• الحمدللہ محدث فورم کو نئےسافٹ ویئر زین فورو 2.1.7 پر کامیابی سے منتقل کر لیا گیا ہے۔ شکایات و مسائل درج کروانے کے لئے یہاں کلک کریں۔
  • آئیے! مجلس التحقیق الاسلامی کے زیر اہتمام جاری عظیم الشان دعوتی واصلاحی ویب سائٹس کے ساتھ ماہانہ تعاون کریں اور انٹر نیٹ کے میدان میں اسلام کے عالمگیر پیغام کو عام کرنے میں محدث ٹیم کے دست وبازو بنیں ۔تفصیلات جاننے کے لئے یہاں کلک کریں۔

شیعہ سے چند اہم بنیادی سوالات

lovelyalltime

سینئر رکن
شمولیت
مارچ 28، 2012
پیغامات
3,735
ری ایکشن اسکور
2,899
پوائنٹ
436
بہرام
علی بہرام


سوال نمبر1:

شیعہ کسے کہتے ہیں؟ ایسی جامع تعریف کریں کہ کوئی ناجی فرد اس سے خارج نہ ہو اور نجات کا غیر مستحق اس میں شامل نہ ہو، واضح رہے کہ شیعہ دسیوں فرقوں میں بٹے ہوئے ہیں اصولی اختلاف کی وجہ سے ہر فرقہ دوسرے کی تکفیر کرتا ہے۔ صرف امامیہ کے 39 فرقے ہیں۔چند موجودہ بڑے فرقوں کے نام يہ ہیں۔ کیسانیہ،مختاریہ، زیدیہ، اسماعیلیہ (آغاخانی) جعفریہ، اثنا عشریہ۔امام صادق کا ارشاد ہے۔

اس امت کے 73 فرقوں میں سے 13ہماری ولایت ومحبت کے دعوے دار ہیں ان میں سے 12دوذخ میں ہوں گے صرف ايک جنت میں ہوگا۔ باقی لوگوں کے60 فرقے جہنمی ہیں

(روضہ کافی ص 224 )

سوال نمبر2:

اثناعشریہ کب وجود میں آیا؟ اس کے آنے سے سابقہ تمام فرقے کيسے جھوٹے ہو گئے؟ ایرانی شیعہ عالم مرزا ابوالحسن شعرانی لکھتے ہیں۔ کہ امام بخاری و مسلم ؒ کے زمانے میں(تیسری صدی) ہمارا فرقہ اثنا عشریہ کے نام سے معروف نہ تھا۔ (مقدمہ کشف الغمہ 4) اگر بارہویں امام کی آمدپر شیعی اسلام کی تکمیل ہوئی توسابق ناقص الاسلام اصحاب علی رضی اس عنہ واصحاب حسین رضی اﷲ عنہ کا کیا ان سے کم رتبہ ہوا اگر يہ خیال ہو کہ 12آئمہ کا اجمالی عقیدہ پہلوں کا بھی تھا۔ تو اگلے پچھلے شیعہ سب ايک قوم ہوئے تو ہم کہتے ہیں کہ حضور صلی اﷲ علیہ وسلم کی بعثت و رسالت کا عقیدہ سابقہ اقوام کا بھی جز و ایمان تھا پھر اب مسلم يہود ونصاری کی تفریق ختم کر کے ايک قوم کہلانا چاہيے۔ اگر يہود ونصاری اتباع رسول نہ کر نے سے غیر مسلم ہیں تو آمد امام عصر(مہدی) کے عقیدے کے باوجود ان کی اتباع نہ کرنے سے شیعہ کيسے اثنا عشری ہوئے۔

سوال نمبر3:

