• الحمدللہ محدث فورم کو نئےسافٹ ویئر زین فورو 2.1.7 پر کامیابی سے منتقل کر لیا گیا ہے۔ شکایات و مسائل درج کروانے کے لئے یہاں کلک کریں۔
  • آئیے! مجلس التحقیق الاسلامی کے زیر اہتمام جاری عظیم الشان دعوتی واصلاحی ویب سائٹس کے ساتھ ماہانہ تعاون کریں اور انٹر نیٹ کے میدان میں اسلام کے عالمگیر پیغام کو عام کرنے میں محدث ٹیم کے دست وبازو بنیں ۔تفصیلات جاننے کے لئے یہاں کلک کریں۔

انصار سے محبت رکھنے والا

محمد نعیم یونس

خاص رکن
رکن انتظامیہ
شمولیت
اپریل 27، 2013
پیغامات
26,588
ری ایکشن اسکور
6,779
پوائنٹ
1,207
انصار سے محبت رکھنے والا

رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:
(( اَلْأَنْصَارُ لَا یُحِبُّھُمْ إِلاَّ مُؤْمِنٌ، وَلَا یُبْغِضُھُمْ إِلاَّ مُنَافِقٌ فَمَنْ أَحَبَّھُمْ أَحَبَّہُ اللّٰہُ وَمَنْ أَبْغَضَھُمْ أَبْغَضَہُ اللّٰہُ۔ ))1
'' انصار سے محبت صرف مومن ہی کرتا ہے۔ ان سے منافق کے علاوہ کوئی بغض نہیں رکھتا۔ تو جو ان سے پیار کرتا ہے اللہ ان سے انس رکھتا ہے اور جو ان سے بغض رکھتا ہے اللہ ان سے بغض رکھتے ہیں۔''
شرح...: انصار سے نبی معظم صلی اللہ علیہ وسلم کی مدد کرنے والے مراد ہیں اور وہ اوس و خزرج والے تھے۔
اس سے پہلے انہیں بنو قیلہ کہا جاتا تھا۔ کیونکہ قیلہ دونوں قبیلوں کی وہ ماں تھی جہاں جاکر ان دونوں کی نسل جمع ہوجاتی ہے۔ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے ان کا نام انصار رکھا اور یہی ان کی علامت اور نشانی بن گیا یہ نام ان کی اولاد، ان کے حلیف اور ان کے غلاموں پر بھی بولا جاتا ہے۔
وہ اس بلند و بالا منقبت اور فضیلت کے اس لیے مستحق ٹھہرے کہ دوسرے قبائل کی بجائے انہوں نے آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم اور ان کے ساتھیوں کو جگہ دی، ان کے امور کے لیے کھڑے ہوئے، اپنا مال اور جان ان پر نچھاور کردی اور بہت سے معاملات میں انہیں اپنے آپ پر ترجیح دی۔
ــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ
1 أخرجہ البخاري في کتاب مناقب الأنصار، باب: حب الأنصار من الإیمان، رقم: ۳۷۸۳۔
 

محمد نعیم یونس

خاص رکن
رکن انتظامیہ
شمولیت
اپریل 27، 2013
پیغامات
26,588
ری ایکشن اسکور
6,779
پوائنٹ
1,207
قرآن مجید میں اللہ تعالیٰ نے بھی ان کی مدح کی ہے۔ فرمایا:
{وَالَّذِیْنَ تَبَوَّؤُا الدَّارَ وَالْاِِیْمَانَ مِنْ قَبْلِہِمْ یُحِبُّوْنَ مَنْ ہَاجَرَ إِلَیْہِمْ وَلَا یَجِدُوْنَ فِیْ صُدُوْرِہِمْ حَاجَۃً مِّمَّا أُوْتُوا وَیُؤْثِرُوْنَ عَلٰی أَنْفُسِہِمْ وَلَوْ کَانَ بِہِمْ خَصَاصَۃٌ وَّمَنْ یُّوقَ شُحَّ نَفْسِہٖ فَأُوْلٰٓئِکَ ہُمُ الْمُفْلِحُوْنَ o} [الحشر: ۹]
'' (اور مال فے ان) لوگوں کے لیے ہے جنہوں نے اس گھر میں (یعنی مدینہ میں) اور ایمان میں ان سے پہلے جگہ بنا لی ہے، اپنی طرف ہجرت کرکے آنے والوں سے محبت کرتے ہیں اور مہاجرین کو جو کچھ دے دیا جائے اس سے وہ اپنے دلوں میں کوئی تشویش نہیں رکھتے بلکہ خود اپنے اوپر انہیں ترجیح دیتے ہیں گو خود کو کتنی ہی سخت حاجت ہو۔ اور جو کوئی اپنے نفس کی بخیلی سے بچالیا گیا پس ایسے لوگ ہی کامیاب ہونے والے ہیں۔''
یعنی یہ انصار، مہاجرین سے پیار کرتے ہیں اور جو ان کو ملا اس پر حسد نہیں کیا بلکہ اپنی ضرورت کے باوجود انہیں اپنے آپ پر ترجیح دی اور اپنے مال اور گھر ان کے سامنے رکھ دیے۔ اسی لیے انصار کے ساتھ محبت کرنے کی ترغیب دلائی گئی ہے حتیٰ کہ اسے ایمان کی نشانی قرار دیا گیا۔ رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:
(( آیَۃُ الْاِیْمَانِ حُبُّ الْأَنْصَارِ۔ ))1
'' ایمان کی نشانی انصار کی محبت ہے۔ ''
حدیث میں ان کی فضیلت کو اجاگر اور ان کے فعل کی عمدگی پر متنبہ کیا گیا ہے۔ گو مذکورہ فضیلت میں دیگر صحابہ بھی شریک ہیں مگر ہر ایک اپنے درجہ اور رتبہ کے مطابق ہے مثلاً حضرت علی رضی اللہ عنہ سے صحیح حدیث مروی ہے، کہتے ہیں: '' اس ذات کی قسم! جس نے دانے اور روح کو پیدا کیا، بے شک امی نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے میری طرف عہد کیا کہ مجھ سے محبت صرف مومن ہی کرتا ہے اور مجھ سے بغض صرف منافق ہی رکھتا ہے۔ '' 2
یہ بات تمام صحابہ کے بارے میں جاری ہے، کیونکہ عزت و شرف میں سب مشترک ہیں۔ جس آدمی نے انصار کا مرتبہ اور ان کا دین اسلام کی نصرت کرنا، اسلام کے لیے ایثار کرنا، سب لوگوں سے دشمنی اور جنگ مول لینا، نبی علیہ السلام سے پیار اور آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کا ان سے محبت کرنا، جس نے بھی ان امور کو جان لیا اور پھر ان امور کی وجہ سے خود بھی ان سے محبت شروع کردی تو یہ ایسے انسان کے ایمان کے صحیح اور اسلام میں سچے ہونے کی علامت ہے کیونکہ ایسا شخص اسلام کے غلبہ کو پسند کرتا اور آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم اور اللہ تعالیٰ کے پسندیدہ کاموں کو بجا لانے میں خوشی محسوس کرتا ہے۔
ــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ
1 صحیح بخاري، کتاب الإیمان، باب: علامۃ الإیمان حب الانصار۔
2 صحیح مسلم، کتاب الایمان، باب: حب الانصار وعلی رضی اللہ عنہم من الایمان ۲۴۰۔
 

