ابو عکاشہ
مشہور رکن
- شمولیت
- ستمبر 30، 2011
- پیغامات
- 412
- ری ایکشن اسکور
- 1,492
- پوائنٹ
- 150
سیدنا دحیة بن خلیفة الکلبی رضی اللہ عنه وارضاہ
آپ کا پورا نام دِحيةَ ابن خليفة
بن فروة بن فضالة الكلبي القضاعي رضی اللہ عنہ ہے
آپ رضی اللہ عنہ کو رسول مقبول صلی اللہ علیہ وسلم کے سفیرہونے کا شرف بھی حاصل ہے ،رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ھرقل شاہ روم کو جو خط لکھا وہ آپ کے حوالے کیا کہ آپ اسے سربراہ بصری کے حوالے کردیں اور وہ اسے ھرقل تک پہنچا دے۔ (رحیق المختوم)
سیدنا دحیہ کے بارے میں آتا ہے کہ آپ مدینہ کے حسین و جمیل اور خوبصورت لوگوں میں سے ایک تھے ،جبریل علیہ السلام آپ رضی اللہ عنہ کی شکل میں کبھی کبھی رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آتے تھے
كان جبريلُ يأتي النبيَّ صلَّى اللهُ عليهِ وسلَّمَ في صورةِ دِحيةَ الكلبيِّ
الراوي: عبدالله بن عمر المحدث: الألباني - المصدر: السلسلة الصحيحة - الصفحة أو الرقم: 3/104
خلاصة حكم المحدث: إسناده صحيح على شرط مسلم
''جبریل علیہ السلام رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس سیدنا دحیہ کلبی کی شکل میں آتے تھے''
مسلمان جب غزوہ احزاب سے فارغ ہوئے جبریل علیہ السلام آئے ،آپ کا چہرہ گرد آلود تھا فرمانے لگے آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ہتھیارکھول دیئے ؟حالانکہ فرشتے اب تک ہتھیار بند ہیں ۔ اٹھئے بنو فریظہ سے بھی فیصلہ کر لیجئے ۔ ان پر چڑھائی کیجئے ۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فوراہتھیارلگا لیے اور صحابہ کرام رضوان اللہ علیھم اجمعین میں بھی کوچ کی منادی کرادی ۔ بنو تمیم کے مکانات مسجد نبوی سے متصل سے تھے۔ راہ میں آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان سے پوچھا، کیوں بھئی کسی کو جاتے ہوئے دیکھا ؟انہوں نے کہا کہ ہاں ابھی ابھی سیدنا دحیہ کلبی رضی اللہ عنہ گئے ہیں ۔حالانکہ تھے تو وہ جبریل علیہ السلام لیکن آپ کی داڑھی چہرہ وغیرہ بالکل سیدنا دحیہ کلبی سے ملتا جلتا تھا ۔ (تفسیر ابن کثیر تفسیر سورة احزاب)
فتح خیبر کے موقع پر سیدنا دحیہ رضی اللہ عنہ رسول مقبول صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں آئے اور عرض کی '' اے اللہ کے نبی صلی اللہ علیہ وسلم ! مجھے قیدی عورتوں میں سے ایک لونڈی دے دیجئے '' آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : جاؤ ! اور ایک لونڈی لے لو ،آپ نے سیدہ صفیہ بنت حیی (رضی اللہ عنھا) کو منتخب کیا
اس پر ایک آدمی نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آ کر عرض کیا کہ اے اللہ کے نبی صلی اللہ علیہ وسلم ! آپ نے بنو قریظہ اور بنو نضیر کی سیدہ صفیہ کو دحیہ کے حوالے کردیا حالانکہ وہ صرف آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے شایانِِ شان ہیں ،آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : دحیہ کو صفیہ سمیت بلاؤ ،سیدنا دحیہ رضی اللہ عنہ سیدہ صفیہ کو لے کر حاضر ہوئے آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے انہیں دیکھ کر سیدنا دحیہ سے فرمایا : قیدیوں میں سے کوئی دوسری لونڈی لے لو ''پھر رسول مقبول صلی اللہ علیہ وسلم نے سیدہ صفیہ رضی اللہ عنھا پر اسلام قبول کیا انہوں نے اسلام قبول کرلیا، اس کے بعد آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے انہیں آزاد کر کے ان سے شادی کر لی اور ان کی آزادی ہی کو ان کا مہر قرار دیا ۔(رحیق المختوم)
ابن سعد نے لکھا کہ آپ رضی اللہ عنہ نے بدر سے پہلے اسلام قبول کر لیا تھا لیکن بدر میں آپ حاضر نہیں ہوئے، اورسیدنا معاویہ رضی اللہ عنہ کے زمانے تک زندہ رہے
