• الحمدللہ محدث فورم کو نئےسافٹ ویئر زین فورو 2.1.7 پر کامیابی سے منتقل کر لیا گیا ہے۔ شکایات و مسائل درج کروانے کے لئے یہاں کلک کریں۔
  • آئیے! مجلس التحقیق الاسلامی کے زیر اہتمام جاری عظیم الشان دعوتی واصلاحی ویب سائٹس کے ساتھ ماہانہ تعاون کریں اور انٹر نیٹ کے میدان میں اسلام کے عالمگیر پیغام کو عام کرنے میں محدث ٹیم کے دست وبازو بنیں ۔تفصیلات جاننے کے لئے یہاں کلک کریں۔

حدیث کا تعارف

محمد نعیم یونس

خاص رکن
رکن انتظامیہ
شمولیت
اپریل 27، 2013
پیغامات
26,588
ری ایکشن اسکور
6,779
پوائنٹ
1,207
حدیث کا تعارف

لفظ حدیث کے بارے میں ہماری اکثریت اتنا تو جانتی ہے کہ اس کا تعلق رسول اللہ ﷺ سے ہے۔ مگر اس کی روحانی و علمی حیثیت کیا ہے؟ اس سے وہ ناآشنا ہے۔ حدیث کے معاملہ میں لا دینی حلقوں نے بھی عامیانہ پن کو اپنا یا اوراس سے کورے و پرے رہے۔ بہت سے اسلامی علوم کی دل چسپی جس طرح آج ختم ہو گئی ہے اسی طرح حدیث و سنت اور سیرت رسول بھی خاصی متأثر ہوئی ہے۔ ہمارا خیال ہے کہ امت اس وقت تک سرخرو اور کامیاب نہیں ہو سکتی جب تک وہ اپنے رویے اور رجحانات تعلیمات نبوی میں نہ ڈھال لے۔ مگر ہمیں اس منبع کا علم تو ہو جہاں سے یہ نور نبوت پھوٹتا ہے اور جس کی روشن کرنیں حیوانیت کے قوی کو شل کئے دیتی ہے۔ یہ منبع علم حدیث رسول ہے جسے نبوت کی تابانی نے بڑی محنت، خوش اسلوبی اور صاف ستھرے اور نتھرے اصولوں سے پیش کیا ہے اور جس کی سچائی و ثقاہت اس کے اپنے مصادر سے ہی ظاہر و باہر ہے۔ اس لئے بغیر کسی مزید گفتگو کے ہم اصل مقصد کی طرف بڑھتے ہیں:
 

محمد نعیم یونس

خاص رکن
رکن انتظامیہ
شمولیت
اپریل 27، 2013
پیغامات
26,588
ری ایکشن اسکور
6,779
پوائنٹ
1,207
حدیث کی تعریف

لفظ حدیث کا مادہ ح د ث ہے جس کا معنی ہے کہ ایک شے جو پہلے نہیں تھی اب ہے۔ جیسے لفظ حادثہ۔ ہر نئے واقعے کے لئے بولا جاتا ہے۔ حدیث بھی نیا کلام ہے جس کے حروف و الفاظ پہلے نہیں تھے اب ہیں۔
لغت میں لفظ حدیث، قدیم کی ضد بھی ہے۔ احادیث اس کی جمع تکسیر ہے۔ جس سے مراد خبر، کہانی، قصہ پارینہ، گفتگو یا اطلاع دینا ہے۔ یا ہر وہ کلام، حدیث ہے جو انسان بولتا ہے، اسے آگے نقل کرتا ہے اور اس کے کانوں تک سوتے یا جاگتی حالت میں پہنچتا ہے۔ قرآن کریم میں لفظ حدیث، قول، عمل، تقریر اور اخلاق و کردار سبھی کے لئے استعمال ہوا ہے۔
 

محمد نعیم یونس

خاص رکن
رکن انتظامیہ
شمولیت
اپریل 27، 2013
پیغامات
26,588
ری ایکشن اسکور
6,779
پوائنٹ
1,207
حدیث کا مفہوم عام

