• الحمدللہ محدث فورم کو نئےسافٹ ویئر زین فورو 2.1.7 پر کامیابی سے منتقل کر لیا گیا ہے۔ شکایات و مسائل درج کروانے کے لئے یہاں کلک کریں۔
  • آئیے! مجلس التحقیق الاسلامی کے زیر اہتمام جاری عظیم الشان دعوتی واصلاحی ویب سائٹس کے ساتھ ماہانہ تعاون کریں اور انٹر نیٹ کے میدان میں اسلام کے عالمگیر پیغام کو عام کرنے میں محدث ٹیم کے دست وبازو بنیں ۔تفصیلات جاننے کے لئے یہاں کلک کریں۔

علم اعجاز قرآن

محمد نعیم یونس

خاص رکن
رکن انتظامیہ
شمولیت
اپریل 27، 2013
پیغامات
26,588
ری ایکشن اسکور
6,779
پوائنٹ
1,207
باب۔۱۲
علم اعجاز قرآن

معجزہ، جادو اور کرامت
بعض لوگوں نے معجزہ کا انکار کرتے ہوئے اسے جادو کا نام دے دیا۔ جیسے فرعون اور اس کے درباریوں نے موسیٰ علیہ السلام کے معجزات کے بارے میں کہا۔جبکہ کچھ نے کسی نیک شخص پر ہونے والی کرامات میں غلو کرتے ہوئے اسے بھی معجزے کا درجہ دے دیا۔ جبکہ معجزہ کی چند شرطیں ہیں اور معجزہ ، جادو اور کرامت میں بہت واضح فرق ہے۔
 

محمد نعیم یونس

خاص رکن
رکن انتظامیہ
شمولیت
اپریل 27، 2013
پیغامات
26,588
ری ایکشن اسکور
6,779
پوائنٹ
1,207
معجزہ اور جادو

-- جادو صرف نگاہوں کا دھوکہ ہوتاہے۔{یُخَیَّلُ اِلَیْہِ مِنْ سِحْرِہِمْ اَنَّہَا تَسْعٰی}(طہ: ۶۶)
ان کے جادو کی وجہ سے اسے یہ خیال لگا کہ وہ دوڑ رہا ہے۔
{سَحَرُوْٓا اَعْیُنَ النَّاسِ وَاسْتَرْہَبُوْہُمْ وَجَآئُ وْا بِسِحْرٍ عَظِیْمٍ ۔۔} (الأعراف:۱۱۶)
انہوں نے لوگوں کی آنکھوں پر جادو کردیا اور انہیں خوفزدہ کردیا اور وہ ایک بہت بڑا جادو بنا کر لائے۔اسے تسلیم کرنا کفر ہے۔اور ایسے جادوگر بھی کافر ہیں۔

معجزہ دعوائے رسالت کے بعد ہوتا ہے جو نگاہوں کا دھوکہ نہیں بلکہ خارق العادۃ امر کا نام ہے خواہ وہ کلام ہو جیسے قرآن کریم اور کنکریوں کی تسبیح یا کھجور کی تنے کا بلکنا اور ہدہد کا کلام کرنا۔یا وہ کوئی فعل ہو جیسے: چاند کا شق ہونا، انگلیوں سے پانی کا چشمے کی طرح پھوٹنا،دو افراد کے کھانے میں اتنی برکت کا ہوجانا کہ اصحاب خندق سبھی سیر ہوکر کھالیں۔ یا شے کا اپنے فعل کو ترک کردینا جیسے: آگ کا ابراہیم علیہ السلام پر ٹھنڈا ہونا۔اور موسیٰ علیہ السلام اور بنو اسرائیل کا سمند میں غرق نہ ہونا۔ وہ ایک حقیقت ہوتا ہے اور جسے نہ صرف آنکھیں دیکھتی ہیں بلکہ لوگ اس سے مستفید ہوتے ہیں۔

-- رسول کے فعل میں یہ معجزہ نہیں ہوتا بلکہ اس جیسا پیش کرنا دوسروں کے لئے ممکن نہیں ہوتا اس لئے یہ معجزہ ہوتا ہے۔

-- امر خارق العادۃ اللہ تعالی کی طرف سے ہو۔ {قل إنما الآیت عند اللہ}، {وما کان لنا أن نأتیکم بسلطن إلا بإذن اللہ}۔
جب کفار نے آپ سے کہا:
{ائت بقرآن غیر ہذا أو بدلہ}
آپ کو فرمایا گیا کہ یہ جواب دیجئے۔
{ما یکون لی أن أبدلہ من تلقائ نفسی إن أتبع إلا ما یوحی إلیہ}۔

-- جادو کا اثروقتی ہوتاہے جبکہ معجزہ دائمی ہوتاہے۔ جیسے قرآن مجید، ایک دائمی معجزہ ہے۔

-- معجزہchallenging ہوتا ہے جس کا مقابلہ کرناممکن نہیں ہوتا۔اس کے مثل نہیں لایا جاسکتا بلکہ ہر اعتبار سے یہ معجزہ محفوظ رہتا ہے۔جب کہ جادو کا توڑ مختلف طریقوں سے ہوتا ہے۔

-- معجزہ ، کو رسول اپنی رسالت کے سچے ہونے کی قطعی دلیل بناتا ہے کہ وہ اپنے دعوی رسالت میں سچا ہے اور یہ بھی کہ اللہ تعالی کی طرف سے بھیجا گیا ہے۔ اس لئے اس کا انکار کرنا کفر ہے۔