کیا شیعہ مذہب کے داعی پیغمبر تھے ؟ کوئی شیعہ اس کا قائل نہیں اگر ایسا ہوتا تو آپ کے تمام صحابہ و پیرو کاروں کو شیعہ مرتد ومنافق کہنے کے بجائے مومن وشیعہ مانتے۔ کیا حضرت علی رضی اﷲ عنہ وحسنین رضی اﷲ عنہم مذہب شیعہ کے داعی تھے؟ کوئی شیعہ اثنا عشری مذہب کا اصول و فروع ان سے بھی ثابت نہیں کرسکتا تبھی تو ان پر تقیہ کا الزام شنیع لگاتے ہیں البتہ شیعہ اپنے مذہب کا معلم اول حضرت جعفر صادق ؒ کو مانتے اور جعفری کہلاتے ہیں بھلا بتائيے جو مذہب پیغمبر اور صحابہ اہل بیت سے ثابت نہ ہووہ سب مسلمانوں پر کيسے حجت ہو سکتا ہے اور اس کے انکار پر کفر کيسے لازم آتا ہے ؟

سوال نمبر4:

کیا امامت علی رضی اﷲ عنہ کا پرچار صحابہ کرام رضی اﷲ عنہم سے بیزاری، ان کی بدگوئی کرنا اور ایمان سے خارج ماننا شیعہ مذہب میں ضروری ہے اگر يہ باتیں شیعہ کا عین ایمان ہیں تو ان کے موجد حضرت جعفر صادقؒ نہ تھے۔ ايک دشمن اسلام يہودی تھا۔ شیعہ کے معتمد عالم علامہ کشی رقم طراز ہیں: " بعض اہل علم کا بیان ہے کہ عبد اﷲ بن سبا يہودی تھا۔مسلمان بن کر حضرت علی رضی اﷲ عنہ سے محبت کرنے لگا وہ اپنی یہودیت کے دوران بھی غلو سے کہتا تھا کہ حضرت یوشع موسی علیہ السلام کے وصی ہیں۔ تو دوران اسلام حضرت علی رضی اﷲ عنہ کے متعلق وصی امام (بلا فصل) ہونے کا دعوی کیا۔ يہی وہ پہلا شخص ہے جس نے حضرت علی رضی اﷲ عنہ کی امامت کو فرض (وجزوایمان) بتایا۔ آپ کے سیاسی مخالفین سے تبرا کیا۔ ان کی خوب توہین کر کے ان کو کافر بتایا يہیں سے مخالفین شیعہ کہتے ہیں:
کہ مذہب شیعہ کا بنیاد يہودیت سے لی گئی ہے

(رجال کشی 71)

سوال نمبر5:

کیا شیعہ اعتقاد میں حضرت علی رضی اﷲ عنہ مافوق الاسباب ،مشکل کشا،حاجت روا، روزی رساں، مختار کل، عالم الغیب اور اوصاف بشریت سے بالا بہت کچھ تھے ؟ اگر جواب اثبات میں ہے تو حضرت علی رضی اﷲ عنہ کے رو ومشکل کشا ہونے کی يہ تعلیم اسی يہودی نے دی۔ حضرت امام جعفر صادق ؒ فرماتے ہیں: " عبداﷲ بن سبا پر اﷲ کی لعنت ہو اس نے امیر المومنین علیہ السلام میں اوصاف ربوبیت کا دعوی کیا، اﷲ کی قسم حضرت علی رضی اﷲ عنہ اﷲ کے عاجز وطائع بندے تھے جو ہم پر جھوٹ باندھے اس پر تباہی ہو۔ ايک قوم (شیعہ) ہمارے متعلق وہ کچھ کہتی ہے جو ہم اپنے متعلق نہیں کہتے ہم ان سے بیزار ہیں، ہم ان سے بیزار ہیں۔ ہم اﷲ کی طرف رجوع کرتے ہیں

(رجال کشی ص71 )

سوال نمبر6:

اگر یا علی مدد کے نعرے ، آپ کو غیب دان ،مختار کل اور شکل انسانی میں نور من نور اﷲ مانتے ہیں کفر وشرک يہودیت و نصرانیت کے ساتھ ہمر نگی نہیں توحضرت زید العابدین یوں کیوں فرماتے ہیں : يہود نے حضرت عزیز علیہ السلام سے محبت کی تو ان کے متعلق بہت کچھ کہنے لگے حضرت عزیز علیہ السلام کا ان سے کچھ تعلق ہے نہ ان کا آپ سے۔نصاری نے حضرت عیسی علیہ السلام سے محبت کی تو انہوں نے بھی آپ کے حق یہی معاملہ ہوگا۔ ہمارے شیعہ کی ايک قوم ہم سے محبت کرے گی تو ہمارے حق میں وہی باتیں کہے گی جو يہود نے حضرت عزیز علیہ السلام میں اونصاری نے حضر عیسیٰ علیہ السلام میں کیں۔ نہ وہ ہم میں سے ہیں نہ ہمارا ان سے کوئی تعلق ہے۔

