- شمولیت
- ستمبر 26، 2011
- پیغامات
- 2,767
- ری ایکشن اسکور
- 5,412
- پوائنٹ
- 562
کسی خاتون نے ایک قدرے پیچیدہ مسئلہ پوچھا ہے۔اہل علم سے اس کا جواب مطلوب ہے۔
ایک لڑکی نکاح کے وقت اپنے گھر سے اُس وقت غائب ہوگئی، جب نکاح کی مجلس میں نکاح خواں اور لڑکا سمیت سب لوگ نکاح کے انعقاد کے لئے تیار تھے۔ لڑکی والوں نے اس بات کو چھپا تے ہوئے مفرور لڑکی کی چھوٹی بہن کو دلہن بنا کر نکاح کی مجلس میں بٹھا دیا۔ نکاح کی کاروائی “معمول” کے مطابق ہوئی۔ نکاح خواں نے ایجاب و قبول کروا کر اس طرح نکاح پڑھوا دیا کہ نکاح کے فارم پر مفرور لڑکی کا نام ہی لکھا رہا، جس پر اس کی چھوٹی بہن نے بطور دلہن دستخط بھی کیا۔ نکاح خواں مجلس میں موجود دلہن کو اس کی مفرور بہن کے نام سے ہی پکار کر ایجاب و قبول کرواتا رہا۔
لیکن رخصتی سے قبل ہی “دلہن کی تبدیلی کا راز” کھل گیا۔ جس پر دُلہا والوں نے اعتراض کردیا کہ یہ نکاح تو ہوا ہی نہیں۔ لڑکی والوں کا کہنا تھا کہ چونکہ دو موجود افراد نے آمنے سامنے ایجاب و قبول کیا ہے، لہذا نکاح تو ہوگیا ہے، گو کہ انہوں نے دلہن کی تبدیلی کا نہ بتلا کر ایک غلط کام کیا ہے۔ محفل میں موجود بعض لوگوں کا یہ بھی کہنا ہے کہ لڑکے کا نکاح مفرور لرکی سے ہوگیا ہے، جس کے نام پر نکاح نامہ پر کیا گیا اور جس کے نام کو لڑکے نے “”قبول” کی۔اب سوال یہ ہے کہ اس صورت حال میں:
1۔ لڑکے کا نکاح کسی سے بھی نہیں ہوا کہ دھوکہ اور فراڈ سے نکاح منعقد نہیں ہوتا۔
2۔ اگر لڑکا مفرور لڑکی کو نام اور چہرے سے قبل ازیں “جانتا پہچانتا” نہیں تھا اور اُس نے مجلس میں موجود لڑکی ہی سے (غلط نام سے ہی سہی) ایجاب و قبول کیا ہے، لہٰذا اس کا نکاح اس لڑکی سے ہوگیا ہے۔ “احتیاطاً ” اسی لڑکی سے دوبارہ نکاح بھی کروالیا جائے، اگر دونوں گھرانے “مفاہمت” پر راضی ہیں تو۔ عدم مفاہمت کی صورت میں "احتیاطاً " لڑکا اس لڑکی کو طلاق دیدے۔ تاکہ بعد ازاں اس لڑکی کا کہیں اور نکاح، نکاح پر نکاح نہ بن جائے۔
3۔ مجلس میں موجود لڑکی سے نکاح بہر حال منعقد ہوگیا ہے۔ البتہ لڑکی اور اس کے اہل خانہ اس طرح فراد سے نکاح کرنے پر گنہگار ضرور ہوئے۔ جس کے لئے انہیں متاثرہ فریق سے معافی مانگنی چاہئے۔
3۔ اس لڑکے کا مفرور لڑکی سے نکاح کسی بھی صورت میں نہیں منعقد ہوا۔
