• الحمدللہ محدث فورم کو نئےسافٹ ویئر زین فورو 2.1.7 پر کامیابی سے منتقل کر لیا گیا ہے۔ شکایات و مسائل درج کروانے کے لئے یہاں کلک کریں۔
  • آئیے! مجلس التحقیق الاسلامی کے زیر اہتمام جاری عظیم الشان دعوتی واصلاحی ویب سائٹس کے ساتھ ماہانہ تعاون کریں اور انٹر نیٹ کے میدان میں اسلام کے عالمگیر پیغام کو عام کرنے میں محدث ٹیم کے دست وبازو بنیں ۔تفصیلات جاننے کے لئے یہاں کلک کریں۔

raz'at k bare me tafseel se batayen

ابن خلیل

سینئر رکن
شمولیت
جولائی 03، 2011
پیغامات
1,387
ری ایکشن اسکور
6,756
پوائنٹ
332
Assalamu Alaykum

ek ahem sawal hai aur umeed hai ke daleel ke sath tafseeli jawab milega inshaAllah

raz'at k bare me tafseel se batayen aur raz'at k liye bache ki umar kitni honi chahiye aur kya isme aurat ki bhi umar dekhi jayegi kabhi aise bhi hota hai k aurat ko doodh nahi aata hai phir bhi wo rote bache ko khamosh karane k lye aksar apna seena uske muh se laga deti hai to iska kya hukm hai aur raz'at ka rishta khud se bana na kahan tak theek hai kyun k agar bachon ko iska ilm na ho aur mustaqbil me kahin iski wajhe se koi musibat ajaye to ? isliye kya ye sahi hai aaj k razayi rishta banaya jaye

iska tafseelan dalail k sath jawab den ye jawab shayad kisi ki madad ke liye bohot kaam ajaye
Jazakallah khair
 

ابوالحسن علوی

علمی نگران
رکن انتظامیہ
شمولیت
مارچ 08، 2011
پیغامات
2,521
ری ایکشن اسکور
11,557
پوائنٹ
641
۱۔ میری اپنے بھائی سے گزارش ہے کہ وہ اب وہ رومن اردو سے اردو حروف تہجی میں سوال لکھنے کی عادت ڈالیں۔ چونکہ ہمیں رومن اردو کی عادت نہیں ہوتی ہے لہذا سوال سمجھنے میں دقت ہوتی ہے۔
٢۔ شیخ صالح المنجد اس بارے ایک سوال کا جواب دیتے ہوئے لکھتے ہیں:
سوال ؛ ميرا ايك بچہ ہے اور ميرى بہن كى بچى ہے ميں اپنے بيٹے كو اپنى بہن كا دودھ پلانا چاہتى ہوں تا كہ وہ آپس ميں رضاعى بھائى بن جائيں، اور ان كے ليے ايك دوسرے سے ملنا ميں كوئى حرج نہيں رہے اور آسانى سے ايك دوسرے كے پاس جاسكيں.
تو كيا اس كے ليے پستان سے منہ لگا كر دودھ پينا شرط ہے يا كہ دودھ نكل كر بچے كو پلايا جا سكتا ہے، اور اگر وہ كسى علاقہ ميں ہو تو فريج ميں محفوظ كر كے اسے پلايا جا سكتا ہے يا نہيں ؟