٭… اللہ تعالیٰ نے اپنے کلام کو حدیث کہا:
{ومَنْ أصْدَقُ مِنَ اللّٰہِ حَدِیْثاً}۔ اللہ تعالیٰ کی بات سے بڑھ کر کون سچا ہو سکتا ہے۔ (النساء:۸۷)
٭…قرآن مجید کو حدیث نام دیا:
{ فَبِأیِّ حَدِیْثٍ بَعْدَہُ یُؤْمِنُوْنَ}۔(المرسلات:۵۰) مراد یہ کہ اس زمانے کے گمراہ لوگوں کے باطل عقائد کے مقابلہ میں قرآن مجید میں نئی بات یعنی نئے عقائد پیش کئے گئے تھے۔ اسلاف محدثین أہل الحدیث کہلواتے کہ ایسے نام میں جامعیت تھی۔ یعنی اس میں قرآن اور حدیث دونوں کے معنی جمتے تھے اور ان کا مسلک و مشن ہی یہی تھا کہ صرف صحیح حدیث پر عمل کیا جائے اسی کی دعوت دی جائے اور ضعیف و موضوع و مراسیل روایات کو اور آراء رجال کو ترک کر دیا جائے۔
تاریخی واقعہ کو قرآن پاک نے حدیث کا نام دیا اس لئے کہ عرب بھی اپنے تاریخی واقعات کو احادیث کہا کرتے۔
{وَہَلْ أتٰکَ حَدِیْثُ مُوْسٰی} کیا آپ کے پاس موسیٰ علیہ السلام کی خبر پہنچی۔
عام گفتگو کے لئے بھی یہ لفظ بولا گیا:
{۔۔۔فَأعْرِضْ عَنْہُمْ حَتّٰی یَخُوْضُوْا فِیْ حَدِیْثٍ غَیْرِہِ} (الأنعام:۶۸) پس ان سے اعراض کیجیے یہاں تک کہ وہ اس کے علاوہ کسی اور بات میں مشغول ہو جائیں۔
قصۂ پارینہ: گرد سے اٹے ماضی کے واقعات کے لئے بھی لفظ حدیث استعمال ہوا مثلاً:
{فَجَعَلْنَاہُمْ أحَادِیْثَ} ہم نے انہیں کہانیاں بنا دیا۔
آپ ﷺ کا عمل، قول اور خاموش رضا مندی بھی حدیث۔ قرآن مجید میں ہے:
{وَإذْ أسَرَّ النَّبِیُّ إلٰی بَعْضِ أزْوَاجِہِ حَدِیْثًا} اور جب نبی نے اپنی کسی بیوی سے رازدارانہ بات کی۔
عربوں اور مسلمانوں کے لئے لفظ حدیث کوئی اجنبی نہیں تھا۔ بلکہ وہ اس سے مانوس تھے جس طرح آج بھی قرآن کریم کا قاری اس سے مانوس ہے۔
٭… آپ ﷺ نے خود بھی اپنی بات یا عمل کو حدیث قرار دیا:
اللہ تعالیٰ کے علم میں تھا کہ رسول اکرم ﷺ کے اقوال و اعمال کو بھی حدیث سے تعبیر کیا جائے گا اس لئے اگر یہ لفظ قرآن مجید میں استعمال ہو تو کسی کے لئے اجنبی نہ ہو۔ حدیث میں ہے کہ صحابیٔ رسول سیدنا ابو ہریرہؓ نے آپ ﷺ کی خدمت میں حاضر ہو کر دریافت کیا کہ قیامت کے روز آپ ﷺ کی شفاعت کا سب سے زیادہ مستحق خوش نصیب کون ہو گا۔ آپ ﷺ نے فرمایا:
لَقَدْ ظَنَنْتُ یَا أَبَا ہُرَیْرَۃَ أَنْ لاَّیَسْأَلَنِیْ عَنْ ہٰذَا الْحَدِیْثِ أَحَدٌ أَوَّلَ مِنْکَ لِمَا رَأَیْتُ مِنْ حِرْصِکَ عَلیَ الْحَدِیْثِ۔(صحیح بخاری۔ کتاب العلم (۹۹، ۶۵۰) ابو ہریرہ مجھے یقین تھا کہ تم سے پہلے کوئی شخص مجھ سے اس حدیث کے بارے میں سوال نہیں کرے گا۔ کیوں کہ تم طلب حدیث کے بہت حریص ہو۔
صحابہ کرامؓ نے بھی آپ ﷺ کے اقوال اور اعمال وغیرہ کو حدیث نام دیا:
سیدنا انسؓ فرماتے ہیں:
إِنَّہُ لَیَمْنَعُنِیْ أَنْ اُْحَدِّثَکُمْ حَدِیْثاً کَثِیْراً، أَنَّ النَّبِیَّ ﷺ قَالَ: مَنْ تَعَمَّدَ عَلَیَّ کَذِباً فَلْیَتَبَوَّأْ مَقْعَدَہُ مِنَ النَّارِ (صحیح بخاری کتاب العلم ۱۰۸) مجھے یہ خیال روکتا ہے کہ میں تمہیں بہ کثرت احادیث بیان کروں۔ جبکہ آپ کا ارشاد ہے کہ جو شخص عمداً میری طرف جھوٹ منسوب کرے اسے اپنا ٹھکانہ دوزخ بنا لینا چاہیے۔
 

