• الحمدللہ محدث فورم کو نئےسافٹ ویئر زین فورو 2.1.7 پر کامیابی سے منتقل کر لیا گیا ہے۔ شکایات و مسائل درج کروانے کے لئے یہاں کلک کریں۔
  • آئیے! مجلس التحقیق الاسلامی کے زیر اہتمام جاری عظیم الشان دعوتی واصلاحی ویب سائٹس کے ساتھ ماہانہ تعاون کریں اور انٹر نیٹ کے میدان میں اسلام کے عالمگیر پیغام کو عام کرنے میں محدث ٹیم کے دست وبازو بنیں ۔تفصیلات جاننے کے لئے یہاں کلک کریں۔

کیا کپڑوں پر خون لگا ہو تو نماز ہو جاتی ہے؟

ابوالحسن علوی

علمی نگران
رکن انتظامیہ
شمولیت
مارچ 08، 2011
پیغامات
2,521
ری ایکشن اسکور
11,557
پوائنٹ
641
۱۔ اہل علم کی اکثریت کے نزدیک خون نجس ہے۔ امام نووی، امام ابن حجر، امام قرطبی، امام ابن حزم، امام ابن رشد اور امام ابن عبد البر رحمہم اللہ اجمعین نے خون کے نجس ہونے پر اہل علم کا اجماع اور اتفاق نقل کیا ہے۔ تفصیل کے لیے یہ لنک ملاحظہ فرمائیں۔
۲۔ جمہور اہل علم کے نزدیک اگر خون تھوڑا ہے اور ان کپڑوں میں نماز پڑھنے کے دوران معلوم ہوا یا بعد میں تو معاف ہے اور اس کی دلیل حضرت عائشہ رضی اللہ عنہ کی سنن ابی داود کی روایت ہے کہ اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانہ میں ہم میں کسی ایک کے پاس پہننے کے لیے ایک ہی قمیص ہوا کرتی تھی اور اس میں بعض اوقات ہم منی یا حیض کے خون کا ایک قطرہ دیکھتے تھے تو اسے اپنے ناخن سے کھرچ دیتے تھے یا تھوک سے صاف کر دیتے تھے۔
تفصیل کے لیے یہ عربی فتاوی ملاحظہ فرمائیں۔
السؤال:صليت وفي أثناء الصلاة رأيت قطرة يسيرة من الدم على الثوب واستمريت في الصلاة، فما حكم صلاتي ؟
الجواب :
الحمد لله
أولاً :
الدم نجس عند عامة العلماء . وينظر جواب السؤال رقم : (114018) .
ثانياً :
من صلى وفي أثناء صلاته وجد بقعة يسيرة من الدم على ثوبه ، أتم صلاته ، ولا يلزمه الخروج لتطهير ملابسه .
لأن النجاسة اليسيرة يعفى عنها ، ولا يجب غسلها .
جاء في "المغني" (1/409) :
" وإن صلى وفي ثوبه نجاسة ، وإن قلت ، أعاد ... إلا أن يكون ذلك دماً أو قيحاً يسيراً مما لا يفحش في القلب " .
أكثر أهل العلم يرون العفو عن يسير الدم والقيح .... ؛ لما روي عن عائشة رضي الله عنها قالت : (قد كان يكون لإحدانا الدرع [ نوع من الثياب ] ، فيه تحيض وفيه تصيبها الجنابة ، ثم ترى فيه قطرة من دم ، فتقصعه بريقها) وفي لفظ : (ما كان لإحدانا إلا ثوب ، فيه تحيض ، فإن أصابه شيء من دمها بلته بريقها ، ثم قصعته بظفرها) رواه أبو داود .
وهذا يدل على العفو عنه; لأن الريق لا يطهر به ويتنجس به ظفرها ، وهو إخبار عن دوام الفعل ، ومثل هذا لا يخفى على النبي صلى الله عليه وسلم ولا يصدر إلا عن أمره" انتهى .
وقال شيخ الإسلام ابن تيمية رحمه الله : " ويعفى عن يسير الدم وما تولد منه من القيح والصديد ونحوه وهو ما لا يفحش في النفس" انتهى من " شرح العمدة "(1/103)
وسئل علماء "اللجنة الدائمة" (5/363):
هل النجاسة اليسيرة مثل نقطة الدم التي كبر حب الدخن هل علي فيها شيء؟
فأجابوا : "النجاسة من غير الدم والقيح والصديد لا يعفى عن كثيرها ولا قليلها. أما الدم والقيح والصديد فيعفى عن اليسير منها إذا كان خروجاً من غير الفرج؛ لأن في الاحتراز من قليلها مشقة وحرج وقد قال تعالى: ( وما جعل عليكم في الدين من حرج ) وقال: ( يريد الله بكم اليسر ولا يريد بكم العسر )" انتهى .

