• الحمدللہ محدث فورم کو نئےسافٹ ویئر زین فورو 2.1.7 پر کامیابی سے منتقل کر لیا گیا ہے۔ شکایات و مسائل درج کروانے کے لئے یہاں کلک کریں۔
  • آئیے! مجلس التحقیق الاسلامی کے زیر اہتمام جاری عظیم الشان دعوتی واصلاحی ویب سائٹس کے ساتھ ماہانہ تعاون کریں اور انٹر نیٹ کے میدان میں اسلام کے عالمگیر پیغام کو عام کرنے میں محدث ٹیم کے دست وبازو بنیں ۔تفصیلات جاننے کے لئے یہاں کلک کریں۔

تھر میں قحط سالی سے بچوں سمیت 114 افراد ہلاک ہو گئے !!!

شمولیت
اگست 11، 2013
پیغامات
17,117
ری ایکشن اسکور
6,823
پوائنٹ
1,069
امیر جماعة الدعوة پاکستان پروفیسر حافظ محمد سعید کی ہدایات پرجماعة الدعوة کے رفاہی ادارے فلاح انسانیت فاﺅنڈیشن کی امدادی ٹیمیں تھرپارکر کے قحط زدہ علاقوں میں متاثرہ افراد کی مدد کے لئے پہنچ گئی ہیں جہاں وہ متاثرین کے لئے تیارخوراک کی فراہمی کے ساتھ ساتھ میڈیکل کیمپنگ بھی کریں گی ۔ حافظ محمد سعید نے کہا ہے کہ قحط سے بچوں کی اموات انتہائی تکلیف دہ ہیں' قوم اسلامی اخوت کے جذبہ سے قحط متاثرہ لوگوں کی دل کھول کر مدد کرے۔انہوں نے کہا جماعة الدعوة عرصہ دراز سے تھرپارکر کے علاقوں میںرفاہ عامہ کے منصوبہ جات پر کام کر رہی ہے ۔ پیاسے لوگوں کے لئے تھر میں پانچ سو سے زائد صاف پانی کے کنویں اور ہینڈ پمپ لگوائے جا چکے ہیں جبکہ فلاح انسانیت فاﺅنڈیشن کی میڈیکل ٹیمیں بھی گاہے بگاہے تھر کے علاقوں میں میڈیکل کیمپ لگاتی رہتی ہیں جن سے ہزاروں لوگ مستفید ہو چکے ہیں ۔انہوں نے کہا کہ حالیہ قحط کی صورتحال میں بھی متاثرین کی ہر ممکن مدد کی کوشش کریں گے۔
 
شمولیت
اگست 11، 2013
پیغامات
17,117
ری ایکشن اسکور
6,823
پوائنٹ
1,069
قحط زدہ علاقے میں گھومتے ہوئے اچانک اس کی نظر ایک بچے پر پڑی، ہڈیوں کا ایک ڈھانچہ، بھوک سے نڈھال، چند سال کا ایک بچہ آہستہ آہستہ رینگنے کی کوشش کر رہا تھا، چند گز کے فاصلے پر موجود ایک گدھ اس انتظار میں تھا کہ اس بچے کی جان نکلے اور وہ اس کو نوچ کھائے
یہ کیون کارٹر تھا ایک عام سا جنوبی افریقی فوٹو گرافر،اس نے وہ تصویر کھینچی اور واپس چلا آیا, چند ہی دن میں یہ تصویر پوری دنیا میں مشہور ہو گئی،وہ پوری دنیا میں مشہور ہو گیا، لیکن ہر جگہ اس سے یہی سوال ہوتا، اس بچے کا کیا ہوا۔۔۔۔۔۔ کارٹر کے پاس کوئی جواب نہیں تھا۔ احساس ندامت اسے چین نہیں لینے دے رہا تھا اور چند دن بعد اس نے خود کشی کر لی۔۔۔۔۔۔
سنا ہے سندھ کے اندر کوئی 150 بچے بھوک کے ہاتھوں زندگی کی بازی ہار گئے اور ان کی مدد کے لیے جانے والے عمر کے آخری حصے میں موجود شاہ نے خوب بوفے اڑائے، ستم در ستم یہ ہے کہ اس پر کوئی ندامت اور شرمندگی نہیں، کتنی ڈھٹائی سے اس بے غیرتی پر مطمئن ہیں سب، کیون کارٹر کی طرح کوئی خودکشی نہ سہی، چند ندامت کے آنسو ہی سہی، آنسو بھی نہیں چند الفاظ ہی ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
لیکن اللہ نے اپنی زمین کے بدترین لوگ ہم پر مسلط کیے ہیں، کسی اور کے نہیں خود ہمارے ہاتھوں، اور اس سے معافی نہ مانگی تو وہ وقت دور نہیں کہ جب کوئی گولہ،کوئی بم،کوئی سیلاب یا کوئی قحط آپ کے دروازے پر بھی ہو گا اور آپ کی تصویر لینے کے لیے کوئی کیون کارٹر بھی نہیں آئے گا۔
 
Top