محمد نعیم یونس

خاص رکن
رکن انتظامیہ
شمولیت
اپریل 27، 2013
پیغامات
26,588
ری ایکشن اسکور
6,779
پوائنٹ
1,207
اصطلاحاً

حدیث کی تعریف علماء حدیث نے یہ لکھی ہے:
اَلْمُرَادُ بِالْحَدِیْثِ فِیْ عُرْفِ الشَّرْعِ مَا یُضَافُ إِلَی النَّبِیِّ ﷺ۔ عرفِ شریعت میں حدیث سے مراد ہر وہ چیز جو آپ ﷺ کی طرف منسوب کی جائے۔ (تدریب الراوی ۱/۴۲)
اس تعریف میں لفظ مَا عام ہے جس میں رسول اکرم ﷺ کی طرف منسوب اقوال، افعال اور تقریر یا آپ ﷺ کی ہر وہ ادا شامل ہے جو بعد از بعثت آپ ﷺ سے ظاہر ہوئی۔ اللہ تعالیٰ نے اس پر صاد فرمایا اور اسے شریعت بنا دیا۔ اس لئے جو منسوخ نہیں ہوا وہ سب اس مَا میں شامل ہے اور شریعت ہے۔ مزید یہ کہ انبیاء کرام اللہ تعالیٰ کی طرف سے جو خبر دیتے ہیں وہ سچی ہوتی ہے جنہیں تسلیم کرنا ہی ایمان ہے۔ یہی معنی نبوت ہے جس کے ضمن میں یہ بھی سجھایا جا رہا ہے کہ اللہ تعالیٰ آپ ﷺ کو غیب کی خبر دیتے اور آپ ﷺ بھی لوگوں کو غیب کی خبریں دیا کرتے۔ اہل اسلام کا اتفاق ہے کہ آپ ﷺ نے جو کچھ امت کو عطا فرمایا اس میں باطل جگہ نہیں بنا سکا اور نہ ہی بنا سکے گا۔
علماء حدیث کا کہنا ہے:
وَکَأَنَّہ أُِریْدَ بِہِ مُقَابَلَۃُ الْقُرْآنِ لأَنَّہُ قَدِیْمٌ۔ لفظ حدیث، دراصل قرآن کے قدیم ہونے کے مقابلہ میں مستعمل ہوا ہے۔ اس لئے وہ قدیم سے مراد کتاب ﷲ اور جدید سے حدیث رسول ﷺ لیتے ہیں۔
 

محمد نعیم یونس

خاص رکن
رکن انتظامیہ
شمولیت
اپریل 27، 2013
پیغامات
26,588
ری ایکشن اسکور
6,779
پوائنٹ
1,207
موضوعِ حدیث

