• الحمدللہ محدث فورم کو نئےسافٹ ویئر زین فورو 2.1.7 پر کامیابی سے منتقل کر لیا گیا ہے۔ شکایات و مسائل درج کروانے کے لئے یہاں کلک کریں۔
  • آئیے! مجلس التحقیق الاسلامی کے زیر اہتمام جاری عظیم الشان دعوتی واصلاحی ویب سائٹس کے ساتھ ماہانہ تعاون کریں اور انٹر نیٹ کے میدان میں اسلام کے عالمگیر پیغام کو عام کرنے میں محدث ٹیم کے دست وبازو بنیں ۔تفصیلات جاننے کے لئے یہاں کلک کریں۔

قرآن وحدیث میں فرق۔ حدیث وفقہ میں فرق۔ حدیث وسیرت میں فرق۔

محمد نعیم یونس

خاص رکن
رکن انتظامیہ
شمولیت
اپریل 27، 2013
پیغامات
26,588
ری ایکشن اسکور
6,779
پوائنٹ
1,207
قرآن و حدیث میں فرق

گو حدیث بھی قرآن کی طرح وحی ہے مگر چند اعتبار سے دونوں میں کچھ فرق ہے۔ وہ یوں کہ:
قرآن، وحی جلی ہے اور حدیث، وحی خفی۔ قرآن، وحی متلو ہے اور حدیث، وحی غیر متلو۔
قرآن کے الفاظ و کلمات ربانی ہیں اور حدیث کے نہیں۔
قرآن کے الفاظ آپ ﷺ کے قلب اطہر پر نازل ہوتے ہیں جب کہ اس کا مفہوم و بیان اللہ تعالیٰ خود آپ ﷺ کے قلب اطہر میں القاء کرتے ہیں۔
دہن مبارک ایک اور زبان مبارک بھی ایک مگر جب آپ ﷺ قرآن کریم پڑھ کر سناتے ہیں تو فرماتے ہیں کہ یہ قرآن کریم ہے اور اس میں اپنی بات نہیں ملاتے۔ جب اپنی گفتگو فرماتے ہیں تو اسے آپ ﷺ حدیث کا نام دیتے ہیں اور اس میں قرآن پاک کو نہیں ملا پاتے۔ مگردونوں کا مضمون ربانی ہے۔
آپ ﷺ کی یہ حدیث: مجھ پر قرآن اترا ہے۔ کو مان کر اگر قرآن تسلیم کرنا لازمی ہے تو پھر حدیث کو ماننے میں کون سی قباحت ہے۔
 

محمد نعیم یونس

خاص رکن
رکن انتظامیہ
شمولیت
اپریل 27، 2013
پیغامات
26,588
ری ایکشن اسکور
6,779
پوائنٹ
1,207
حدیث و فقہ میں فرق