الحمد للہ:
اول:
بہن يا بھائى يا كسى دوسرے كے بيٹے كو دودھ پلانے ميں كوئى حرج نہيں؛ تا كہ وہ دودھ پلانے والى عورت اور اس كے بچوں كے ليے محرم بن سكے اور ان كا ايك دوسرے كے پاس جانا آسان ہو.
عائشہ رضى اللہ تعالى عنہا جسے چاہتيں كہ وہ ان كے پاس آيا جايا كرے تو عائشہ رضى اللہ تعالى عنہا جنہيں اپنے پاس آنا پسند كرتيں ان كے متعلق اپنى بھتيجيوں اور بھانجيوں كو حكم ديتى كہ وہ انہيں دودھ پلائيں تا كہ وہ ان كے پاس آ سكيں "
سنن ابو داود حديث نمبر ( 2061 ) علامہ البانى رحمہ اللہ نے صحيح ابو داود ميں اسے صحيح قرار ديا ہے.
دوم
حرمت ثابت كرنے والى رضاعت پستان سے منہ لگا كر دودھ پينے پر موقوف نہيں، بلكہ اگر كسى برتن ميں ڈال كر بچے كو پلا ديا جائے تو بھى اس سےحرمت ثابت ہو جاتى ہے، جمہور علماء كرام كے ہاں معتبر يہى ہے.
ابن قدامہ رحمہ اللہ كہتے ہيں:
" امام شافعى رحمہ اللہ كہتے ہيں: اور ناك كے ذريعہ دودھ پلانا اور پستان كو منہ لگائے بغير بچے كے حلق ميں دودھ ڈال دينا بھى رضاعت كى طرح ہى ہے.
السعوط: ناك كے ذريعہ خوراك دينا، اور الوجور: حلق ميں دودھ ڈالنے كو كہتے ہيں.
اور ان دونوں طريقوں سے حرمت ثابت ہونے كى روايت ميں اختلاف ہے: دونوں روايتوں ميں صحيح ترين يہى ہے كہ اس سے بھى اسى طرح حرمت ثابت ہو جاتى ہے جس طرح رضاعت سے ثابت ہوتى ہے.
شعبى اور ثورى اور اصحاب الرائے كا يہى قول ہے، اور حلق ميں ڈالنے كے متعلق امام مالك بھى يہى كہتے ہيں.
اور دوسرى روايت يہ ہے كہ: اس سے حرمت ثابت نہيں ہوتى، ابو بكر نے يہى اختيار كيا ہے، اور داود كا يہى مسلك ہے، اور عطاء خراسانى ناك كے ذريعہ دودھ كى خوراك لينے كے متعلق كہتے ہيں يہ رضاعت نہيں، بلكہ اللہ تعالى اور اس كے رسول نے رضاعت سے حرمت ثابت كى ہے.
اس كى حرمت كى دليل عبد اللہ بن مسعود رضى اللہ تعالى عنہما كى يہ روايت ہے:
نبى كريم صلى اللہ عليہ وسلم كا فرمان ہے:
" رضاعت وہى ہے جس سے ہڈى پيدا ہو اور گوشت بنے "
اسے ابو داود نے روايت كيا ہے.
اور اس ليے بھى كہ يہ اس طريقہ سے بھى دودھ وہى پہنچتا ہے جہاں رضاعت كے ليے پہنچتا ہے، اور اس طرح خوراك لينے سے بھى گوشت بنتا اور ہڈى بنتى ہے جس طرح پستان سے رضاعت ميں پيدا ہوتى ہے، اس ليے اسے حرمت ميں بھى برابر ہونى چاہيے " انتہى بتصرف
ديكھيں: المغنى ( 8 / 139 ).
سوم:
حرمت كے ليے رضاعت ميں شرط يہ ہے كہ پانچ رضاعت ہوں اور بچہ دو برس كى عمر سے تجاوز نہ كرے.
اور يہاں پانچ رضاعت كا حساب اس طرح لگايا جائيگا كہ برتن ميں دودھ ڈال كر بچے كو پانچ مختلف اوقات ميں پلايا جائے.
ابن قدامہ رحمہ اللہ كہتے ہيں:
" جب دودھ ايك ہى بار برتن ميں نكال ليا جائے يا پھر كئى بار نكالا جائے اور پھر اسے پانچ اوقات ميں بچے كو پلايا جائے تو يہ پانچ رضاعت ہونگى، اور اگر ايك ہى وقت ميں پلا ديا جائے تو يہ ايك شمار ہو گى، كيونكہ بچے كے پينے كا اعتبار ہو گا، اور اسى سے حرمت ثابت ہو گى، اس ليے اس كا متفرق اور اجتماع كے فرق كا اعتبار كريں " انتہى
ديكھيں: الكافى ( 5 / 65 ).
واللہ اعلم .
الاسلام سوال و جواب
 

