محمد عامر یونس
خاص رکن
- شمولیت
- اگست 11، 2013
- پیغامات
- 17,117
- ری ایکشن اسکور
- 6,822
- پوائنٹ
- 1,069
ابن کثیر رحمہ اللہ نے اس کی تفسیر میں کہا ہے :< اللہ کے رسولوں میں سے کسی میں ہم تفریق نہیں کرتے > البقرہ 285
اللہ تعالی نے ہمیں یہ بتایا ہے کہ وہ درجات میں ایک دوسرے سے اوپر ہیں اسی لۓ رسولوں میں جنہیں چنا گیا وہ اولو العزم رسول ہیں ۔< یہ رسول ہیں جن میں سے ہم نے بعض کو بعض پر فضیلت دی ہے ان میں سے بعض وہ ہیں جن سے اللہ تعالی نے بات چیت کی ہے اور بعض کے درجات کو بلند کیا ہے > البقرہ 253
ان سب میں سے محمد صلی اللہ علیہ وسلم افضل ہیں اس کی دلیل یہ ہے کہ معراج کی رات آپ نے ان کی امامت کروائی تو امامت میں اسے آگے کیا جاتا ہے جو کہ افضل ہو ۔< جب ہم نے تمام انبیاء سے عہد لیا اور (خاص طور پر) آپ سے اور نوح اور ابراہیم اور موسی اور ابن مریم سے اور ہم نے ان سے پکا اور پختہ عہد لیا > الاحزاب / 7
امام نووی رحمہ اللہ تعالی نے شرح مسلم میں اس کی شرح کرتے ہوئے کہا ہے :ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا :
< قیامت کے دن میں آدم کی اولاد کا سردار ہوں گا اور سب سے پہلے میری قبر شق ہو گی اور سب سے پہلے میں ہی سفارش کروں گا اور سب سے پہلے میری سفارش ہی قبول ہو گی > صحیح مسلم (الفضائل / حدیث نمبر 4223 )
ہروی کا قول ہے:< قیامت کے دن میں آدم کی اولاد کا سردار ہوں گا اور سب سے پہلے میری قبر شق ہو گی اور سب سے پہلے میں ہی سفارش کروں گا اور سب سے پہلے میری سفارش ہی قبول ہو گی >
واللہ اعلم اھـ< یہ رسول ہیں جن میں سے ہم نے بعض کو بعض پر فضیلت دی ہے >
لیکن دوسری کتابوں کی حفاظت کی ذمہ داری جن کی طرف نازل کی گئی تھیں لگائی ۔< ہم نے ہی اس قرآن کو نازل فرمایا ہے اور ہم ہی اس کی حفاظت کے ذمہ دار ہیں > الحجر /9
یہ کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم خاتم الانبیاء والمرسلین ہیں:< ہم نے تورات نازل فرمائی جس میں ہدایت ونور ہے یہودیوں میں اسی تورات کے ساتھ اللہ تعالی کے ماننے والے انبیاء (علیہم السلام ) اور اہل اللہ اور علماء فیصلے کرتے تھے کیونکہ انہیں اللہ کی اس کتاب کی حفاظت کا حکم دیا گیا تھا اور وہ اس پر اقراری گواہ تھے > المائدہ / 44
نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ خصوصیت حاصل ہے کہ وہ سب لوگوں کی طرف عام ہیں :< محمد صلی اللہ علیہ وسلم تم میں سے کسی کے باپ نہیں لیکن آپ اللہ تعالی کے رسول ہیں اور خاتم النبیین ہیں > الاحزاب ۔ 40
نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی آخرت میں خصوصیات :< بہت بابرکت ہے وہ اللہ تعالی جس نے اپنے بندے پر فرقان نازل کیا تا کہ وہ تمام جہانوں کے لۓ ڈرانے والا بن جائے > الفرقان / 1
ابن جریر کا قول ہے اکثر اہل تاویل کا قول ہے یہی وہ مقام ہے جس پر نبی صلی اللہ علیہ وسلم فائز ہو کر قیامت کے دن لوگوں کے لۓ سفارش کريں گے تا کہ انہیں ان کا رب اس دن کی شدت اور تکلیف سے راحت دلاۓ جس میں ہوں گے > تفسیر ابن کثیر 5/ 103< رات کے کچھ حصے میں تہجد کی نماز میں قرآن کی تلاوت کریں یہ آپ کے لۓ عطیہ ہے عنقریب آپ کو آپ کا رب مقام محمود پر کھڑا کرے گا> الاسراء / 79
اور نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی افضلیت پر واضح اور صریح دلیل یہ ہے کہ باقی سب نبی سفارش نہیں کریں گے اور ہر ایک لوگوں کو دوسرے کے پاس بھیج دے گا حتی کہ عیسی علیہ السلام انہیں محمد صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس بھیج دیں گے تو نبی فرمائیں گے میں تو آپ آگے بڑھ کر سب لوگوں کی سفارش کریں گے تو اس پر سب پہلے اور آخری انبیاء اور ساری مخلوق ان کی تعریف کرے گی ۔رسولوں میں سب سے پہلے میں اپنی امت کے ساتھ پل صراط عبور کروں گا ۔کتاب الاذان حدیث نمبر 764
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اللہ کے بندے اور رسول ہیں، ایک حدیث کا مفہوم ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے بارے میں غلو نہیں کرنا جس طرح نصاری جو عیسی علیہ السلام کے بارے میں غلو کا شکار ہوئے، بلکہ محمد صلی اللہ علیہ وسلم اللہ کے بندے اور رسول ہیں۔
اور فرمایا:ترجمہ: کہہ دیجئے کہ اگر میرے پروردگار کی باتوں کے لکھنے کے لئے سمندر سیاہی بن جائے تو وه بھی میرے رب کی باتوں کے ختم ہونے سے پہلے ہی ختم ہو جائے گا، گو ہم اسی جیسا اور بھی اس کی مدد میں لے آئیں
لہذا احتیاط کیا کریں۔اللہ ہم سب کو صراط مستقیم پر چلنے کی توفیق عطا فرمائے آمینترجمہ: روئے زمین کے (تمام) درختوں کے اگر قلمیں ہو جائیں اور تمام سمندروں کی سیاہی ہو اور ان کے بعد سات سمندر اور ہوں تاہم اللہ کے کلمات ختم نہیں ہو سکتے، بیشک اللہ تعالیٰ غالب اور باحکمت ہے
بے شک۔ ارشاد باری تعالیٰ ہے:
ترجمہ: یقیناً تمہارے لئے رسول اللہ میں عمده نمونہ (موجود) ہے، ہر اس شخص کے لئے جو اللہ تعالیٰ کی اور قیامت کے دن کی توقع رکھتا ہے اور بکثرت اللہ تعالیٰ کی یاد کرتا ہے