lovelyalltime
سینئر رکن
- شمولیت
- مارچ 28، 2012
- پیغامات
- 3,735
- ری ایکشن اسکور
- 2,899
- پوائنٹ
- 436


مصنف ابن ابی شیبہ کی اس تحریف کے بارے میں میری معلومات کے مطابق یہ ہے کہ حنفیوں کے ادارۃ القرآن والوں نے مصنف ابن ابی شیبہ کو ہندوستان میں مطبوع نسخہ سےنقل کرکے چھاپا ہے ( جیسا کہ محمد عوامہ نے بھی اس کی وضاحت کی ہے ) اور اس ہندی نسخہ میں ’’ تحت السرۃ ‘‘ کے الفاظ نہیں ہیں ۔مولانا انور شاہ کشمیریؒ نے صرف یہ کہا ہے کہ ملا حیات سندھی کو یہ گمان ہوا کہ اس میں کمی اور حذف ہوا ہے اور پھر متن حدیث مرفوع ہو گیا ہے۔ میں کہتا ہوں: ایسا ہونے میں کوئی تعجب کی بات نہیں ہے۔ میں نے مصنف کے تین نسخے دیکھے اور ان میں سے کسی ایک میں بھی نہیں پایا۔
لیکن اس سے یہ ہرگز لازم نہیں آتا کہ دیگر نسخوں میں بھی یہ نہیں ہوگا۔ ذیل میں میں دو نسخے دے رہا ہوں جنہیں محمد عوامہ نے اپنی تحقیق کے دوران تلاش کیا اور ان کا اسکین لگایا۔ انہی کی تحقیق کی ہوئی مصنف کی جلد تین سے یہ پیش خدمت ہیں۔
۔۔۔۔۔۔
اب اس سے آگے خیانت دیکھیں کہ عنوان لگایا گیا ہے: حدیث وائل میں منصف ابن ابی شیبہ کا اضافہ صحیح نہیں
حالاں کہ کشمیریؒ نے ایسی کوئی بات نہیں کی اور آگے جس زیادتی کی بات انہوں نے کی وہ ابن خزیمہ کی زیادتی "علی الصدر" کی بات ہے۔ اور اس پر تین قرائن ہیں:۔
تعجب مجھے اس بات سے ہوا کہ شیخ کفایت اللہ اور محترم خضر حیات بھائی جیسے لوگوں نے اس کو پسند کیا اور شکریہ ادا کیا ہے۔
- پچھلے صفحے کے آخر سے بات اسی کی چل رہی ہے۔
- خود ابن خزیمہ کی روایت کا ذکر کیا ہے۔
- فقدان عمل کا ذکر کیا ہے جو اسی روایت میں ہے۔
شیخ ہاشم سندھیؒ نے بھی تین ایسے نسخوں کا ذکر کیا ہے جن میں تحت السرہ کا لفظ ہے اور وہ انہیں دیکھ چکے ہیں۔
بھائی معذرت کے ساتھ آپ لوگ ہر چیز کو غلط انداز سے ہی کیوں لیتے ہیں؟ اگر محمد عوامہ کی بات درست نہیں ہے تو اس کا باقاعدہ رد کریں۔ اگر آپ کے ذہن میں یہ آیا ہے کہ انہوں نے جان بوجھ کر اور بغیر اس ذکر کردہ وجہ کے ہی یہ کیا ہے تو اس پر کوئی بالدلیل رد کریں۔ باقی یہ بات کے حاشیہ میں وضاحت کرتے تو مناقشہ کرنے والے بزرگوں نے تین نسخوں کا ذکر کیا ہے جن میں زیادتی موجود ہے۔ یہ ایک کثیر تعداد ہے اس لیے لکھ دیا۔ حاشیہ میں لکھتے یہ کوئی ایسا متفقہ قدیم اصول نہیں ہے کہ ہم اس کی بنیاد پر اسے تحریف ہی کہیں گے۔مصنف ابن ابی شیبہ کی اس تحریف کے بارے میں میری معلومات کے مطابق یہ ہے کہ حنفیوں کے ادارۃ القرآن والوں نے مصنف ابن ابی شیبہ کو ہندوستان میں مطبوع نسخہ سےنقل کرکے چھاپا ہے ( جیسا کہ محمد عوامہ نے بھی اس کی وضاحت کی ہے ) اور اس ہندی نسخہ میں ’’ تحت السرۃ ‘‘ کے الفاظ نہیں ہیں ۔
