• الحمدللہ محدث فورم کو نئےسافٹ ویئر زین فورو 2.1.7 پر کامیابی سے منتقل کر لیا گیا ہے۔ شکایات و مسائل درج کروانے کے لئے یہاں کلک کریں۔
  • آئیے! مجلس التحقیق الاسلامی کے زیر اہتمام جاری عظیم الشان دعوتی واصلاحی ویب سائٹس کے ساتھ ماہانہ تعاون کریں اور انٹر نیٹ کے میدان میں اسلام کے عالمگیر پیغام کو عام کرنے میں محدث ٹیم کے دست وبازو بنیں ۔تفصیلات جاننے کے لئے یہاں کلک کریں۔

سونے کے قرض کے بارے میں سوال

محمد ارسلان

خاص رکن
شمولیت
مارچ 09، 2011
پیغامات
17,859
ری ایکشن اسکور
41,102
پوائنٹ
1,155
السلام علیکم
فرض کریں مجھ سے کوئی سونا ادھار لے جس کی قیمت کم ہو مثلا دس ہزار روپے تولہ ہواور جب وہ لوٹائے تو اس سونے کی قیمت چالیس ہزار روپے تولہ ہو تو کیا میں اتنی جنس واپس لوں یا اتنی قیمت کا سونا جتنی رقم ادھار دیتے وقت تھی؟
 

ابوالحسن علوی

علمی نگران
رکن انتظامیہ
شمولیت
مارچ 08، 2011
پیغامات
2,521
ری ایکشن اسکور
11,557
پوائنٹ
641
اگر آپ نے سونا بطور قرض دیا ہے تو سونا ہی واپس لیں اور اگر کرنسی دی ہے تو کرنسی واپس لیں۔ مثلا کسی کو ١٠ تولہ سونا قرض دیا ہے تو دس تولہ سونا واپس لیں اور قرض کا لین دین کرتے وقت احتیاطا یہ بات طے بھی کر لینی چاہیے کہ سونے کی واپسی سونے کی ہی صورت میں ہو گی۔
 

محمد ارسلان

خاص رکن
شمولیت
مارچ 09، 2011
پیغامات
17,859
ری ایکشن اسکور
41,102
پوائنٹ
1,155
جزاک اللہ خیرا
لیکن جب میں قرضہ دوں اس وقت سونے کی قیمت تھوڑی ہو اور جب میں قرضہ واپس لینا چاہوں اس وقت سونے کی قیمت زیادہ ہو تو لوٹانے والے پر کیا زیادتی ہو گی؟
یعنی ایک تولہ آج تقریبا پچاس ہزار کا ہے آج ایک تولہ قرضہ دے دیا جائے اور کل کو لوٹانے پر اس ایک تولے سونے کی قیمت ستر ہزار ہو جائے تو لوٹانے والا بیس ہزار زیادہ دے گا۔تو کیا یہ زیادتی کے زمرے میں تو نہیں آتا؟
 

ابوالحسن علوی

علمی نگران
رکن انتظامیہ
شمولیت
مارچ 08، 2011
پیغامات
2,521
ری ایکشن اسکور
11,557
پوائنٹ
641
یعنی ایک تولہ آج تقریبا پچاس ہزار کا ہے آج ایک تولہ قرضہ دے دیا جائے اور کل کو لوٹانے پر اس ایک تولے سونے کی قیمت ستر ہزار ہو جائے تو لوٹانے والا بیس ہزار زیادہ دے گا۔تو کیا یہ زیادتی کے زمرے میں تو نہیں آتا؟
آپ غور کریں ایک سوچنے کا انداز وہ ہے جیسے آپ سوچ رہے ہیں کہ سونے کی قیمت بڑھ گئی ہے اور ایک سوچنے کا انداز یہ ہے کہ سونے کی قیمت نہیں بڑھی بلکہ روپے کی قیمت یا قوت خرید یا ویلیو کم ہو گئی ہے۔
اس پر آپ کو ایک لطیفہ سناؤں کہ مصر میں ایک عدالت میں ایک خاتون نے اپنے شوہر سے علیحدگی پر حق مہر کا دعوی دائر کیا اور جیسا کہ عدالتوں میں ہوتا ہے اس مقدمہ میں فیصلہ ہونے میں ١٥ سال لگ گئے۔ جب خاتون نے دعوی دائر کیا تھا تو اس وقت تو اس حق مہر کی ویلیو کافی تھی لیکن جب اسے ادا ہوا یعنی ١٥ سال بعد تو وہ اس حق مہر سے رکشے کا کرایہ ادا کر کے گھر پہنچ گئی۔ پیسے یا کرنسی کی قیمت بھی تو بہت تیزی سے گرتی ہے۔ جن ممالک کی کرنسیاں مضبوط ہوتی ہیں جیسا کہ ڈالر اور یورو تو ان کے ہاں سونے کی قیمت میں اس قدرغیر معمولی اتار چڑھاو بھی نہیں ہوتا ہے۔
یہ بات بھی ہے کہ کسی شخص کو کسی نے مجبور تو نہیں کیا ہے کہ وہ سونا ہی بطور قرض لے وہ کرنسی میں بھی قرض لے سکتا ہے لیکن کرنسی میں قرض لینے کی صورت میں قرض دینے والے کو نقصان ہوتا ہے کیونکہ دو، چار یا دس سال بعد اس کرنسی کی تعداد تو اتنی ہی ہوتی ہے لیکن اس کی ویلیو اتنی نہیں ہوتی ہے مثلا آپ نے کسی شخص کو ایک لاکھ روپیہ دس سال پہلے قرض دیا تھا اور اگر آج وہ آپ کو لوٹاتا ہے تو آپ کا نقصان ہے کیونکہ آج ایک لاکھ میں وہ چیزیں نہیں ملتی ہیں جو دس سال پہلے ملتی تھیں۔
پس قرض دینے والے اپنے آپ کو اس نقصان سے بچانے کے لیے سونے میں قرض دیتا ہے اور قرض لینے والا کرنسی میں لینا چاہتا ہے۔
ایک درمیانی راہ میرے خیال میں یہ بھی ہو سکتی ہے کہ سونے کی بجائے کسی ایسی کرنسی کو معیار بنا لیا جائے جس کی قدر مستحکم رہتی ہو اور اس میں سونے کی طرح زیادہ اتار چڑھاو بھی نہ ہو جیسا کہ ڈالر یا یورو وغیرہ ہیں۔
 
Top