(رجال کشی 79)

سوال نمبر7:

بالفرض اگر مانا بھی جائے کہ مذہب شیعہ حضرت جعفر ؒ کی تعلیم سے ہے تو ان سے کس نے روایت کر کے ہم تک پہنچایا ظاہر ہے کہ بعد والے بالترتیب چھ امام تو راوی نہیں نہ پنچسالہ غائب ہونے والے بارہوں مہدی العصر نے کسی کو کہا سنایا تا کہ اثنا عشری اصول پر دین کا ماخذ بارہواں امام ہوتا۔ يہی سے اثنا عشریہ، اسمٰعلیہ، واقفہ (امام جعفر کے بعد کسی کو امام نہ ماننے والے) عملاً ايک نظر آتے ہیں۔ شیعہ بن کر حضرت صادق پر لوگوں نے ہزاروں احادیث افترا کیں جيسے مقدمہ رجال کشی میں ہے۔"آئمہ بھی ان لوگوں سے نہ بچ سکے جنہوں نے اپنے آپ کو اصحاب آئمہ میں گھسیڑ کر ان پر جھوٹ گھڑنا شروع کر دیا ۔ من گھڑت حدیثیں آپ سے روایت کیں، بہت سی بدعتیں اور گمراہ عقائد ایجاد کیں جس نے ان کا ايک حرف بھی منہ سے نہ نکالا۔

(تقدیم ص3، بقلم سیداحمد الحسینی ایرانی)

سوال يہ ہے آئمہ معصومین سے وہ کون سے معصوم روای ہیں یا علماء جری وتعدیل میں سے وہ کون سے معصوم مولفین ہیں جن کی روایت یا تحقیق پر اعتماد کر کے مذہب شیعہ کو سچا مانا چائے؟ اگر جواب نفی میں ہے تو کیا يہ بہتر نہیں کہ پیغمبر معصوم کے تمام ارشادات کو عادل صحابہ کرام رضی اﷲ عنہم۔۔۔۔۔ جو قرآن کے بھی جامع و راوی ہے کے توسط سے ثقہ مولفین صحاح ستہ کی کتب سے ثابت اور واجب العمل سمجھا جائے ۔۔۔۔ جن کی ثقاہت ودیانت پرتمام لوگوں کا اتفاق رہا ہے۔


سوال نمبر8:

امام جعفر صادق سے شیعہ مذہب کے مرکزی اور ہزاروں احادیث کے راوی چار ہیں۔ زرارہ بن اعین۔ ابو بصیر مراوی۔ محمد بن مسلم۔ برید بن معاويہ امام جعفر صادق کی طرف منسوب ہے۔آپ نے فرمایا، اگر زرارہ اور اس کے ساتھ نہ ہوتے تو میرے باپ کی احادیث مٹ جاتیں۔ نیز آپ نے فرمایا میں ان چار کے سوا کسی کو نہیں پاتا جس نے ہمارا ذکر اور میرے باپ کی حادیث کو زندہ کیا ہواگر يہ نہ ہوتے تو کوئی شخص دین کا مسئلہ نہ جان سکتا يہ وہ حفاظ حدیث اور خدا کے حلال و حرام پرامین ہیں جو دنیا وآخرت میں ہمارے سابقون ہیں۔

(رجال کشی ص90-91)

سوال نمبر9:

حضرت باقر وصادقؒ شارع دین تھے (شریعت ساز) یا راوی دین اگر شارع وحلال و حرام میں مختار تھے تو نبوت کے ساتھ کھلا شرک ہوا ۔ اگر راوی دین تھے تو راوی کے لئے عصمت کا اصول کس نے ایجاد کیا ہے جب کہ آپ کو اپنے شاگرد بھی غیر معصوم صرف نیکورعالم جانتے تھے۔علامہ مجلسی لکھتے ہیں:" احادیث سے ظاہر ہوتا ہے کہ شیعہ روایوں کی جماعت آئمہ کرام علیہم السلام کے زمانے میں ہوئی وہ ان کی عصمت (گناہوں سے پاکدامنی) کا عتقاد نہ رکھتے تھے بلکہ وہ ان کو نیکوکار علما میں سے جانتے تھے جيسے رجا ل کشی سے ظاہر ہوتا ہے ۔ معھذا آئمہ علیھم السلام ان کو مومن و عادل کہتے تھے

(حق الیقین)

سوال نمبر 10:

ذرا بتلائے بت پرستی کی کی حقیقت ہے؟ قرآن پاک میں مذکور " اصنام اور اثوان" لغت میں ان بتوں کو انہیں کہتے جو اپنے معظم ومحترم انسان کی شکل وصورت میں تراشے گئے ہوں۔ مشرکین ان برزگوں کی یا دگار مجسموں کی تعظیم میں رکوع،سجدہ، دعا، استعانت، نذرونیاز، طلب حاجات وغیرہ امور شرکیہ بجالا کر خدا کا تقرب ڈھونڈتے تھے ۔
ہم ان کی عبادت نہیں کرتے مگر يہ کہ وہ ہمیں اﷲ کے قریب کر دیں گے۔( پارہ23)
اور کہتے ہیں يہ ہمارے اﷲ کے ہاں سفارشی ہیں(پارہ 11)

ذرا انصاف سے کہئيے، کہ آج شکل انسانی پر یادگار کے بجائے معظم بزرگ کی قرب،ضریح روضہ کی یادگار بنا کر اس کے ساتھ وہی مندرجہ بالا امور کيے جائیں جو مشرکین اپنے بزرگوں کی یادگار مجسموں سے کرتے تھے اور اسے تقرب الی اﷲ اور خدا کے ہاں سفارش اور نجات کا ذریعہ سمجھا جائے تو کیا يہ شرک نہیں ہوگا؟ عین اسلام ہو گا
بدل کے آتے ہیں زمانے میں لات و منات
ديتے ہیں دھوکہ کھلا يہ بازی گر

سوال نمبر11:

اگر حضرت علی رضی اﷲ عنہ کو مافوق البشر، حاجت روا اور مشکل کشا و روزی رساں ماننا شرک نہیں تو حضرت علی رضی اﷲ عنہ نے ان دس آدمیوں کو زندہ کیوں جلا دیا جو يہ کہتے تھے ،آپ ہمارے رب و کارساز ہیں۔آپ نے ہمیں پیدا کیا آپ رزق ديتے ہیں، تو حضرت علی رضی اﷲ عنہ نے فرمایا تم پر تباہی ہو ایسا مت کہو۔ میں بھی تمہاری طرح مخلوق ہوں جب وہ نہ مانے پھر وہی بات کہی تو آپ نے آگ میں پھونک دیا۔

(رجال کشی ص48)

اور72پر ہے کہ ستر آدمیوں نے آپ کے متعلق ایسا کہا تو آپ نے گڑھے کھود کر ان کو آگ میں جلادیا۔

سوال نمبر12:

کیا عزاداری سے متعلقہ تمام رسوم آئمہ اہل بیت سے قولا و عملاً ثابت ہیں؟ اگر نہیں اورہرگز نہیں بلکہ ذاکروں اور مجتہدوں نے بطور قیاس، حضرت حسین رضی اﷲ عنہ کی یاد اور غم کو زندہ رکھنے کے لئے ایجاد کی ہیں تو آج ان بدعات کو کار ثواب اور جز ودین ماننا اور بنانے والوں کی تعظیم کرنا۔ کیا نبوت اور امامت کے منصب میں کھلا شرک نہیں ہے اور شریعت سازی کا حق دے کر غیر شعوری طور پر ان کی عبارت نہیں ہے جس کی تردید سوال نمبر13 میں مذکورہ آیت کریمہ اور ارشاد امام میں موجود ہیں۔

سوال نمبر13:

سیدنا حضرت حسین رضی اﷲ عنہ کی شہادت کا المیہ !

