• الحمدللہ محدث فورم کو نئےسافٹ ویئر زین فورو 2.1.7 پر کامیابی سے منتقل کر لیا گیا ہے۔ شکایات و مسائل درج کروانے کے لئے یہاں کلک کریں۔
  • آئیے! مجلس التحقیق الاسلامی کے زیر اہتمام جاری عظیم الشان دعوتی واصلاحی ویب سائٹس کے ساتھ ماہانہ تعاون کریں اور انٹر نیٹ کے میدان میں اسلام کے عالمگیر پیغام کو عام کرنے میں محدث ٹیم کے دست وبازو بنیں ۔تفصیلات جاننے کے لئے یہاں کلک کریں۔

علامات قیامت : کچھ جنگوں کے بارے میں !!!

شمولیت
اگست 11، 2013
پیغامات
17,117
ری ایکشن اسکور
6,822
پوائنٹ
1,069
علامات قیامت : کچھ جنگوں کے بارے میں !!!

رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے جس طرح دوسرے فتنوں کے بارے میں امت کو آگاہ فرمایا ہے اسی طرح بعض جنگوں کے بارے میں بھی پیش گوئیاں فرمائی ہیں ۔ یہ بات تو واضح ہے کہ امت محمدیہ کا سب سےپہلا جہاد سرور عالم حضرت محمد مصطفیٰ صلی اللہ علیہ وسلم کی قیادت میں مشرکین مکہ کے خلاف میدان بدر میں لڑا گیا اور سب سے آخری جہاد سیدنا حضرت عیسیٰ علیہ اسلام کی قیادت میں یہودویوں کے خلاف سر زمین فلسطین میں لڑا جائے گا ۔ معرکہ بدر سے لے کر قتال دجال تک رسول اکرم صلی اللہ علیہ نے چار اہم فتوحات کی پیش گوئی فرمائی ہے۔

جس کا ہم یہاں مفصل ذکر کرنا چاہتے ہیں ۔

آپ صلی اللہ علیہ وسلم کا ارشاد مبارک ہے۔ تم لوگ جزیرة لعرب کے لوگوں سے جہاد کرو گے اللہ تعالیٰ ﴿ تمہارے ہاتھوں ﴾ اسے فتح کر دے گا پھر تم اہل فارس کے خلاف جہاد کرو گے اللہ تعالیٰ اسے بھی فتح کر دے گا پھر تم اہل روم کے خلاف جہاد کرو گے اللہ اسے بھی فتح کر دے گا پھر تم دجال کے خلاف جہاد کرو گے اور اللہ اسے بھی فتح کر دے گا ۔
﴿ مسلم ﴾

اس حدیث شریف میں درج ذیل چار فتوحات کا ذکر کیا گیا ہے۔

1۔ جزیرة العرب۔

رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی حیات طیبہ میں مختلف غزوات مقدسہ کے بعد جزیرة العرب فتح ہوا اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی یہ پیش گوئی آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی حیات مبارکہ میں ہی پوری ہوگئی ۔ یا د رہے کہ جزیرة العرب کے مفتوحہ علاقہ درج ذیل تھے ۔ مکہ، مدینہ ، جدہ، طائف ، حنین ، رابغ ، ینبوع ، خیبر ، مدائن ، تبوک ، دومتہ الجندل ، ایلہ ، یمامہ ، بحرین ﴿ الحساء ﴾ عمان ، حضر موت ، صنعا ، حمیر اور نجران ۔ جزیرةالعرب متعدد غزوات کے نتیجہ میں فتح ہو ا لیکن حدیث شریف میں آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اختصار کے ساتھ صرف جزیرة العرب کی فتح کا ذکر فرمادیا۔

2۔ فارس کی فتح ۔

عہد فاروقی ﴿ رضی اللہ عنہ ﴾ میں مختلف لڑائیوں کے بعد فارس بھی فتح ہوا ۔ گویا آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی یہ پیش گوئی بھی عہد صحابہ میں پوری ہو گئی ۔ یا د رہے کہ رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی بعثت مبارک سے پہلے فارس اور روم ہی دنیا کی دو بڑی طاقتیں تھیں ۔