گویا جس نسخہ پر اعتماد تھا اس میں ’’ تحت السرۃ ‘‘ کے الفاظ نہ ہونےکے باوجود اس کا اضافہ کردیا ۔ اب یہ تحریف نہیں تو اور کیا ہے ؟
شیخ محمد عوامہ نے اس کی معذرتیں پیش کرنے کی کوشش کی ہیں لیکن عذر گناہ بد تر از گناہ کے قبیل سےہیں ۔ کہتے ہیں کہ ادارۃ القرآن کے مدیر یا رئیس نور محمد صاحب نے یہ اضافہ اس وجہ سے کیا کیوں کہ فلاں فلاں شیوخ کے درمیان بحث و مباحثہ اور مناقشہ ہوا جس سے ثابت ہوگیا کہ اس حدیث میں ’’ تحت السرۃ ‘‘ کا اضافہ درست ہے ۔
اسی طرح قاسم ابن قطلوبغا نے بھی اس روایت کو اس اضافہ کے ساتھ نقل کیا ہے ۔
میں سمجھتا ہوں ان دونوں دلیلوں کی اس سے زیادہ کوئی حیثیت نہیں کہ نور محمد صاحب یا کتاب کے محققین و مصححین کے ہاں ’’ تحت السرۃ ‘‘ کا اضافہ راحج ہوگا ۔
لیکن یہ کسی نسخہ میں اضافہ کے جواز کی دلیل تو نہیں بن سکتا ۔ زیادہ سے زیادہ یہ ہوسکتا تھا کہ نیچے حاشیہ میں وضاحت کر دیتے کہ فلاں فلاں نے اس ’’ اضافہ ‘‘ کو درست قرار دیا ہے ۔
لیکن اپنے رحجانات کو اصل کتاب کے اندر شامل کردینا اس کو سوائے تحریف کے اور کیا کہا جاسکتا ہے ۔ ؟
محترم بھائی جان ! جس طرز پر آپ شکایت کر رہے ہیں ذرا غور کریں تو آپ خود اس چیز میں مبتلا ہے ۔ اور یہ چیزیں فطری ہوتی ہیں ہر کوئی جس قدر وسیع ذہن رکھتا ہے اس قدر ان چیزوں سےبچ جاتا ہے ۔ مجھے بتائیں اسی مسئلہ کو ہی لے لیں آپ نے ذرا بھی اپنے موقف میں لچک پیدا کی ہے کہ ممکن ہےکہ ہمارے بزرگوں نے اس تحریف کا شعوری یا لاشعوری طور پر ارتکاب کرلیا ہو ۔ بلکہ الٹا آپ تحقیق کے متفقہ اور رائج اصولوں کے ہی انکاری ہورہے ہیں ۔ بالکل یہی کام آپ نے حضرت عیسی کے نزول کے وقت ابو حنیفہ کے مذہب والی لڑی میں کیا ہے کہ اپنے بزرگوں کا دفاع کرنے کے چکر میں ’’ انبیاء کے مجتہد ‘‘ ہونے پرسوالیہ نشان لگا دیا ۔۔۔؟بھائی معذرت کے ساتھ آپ لوگ ہر چیز کو غلط انداز سے ہی کیوں لیتے ہیں؟ اگر محمد عوامہ کی بات درست نہیں ہے تو اس کا باقاعدہ رد کریں۔ اگر آپ کے ذہن میں یہ آیا ہے کہ انہوں نے جان بوجھ کر اور بغیر اس ذکر کردہ وجہ کے ہی یہ کیا ہے تو اس پر کوئی بالدلیل رد کریں۔ باقی یہ بات کے حاشیہ میں وضاحت کرتے تو مناقشہ کرنے والے بزرگوں نے تین نسخوں کا ذکر کیا ہے جن میں زیادتی موجود ہے۔ یہ ایک کثیر تعداد ہے اس لیے لکھ دیا۔ حاشیہ میں لکھتے یہ کوئی ایسا متفقہ قدیم اصول نہیں ہے کہ ہم اس کی بنیاد پر اسے تحریف ہی کہیں گے۔