سیدنا حسین رضی اﷲ عنہ از خود کربلا گئے یا غدار شیعان کوفہ کے اصرار پر گئے۔ امر اول باطل ہے، اگر امر ثانی درپیش نہ آتا اور آپ نہ جاتے تو کیا آپ کے زندہ سلامت رہنے سے اسلام مردہ ہو جاتا۔ نیز تاریخ يہ بھی بتاتی ہے کہ آپ میدان کربلا سے دمشق جانے اور یزید سے تصفیہ اور دوست در دست دينے کو تیار تھے مگر کوفیوں نے ایسا نہ کرنے دیا۔ ملاحظہ ہو شیعہ کتاب الامامة وایساستہ ج2ص7 اور تلخیص شانی ص471

فرمائيے۔ اس احسن تجویز پر عمل ہو جاتا اور سبط پیغمبر کی جان بچ جاتی تو کیا اسلام پھر مردہ ہو جاتا۔ اوہ کیا افسوسناک المیہ ہے کہ خود ہی بلا کر شہید کر کے ايک طرف ماتم کو دین بنایا تو دوسری طرف اپنا جرم اور سازش چھپانے کے لئے اسلام زندہ کر دکھایا، کا نعرہ ایجاد کیا۔

سوال نمبر14:

اگر شہادت حسین رضی اﷲ عنہ (العیاذ باﷲ) اسلام کے لئے المناک اور ناقابل تلافی نقصان ہونے کے بجائے اسلام کے لئے فائدہ اور حیات کا سبب بنی تو فرمائے کہ لوگ مرتد کیوں ہو گئے۔

حضرت جعفر صادق علیہ السلام فرماتے ہیں کہ حضرت حسین علیہ السلام کی شہادت کے بعد 3 آدمیوں کے سوا سب لوگ مرتد ہوگئے ۔پھر لوگ رفتہ رفتہ واپس آنے لگے۔

(رجال کشی81 )

حضرت زین العابدین اس تصور سے کیوں ہر وقت روتے اور غم میں ڈوبے رہتے تھے کہ :

آپ کے شہادت سے اہل جہاں گمراہ ہو گئے۔ خدا کا دین ضائع ہوگیا اور رسول اﷲ کی سنتیں معطل ہو گئیں۔بنو اميہ کی بدعتیں ظاہر ہو گئیں۔

سوال نمبر15:

ماتم اور رسوم عزاداری کی تحقیق

حضرت علی رضی اﷲ عنہ نے ماتم کے متعلق یوں فرمایا ہے کہ حضور صلی اﷲ علیہ وسلم کو غسل ديتے وقت فرما رہے تھے آپ کی وفات تمام لوگوں کے لئے دردناک مصیبت ہے اگر يہ بات نہ وہوتی کہ آپ نے صبر کا حکم دیا اور رونے پیٹنے سے روکا تو ہم یقینا سب اپنے آنسو آپ پر بہا ديتے آپ کی مصیبت کے درد کا علاج نہ کرتے۔

(حیات القلوب، جلا العیون، نہج البلاغة)

2۔نیز فرمایا کہ رسول اﷲ صلی اﷲ علیہ وسلم نے بین کرنے اور سننے سے منع فرمایا ہے۔

(الفیقہ ج 4ص466)

3۔نیز حضرت امیر رضی اﷲ عنہ نے فرمایا کہ کالا لباس نہ پہنا کرو کیونکہ وہ فرعون کا لباس ہوگا۔

۔ ( الفقیہ باب مالا یصلی فیہ)

4۔مصائب کربلا کی پیشین گوئی کے وقت حضرت علی رضی اﷲعنہ نے فرمایا اپنے دشمنوں سے ڈرتے اور بچتے رہنا اور اس وقت صبر اورحوصلہ کرکھنا ۔

(جلا العیون ص209)

کیا اس کے برعکس ماتم کے جواز پر بھی شیر خدا کا کوئی فرمان موجود ہے ؟؟؟؟
 
Top