رضی اللہ عنہ وارضاہ
آپ کا پورا نام دِحيةَ ابن خليفة
بن فروة بن فضالة الكلبي القضاعي رضی اللہ عنہ ہے
آپ رضی اللہ عنہ کو رسول مقبول صلی اللہ علیہ وسلم کے سفیرہونے کا شرف بھی حاصل ہے ،رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ھرقل شاہ روم کو جو خط لکھا وہ آپ کے حوالے کیا کہ آپ اسے سربراہ بصری کے حوالے کردیں اور وہ اسے ھرقل تک پہنچا دے۔ (رحیق المختوم)
سیدنا دحیہ کے بارے میں آتا ہے کہ آپ مدینہ کے حسین و جمیل اور خوبصورت لوگوں میں سے ایک تھے ،جبریل علیہ السلام آپ رضی اللہ عنہ کی شکل میں کبھی کبھی رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آتے تھے
كان جبريلُ يأتي النبيَّ صلَّى اللهُ عليهِ وسلَّمَ في صورةِ دِحيةَ الكلبيِّ
الراوي: عبدالله بن عمر المحدث: الألباني - المصدر: السلسلة الصحيحة - الصفحة أو الرقم: 3/104
خلاصة حكم المحدث: إسناده صحيح على شرط مسلم
''جبریل علیہ السلام رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس سیدنا دحیہ کلبی کی شکل میں آتے تھے''
مسلمان جب غزوہ احزاب سے فارغ ہوئے جبریل علیہ السلام آئے ،آپ کا چہرہ گرد آلود تھا فرمانے لگے آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ہتھیارکھول دیئے ؟حالانکہ فرشتے اب تک ہتھیار بند ہیں ۔ اٹھئے بنو فریظہ سے بھی فیصلہ کر لیجئے ۔ ان پر چڑھائی کیجئے ۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فوراہتھیارلگا لیے اور صحابہ کرام رضوان اللہ علیھم اجمعین میں بھی کوچ کی منادی کرادی ۔ بنو تمیم کے مکانات مسجد نبوی سے متصل سے تھے۔ راہ میں آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان سے پوچھا، کیوں بھئی کسی کو جاتے ہوئے دیکھا ؟انہوں نے کہا کہ ہاں ابھی ابھی سیدنا دحیہ کلبی رضی اللہ عنہ گئے ہیں ۔حالانکہ تھے تو وہ جبریل علیہ السلام لیکن آپ کی داڑھی چہرہ وغیرہ بالکل سیدنا دحیہ کلبی سے ملتا جلتا تھا ۔ (تفسیر ابن کثیر تفسیر سورة احزاب)
فتح خیبر کے موقع پر سیدنا دحیہ رضی اللہ عنہ رسول مقبول صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں آئے اور عرض کی '' اے اللہ کے نبی صلی اللہ علیہ وسلم ! مجھے قیدی عورتوں میں سے ایک لونڈی دے دیجئے '' آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : جاؤ ! اور ایک لونڈی لے لو ،آپ نے سیدہ صفیہ بنت حیی (رضی اللہ عنھا) کو منتخب کیا
اس پر ایک آدمی نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آ کر عرض کیا کہ اے اللہ کے نبی صلی اللہ علیہ وسلم ! آپ نے بنو قریظہ اور بنو نضیر کی سیدہ صفیہ کو دحیہ کے حوالے کردیا حالانکہ وہ صرف آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے شایانِِ شان ہیں ،آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : دحیہ کو صفیہ سمیت بلاؤ ،سیدنا دحیہ رضی اللہ عنہ سیدہ صفیہ کو لے کر حاضر ہوئے آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے انہیں دیکھ کر سیدنا دحیہ سے فرمایا : قیدیوں میں سے کوئی دوسری لونڈی لے لو ''پھر رسول مقبول صلی اللہ علیہ وسلم نے سیدہ صفیہ رضی اللہ عنھا پر اسلام قبول کیا انہوں نے اسلام قبول کرلیا، اس کے بعد آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے انہیں آزاد کر کے ان سے شادی کر لی اور ان کی آزادی ہی کو ان کا مہر قرار دیا ۔(رحیق المختوم)
ابن سعد نے لکھا کہ آپ رضی اللہ عنہ نے بدر سے پہلے اسلام قبول کر لیا تھا لیکن بدر میں آپ حاضر نہیں ہوئے، اورسیدنا معاویہ رضی اللہ عنہ کے زمانے تک زندہ رہے
رضی اللہ عنہ وارضاہ