• الحمدللہ محدث فورم کو نئےسافٹ ویئر زین فورو 2.1.7 پر کامیابی سے منتقل کر لیا گیا ہے۔ شکایات و مسائل درج کروانے کے لئے یہاں کلک کریں۔
  • آئیے! مجلس التحقیق الاسلامی کے زیر اہتمام جاری عظیم الشان دعوتی واصلاحی ویب سائٹس کے ساتھ ماہانہ تعاون کریں اور انٹر نیٹ کے میدان میں اسلام کے عالمگیر پیغام کو عام کرنے میں محدث ٹیم کے دست وبازو بنیں ۔تفصیلات جاننے کے لئے یہاں کلک کریں۔

ذوالجناح کی کہانی شیعہ کی زبانی

lovelyalltime

سینئر رکن
شمولیت
مارچ 28، 2012
پیغامات
3,735
ری ایکشن اسکور
2,899
پوائنٹ
436
ذوالجناح کی کہانی شیعہ کی زبانی

شیعہ حضرات کے بڑے ذاکرین نے اپنے کم عقل و کم فہم اور جاہل قسم کے لوگوں کو "ذوالجناح" کی جھوٹی داستانیں سنا کر گھوڑے کی پوجا پر لا ڈالا ہے - ان کا یہ عمل گزری ہوئی مشرک قوموں .......اور مشرکین مکہ سے بلکل مشابہ ہے بلکہ یہ کہنا بجا نہ ہو گا کہ ان سے بھی بدتر!

ان کی اس گھوڑا پوجا پاٹ میں اکثر حصہ ڈالنے والے نام نہاد اہلسنت (بریلوی) بھی شامل ہیں ، اور وہ اپنی عبادت گاہوں میں ان کے گھوڑوں کے جھوٹے فضائل بھی بتاتے ہیں اور لوگوں کو پرلے درجے کی گمراہی میں لا ڈالتے ہیں - ان کی یہ قبیح حرکت تو آپ نے دیکھی ہی ہو گی کہ کس طرح ان کی خلقت اس "بناوٹی ذوالجناح" پر ٹوٹ پڑتی ہیں کوئی اسے چومتا ہے تو کوئی اسکے منہ کی رال کو تبرک جانتا ہے اور یاد رہے کہ مرد اور عورتیں دونوں مخلوط طریقے سے اس "طریقے" کو انجام دیتے ہیں - حقیقت تو یہ ہے کہ حسین رضی عنہ کا سارا سفر ایک اونٹنی پر تھا اور نہ ہی میدان کربلا میں آپکے پاس کوئی گھوڑا یا ذوالجناح تھا اور نہ ہی راستے میں یا میدان کربلا میں آپکو کسی نے گھوڑے دئیے - ملاحظہ ہو شیعہ حضرات کے سب سے بڑے مؤرخ صاحبِ ناسخ التواریخ کا

ایک حوالہ:

پس اسپ بر انگیخت وتیغ بر آہیخت مکشوف باد کہ اسپ سید الشہداء راکہ ور کتب معتبرہ را بنام نوشتہ انداز افزوں از دو مال سواری نیست یکے اسپ رسول خدا کہ مرتجز نام داشت و دیگرے شترے کہ مسّناة می نا مید ندو اسپ کہ ذوالجناح نام داشتہ باشد در ہیچک از کتب احادیث و اخبار و تواریخ معتبرہ من بندہ ندیدہ ام و ذوالجناح لقب شمر پسر لہیعہ حمیر یست واسپ ہیچ کس را بدیں نام نہ شیندہ ام - واگر اسپ چند کس راجناح نام بودہ بعد مربوط بہ ذوالجناح و منسوب بحسین نخواہد بودو اگر اسپ ہائے پیغمبر صلی الله علیہ وسلم راجناح نامید ند باز نشاید ذوالجناح گفت درہر حال بدیں نام اسپ نام دار نہ بوده -

(ناسخ التواریخ ، جز ٢ ، جلد ٦ ، در احوال حضرت سید الشہداء ، صفحہ ٣٦٦ ، شمارہ مرکب ہائے حسین ، مطبوعہ تہران)

ترجمہ : پھر گھوڑا کودا اور آپ نے تلوار کھینچ لی واضح ہو کہ سید الشہداء (حسین رضی الله عنہ) کی سواری معتبر کتابوں میں دو نام سے مذکور ہے - ایک گھوڑا نبی صلی الله علیہ وسلم کا تھا جس کا نام مرتجز تھا - دوسری سواری اونٹ تھی - جس کو مسّناة کہتے تھے - اور گھوڑا کہ جسے ذوالجناح کا نام دیا گیا ہے - حدیث ، اخبار اور تاریخ کی کسی معتبر کتاب میں میں نے اس کا نام نہیں دیکھا - اور ذوالجناح ایک شخص شمر بن لھیعہ کا لقب تھا - اور کسی کے گھوڑے کا یہ نام میں نے نہیں سنا - اور اگر چند گھوڑوں کے نام ذوالجناح ہوں - اور اس کے ساتھ "ذو" کا لفظ جوڑ کر ذوالجناح بنایا جائے - تو بھی یہ گھوڑا حسین کا نہیں ہو سکتا - اور اگر پیغمبر صلی الله علیہ وسلم کے گھوڑوں کا جناح رکھیں - پھر بھی ذوالجناح کہنا غلط ہے - بہرحال اس نام کا گھوڑا کوئی نہ تھا -

حسین رضی الله عنہ کربلا کے بارے میں کہتے ہیں کہ:

فقال (عليه السلام) : هذه كربلاء موضع كرب و بلاء هذا مناخ ركابنا و محط رحالنا و مقتل رجالنا

ترجمہ : حسین رضی الله عنہ نے فرمایا: یہ کربلا مصائب کی جگہ ہے - یہ ہماری اونٹنیوں کے بیٹھنے کی جگہ ہے - اور یہ ہمارے کجاوے رکھنے کی جگہ ہے - اور یہ ہمارے مردوں کی شہادت گاہیں ہیں -

(کشف الغمہ ، جلد ٢ ، صفحہ ٢٥٧)

حسین رضی الله عنہ کے پاس اونٹنی تھی اسی لئے فرمایا کہ یہ ہماری اونٹنیوں کے بیٹھنے کی جگہ ہے اگر گھوڑے ہوتے تو اونٹنی کیوں کر کہتے؟ پھر تو کہتے کہ یہ ہمارے گھوڑوں کے بیٹھنے کی جگہ ہے -



1.jpg
 
Top