کوئی نامعقول عمل یا بات ایک بار بھی آپ ﷺ کے دہن مبارک سے نہیں نکلی۔ حتی کہ آپ ﷺ خود فرماتے ہیں غصے یا مزاح کی صورت میں بھی میرے منہ سے سوائے حق کے نہیں نکلتا۔ اس لئے کہ دین پر عمل صحیح سمجھ اور صحیح گفتگو کا نام ہے جو آپ ﷺ میں بدرجہ اتم موجود تھی۔ اس لئے آپ ﷺ کے لئے اس میں فرق کرنا درست نہیں۔ مزید خیر القرون میں فقہ کوئی الگ موضوع نہیں تھا بلکہ حدیث و فقہ سے مرا ایک ہی شے تھی۔ کیونکہ بے شمار احادیث میں آپ ﷺ کی احادیث کو فقہ کہا گیا ہے۔ آپ ﷺ کی ہر بات فقہ پر مبنی ہوتی۔ مثلاً:
أَلاَ فَلْیُبَلِّغِ الشَّاہِدُ الْغَائِبَ فَرُبَّ حَامِلِ فِقْہٍ أَوْعٰی مِنْ سَامِعٍ۔ لوگو! (میرے خطبہ کی احادیث کو) جو موجود ہے وہ غائب تک ضرور پہنچائے۔ اکثر فقہ کے حامل ، سننے والے سے زیاد ہ، یاد رکھنے والے ہوتے ہیں۔ (متفق علیہ)
آپ ﷺ نے اپنی ہی حدیث کے فہم کو فقہ فرمایا۔
ام المؤمنین سیدہ عائشہ ؓ فرماتی ہیں:
نِعْمَ النِّسَائُ نِسَائُ الأَنْصَارِ لَمْ یَکُنْ یَمْنَعْہُنَّ الْحَیَائُ یَتَفَقَّہْنَ فِی الدِّیْنِ۔ انصاری خواتین کتنے زبردست دینی ذوق رکھتی تھیں دین کا فہم حاصل کرنے میں حیا ان کے مانع نہیں ہوتا تھا۔
٭… وفد عبد القیس کو بھی ایمان، روزہ، زکوٰۃ اور خمس وغیرہ کے احکام بتائے۔ اور شراب کے برتنوں کے استعمال سے ممانعت فرمائی۔ اور آخر میں فرمایا:
اِحْفَظُوہُنَّ وَأَخْبِرُوہُنَّ مَنْ وَرَائَکُمْ۔ انہیں یاد رکھو اور اپنی قوم کو بھی جا کر انہیں بتاؤ۔ (جملے کی ابتداء میں نص اور اس کا مفہوم یاد کرنے پر آپ ﷺ نے زور دیا ہے جو فقہ ہے)۔
٭… ضمام بن ثعلبہ ؓ جو قبیلہ بنو سعد کے تھے۔ کو بھی آپ ﷺ نے نماز، روزہ کے احکام بتائے جو اپنی قوم کی طرف سے قاصد بن کر چند سوالات لے آئے تھے۔ انہیں سمجھ کر واپس گئے۔
٭… محدثین کرام نے احادیث رسول سے بے شمار فقہی احکام مستنبط کئے اور اپنی تدوین میں فقاہت کو تبویب میں نمایاں کیا۔ مگر کیا اسی فقاہت کو کافی سمجھا گیا؟ بلکہ الفاظ حدیث کی گہرائی ہمہ وقت فقہی استنباط کی مطالب رہی، اور ہے۔
٭… حدیث کا دائرہ کار فقہ سے زیادہ وسیع ہے اس میں عمل کے ساتھ عقیدہ، ایمان، شرعی احکام، معجزہ، آثار قیامت، حیات برزخ، فتنہ قبر، حشر و نشر اور جنت و جہنم کے بارے میں مرویات ہیں جو منزل من اللہ ہیں۔ آپ ﷺ نے انہیں قولاً و عملاً بیان کیا اور امت نے اسے بہ سند حاصل کیا۔ جب کہ موجودہ فقہ کا تعلق صرف عملی احکام سے ہے۔
٭… صحابہ و تابعین کی اکثریت فقیہ اس لئے کہلائی کہ قرآن و حدیث میں ڈھلی ان کی فکرتھی۔ اس کا مطلب کوئی مخصوص فقہ نہ تھی بلکہ قرآن و حدیث کا صحیح و گہرا فہم انہیں حاصل تھا۔ مگر جن فقہاء میں روایت حدیث ہی بہت کم تھی یا ان تک حدیث نہیں پہنچی تھی۔ انہوں نے اپنی رائے یا قیاس سے استنباط مسائل کیا اور وہ اہل الرائے کہلائے۔
نوٹ: رائے سے مراد فہم و عقل نہیں کیونکہ ہر صاحب علم اس سے مالا مال ہوتا ہے اور نہ ہی رائے سے مراد ایسا قیاس ہے جس کا اعتماد سنت پر نہ ہو کیونکہ اسے بھی کوئی مسلمان اختیار نہیں کر سکتا۔ نیز رائے سے مراد قیاس و استنباط کی قدرت بھی نہیں کیونکہ امام احمد بن حنبل، امام اسحق اور امام شافعیؒ بالاتفاق اہل الرائے سے خارج ہیں حالانکہ وہ قیاس و استنباط پر اچھی طرح قادر تھے بلکہ اہل الرائے سے مراد وہ گروہ ہے جو متفق علیہ مسائل کے بعد کسی متقدم کے اصل کو لے کر تخریج مسائل کی طرف مائل ہو جن کا کام صرف نظیر کو نظیر کی طرف یا اصول میں سے کسی اصل کی طرف لوٹانا ہوتا ہے عموماً احادیث و آثار کا تتبع یہ لوگ نہیں کیا کرتے۔
٭… اسی طرح سند و متن کی روایت کا نام حدیث ہے۔ صحیح متن حدیث کا درست اور گہرا فہم، فقہ کہلاتا ہے۔ گویا فقہ کا مصدر قرآن و سنت ہیں یہ کوئی الگ موضوع نہیں۔ بعض اہل علم اسے علم الفروع، شرع یا فقہ کہہ کے محدود معنی دے دیتے ہیں حالانکہ اس میں صرف عملی احکام کا ذکر ہوتا ہے۔ عقیدہ و ایمان کے احکام اس فقہ میں شامل نہیں ہوتے۔
 