محمد نعیم یونس

خاص رکن
رکن انتظامیہ
شمولیت
اپریل 27، 2013
پیغامات
26,588
ری ایکشن اسکور
6,779
پوائنٹ
1,207
اللہ تعالیٰ نے فرمایا:
{ وَالَّذِیْنَ جَائُوْا مِنْ م بَعْدِہِمْ یَقُوْلُوْنَ رَبَّنَا اغْفِرْلَنَا وَلِاِِخْوَانِنَا الَّذِیْنَ سَبَقُوْنَا بِالْاِِیْمَانِ وَلَا تَجْعَلْ فِیْ قُلُوْبِنَا غِلاًّ لِلَّذِیْنَ اٰمَنُوْا رَبَّنَآ إِنَّکَ رَئُ وْفٌ رَّحِیْمٌ o}[الحشر: ۱۰]
'' (اور مال فے ان لوگوں کے لیے ہے) جو ان کے بعد (صحابہ کے بعد) آئیں گے، جو کہیں گے: اے ہمارے رب! ہمیں بخش دے اور ہمارے ان بھائیوں کو بھی جو ہم سے پہلے ایمان لاچکے ہیں اور ایمان داروں کے بارے میں ہمارے دل میں کینہ اور دشمنی نہ ڈال، اے ہمارے رب! بے شک تو شفقت کرنے والا مہربان ہے۔ '' 1
ــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ
1 مزید دیکھیے: فتح الباری ۶۳/۱، نووی شرح مسلم ص ۲۶۴

اللہ تعالی کی پسند اور ناپسند
 

Abu Hashir

مبتدی
شمولیت
فروری 06، 2025
پیغامات
37
ری ایکشن اسکور
6
پوائنٹ
16
کیونکہ انصار سے محبت والی حدیث کے دو سے زائد راوی موجود ہیں اسلئے یہ قوی روایت ہے

جبکہ
حضرت علی سے محبت والی حدیث کا صرف ایک ہی راوی ہے اور وہ خود حضرت علی ہیں اسلئے یہ ضعیف روایت ہے
کیونکہ ایمانیات اور اہم معاملات میں جس حدیث کے کم از کم دو گواہ نہ ہو وہ قابل قبول نہیں ہوتی

یہ حدیث اسلئے بھی مشکوک اور منگھڑت ہے کہ اسکو استعمال کرکے شیعہ لاکھوں اصحاب رسول اور اہل سنت کو منافق کہتے ہیں

اور کئ صحیح احادیث سے پتہ چلتا ہے کہ اہل بیت میں سے بھی کچھ لوگ حضرت علی سے ناراض رہے تو کیا وہ بھی منافق ہوگئے؟؟؟

سیدہ فاطمہ کئ دفعہ حضرت علی سے ناراض ہوئیں اور نبی کریم سے شکایت لگائ

حضرت عباس نے تو کئ صحابہ کے سامنے حضرت علی کو برا بھلا کہا

حضرت علی کے بڑے بھائی عقیل انسے ناراض ہو کر امیر معاویہ کے پاس چلے گئے

امام حسن اکثر حضرت علی سے اختلاف کرتے تھے اور ان کو لڑائیوں سے منع کرتے تھے مگر حضرت علی انہیں ڈانٹ دیتے تھے اور کہتے تھے کہ تم کیوں عورتوں کی طرح منہ بسور کر پڑے رہتے ہو

نبی کریم کے پھوپھی زاد بھائی حضرت زبیر بن العوام حضرت علی سے ناراض ہوئے

نبی کریم کے چچا حضرت جعفر طیار نے حضرت علی کے اونٹ کا پیٹ چاک کرکے ہلاک کردیا تھا

تو کیا اس حدیث کی رو سے نعوذبااللہ یہ بھی منافق ہوگئے
 
Top