• الحمدللہ محدث فورم کو نئےسافٹ ویئر زین فورو 2.1.7 پر کامیابی سے منتقل کر لیا گیا ہے۔ شکایات و مسائل درج کروانے کے لئے یہاں کلک کریں۔
  • آئیے! مجلس التحقیق الاسلامی کے زیر اہتمام جاری عظیم الشان دعوتی واصلاحی ویب سائٹس کے ساتھ ماہانہ تعاون کریں اور انٹر نیٹ کے میدان میں اسلام کے عالمگیر پیغام کو عام کرنے میں محدث ٹیم کے دست وبازو بنیں ۔تفصیلات جاننے کے لئے یہاں کلک کریں۔

"زیادت ثقہ" اور "شاذ"!

رضا میاں

سینئر رکن
شمولیت
مارچ 11، 2011
پیغامات
1,557
ری ایکشن اسکور
3,583
پوائنٹ
384
اسلام علیکم۔
میرا سوال یہ ہے کہ، "زیادت ثقہ" اور "شاذ" کا کس طرح پتا لگتا ہے؟
اگر ایک ثقہ راوی زیادت بیان کرتا ہے، جو کہ باقی ثقہ راویوں کے خلاف ہے تو اسے ثقہ کی زیادت سمجھ کر قبول کریں گے یا باقی ثقہ راویوں کے خلاف ہونے کی وجہ سے شاذ قرار دے کر رد دیں گے؟ یہ مسلہ بڑی دیر سے میرے دماغ میں کھٹک رہا تھا اس لیے آج پوچھ لیا۔
برایۓ مہربانی تفصیلاََ جواب دیں۔ اور ان دو اصطلاحات کے متعلق باقی اور جتنی بھی معلومات ہو سکیں بیان کر دیجیے گا۔ جزاکم اللہ!
 

ابوالحسن علوی

علمی نگران
رکن انتظامیہ
شمولیت
مارچ 08، 2011
پیغامات
2,521
ری ایکشن اسکور
11,557
پوائنٹ
641
شاذ اس روایت کو کہتے ہیں کہ جس میں
۱۔ ایک ثقہ راوی اپنے سے اوثق یعنی زیادہ ثقہ راوی کی مخالفت کرے۔
۲۔ اپنے جیسے تعداد میں زیادہ ثقہ راویوں یعنی ثقات کی مخالفت کرے۔

جبکہ زیادۃ ثقات میں ایک ثقہ راوی مخالفت نہیں کرتا ہے بلکہ اضافہ کرتا ہے۔

پس بعض اہل علم کے نزدیک زیادت ثقات اور شذوذ کے مابین فرق یہ ہے کہ اگر تو ثقہ راوی کا اضافہ اصل حدیث کے مخالف ہو تو روایت شاذ ہے اور غیر مقبول ہے اور اگر تو راوی کا اضافہ اصل حدیث کے مخالف نہ ہو تو زیادت ثقات ہے اور قابل قبول ہے۔ یہ امام ابن حجر رحمہ اللہ کی رائے ہے۔ اس کو اس مثال سے سمجھیں کہ ایک روایت میں منافق کے تین اوصاف بیان ہوئے ہیں۔ اب ایک اور ثقہ راوی ایک دوسری روایت میں منافق کے چوتھے وصف کا بھی اضافہ کر دیتا ہے تو یہ چوتھا وصف بیان کرنا پہلی روایت کی مخالفت نہیں ہے بلکہ اس پر اضافہ ہے۔

زیادت ثقات اور شذوذ میں ایک دوسرا فرق جو بعض اہل علم نے بیان کیا ہے وہ امام ابن حجر رحمہ اللہ کی رائے کے علاوہ ہے۔ اس موقف کے مطابق اگر تو
۱۔ اضافہ بیان کرنے والی راویت کے راویوں کی تعداد اصل روایت کے برابر ہے تو زیادت ثقات ہے اور قبول ہے
۲۔ یا اضافہ بیان کرنے والی روایت کے راویوں کی تعداد تقریبا اصل روایت کے برابر ہے تو بھی زیادت ثقات ہے اور قابل قبول ہے
۳۔ یا اضافہ بیان کرنے والی روایت کے راوی اصل روایت کے راویوں کی نسبت زیادہ ثقہ ہوں
اور اگر ایسا نہ ہو تو شاذ ہے۔

تفصیل کے یہ عربی لنک دیکھیں:
ما الفرق بين الشذوذ وزيادة الثقة؟ - {منتديات كل السلفيين}
 
Top