الشيخ عبد العزيز بن عبد الله بن باز .. الشيخ عبد الرزاق عفيفي .. الشيخ عبد الله بن غديان .. الشيخ عبد الله بن قعود .
والله أعلم
الإسلام سؤال وجواب
 

محمد ارسلان

خاص رکن
شمولیت
مارچ 09، 2011
پیغامات
17,859
ری ایکشن اسکور
41,102
پوائنٹ
1,155
جزاک اللہ خیرا
لیکن صحابہ کرام جنگ میں زخمی ہوتے تو کپڑوں پر خون بھی لگتا ہو گا اور صحابہ کرام رضی اللہ عنھم نماز بھی پڑھتے تھے۔اس بارے میں بتائیں۔
 

ابوالحسن علوی

علمی نگران
رکن انتظامیہ
شمولیت
مارچ 08، 2011
پیغامات
2,521
ری ایکشن اسکور
11,557
پوائنٹ
641
لیکن صحابہ کرام جنگ میں زخمی ہوتے تو کپڑوں پر خون بھی لگتا ہو گا اور صحابہ کرام رضی اللہ عنھم نماز بھی پڑھتے تھے۔اس بارے میں بتائیں۔
مذاہب اربعہ کے معروف موقف کے مطابق حیض ونفاس کے خون کے علاوہ زخموں کا خون بھی اس ”دم مسفوح“ میں شامل ہے جسے کتاب اللہ نے حرام قرار دیا ہے۔ معاصر اہل علم میں سے امام شوکانی اور علامہ البانی رحمہما اللہ نے زخموں کے خون کو طاہر قرار دیا ہے اور اس کے دلاءل میں اس دلیل کا بھی ذکر کیا ہے جس کا آپ نے تذکرہ کیا ہے۔
جو اہل علم زخموں کے خون کو بھی نجس شمار کرتے ہیں وہ اس کا جواب یہ دیتے ہیں کہ یہ ایسی صورت حال تھی کہ جس سے طہارت ممکن نہیں تھی یعنی یہ اضطرار تھا۔ اگر وہ صحابی اپنے خون کو روکنے کی کوشش کرتے تو وہ تو وہ پہلے ہی سے کر رہے ہوتے تھے لیکن ان کا خون اس حالت میں رکتا نظر نہ آتا تھا اور دوسری بات یہ بھی ہے کہ اگر وہ اپنے ان خون آلود کپڑوں کی جگہ کوئی اور کپڑا استعمال کرتے تو وہ بھی خون جاری رہنے کی وجہ سے فورا خون آلود ہو جاتا لہذا یہ ایک اضطراری صورت حال تھی اور اس میں وہ اس حالت میں نماز پڑھ لیتے تھے۔
مزید تفصیل کے لیے یہ لنک دیکھیں۔
واللہ اعلم بالصواب
 

ابوالحسن علوی

علمی نگران
رکن انتظامیہ
شمولیت
مارچ 08، 2011
پیغامات
2,521
ری ایکشن اسکور
11,557
پوائنٹ
641
محتاط موقف یہی ہے کہ انسان کو اپنے خون آلود کپڑے دھو کر نماز پڑھنی چاہیے الا یہ کہ مجبوری کی صورت ہو۔
واللہ اعلم بالصواب
 
Top