ ویئر زین فورو 2.1.7 پر کامیابی سے منتقل کر لیا گیا ہے۔ شکایات و مسائل درج کروانے کے لئے یہاں کلک کریں۔
  • آئیے! مجلس التحقیق الاسلامی کے زیر اہتمام جاری عظیم الشان دعوتی واصلاحی ویب سائٹس کے ساتھ ماہانہ تعاون کریں اور انٹر نیٹ کے میدان میں اسلام کے عالمگیر پیغام کو عام کرنے میں محدث ٹیم کے دست وبازو بنیں ۔تفصیلات جاننے کے لئے یہاں کلک کریں۔

الرحیق المختوم اللہ کے دین میں فوج در فوج داخلہ

محمد نعیم یونس

خاص رکن
رکن انتظامیہ
شمولیت
اپریل 27، 2013
پیغامات
26,588
ری ایکشن اسکور
6,779
پوائنٹ
1,207
اللہ کے دین میں فوج در فوج داخلہ

جیسا کہ ہم نے عرض کیا غزوۂ فتح مکہ ایک فیصلہ کن معرکہ تھا جس نے بُت پرستی کا کام تمام کر دیا۔ اور سارے عرب کے لیے حق و باطل کی پہچان ثابت ہوا۔ اس کی وجہ سے ان کے شبہات جاتے رہے۔ اسی لیے اس کے بعد انہوں نے بڑی تیز رفتاری سے اسلام قبول کیا۔ حضرت عَمرو بن سَلمہ کا بیان ہے کہ ہم لوگ ایک چشمے پر (آباد) تھے، جو لوگوں کی گزر گاہ تھا۔ ہمارے ہاں سے قافلہ گزرتے رہتے تھے۔ اور ہم ان سے پوچھتے رہتے تھے کہ لوگوں کا کیا حال ہے؟ یہ آدمی ...یعنی نبی ﷺ ... کا کیا حال ہے؟ اور کیسا ہے؟ لوگ کہتے: وہ سمجھتا ہے کہ اللہ نے اسے پیغمبر بنایا ہے۔ اس کے پاس وحی بھیجی ہے۔ اللہ نے یہ اور یہ وحی کی ہے۔ میں یہ بات یاد کر لیتا تھا۔ گویا وہ میرے سینے میں چپک جاتی تھیں۔ اور عرب حلقۂ بگوش اسلام ہونے کے لیے فتح مکہ کا انتظار کر رہے تھے۔ کہتے تھے: اسے اور اس کی قوم کو (پنجہ آزمائی کے لیے) چھوڑ دو۔ اگر وہ اپنی قوم پر غالب آ گیا تو سچا نبی ہے۔ چنانچہ جب فتح مکہ کا واقعہ پیش آیا تو ہر قوم نے اپنے اسلام کے ساتھ (مدینہ کی جانب) پیش رفت کی اور میرے والد بھی میری قوم کے اسلام کے ساتھ تشریف لے گئے۔ اور جب (خدمت نبوی ﷺ سے) واپس آئے تو فرمایا: میں تمہارے پاس اللہ کی قسم ایک نبی برحق کے پاس سے آ رہا ہوں۔ آپ ﷺ نے فرمایا ہے کہ فلاں نماز فلاں وقت پڑھو اور فلاں نماز فلاں وقت پڑھو۔ اور جب نماز کا وقت آ جائے تو تم میں سے ایک آدمی اذان کہے، اور جسے قرآن زیادہ یاد ہو وہ امامت کر ے۔ (صحیح بخاری ۲/۶۱۵، ۶۱۶)
اس حدیث سے اندازہ ہوتا ہے کہ فتح مکہ کا واقعہ حالات کو تبدیل کرنے میں، اسلام کو قوت بخشنے میں، اہلِ عرب کا موقف متعین کرانے میں اور اسلام کے سامنے انہیں سپر انداز کرنے میں کتنے گہرے اور دور رس اثرات رکھتا تھا۔ یہ کیفیت غزوہ تبوک کے بعد پختہ سے پختہ تر ہو گئی۔ اس لیے ہم دیکھتے ہیں کہ ان دو برسوں - ۹ھ اور ۱۰ھ - میں مدینہ آنے والے وفود کا تانتا بندھا ہوا تھا اور لوگ اللہ کے دین میں فوج در فوج داخل ہو رہے تھے۔ یہاں تک کہ وہ اسلامی لشکر جو فتح مکہ کے موقع پر دس ہزار سپاہ پر مشتمل تھا اس کی تعداد غزوۂ تبوک میں (جبکہ ابھی فتح مکہ پر پورا ایک سال بھی نہیں گزرا تھا) اتنی بڑھ گئی کہ وہ تیس ہزار فوجیوں کے ٹھاٹھیں مارتے ہوئے سمندر میں تبدیل ہو گیا۔ پھر ہم حجۃ الوداع میں دیکھتے ہیں کہ ایک لاکھ ۲۴ ہزار یا ایک لاکھ چوالیس ہزار اہلِ اسلام کا سیلاب امنڈ پڑا ہے، جو رسول اللہ ﷺ کے گردا گرد اس طرح لبیک پکارتا، تکبیر کہتا اور حمد و تسبیح کے نغمے گنگناتا ہے کہ آفاق گونج اٹھتے ہیں۔ اور وادی و کوہسار نغمۂ توحید سے معمور ہو جاتے ہیں۔
 
Top