اہل فارس کا مذہب آتش پرستی تھا اور یہ مجوسی کہلاتے تھے ۔ اسلام سے پہلے سلطنت فارس میں درج ذیل علاقے شامل تھے ۔ جزیرة العرب ﴿ تفصیل پہلے گزر چکی ہے ﴾

اور یمن ، حیرہ ، ہمدان ، کرمان ، رے ، قزوین ، بخارا ، بصرہ ، قادسیہ ، اصفہان ، خراسان ﴿ اب افغانستان﴾ تبریز ، آذر بائیجان ، ترکمانستان ، سمر قند ، ترمذ اور وسط ایشیا ء کی بعض دیگر ریاستیں بھی سلطنت فارس میں شامل تھیں ۔

فارس کے بادشاہ ،، کسریٰ ،، کے بارے میں آپ صلی اللہ علیہ وسلم کا ارشا د مبارک ہے کسریٰ ہلاک ہوگا تو اس کے بعد کوئی کسریٰ نہیں ہوگا ۔

﴿ مسلم ﴾

جس کا مطلب یہ ہے کہ ایک دفعہ جب کسریٰ کی سلطنت ٹوٹ جائے گی تو پھر مجو سیوں کی دوبارہ ویسی سلطنت بنے گی نہ ہی کوئی کسریٰ کہلائے سکے گا ۔ چنانچہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا تھا ویسا ہی ہوا۔

3۔ روم کی فتح۔

حدیث شریف میں تیسرے نمبر پر روم کی فتح کی پیش گوئی کی گئی ہے۔ جس طرح جزیرة العرب کی فتح متعدد غزوات کا نتیجہ تھی اور فارس کی فتح کے لیے بھی مسلمانوں کو کئی جنگیں لڑنا پڑیں اسی طرح روم کی فتح سے پہلے بھی مسلمانوں کو عیسائیوں سے کئی جنگیں ہوں گی جن میں سے بہت سی ہو چکی ہیں آج بھی ہو رہی ہیں اور بہت سی آئندہ بھی ہوں گی جو بالآخر روم کی فتح پر منتج ہوں گی۔

ان شاء اللہ ۔

بعض اہل علم کے نزدیک دوسری اور تیسری صدی ہجری میں جب مسلمانوں نے یورپ کے بعض ممالک فتح کئے اس وقت اٹلی بھی فتح ہوا ، روم کی فتح سے وہی فتح مراد ہے، لیکن حدیث شریف کا سیاق و سباق اس موقف سے مطابقت نہیں رکھتا ۔ حدیث شریف میں واضح طورپر یہ پیش گوئی موجود ہے کہ روم کی فتح کے فوراً بعد دجال کا ظہور ہوگا، جس کا مطلب یہ ہے کہ حدیث شریف میں جس فتح کا ذکر ہے وہ قیامت کے قریب ظہور دجال سے قبل ہوگی۔

ان شاء اللہ۔

یاد رہے کہ رسول اکرم صلی اللہ وسلم کے زمانہ مبارک میں فارس کی طرح روم بھی دنیا کی دوسری بڑی طاقت تھی جس کا مذہب عیسائیت تھا لہٰذا حدیث شریف میں روم کی فتح سے مراد فقط روم شہر کی فتح نہیں بلکہ پوری عیسائی دنیا کی فتح مراد ہے ،، روم ،، کا لفظ محض عیسائیت کی علامت کے طور پر استعمال کیا گیا ہے ۔ عہد نبوی میں سلطنت روم درج ذیل علاقوں پر مشتمل تھی ۔

یورپ کی بعض ریاستیں اور ترکی ، شام ، مصر ، لبنان ، عمان، فلسطین ، اردن ، قبرص ، سدوم اور روس ۔ روم کی فتح سے پہلے مسلمانوں اور عیسائیوں کے درمیان ہونے والی جنگوں میں احادیث می صرف ایک اور جنگ کا ذکر ملتا ہے اگر چہ اس جنگ کے وقت اور جگہ کاسو فیصد تعین کرنا ناممکن نہیں تاہم قرائن سے یہ معلوم ہوتا ہے کہ وہ جنگ فتح روم سے کچھ عرصہ پہلے شام کے پہاڑی علاقوں میں ہوگی کیونکہ فتح روم کے فوراً بعد دجال ظاہر ہوگا اور سیدنا حضرت عیسیٰ علیہ اسلام کی قیادت میں اس کے خلاف جہاد شروع ہو جائےگا ۔ واللہ اعلم بالصواب۔