حدیث کا موضوع ذات رسول ﷺ ہے۔ جس میں نزول وحی کے آغاز سے تادم آخریں آپ ﷺ کی سیرت و اخلاق اور تعلیمی و تربیتی سرگرمیوں کا تذکرہ ہے۔ ایک ایسی ہستی کے روشن خد و خال ہیں جو کسی بھی حال اور زمانے میں منارہ نور ثابت ہوتے ہیں۔ رسول اکرم ﷺ کی اولاد و ازواج یا رشتے دار حدیث کا موضوع نہیں۔ ضمناً اگر ان کا تذکرہ حدیث میں آیا ہے تو اسے ہم سیرت کہہ سکتے ہیں مگر حدیث نہیں۔ وجہ صرف یہ ہے کہ حدیث کا تعلق معصومیت سے ہے جبکہ آپ ﷺ کے یہ اقرباء و احفاد معصوم نہیں۔
 

محمد نعیم یونس

خاص رکن
رکن انتظامیہ
شمولیت
اپریل 27، 2013
پیغامات
26,588
ری ایکشن اسکور
6,779
پوائنٹ
1,207
احادیث کی تعداد

جب روایات کی کثرت ہوئی تو ان پر نقد بھی ہوئی۔ چنانچہ ہر ناقد محدث کا ذوق انتخاب حدیث بھی مختلف ہو گیا۔ جس کی وجہ سے احادیث کی تعداد مختلف نظر آئی اور جب کتب حدیث لکھی گئیں تو ان کی ضخامت مختلف تھی اور انواع بھی متعدد۔بکثرت حدیثی سرگرمیوں کی وجہ سے محدثین احادیث اور ان کی روایات سے تازہ بہ تازہ رہتے۔ انہیں تحریر کرتے اور اپنے علم کے مطابق بتا دیا کرتے کہ کون سی روایت مقبول ہے اور کون سی مردود۔ اس طرح طلبہ بھی آگاہ رہتے۔
امام احمد بن حنبل رحمہ اللہ فرماتے ہیں:
ذخیرہ ٔحدیث میں سات لاکھ سے کچھ زائد احادیث صحیح ہیں۔ میں نے اپنی مسند کو سات لاکھ پچاس ہزار روایات سے منتخب کیا ہے۔ (تدریب الراوی: ۵۱)
امام مالک رحمہ اللہ نے ایک لاکھ احادیث یاد کیں جن میں ہر قسم کی روایت تھی مگر تحقیق و تخریج اور رواۃ کے علمی مرتبے اور مقام کو پرکھنے کے بعد صرف چھ سو احادیث احکام انہیں متصل اور مرفوع ملیں۔ مگر آثار و ضعاف اور مراسیل بھی ان کی موطأ میں شامل ہیں۔
امام بخاری رحمہ اللہ نے ایک ہزار مشایخ سے چھ لاکھ احادیث سنیں اور انہیں لکھا بھی۔ مگر ان میں متصل، موقوف، مراسیل اور مکرر روایات تھیں۔ ان میں سے انہوں نے ایک لاکھ صحیح اور دو لاکھ غیر صحیح روایات انہوں نے ازبر بھی کیں۔ پھر ان میں سے تقریباً آٹھ ہزار احادیث جو ہر لحاظ سے اعلی پائے کی تھیں ان کا انتخاب کرکے اپنی کتاب میں لکھا۔
یہی حال ان کے شاگرد امام مسلم رحمہ اللہ کا تھا۔ جنہوں نے اپنے متعدد مشایخ سے تقریباً پانچ لاکھ ملی جلی احادیث سنیں انہیں ضبط تحریر کیا۔ غیر صحیح و صحیح احادیث انہیں بھی یاد تھیں۔ جب انہوں نے الجامع الصحیح تصنیف کرنا چاہی تو انہی صحیح مگر مختلف مراتب کی احادیث میں سے سات ہزار دو سو پچھتر احادیث کا انتخاب کیا۔
امام عراقیؒ فرماتے ہیں:
اگر تمام کتب مسانید، جوامع، سنن اور اجزاء میں صحیح و غیر صحیح روایات کا شمار کیا جائے تو بغیر کسی تکرار کے ان کی تعداد شاید ایک لاکھ تک پہنچ پائے بلکہ پچاس ہزار تک بھی نہ پہنچ پائے۔ جبکہ یہ بات بھی ہر لحاظ سے ناممکن نظر آتی ہے کہ ایک ہی شخص ان تمام احادیث کو ازبر کر لے اور ساری امت سے وہ اوجھل ہو جائیں۔ بلکہ اس نے صرف ان احادیث کو یاد کیا ہو گا جو اس نے اپنے مشایخ سے روایتاً سنی ہوں گی۔ (تدریب:۵۰)
 

