• الحمدللہ محدث فورم کو نئےسافٹ ویئر زین فورو 2.1.7 پر کامیابی سے منتقل کر لیا گیا ہے۔ شکایات و مسائل درج کروانے کے لئے یہاں کلک کریں۔
  • آئیے! مجلس التحقیق الاسلامی کے زیر اہتمام جاری عظیم الشان دعوتی واصلاحی ویب سائٹس کے ساتھ ماہانہ تعاون کریں اور انٹر نیٹ کے میدان میں اسلام کے عالمگیر پیغام کو عام کرنے میں محدث ٹیم کے دست وبازو بنیں ۔تفصیلات جاننے کے لئے یہاں کلک کریں۔

اَضعافًا مُّضَاعَفَۃً + مزید ناراضی۔ تفسیر السراج۔ پارہ:4

محمد آصف مغل

سینئر رکن
شمولیت
اپریل 29، 2013
پیغامات
2,677
ری ایکشن اسکور
4,009
پوائنٹ
436
يٰٓاَيُّھَا الَّذِيْنَ اٰمَنُوْا لَا تَاْكُلُوا الرِّبٰٓوا اَضْعَافًا مُّضٰعَفَۃً۝۰۠ وَاتَّقُوا اللہَ لَعَلَّكُمْ تُفْلِحُوْنَ۝۱۳۰ۚ وَاتَّقُوا النَّارَ الَّتِىْٓ اُعِدَّتْ لِلْكٰفِرِيْنَ۝۱۳۱ۚ وَاَطِيْعُوا اللہَ وَالرَّسُوْلَ لَعَلَّكُمْ تُرْحَمُوْنَ۝۱۳۲ۚ وَسَارِعُوْٓا اِلٰى مَغْفِرَۃٍ مِّنْ رَّبِّكُمْ وَجَنَّۃٍ عَرْضُھَا السَّمٰوٰتُ وَالْاَرْضُ۝۰ۙ اُعِدَّتْ لِلْمُتَّقِيْنَ۝۱۳۳ۙ الَّذِيْنَ يُنْفِقُوْنَ فِي السَّرَّاۗءِ وَالضَّرَّاۗءِ وَالْكٰظِمِيْنَ الْغَيْظَ وَالْعَافِيْنَ عَنِ النَّاسِ۝۰ۭ وَاللہُ يُحِبُّ الْمُحْسِنِيْنَ۝۱۳۴ۚ
اے مومنو! دونے پر دونا سود نہ کھاؤ اور اللہ سے ڈرو۔ شاید تم مراد کو پہنچو۔۱؎(۱۳۰) اور اس آگ سے بچو جو کافروں کے لیے تیار کی گئی ہے ۔۲؎ (۱۳۱) اور اللہ اور رسول صلی اللہ علیہ وسلمکی تابعداری کرو۔ شاید تم پر رحم ہو۔(۱۳۲) اوراپنے رب کی بخشش اور اس جنت کی طرف دوڑو جس کا پھیلاؤ سارے آسمان اورزمین ہے ۔ پرہیز گاروں کے لیے تیار کی گئی ہے۔ (۱۳۳) جو آسائش اورتنگی میں خرچ کرتے اورغصہ کو دبا لیتے اور لوگوں کو معاف کرتے ہیں اوراللہ نیکوں سے محبت رکھتا ہے۔ (۱۳۴)
اَضعافًا مُّضَاعَفَۃً​
۱؎ سود کی مکمل بحث سورئہ بقرہ میں گزرچکی ہے ۔ یہاں اس کی مزید شناعت آئی ہے کہ یہ کیا انصاف ہے ۔ تم اصل رقم سے کئی گنا زیادہ وصول کرلیتے ہو اورپھرتمھارا قرض باقی رہتا ہے ۔ بات یہ ہے کہ جاہلیت میں ایک شخص متعین حد تک کے لیے سود پر روپیہ دیتا۔جب وہ مقررہ وقت آتا اور مقروض نہ دے سکتا تو اس سے کہا جاتا کہ اصل رقم میں اضافہ کرو تومدت بڑھائی جا سکتی ہے ۔ اس طرح سود اَضْعَافًا مُّضَاعَفَۃً ہوجاتا جو قطعاً ناقابل برداشت ہے ۔ اسلام نے اس سے روکا ہے ۔ اس کا یہ مقصد نہیں کہ جائز مقدار میں سود کا لینا دینا جائز ہے ۔ جیسا کہ بعض نافہم لوگوں نے سمجھا ہے ۔ یہ قید اَضْعَافًا مُّضَاعَفَۃً کی امر واقعہ کے اظہار کے لیے ہے۔ نہ تعیین وتحدید کے لئے۔
مزید ناراضی
۲؎ سورہ بقرہ میں سود خور کو خدا کے خلاف اعلان جنگ کرنے والا بتایا تھا۔ یہاں اسے مستحق عذاب قرار دیا ہے اور عذاب بھی وہ جو کفار کے ساتھ مخصوص ہے ۔ جس کے صاف صاف معنی یہ ہیں کہ اسلام سود کو کسی صورت میں بھی جائز قرار نہیں دیتا، اس لیے کہ سود خوری نسل انسانی کو بے کار بنادیتی ہے اور ایک ایسا گروہ پیدا کر دیتی ہے جو جماعت کے لیے نہایت مضر ثابت ہوتا ہے ۔ عوام میں جس قدر برائیاں پھیلتی ہیں، وہ گروہ امراء کی بدولت پھیلتی ہیں۔ ان کی تعیش پسندانہ زندگی عوامکے اخلاق کے لیے مستقل خطرہ ہے۔ اسلام جو اخلاق واصلاح کا علمبردار ہے ، کیسے سود کی اجازت دے سکتا ہے ۔
حل لغات
{اَضْعَافًا مُّضَاعَفَۃً} زائداز زائد۔ {وَالْکَاظِمِیْنَ الْغَیْظَ} غصہ پی جانے والے ۔ کَظْمٌ کے اصل معنی روکنے اور بند کرنے کے ہیں۔
 
Top