محمد نعیم یونس

خاص رکن
رکن انتظامیہ
شمولیت
اپریل 27، 2013
پیغامات
26,588
ری ایکشن اسکور
6,779
پوائنٹ
1,207
حدیث و سیرت میں فرق

محدثین اور ارباب رجال کی یہ قدیم اصطلاح ہے کہ رسول اللہﷺ کے خاص غزوات کو مغازی اور سیرت کہتے تھے۔ چنانچہ ابن اسحاق کی کتاب کو مغازی بھی کہتے ہیں اور سیرت بھی۔ حافظ ابن حجرؒ نے فتح الباری کتاب المغازی میں یہ دونوں نام ایک ہی کتاب کے لئے استعمال کئے ہیں۔ فقہ کی بھی یہی اصطلاح ہے۔ فقہ میں باب کتاب الجہاد والسیرمیں لفظ سیرت سے غزوات اور جہاد کے احکام مراد ہوتے ہیں۔
٭… محققین کہتے ہیں کہ صحیح حدیث، تمام ارباب سیر کی متفقہ بات کے مقابلہ میں قابل ترجیح ہے۔
دو واقعے بطور مثال کے یہ ہیں:
۱…غزوات میں ایک غزوئہ ذو قرد کے نام سے مشہور ہے۔ ارباب سیر متفق ہیں کہ صلح حدیبیہ سے قبل یہ واقع ہوا تھا لیکن صحیح مسلم میں سلمہ بن الاکوع کی روایت سے ظاہر ہوتا ہے کہ صلح حدیبیہ کے بعد اور خیبر سے تین دن پہلے کا واقعہ ہے۔
اس حدیث کی شرح میں علامہ قرطبیؒ نے لکھا ہے:
لاَ یَخْتَلِفُ أَھْلُ السِّیَرِأَنَّ غَزْوَۃَ ذِیْ قِرَدٍ کَانَتْ قَبْلَ الْحُدَیْبِیَۃِ فَیَکُونُ مَا وَقَعَ فِیْ حَدِیْثِ سَلِمَۃَ مِنْ وَھْمِ بَعْضِ الرُّوَاۃِ۔ اہل سیر میں سے کسی کو اس امر میں اختلاف نہیں ہے کہ غزوئہ ذی قرد حدیبیہ سے پہلے واقع ہوا تھا تو سلمہ کی حدیث میں جو مذکور ہے۔ وہ کسی راوی کا وہم ہو گا۔
حافظ ابن حجر ؒفتح الباری (ذکر غزوئہ ذی قرد) میں قرطبیؒ کے اس قول پر بحث کر کے لکھتے ہیں:
فَعَلَی ھَذَا مَا فِی الصَّحِیْحِ مِنَ التَّارِیْخِ لِغَزْوَۃِ ذِیْ قِرَدٍ أَصَحُّ مِمَّا ذَکَرَہُ أَھْلُ السِّیَرِ۔ تو اس بنا پر صحیح مسلم میں غزوئہ ذی قرد کی جو تاریخ مذکور ہے وہ مصنفین سیرت کی دی گئی تاریخ سے زیادہ صحیح ہے۔
مشہور محدث دمیاطیؒ نے سیرت پر ایک کتاب لکھی ہے جو مطبوع ہے۔ اس میں انہوں نے اکثر موقعوں پر ارباب سیر کی روایت کو ترجیح دی تھی لیکن جب زیادہ کھود کرید کی تو انہیں معلوم ہوا کہ احادیث صحیحہ کو سیرت کی روایتوں پر ترجیح حاصل ہے چنانچہ اپنی کتاب میں ترمیم کرناچاہی لیکن اس کے نسخے کثرت سے شائع ہو گئے تھے اس لئے نہ کر سکے۔ حافظ ابن حجرؒ خود دمیاطی کا قول نقل کر کے لکھتے ہیں:
وَدَلَّ ھٰذَا عَلَی أَنَّہُ کَانَ یَعْتَقِدُ الرُّجُوْعَ عَنْ کَثِیرٍ مِمَّا وَافَقَ فِیْہِ أَھْلُ السِّیَرِ وَخَالَفَ الأحَادِیْثَ الصَّحِیْحَۃَ وَأَنَّ ذَلِکَ کَانَ بِہِ قَبْلَ تَضَلُّعِہِ مِنْہَا وَلِخُرُوْجِ نُسَخِ کِتَابِہِ وَانْتِشَارِہِ لَمْ یَتَمَکَّنْ مِنْ تَغْیِیْرِہِ۔ زرقانی بر مواہب جلد سوم۔ اور اس سے یہ بات معلوم ہوتی ہے کہ وہ ( دُمیاطی) قصد کر چکے تھے کہ جن موقعوں پر انہوں نے ارباب سیر سے اتفاق کر کے احادیث صحیحہ کی مخالفت کی ہے ان سے رجوع کریں گے اور یہ کہ یہ امر ان سے مہارت فن سے قبل صادر ہوا۔ لیکن چونکہ کتاب کے نسخے شائع ہو چکے تھے۔ اس لئے وہ اپنی کتاب کی اصلاح نہ کر سکے۔
۲…ایک غزوہ، غزوئہ ذات الرقاع کے نام سے مشہور ہے اس کی نسبت اکثر ارباب سیر کا اتفاق ہے کہ جنگ خیبر سے قبل واقع ہوا تھا لیکن امام بخاریؒ نے تصریح کی ہے کہ خیبر کے بعد واقع ہوا۔ اس پر علامہ دمیاطیؒ نے بخاریؒ کی روایت سے اختلاف کیا۔ حافظ ابن حجر ؒفتح الباری میں لکھتے ہیں۔
وَأَمَّا شَیْخُہُ الدمْیَاطِیُّ فَادَّعَی غَلَطَ الْحَدِیْثِ الصَّحِیْحِ وَأَنَّ جَمِیْعَ أَھْلُ السِّیَرِ عَلَی خِلاَفِہِ (فتح الباری جزء سابع) باقی ان کے شیخ دمیاطی نے صحیح بخاری کی حدیث صحیح کو غلط کہا ہے اور تمام اہل سیر کے بارے میں لکھا ہے کہ وہ بالاتفاق اس حدیث کے خلاف ہیں۔
حافظ ابن حجرؒ نے اس قول کو نقل کر کے اس کا رد بھی کیا ہے۔
اس تقریر کا ماحصل یہ ہے کہ:
۱… سیرت ایک جداگانہ فن ہے اور بعینہ فن حدیث نہیں ہے اور اس بنا پر اس کی روایتوں میں اس درجہ کی شدت احتیاط ملحوظ نہیں رکھی جاتی جو فن صحاح ستہ کے ساتھ مخصوص ہے۔ اس کی مثال یہ ہے کہ فقہ کا فن قرآن اور حدیث ہی سے ماخوذ ہے لیکن یہ نہیں کہہ سکتے کہ یہی بعینہ قرآن یا حدیث ہے یا ان دونوں کے ہم پلہ ہے۔
۲… مغازی اور سیرت میں جس قسم کی جزئی تفصیلیں مقصود ہوتی ہیں وہ فن حدیث کے اعلی بلند معیار کے موافق نہیں مل سکتیں اس لئے ارباب سیر کو تنقید اور تحقیق کا معیار کم کرنا پڑتا ہے اس بنا پر سیرت و مغازی کا رتبہ فن حدیث سے کم رہا۔
۳… جس طرح امام بخاری و مسلم نے یہ لازم قرار دیا کہ کوئی ضعیف حدیث بھی اپنی کتاب میں درج نہ کریں گے اس طرح سیرت کی تصنیفات میں کسی نے یہ التزام نہیں کیا۔ آج بیسیوں کتابیں قد ماء سے لے کر متاخرین تک کی موجود ہیں۔ مثلاً سیرت ابن اسحاق‘ سیرت ابن ہشام‘ سیرت ابن سیدالناس‘ سیرت دمیاطی‘ حلبی‘ مواہب لدنیہ کسی میں یہ ضروری قرار نہیں دیا گیا۔
یہ ملحوظ رہے کہ کتب حدیث میں رسول اکرم ﷺ کے حالات اور اخلاق و عادات سے متعلق بکثرت واقعات مذکور ہیں جو سیرت کہلائے جا سکتے ہیں۔ تاہم تنہا ان سے ایک تاریخی تصنیف تیار نہیں ہو سکتی۔ اس کے علاوہ ان میں تاریخی ترتیب نہیں ہے یہاں ہم نے جن کتب کا ذکر کیا ہے کتب حدیث ان کے علاوہ ہیں۔ (سیرۃ النبیﷺ ج۱، ص ۸، حاشیہ)