ابوالحسن علوی

علمی نگران
رکن انتظامیہ
شمولیت
مارچ 08، 2011
پیغامات
2,521
ری ایکشن اسکور
11,557
پوائنٹ
641
سوال ؛ میں چچا کی بیٹی سے شادی کرنا چاہتا ہوں مجھے اس سے بہت زیادہ محبت ہے اوروہ بھی مجھ سے محبت کرتی ہے ، لیکن مشکل یہ ہے کہ اس کی والدہ نے بچپن میں مجھے دودھ پلایا ہے ، جب ہم نے اس کی والدہ سے رضعات کی تعداد کا پوچھا تواس کا جواب تھا کہ مجھے یاد نہیں کیونکہ بہت مدت گزر چکی ہے ۔
توکیا اس حالت میں میں اپنے چچا کی بیٹی سے شادی کرسکتا ہوں ؟

الحمدللہ
رضاعت سے حرمت دو شرط کے ساتھ ہوتی ہے :
پہلی :
پانچ یا پانچ سے زيادہ باررضاعت ہو اس لیے کہ حدیث عائشہ رضي اللہ تعالی عنہا میں ہے کہ :

عائشہ رضي اللہ تعالی عنہا بیان کرتی ہیں کہ قرآن مجید میں دس رضعات کا نزول ہوا تھا جس سے حرمت ثابت ہوتی ہے بعد میں انہیں پانچ معلوم رضعات کے ساتھ منسوخ کردیا گیا ۔۔ صحیح مسلم حدیث نمبر ( 1452 ) ۔
دوسری :
یہ رضاعت دوبرس کے اندر اندر ہونی چاہۓ : ( یعنی بچے کی عمر کے پہلے دوبرس میں ) اس لیے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے ثابت ہے کہ آپ نے فرمایا :
عبداللہ بن زبیر رضي اللہ تعالی عنہ بیان کرتے ہيں کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا :

( رضاعت وہی ہے جوانتڑیوں کوبھردے ) سنن ابن ماجہ حدیث نمبر ( 1946 ) اورصحیح الجامع حدیث نبمر ( 7495 ) ۔
امام بخاری رحمہ اللہ تعالی اپنی صحیح میں بیان کرتے ہیں :
دوبرس کے بعد رضاعت نہیں ہے ، اس قول کے بارہ میں باب اس لیے کہ اللہ سبحانہ وتعالی کا فرمان ہے :

{ مکمل دو برس ( یہ ) اس کے لیے ہے جومدت رضاعت مکمل کرنا چاہے }
اوررضعۃ کی تعریف یہ ہے کہ بچہ ماں کے دودھ کو ایک بار منہ میں لے کر دودھ پیۓ اوراسے سانس لینے کے لیے یا پھردوسرے میں منتقل ہونے کے لیے خود ہی چھوڑ دے وغیرہ ۔

اورجب یہ ثابت ہوجاۓ توپھر رضاعت کے احکام لاگو ہوں گے یعنی حرمت نکاح وغیرہ ۔

لیکن اگر رضعات میں شک وشبہ ہوتو اس کے بارہ ميں ابن قدامہ رحمہ اللہ تعالی عنہ کا قول ہے :

اگر رضاعت کے وجود یا پھر اس کی تعداد میں شک ہوکہ آیا عدد مکمل ہوا ہے کہ نہيں تواس صورت میں حرمت ثابت نہيں ہوگی ، اس لیے کہ اصل حرمت کا نہ ہونا ہی ہے ، لھذا شک کی بنا پر یقین زائل نہیں ہوسکتا ۔ دیکھیں المغنی ( 11 / 312 ) ۔
تواس بنا پر اگر حرمت والی رضاعت ثابت نہ ہوسکے توشادی جائز ہے ۔
سائل کومیں یہ یاد دلانا نہیں بھولوں گا کہ ہم پر ضروری اورواجب ہے کہ ہم شریعت کے مطابق چلیں اورحق کی اتباع کے مقابلہ میں اپنی خواہشات اورچاہتوں کومد نظر نہ رکھیں ۔
نیز مسلمان پر ضروری ہے کہ وہ عفت وعصمت اختیار کرتا ہوا عشق و محبت سے دوررہے اوراجتناب کرے اورشریعت اسلامیہ کے مطابق شادی کرکے اپنی عفت و عصمت کوبچاۓ ۔
واللہ اعلم .
شیخ محمد صالح المنجد
 
Top