ایک لڑکی نکاح کے وقت اپنے گھر سے اُس وقت غائب ہوگئی، جب نکاح کی مجلس میں نکاح خواں اور لڑکا سمیت سب لوگ نکاح کے انعقاد کے لئے تیار تھے۔ لڑکی والوں نے اس بات کو چھپا تے ہوئے مفرور لڑکی کی چھوٹی بہن کو دلہن بنا کر نکاح کی مجلس میں بٹھا دیا۔ نکاح کی کاروائی “معمول” کے مطابق ہوئی۔ نکاح خواں نے ایجاب و قبول کروا کر اس طرح نکاح پڑھوا دیا کہ نکاح کے فارم پر مفرور لڑکی کا نام ہی لکھا رہا، جس پر اس کی چھوٹی بہن نے بطور دلہن دستخط بھی کیا۔ نکاح خواں مجلس میں موجود دلہن کو اس کی مفرور بہن کے نام سے ہی پکار کر ایجاب و قبول کرواتا رہا۔
لیکن رخصتی سے قبل ہی “دلہن کی تبدیلی کا راز” کھل گیا۔ جس پر دُلہا والوں نے اعتراض کردیا کہ یہ نکاح تو ہوا ہی نہیں۔ لڑکی والوں کا کہنا تھا کہ چونکہ دو موجود افراد نے آمنے سامنے ایجاب و قبول کیا ہے، لہذا نکاح تو ہوگیا ہے، گو کہ انہوں نے دلہن کی تبدیلی کا نہ بتلا کر ایک غلط کام کیا ہے۔ محفل میں موجود بعض لوگوں کا یہ بھی کہنا ہے کہ لڑکے کا نکاح مفرور لرکی سے ہوگیا ہے، جس کے نام پر نکاح نامہ پر کیا گیا اور جس کے نام کو لڑکے نے “”قبول” کی۔اب سوال یہ ہے کہ اس صورت حال میں:
- کیا لڑکے کا نکاح (کسی بھی لڑکی سے) منعقد ہی نہیں ہوا؟
- لڑکےکا نکاح مجلس میں موجود لڑکی سے ہوا، جس سے اس کا ایجاب و قبول ہوا؟
- یا لڑکے کا نکاح اس مفرور لڑکی سے ہوا، جس کے نام پر اُس نے نکاح کیا اور جس کا نام نکاح نامہ پر لکھا گیا اور اپنے تئیں لڑکے نےاُسی نام کی لڑکی (جو مفرور ہے)کو بطور دلہن قبول کیا تھا۔
1۔ لڑکے کا نکاح کسی سے بھی نہیں ہوا کہ دھوکہ اور فراڈ سے نکاح منعقد نہیں ہوتا۔
2۔ اگر لڑکا مفرور لڑکی کو نام اور چہرے سے قبل ازیں “جانتا پہچانتا” نہیں تھا اور اُس نے مجلس میں موجود لڑکی ہی سے (غلط نام سے ہی سہی) ایجاب و قبول کیا ہے، لہٰذا اس کا نکاح اس لڑکی سے ہوگیا ہے۔ “احتیاطاً ” اسی لڑکی سے دوبارہ نکاح بھی کروالیا جائے، اگر دونوں گھرانے “مفاہمت” پر راضی ہیں تو۔ عدم مفاہمت کی صورت میں "احتیاطاً " لڑکا اس لڑکی کو طلاق دیدے۔ تاکہ بعد ازاں اس لڑکی کا کہیں اور نکاح، نکاح پر نکاح نہ بن جائے۔
3۔ مجلس میں موجود لڑکی سے نکاح بہر حال منعقد ہوگیا ہے۔ البتہ لڑکی اور اس کے اہل خانہ اس طرح فراد سے نکاح کرنے پر گنہگار ضرور ہوئے۔ جس کے لئے انہیں متاثرہ فریق سے معافی مانگنی چاہئے۔
3۔ اس لڑکے کا مفرور لڑکی سے نکاح کسی بھی صورت میں نہیں منعقد ہوا۔