حدیث رسول صلی اللہ علیہ وسلم - حقیقت، اعتراضات اور تجزیہ
 

جوش

مشہور رکن
شمولیت
جون 17، 2014
پیغامات
621
ری ایکشن اسکور
320
پوائنٹ
127
قرآن و حدیث میں فرق ۔ حدیث و فقہ میں فرق ، حدیث وسیرت میں فرق ۔ یہ سب اصطلاحی الفاظ ہیں اسلئے یہ تعبیر صحیح نہیں ہیں ۔۔حدیث قرآن کی شرح اور اسکے مجملات کی تفصیل ہے اسلئے قرآن و حدیث دونوں ایک ہیں ۔۔اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی سیرت کا نام حدیث ہے اسلئے حدیث و سیرت میں کوئی فرق نہیں ۔۔البتہ حدیث اور فقہ میں فرق ضرور ہے پہلا آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے اقوال و افعال اورتقریر کا نام ہے اور فقہ فقہاء کے اجتہادات کا نام ہے اسلئے دونوں میں فرق ہے ۔۔ محدثین نے جو تالیفات کی ہیں انکی اپنی اصطلاح ہے جیسے کتاب المغازی ، اور کتاب السیر ،ان کے اپنے مقاصد ہیں اور انہیں کے مطابق احادیث و واقعات لائے ہیں ۔ واللہ اعلم بالصواب
 
Top