یہاں ہم فتح روم اور اس سے کچھ عرصہ پہلے ہونے والی جنگ کا خلاصہ بیان کر رہے ہیں۔

سقوط روم سے پہلے جنگ۔

مسلمان اور عیسائی دونوں مل کر کسی مشترکہ دشمن سے لڑائی کریں گے اور انہیں فتح حاصل ہوگی ۔ دونوں آپس میں مال غنیمت تقسیم کریں گے اور اس کے بعد ایک ٹیلوں والی جگہ پر پڑاو ڈالیں گے جہاں ایک عیسائی کما نڈر کھڑا ہوکر اعلان کرے گا ،، صلیب غالب ہوئی ،، ایک غیرت مند مسلمان کمانڈر اٹھ کر اسے تھپڑ مارے گا ، جھگڑا بڑھ جائے گا جس کے نتیجہ میں عیسائی صلح کا معاہدہ توڑ دیں گے اور مسلمانوں سے انتقام لینے کے لیے اسی ﴿ 80 ﴾ عیسائی ممالک کا اتحاد قائم کریں گے۔ گھمسان کی جنگ ہوگی جس میں مسلمانون کا سارا لشکر شہید ہو جائے گا اور عیسائیوں کو فتح ہوگی۔

سقوط روم ۔

معرکہ روم ہی وہ آخری جنگ عظیم ہے جس کے بعد قیامت کی بڑی علامتون ﴿ علامات کبریٰ ﴾ کا ظہور شروع ہو جائے گا ۔ معرکہ کی تفصیل یہ ہے کہ شامی مسلمانوں اور عیسائیوں کے درمیان ایک جنگ ہوگی جس میں مسلمانوں کو فتح ہوگی اور وہ عیسائیوں کے مردوں اور عورتوں کو اپنا غلام بنا لیں گے ۔ لشکر ، شامی مسلمانوں سے انتقام لینے کے لیے شام پر حملہ آور ہوگا ۔ شام کے شہر حلب کے قریب اعماق یا دابق کا مقام میدن جنگ بنے گا ۔ جنگ سے پہلے مدینہ منورہ سے مسلمانوں کا ایک لشکرشامی مسلمانوں کی مدد کےلیے اعماق ﴿ یا دابق ﴾ پہنچے گا تو عیسائی کمانڈر مدنی لشکر کے کمانڈر سے کہے گا تم شامی لشکر سے الگ رہو انہوں نے ہماری عورتوں اور مردوں کو غلام بنایا ہے لہٰذا ہم صرف انہی سے لڑنا چاہتے ہیں ،، مدنی لشکر کا کمانڈر کہے گا،، واللہ ہم اپنے مسلمان بھائیوں کو اکیلے کبھی نہیں چھوڑیں گے۔ چنانچہ مسلمانو ں اور عیسائیوں کے درمیان گھمسان کی جنگ ہوگی ۔ مسلمانوں کا ایک تہائی لشکر جنگ میں قتل ہو جائے گا جو اللہ تعالیٰ کے ہاں بہتر ین شہادت کا درجہ پائیں گے ۔ ایک تہائی لشکر میدان جنگ سے ڈر کر بھاگ جائے گا اللہ تعالیٰ ان کی توبہ قبول نہیں فرمائیں گے ۔ باقی تہائی لشکر فاتح ہوگا جسے اللہ تعالیٰ ہر طرح کے فتنوں سے محفوظ رکھیں گے۔ شام میں عیسائیوں کو شکست فاش دینے کے بعد مسلمان عیسائیوں کے روحانی مرکز ،، روم ،، پر چڑھائی کریں گے ۔ بری اور بحری دونوں محاذوں پر جنگ ہوگی ۔ بحری محاذ پر قسطنطنیہ ﴿ استنبول کا پرانا نام ﴾ کے مقام پر جنگ ہوگی۔ ا س جنگ میں ستر ہزار مسلمان شریک ہوں گے ۔ استنبول کے مقام پر اسلام اور عیسائیت کا یہ آخری معرکہ کہ نصرت الہٰی کا عظیم شاہکار ہوگا۔ اس جنگ میں ہتھیار استعمال کرنے کی نوبت نہیں آئے گی۔ مسلمان پہلی مرتبہ نعرہ تکبیر ،، لا الہ الا اللہ واللہ اکبر ،، بلند کریں گے تو شہر پناہ کی ایک دیوار گر پڑے گی ۔ دوسری مرتبہ نعرہ تکبیر بلند کریں گے تو دوسری دیوار گر پڑے گی تیسری مرتبہ نعرہ تکبیر بلند کریں گے تو شہر مفتوح ہو جائےگا ﴿ یاد رہے کہ ترکی اس وقت مسلمانوں کے قبضہ میں ہے لیکن مستقبل میں کسی وقت یہ عیسائیو ں کے قبضہ میں چلا جائےگا او مسلمان اسے دوبارہ فتح کریں گے ﴾