میں ان کا دفاع نہیں کرنا چاہتا لیکن جو بھی ایسا کوئی کام کرے اسے بجائے غلط جگہ پر ہی محمول کرنے کے اچھی جگہ پر بھی محمول کرنا چاہیے خصوصا جب ایک محقق اس بارے میں ایک روایت بھی ذکر کر رہا ہے۔ کچھ تو مسلمانوں کے بارے میں خیر اور درستگی کا بھی سوچنا چاہیے۔
یہ خیال آپ لوگوں میں بہت سے افراد رکھتے ہیں کہ اہل حدیث معصوم و محترم ہیں جب کہ مقلدین تحریف کے رسیا۔ آخر یہ بھی کوئی اصول ہے؟
لیکن یہ بھی تو کوئی اصول نہیں ہے نہ کہ مخالف جو بھی بات کرے وہ کبھی درست ہو ہی نہیں سکتی ۔۔ گویا بزرگوں کی کتابیں نہ ہوئی منزل صحیفے ہوگئے کہ جو کچھ آگیا بس اس کو کھینج تان کر ثابت کرنا ہے ۔یہ خیال آپ لوگوں میں بہت سے افراد رکھتے ہیں کہ اہل حدیث معصوم و محترم ہیں جب کہ مقلدین تحریف کے رسیا۔ آخر یہ بھی کوئی اصول ہے؟
ٹھیک ہے اپنا اپنا فہم ہے آپ کا بھی اور ان کا بھی۔ درہم السرۃ کے مقدمہ ناشر میں انہوں نے اس بات کا تفصیلا ذکر کیا ہے۔ پھر بھی آپ انہیں اگر غلط سمجھتے ہیں تو میرے بھائی اسے خطا کہیں، غلطی کہیں۔ تحریف کا لفظ اردو میں کس معنی میں استعمال ہوتا ہے آپ بخوبی واقف ہیں۔محترم بھائی جان ! جس طرز پر آپ شکایت کر رہے ہیں ذرا غور کریں تو آپ خود اس چیز میں مبتلا ہے ۔ اور یہ چیزیں فطری ہوتی ہیں ہر کوئی جس قدر وسیع ذہن رکھتا ہے اس قدر ان چیزوں سےبچ جاتا ہے ۔ مجھے بتائیں اسی مسئلہ کو ہی لے لیں آپ نے ذرا بھی اپنے موقف میں لچک پیدا کی ہے کہ ممکن ہےکہ ہمارے بزرگوں نے اس تحریف کا شعوری یا لاشعوری طور پر ارتکاب کرلیا ہو ۔ بلکہ الٹا آپ تحقیق کے متفقہ اور رائج اصولوں کے ہی انکاری ہورہے ہیں ۔ بالکل یہی کام آپ نے حضرت عیسی کے نزول کے وقت ابو حنیفہ کے مذہب والی لڑی میں کیا ہے کہ اپنے بزرگوں کا دفاع کرنے کے چکر میں ’’ انبیاء کے مجتہد ‘‘ ہونے پرسوالیہ نشان لگا دیا ۔۔۔؟
بہر صورت ان باتوں کو ایک طرف کریں کسی کے رحجانات کیا ہیں اور کیوں ہیں ؟ اس کا جواب جو بھی ہو۔ حقائق تو تبدیل نہیں کیےجاسکتے ۔
ادارۃ القرآن والوں کی تحریف ہم اس وجہ سے کہتے ہیں کہ انہوں نے نئے سرے سےکتاب کی کوئی تحقیق نہیں کی تھی بلکہ انہوں نے اس کتاب کو ’’ طبعہ ہندیہ ‘‘ سے نقل کیا تھا ۔