محمد نعیم یونس

خاص رکن
رکن انتظامیہ
شمولیت
اپریل 27، 2013
پیغامات
26,588
ری ایکشن اسکور
6,779
پوائنٹ
1,207
ایک اعزاز

محدثین کرام نے حدیث رسول، اقوال صحابہ و ائمہ کے بارے میں یہی اصول بنایا کہ ان کی طرف منسوب ہر بات کو چند کڑی شرائط پر قبول کیا جائے۔ تاکہ نسبت سچی ہو۔ وجہ یہ ہے کہ آپ ﷺ کی طرف منسوب بات دین ہے جس کا سچا ہونا ضروری ہے ورنہ غلط اور جھوٹی نسبت کو دین نہیں کہا جا سکتا۔ اس لئے صرف صادق و دیانت دار اور ثقہ ماہرین نے اس میدان میں قدم رکھا کیونکہ وہی اس کے حق دار تھے مگر غیر ثقہ، یا جھوٹے و ملمع ساز ناقابل اعتماد ہوا کرتے ہیں۔ جنہیں کسی صورت میں بھی یہ روایت حدیث کا اعزاز حاصل نہ ہو سکا۔ محدثین کسی بھی حدیث کے صحیح ہونے کے لئے محض یہ نہیں دیکھتے کہ یہ حدیث ہے یا فلاں کا قول ہے یا فلان کی منقبت ہے بلکہ مسلمہ اصولوں کے تحت اس منسوب بات کو سخت شرائط کے ساتھ پرکھتے اور کھنگالتے ہیں اور اسے وزن دیتے ہیں۔ یہ اللہ تعالیٰ کی ایک خاص عنایت ہے کہ محدثین کرام نے اس نسبت کو پانے کے لئے قرائن و اسباب کے ڈھیر لگا دیئے۔ حدیثی زبان میں اسے مرفوع و متصل بھی کہا گیا اور مرسل، منقطع، معضل یا موضوع بھی۔ اس لئے مستند وہی حدیث و قول ٹھہرا جو صحیح نسبت و سند رکھتا اور غیر مستند وہ جو ضعیف و موضوع نسبت رکھتا۔ الحمد للہ ابتدائے اسلام سے قائم یہ مفہوم اب بھی اپنا تمام تر ریکارڈ رکھتا ہے۔
اندازہ کیا جا سکتا ہے کہ ان احادیث میں صحیح اسانید و متون کے انتخاب کے بعد بغیر کسی تکرار کے چند ہزار تک ان کی تعداد پہنچتی ہے جو بحمدِ اللہ امت کے امور چلانے اور اجتہاد و استنباط کرنے کے لئے کافی ہیں۔
 

محمد نعیم یونس

خاص رکن
رکن انتظامیہ
شمولیت
اپریل 27، 2013
پیغامات
26,588
ری ایکشن اسکور
6,779
پوائنٹ
1,207
نسبت و فیصد

