دوسری حدیث میں فرمایا:
(( إِنَّ اللّٰہَ تَعَالیٰ … یَکْرَہُ الْبُؤْسَ وَالتَّبَاؤُسَ۔))1
’’ بے شک اللہ تعالیٰ تبوست (خواہ مخواہ کی) تنگدستی کے اظہار کو مکروہ جانتے ہیں۔‘‘
بؤس و التباؤس…: اس سے مراد فقر و فاقہ کا اظہار کرنا، بوسیدہ، پھٹے پرانے اور کھردرے کپڑے پہننا، مسکینی، غیر اللہ سے مانگنا اور طلب کرنا ہے۔
ان باتوں کو رب تعالیٰ اس لیے ناپسند کرتے ہیں کیونکہ وہ خود خوبصورت ہیں اور خوبصورتی کو پسند فرماتے ہیں اور اپنے بندے پر کپڑوں اور خرچ کرنے اور شکر کرنے کے لحاظ سے اپنی نعمت کا اظہار محبوب رکھتا ہے، چنانچہ یہ اظہار بسا اوقات اقوال اور بعض دفعہ حالات اور بعض دفعہ افعال کے ذریعہ ہوتا ہے۔ اللہ تعالیٰ چونکہ جمال کو پسند فرماتے ہیں اس لیے اپنے بندوں کے ظاہر کو خوبصورت بنانے اور باطن کی خوبصورتی کو قوت بخشنے کے لیے ان پر لباس اور زینت نازل فرمائی۔
لہٰذا وہ تو خوبصورتی کو پسند اور فقر و فاقہ اور مسکینی کے اظہار کو ناپسند کرتا ہے حتیٰ کہ لباس میں بھی یہ حرکت اسے ناگوار گزرتی ہے۔ رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے پراگندہ کپڑوں والے ایک آدمی کو دیکھا اور اسے فرمایا:
(( ہَلْ لَکَ مِنْ مَالٍ؟ فَقَالَ: مِنْ کُلِّ الْمَالِ قَدْ أَعْطَانِیَ اللّٰہُ مِنَ الْاِبِلِ وَالْغَنَمِ، فَقَالَ صلی اللہ علیہ وسلم : (( فَلْیُرَ عَلَیْکَ۔))2
’’ کیا تیرے پاس مال ہے؟ تو اس نے جواب دیا: مجھے اللہ تعالیٰ نے ہر قسم کے مال اونٹ اور بکریوں سے نوازا ہے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: تم پر اس کا اثر نظر آنا چاہیے۔ ‘‘
یعنی اللہ تعالیٰ کے دیے ہوئے مال کا اظہار ہونا چاہیے۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا ایک اور فرمان ہے:
(( إِذَا آتَاکَ اللّٰہُ مَالًا فَلْیُرَ عَلَیْکَ، فَإِنَّ اللّٰہَ یُحِبُّ أَنْ یَّرَی أَثْرَہُ عَلٰی عَبْدِہِ حَسَنًا، وَلَا یُحِبُّ الْبُؤْسَ وَلَا التَّبَاؤُسَ۔))3
’’ جب تجھے اللہ تعالیٰ مال سے نوازے تو تجھ پر اس کا اثر نظر آنا چاہیے (کیونکہ) اللہ تعالیٰ پسند کرتا ہے کہ اپنے بندے پر اس مال کے اچھے اثرات دیکھے اور فقر و فاقہ اور مسکینی کے اظہار کو پسند نہیں کرتا۔ ‘‘
ــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ
1- صحیح الجامع الصغیر، رقم : ۱۷۱۱۔
2- صحیح سنن الترمذي، رقم : ۱۶۳۲۔
3- صحیح الجامع الصغیر، رقم : ۲۵۵۔