اب دیانت کا تقاضا یہ تھا اس کو ہو بہوویسے ہی نقل کیاجاتا ۔ اگر کسی جگہ کوئی وضاحت کی ضرورت تھی تو حاشیہ میں کردی جاتی ۔
آپ کہتے ہیں کہ محمد عوامہ کا رد کریں ۔ کس چیز کا رد کروں ؟ گزارش کرتو دی ہے کہ محمد عوامہ نے جو معاذیر تلاش کیے ہیں وہ نا کافی ہیں کیونکہ جنہوں نے تحریف کی ہے انہوں نے عوامہ کے پا موجود نسخوں سے دیکھ کر نہیں کی ۔ بلکہ قاسم ابن قطلوبغا اور ہاشم سندھی پر اعتماد کرتے ہوئے اضافہ کردیا ہے اور تنبیہ کی زحمت بھی نہیں کی ۔
اب مجھے بتائیں ہر کوئی اپنی ترجیحات کو صلب کتاب میں شامل کرتا جائے تو کتب حدیث کی ثقاہت اور ان پر اعتماد کیا رہ جائے گا ؟
ثانوی یا ثالثوی کتابوں میں دیے گئے حوالوں کی تصحیح یا تنقید تو کی جاتی ہے ان کتب حدیث کی طرف رجوع کرکے ۔ لیکن اگر یہ کتب حدیث بھی ان نیچے درجے کی کتابوں پر اعتماد کرکے چھپنے لگ جائیں تو اعتماد کس چیز پر ؟
لیکن یہ بھی تو کوئی اصول نہیں ہے نہ کہ مخالف جو بھی بات کرے وہ کبھی درست ہو ہی نہیں سکتی ۔۔ گویا بزرگوں کی کتابیں نہ ہوئی منزل صحیفے ہوگئے کہ جو کچھ آگیا بس اس کو کھینج تان کر ثابت کرنا ہے ۔
آپ ’’ حسن ظن ‘‘ پر زور دے رہے ہیں اور محمد عوامہ صاحب کے پاس بھی اس سے بڑھ کر کوئی دلیل ہاتھ نہیں آئی ۔ لیکن مسئلہ یہ ہےکہ ہم توظاہر پر حکم لگا سکتےہیں ہمیں کیا پتہ ان کی نیت کیا تھی ۔۔۔؟؟
ایک بات اور گزارش کردوں وہی ادارۃ القرآن کے رئیس کے صاحبزادے ’’الٹا چور کوتوال کو ڈانٹے ‘‘ کے مصداق ’’ طبعہ ہندیہ ‘‘ کو محرف قرار دیتے ہیں کہ چھاپنے والوں نے اس سے ’’ تحت السرۃ ‘‘ کے الفاظ کو تحریف کرتےہوئے نکال دیا ۔ ذرا ان کو بھی ’’ حسن ظن ‘‘ کے بارے میں کوئی پیغام بھیجیے گا ۔
ابھی ابھی ایک اور جگہ اس پر پوسٹ لکھ کر آرہا ہوں لیکن اب ٹیب بند کر دیا۔ لنک نہیں دے سکتا۔اگر اس اضافہ کو صحیح بھی تسلیم کر لیا جائے (جو کہ ممکن نہیں ہے) تب بھی یہ روایت صحیح نہیں بنے گی کیونکہ یہ روایت بے شمار راویوں نے روایت کی ہے اور ان بے شمار رایوں نے آگے بے شمار راویوں سے روایت کی ہے لیکن ان میں سے کسی ایک شخص نے بھی اسے اس اضافے کے ساتھ ہر گز روایت نہیں کیا۔ اگر ہم اس اضافے کو اصل کتاب کا حصہ بھی مان لیں تب بھی یہ دنیاء کی شاذ سے شاذ ترین روایتوں میں سے ہو گی! یا پھر اسے اصل کتاب کی ہی غلطی گردانا جائے گا! لیکن غنیمت یہ کہ اصل کتاب میں بھی یہ روایت اپنی صحیح شکل میں ہی ہے بس کچھ لوگوں کی عقل پر ہی پردے پڑے ہیں تو کیا کر سکتے ہیں!