موجودہ ذخیرۂ حدیث، موسوعۃ الحدیث (انسائیکلوپیڈیا) کو دیکھیں تو احادیث کی نسبت یہ بنتی ہے:
قولی احادیث: 20 فیصد
فعلی احادیث: 70 فیصد
باقی
احادیث: 10 فیصد
فوائد: اس تعریف و تقسیم سے درج ذیل فوائد حاصل ہوتے ہیں:
۱۔ آپ ﷺ کے اقوال کم تھے مگر اعمال یا کام زیادہ۔ ایک صحیح راہنما کی یہی صفت ہوا کرتی ہے کہ وہ کم گو ہوتا ہے مگر کام کرنے کا دھنی۔ یہی اسوۂ حسنہ ہے۔
۲۔ فعلی اور تقریری احادیث میں چونکہ الفاظ، رسول اللہ ﷺ کے نہیں ہوتے اس لئے صحابی رسول کے الفاظ میں فہم، تفقہ اور مقصد کو بغور دیکھا اور سندًا اسے چھانٹا جاتا ہے۔ یہ چھانٹی تحقیق کا جزوِ لاینفک ہے۔ جسے علم الحدیث کہتے ہیں۔
۳۔ حدیث چونکہ سند اور متن سے مکمل ہوتی ہے اس لئے کسی خواب، القاء یا اشارہ سے حدیث کی روایت یا اس کی تصحیح و تضعیف ثابت نہیں ہوتی۔ ایسی روایت لاعلمی اور جہل پر مبنی ہے۔ موجودہ صحافت میں ۔۔۔ خیال کیا جاتا ہے۔۔۔ کہہ کر خبر کو بذریعہ میڈیا نشر کر دیا جاتا ہے جو غیر مصدقہ ہوتی ہے اور معاشرے پر اس کے مضر اثرات سے ہر کوئی واقف ہے۔
۴۔ نسبت حدیث آگاہ کرتی ہے کہ حدیث صرف آپ ﷺ کے اقوال کا نام نہیں بلکہ آپ ﷺ کے افعال، تقریر اور صفات بھی اس میں شامل ہیں جو دوسری اقسام سے نسبتاً زیادہ ہیں۔
۵۔ ایک متن کی تین سو اسانید اگر ہوں تو ہر سند والی روایت ایک مستقل حدیث کہلائے گی۔
۶۔ سند والی حدیث کو ہی محدثین یاد کرتے خواہ وہ ضعیف ہوتی یا صحیح۔ پھر اسے روایت کرتے اور اپنے نقدی الفاظ بھی پیش کر دیتے۔ انہوں نے بغیر سند والے متن کو حدیث نہیں کہا۔
۷۔ فقہاء کرام آپ ﷺ کی خَلْقِی اور خُلُقِی صفات کو حدیث کی تعریف میں شامل نہیں کرتے۔
۸۔ محدثین کرام حدیث سے عموماً وہ روایات مراد لیتے ہیں جو آپ ﷺ سے نبوت کے بعد روایت کی گئی ہوں۔ یہی فقہ و شریعت ہے جو واجب، تحریم، مندوب و مکروہ اور مباح کو بھی شامل ہے۔ نیز طب سے متعلق احادیث بھی اس میں شامل ہیں۔رہی حدیث کھجور کی پیوند کاری والی تو آپ ﷺ نے انہیں دیکھ کر صرف یہ ارشاد فرمایا تھا: مَا أَرَی ہٰذَا یُغْنِیْ شَیْئًا۔ میرا خیال نہیں کہ یہ کام انہیں کوئی فائدہ دے۔ (صحیح مسلم)۔ مگر صحابہ اسے صحیح نہ سمجھ سکے بلکہ یہ سمجھا کہ شاید آپ ﷺ نے ایسا کرنے سے روک دیا ہے۔ پھر آپ ﷺ کے یہ ارشاد: أَنْتُمْ أَعْلَمُ بِأُمُوْرِ دُنْیَاکُمْ فَمَا کَانَ مِنْ أَمْرِ دِیْنِکُمْ فَإِلَیََّّ۔ اپنے دنیاوی کام (پیوند کاری) سے متعلق تم زیادہ بہتر جانتے ہو مگر جو تمہارا دینی معاملہ ہو تو اسے میرے پاس لے آؤ۔ اس سے مراد عام قاعدہ نہیں۔ عقل میں یہ بات ہی نہیں آسکتی اور نہ ہی رسول محترم نے ایسا چاہا۔ مگر کیا دنیاوی معاملہ کہہ کر کہیں عقائد، عبادات، معاملات، بیع و شراء، نکاح و طلاق، گفتگو، لباس اور طعام و شراب کے آداب اور عام اسلامی اخلاق سے جان چھڑانا مقصود تو نہیں؟ نیز جب یہ حدیث عام معاملہ دنیا کے بارے میں ہے تو اسے خاص بنانے کی کیا دلیل ہے؟
۹۔ آپ ﷺ نے اپنے قول و عمل وغیرہ کو حدیث نام دیا۔ اس اعتبار سے علم حدیث، ایک معزز و محترم علم ہے۔ تبھی تو اللہ تعالیٰ نے اسے اسوہ حسنہ کہا اور اسی کو اختیار کرنے کی تاکید فرمائی۔ صحابۂ رسول نے بھی حدیث کا لفظ آپ ﷺ ہی کے لئے خاص کر لیا کیونکہ کلام اللہ کے بعد آپ ﷺ کی حدیث ہی علم، تقوی، اور وعظ و ابلاغ میں صداقت پر مبنی تھی اور سب کی احادیث پر فوقیت رکھتی تھی۔ مزید یہ کہ نعمت دین کو پانے کے بعد اس کا اظہار کرنا بھی فرض ہے۔ اللہ تعالیٰ نے آپ ﷺ کو اس دینی نعمت کے بارے میں حکم دیا: {وَأمَّا بِنِعْمَۃِ رَبِّکَ فَحَدِّثْ}۔ اللہ کے رسول آپ اپنے رب کی نعمت کو بیان بھی کیجئے۔ یہی بیان نعمت، حدیث رسول ہی تو ہے۔ اس لئے لفظ حدیث خود ساختہ تعبیر نہیں ہے۔
۱۰۔ اگر حدیث کے معاملہ میں محدثین اتنے محتاط ہیں کہ بغیر سند کے نہ حدیث قبول کرتے ہیں اور نہ ہی اسے حدیث کہتے ہیں تو دیگر علماء کے بے سند اقوال کو قبول کرنے یا اسے صحیح قول تسلیم کرنے میں وہ کیونکر غیر ذمہ داری کا مظاہرہ کر سکتے ہیں۔
۱۱۔ رسول اکرم ﷺ نے جھوٹ اور غلط بیانی کی سنگینی سے سبھی کو آگاہ کر دیا تھا۔ اس لئے کوئی ایسی شہادت نہیں ملتی کہ صحابۂ رسول نے ایمان لا کر ابتداء میں ہی یا بعد میں بھی کوئی بات اپنی طرف سے گھڑ کر آپ ﷺ کی طرف منسوب کر دی ہو۔ اس لئے اپنے صحابہ کرام پرآپ ﷺ کو وثوق و اعتماد تھا کہ جہاں یہ جاہلی دور کے اشعار، اونٹوں اور گھوڑوں کے نسب نامے تک یاد رکھتے ہیں وہاں میرے اقوال بھی ان کے حافظہ میں ثبت ہو جائیں گے۔
۱۲۔ کتاب اللہ و سنت رسول اللہ ﷺ کے ساتھ گہرا تعلق رکھنے والے کے لئے حدیث ہی افتادہ پتھر ہے جس کے اندر ہیرے کی جوت نقاد فقہاء محدثین دیکھ لیتے ہیں کہ کیا اس جام زریں میں جو بادہ معنی بھری ہوئی ہے وہ طبیعت اسلام اور مزاج نبوی کے مناسب ہے؟ یا ذاتی یا شخصی رجحانات و اقوال کو اسلامی رنگ دینے کی کوشش ہے۔

حدیث رسول صلی اللہ علیہ وسلم - حقیقت، اعتراضات اور تجزیہ
 
Top