• الحمدللہ محدث فورم کو نئےسافٹ ویئر زین فورو 2.1.7 پر کامیابی سے منتقل کر لیا گیا ہے۔ شکایات و مسائل درج کروانے کے لئے یہاں کلک کریں۔
  • آئیے! مجلس التحقیق الاسلامی کے زیر اہتمام جاری عظیم الشان دعوتی واصلاحی ویب سائٹس کے ساتھ ماہانہ تعاون کریں اور انٹر نیٹ کے میدان میں اسلام کے عالمگیر پیغام کو عام کرنے میں محدث ٹیم کے دست وبازو بنیں ۔تفصیلات جاننے کے لئے یہاں کلک کریں۔

کیا کرایہ داری حلال ہے؟

ابوالحسن علوی

علمی نگران
رکن انتظامیہ
شمولیت
مارچ 08، 2011
پیغامات
2,521
ری ایکشن اسکور
11,557
پوائنٹ
641
کیا کرایہ داری حلال ہے؟
احادیث اور آثار صحابہ رضی اللہ عنہم سے زمین کا کرایہ لینا جائز معلوم ہوتا ہے جیسا کہ موطا امام مالک کی ایک روایت کے الفاظ ہیں:
[ ص: 538 ] بسم الله الرحمن الرحيم كتاب كراء الأرض باب ما جاء في كراء الأرض

1415 حدثنا يحيى عن مالك عن ربيعة بن أبي عبد الرحمن عن حنظلة بن قيس الزرقي عن رافع بن خديج أن رسول الله صلى الله عليه وسلم نهى عن كراء المزارع قال حنظلة فسألت رافع بن خديج بالذهب والورق فقال أما بالذهب والورق فلا بأس به

حضرت رافع بن خدیج رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم نے مزارع کے کرایہ سے منع کیا ہے۔ حنظلہ نے کہا کہ میں نے ان سے سوال کیا کہ کیا سونے اور چاندی کے بدلہ جائز ہے تو انہوں نے کہا ہاں، سونے اور چاندی کے بدلہ زمین کرائے پر دینے میں کوئی حرج نہیں ہے۔
کہتے ہیں کہ اس میں بھی تو بینک کے منافعے کی طرح کرایہ فکس ہوتا ہے؟
اس کا سیدھا سا جواب تو یہ ہے کہ جب مشرکین نے یہ اعتراض وارد کیا کہ بیع وتجارت بھی تو سود کی طرح ہے تو اللہ تعالی نے جواب دیا؛
الَّذِينَ يَأْكُلُونَ الرِّبَا لَا يَقُومُونَ إِلَّا كَمَا يَقُومُ الَّذِي يَتَخَبَّطُهُ الشَّيْطَانُ مِنَ الْمَسِّ ۚ ذَٰلِكَ بِأَنَّهُمْ قَالُوا إِنَّمَا الْبَيْعُ مِثْلُ الرِّبَا ۗ وَأَحَلَّ اللَّـهُ الْبَيْعَ وَحَرَّمَ الرِّبَا ۚ فَمَن جَاءَهُ مَوْعِظَةٌ مِّن رَّبِّهِ فَانتَهَىٰ فَلَهُ مَا سَلَفَ وَأَمْرُهُ إِلَى اللَّـهِ ۖ وَمَنْ عَادَ فَأُولَـٰئِكَ أَصْحَابُ النَّارِ ۖ هُمْ فِيهَا خَالِدُونَ ﴿٢٧٥﴾
سود خور لوگ نہ کھڑے ہوں گے مگر اسی طرح جس طرح وہ کھڑا ہوتا ہے جسے شیطان چھو کر خبطی بنا دے یہ اس لئے کہ یہ کہا کرتے تھے کہ تجارت بھی تو سود ہی کی طرح ہے، حالانکہ اللہ تعالیٰ نے تجارت کو حلال کیا اور سود کو حرام، جو شخص اپنے پاس آئی ہوئی اللہ تعالیٰ کی نصیحت سن کر رک گیا اس کے لئے وہ ہے جو گزرا اور اس کا معاملہ اللہ تعالیٰ کی طرف ہے، اور جو پھر دوبارہ ﴿حرام کی طرف﴾ لوٹا، وہ جہنمی ہے، ایسے لوگ ہمیشہ ہی اس میں رہیں گے۔
ذرا غور کریں تو سود اور کرایہ میں یہ فرق ہے کہ کرایہ میں آپ کی شیء استعمال ہوتی ہے اور استعمال سے ایک شیء پرانی ہوتی ہے یا گھستی ہے مثلا آپ ایک ہزار کا نوٹ کسی کو ادھار دیتے ہیں یا گاڑی کرایہ پر دیتے ہیں یا مکان کرایہ پر دیتے ہیں تو پہلی صورت میں نوٹ کا گھسنا یا استعمال ہونا کوئی معنی نہیں رکھتا ہے لیکن دوسری اور تیسری صورت میں آپ کی ایک شیء استعمال سے پرانی ہوئی ہے اورمستعمل ہونے سے اس کی مارکیٹ ویلیو ڈاون ہوتی ہے۔
 

ابوالحسن علوی

علمی نگران
رکن انتظامیہ
شمولیت
مارچ 08، 2011
پیغامات
2,521
ری ایکشن اسکور
11,557
پوائنٹ
641
مزارع، مزارعت سے نکلا ہے اور مزارعت کا مطلب اپنی زرعی زمین کو اس شرط پر دینا کہ اس زمین کی پیداوار کا ایک حصہ مالک زمین کا ہو گا اور ایک کاشت کرنے والے کا۔ اسے ہمارے ہاں زمین بٹائی پر دینا بھی کہتے ہیں۔ مزارع اس زمین کو کاشت کرنے والا ہے جو اس نے کسی اور سے اس شرط پر لی ہے اور اس کی پیداوار مالک زمین اور اس مزارع میں تقسیم ہو گی۔
 

ابوالحسن علوی

علمی نگران
رکن انتظامیہ
شمولیت
مارچ 08، 2011
پیغامات
2,521
ری ایکشن اسکور
11,557
پوائنٹ
641
اجارے اور مزارعت میں فرق ہے۔ اجارہ کا سادہ معنی کرایہ ہے جبکہ مزارعت میں کرنسی کی صورت میں کرایہ کی بجائے زمین کی پیداوار کا ایک حصہ بطور کرایہ دیا جاتا ہے ہے۔
 

ابوالحسن علوی

علمی نگران
رکن انتظامیہ
شمولیت
مارچ 08، 2011
پیغامات
2,521
ری ایکشن اسکور
11,557
پوائنٹ
641
راجح قول کے مطابق مزارعت جائز ہے جیسا کہ اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم نے خیبر کے یہودیوں سے خیبر کے فتح ہو جانے کے بعد اس کی زمینوں کے بارے مزارعت کی تھی کہ ان زمینوں کو یہودی ہی کاشت کریں گے لیکن اس کی پیداوار کا ایک حصہ مسلمانوں کو دیں گے۔{ صحیح بخاری : ۲۱۷۲}
تفصیل کے لیے یہ عربی لنک دیکھیں:
http://www.islamweb.net/newlibrary/display_book.php?idfrom=4372&idto=4373&bk_no=22&ID=2728
 
Top