دوسری طرف بری محاذ پر روم میں ایسی خوں ریز جنگ ہوگی کہ ماضی میں ایسی خوں ریز جنگ کبھی نہیں ہوئی ہوگی۔ مسلسل چار روز جنگ ہوگی ۔ پہلے تین دن مسلمانوں کو شکست ہوگی ہر روز جنگ میں حصہ لینے والے سارے کے سارے لشکر قتل ہوتے جائیں گے چوتھے روز مجاہدین کا لشکر اللہ تعالیٰ کے فضل و کرم سے فتح یاب ہوگا اس جنگ میں 99 فیصد لوگ مارے جائیں گے میدان جنگ دور دور تک لاشوں سے پٹ جائے گا حتی کہ اگر ایک پرندہ لاشوں کے اوپر اڑنا شروع کر دے تو اسے موت آجائے گی لیکن لاشیں ختم نہیں ہوں گی۔

مسلمان روم کی فتح کے بعد ابھی مال غنیمت تقسیم کر رہے ہوں گے کہ انہیں دجال کے خروج کی خبر مل جائے گی اور وہ ہر چیز کو چھوڑ چھاڑ کر شام کی طرف دوڑ پڑیں گے جو کہ دجال کے خلاف معرکو ں کا میدان ہوگا ۔ ظہور دجال سے قبل سیدنا امام مہدی کی خلافت قائم ہو چکی ہو گی لہٰذا اسقوط روم کا معرکہ انہی کی قیادت میں سر ہوگا۔

4۔ قتل دجال۔

سقوط روم کے فوراً بعد یہودیوں کا بادشاہ ۔۔۔ دجال ۔۔۔ ظاہر ہوگا ۔ ساری دنیا کے یہودی کافر اور منافق اس کے ساتھ مل جائیں گے صرف ایران کے شہر اصفہان سے ستر ہزار یہودی اس کے لشکر میں شامل ہوں گے ۔ دجال مکہ اور مدینہ میں داخل نہیں ہو سکے گا ۔ اللہ تعالیٰ مکہ مکرمہ اور مدینہ منورہ کی حفاظت کے لیے فرشتوں کا پہر ہ مقرر فرما دیں گے ۔ مکہ مدینہ کے علاوہ دجال ساری دنیا میں چکر لگائے گا جب شام کے دارالحکومت دمشق پہنچے گا تو وہاں ،، غوطہ ،، کے مقام پر مسلمانوں کے ساتھ اس کا خوں ریز معرکہ ہوگا ۔ ابھی دجال دمشق میں ہی موجود گا کہ حضرت عیسیٰ علیہ اسلام آسمان سے نازل ہوں گے۔ دجال کا تعاقب کریں گے اور ،، لد ،، کے مقام پر اسے اپنے نیزے سے قتل کریں گے۔ یہ ہیں وہ چار فتوحات جو رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی بعثت مبارک سے لے کر سیدنا حضرت عیسیٰ علیہ اسلام کے جہاد تک ہونے والی تمام جنگوں پر محیط ہیں دو فتوحات کا تعلق عہد صحابہ اور تابعین سے ہے اور دو فتوحات قیامت کے بلکل قریب کے زمانہ سے تعلق رکھتی ہیں۔
 
Top