-- معجزہ دکھانا رسول یا نبی کے اختیار میں نہیں ہوتا ، اللہ تعالیٰ اگر چاہیں تو یہ رونما ہوسکتا ہے ورنہ نہیں۔موسیٰ علیہ السلام اپنے عصا سے معجزہ خود پیش نہیں کرتے تھے بلکہ اللہ تعالیٰ کا حکم آتا تو ان کا عصا اپنا کام دکھاتا ۔

-- جیسے رسول معجزہ کا دعوی کرے ویسے ہی واقع ہو۔اس کے دعوے کے خلاف ظاہر نہ ہو۔ورنہ وہ معجزہ نہیں۔جیسا کہ مرزا قادیانی کے دعوے غلط ثابت ہوئے۔
 

محمد نعیم یونس

خاص رکن
رکن انتظامیہ
شمولیت
اپریل 27، 2013
پیغامات
26,588
ری ایکشن اسکور
6,779
پوائنٹ
1,207
معجزہ اور کرامت

-- خرق عادت کے طور پر ہو جانے والا کوئی کام جو کسی غیرنبی سے سرزد ہو۔ اگروہ نیک باعمل مسلمان ہے تو اسے کرامت کہیں گے ورنہ یہ شعبدہ بازی ہوگی۔
-- معجزہ صرف پیغمبروں کو دیا جاتاہے جبکہ کرامت صالحین میں سے کسی کو بھی دی جا سکتی ہے۔
-- معجزہ ظاہر کرنے والی چیز ہوتاہے جبکہ کرامت کو چھپا کر رکھا جاتاہے۔
-- معجزے پر ایمان لانا ضروری ہوتا ہے جبکہ کرامت پر ایمان لانا ضروری نہیں ہوتا۔
-- معجزہ پیغمبروں کو تبلیغ میں بطور مددگار دیاجاتا ہے جبکہ کرامت انفرادی نیکی کی علامت ہوسکتی ہے۔
 

محمد نعیم یونس

خاص رکن
رکن انتظامیہ
شمولیت
اپریل 27، 2013
پیغامات
26,588
ری ایکشن اسکور
6,779
پوائنٹ
1,207
استدراج

کچھ بزرگ علی الاعلان ہتھیلی پر سرسوں جما کر دکھا دیتے ہیں ۔ ادھر ہاتھ بڑھایا اور اُدھر انگور کا خوشہ ہاتھ میں آگیاجسے وہ دعویٰ بزرگی کے لئے پیش کرتے ہیں۔ یہ شیطانی عمل ہوتا ہے جسے استدراج یا شعبدہ بازی کہتے ہیں ایسے بزرگ کا تعلق رجال غیب یعنی جنوں سے ہوتا ہے۔ بعض دفعہ مکرو حیلہ سے بھی کام لے کر یہ شعبدے دکھائے جاتے ہیں۔ یہ سب کسبی چیزیں ہوا کرتی ہیں جو ہندو جوگیوں ، عیسائی ویہودی شعبدہ بازوں میں بھی عام نظر آتی ہیں مگر معجزہ اور کرامت وھبی ہوتی ہیں۔اسلام اسے کھلم کھلا رد کرتا ہے۔ ابن الصیاد نے ایسا دعوی کیا آپ ﷺ نے اس سے پوچھا: اچھا بتاؤ میرے دل میں کیا ہے؟ اس نے کہا: دخ دخ۔مگر آگے کچھ نہ کہہ سکا۔ آپ ﷺ نے اس کی ناکامی پر اسے کوسا اور خوب ڈانٹ ڈپٹ پلائی۔
 

محمد نعیم یونس

خاص رکن
رکن انتظامیہ
شمولیت
اپریل 27، 2013
پیغامات
26,588
ری ایکشن اسکور
6,779
پوائنٹ
1,207
نبوت کی علامات:
انبیاء کرام کے لئے نبوت کی دو علامات ہوا کرتی ہیں۔ ارہاص اور معجزہ۔

إرہاص:
نبوت سے کچھ عرصہ قبل، رسول سچے خواب دیکھتا ہے جو دوسرے دن روز روشن کی طرح حقیقت کا روپ دھارے اسے نظر آتے ہیں۔ اسے ارہاص کہا جاتا ہے جیسے رسول اکرم ﷺ نبوت سے پہلے سچے خواب دیکھا کرتے تھے۔امام ابن حجر رحمہ اللہ سیدنا ابن مسعود رضی اللہ عنہ کا قول نقل فرماتے ہیں:
إِنَّ أَوَّلَ مَا یُؤْتٰی بِہِ الأَنْبِیَائُ فِی الْمَنَامِ حَتّٰی تَہْدَأُ قَلَوْبُہُمْ، ثُمَّ یَنْزِلُ الْوَحْیُ بَعْدُ فِی الْیَقْظَۃِ۔(فتح الباری کتاب بدء الوحی۱/۱۲)
انبیاء کرام کو پہلے پہل (سچے) خواب عطا کئے جاتے ہیں حتی کہ ان کے دل پرسکون ہوجاتے ہیں۔ پھر انہیں حالت بیداری میں وحی کی جاتی ہے۔

معجزہ اور امتحان:
یہ دوسری علامت ہے جو نبوت کی دلیل ہوتی ہے ۔اسکی تفصیل درج ذیل ہے۔

اختیار الہی:
معجزہ میں تین چیزیں ہر اعتبار سے اللہ تعالیٰ کے اختیار میں ہوتی ہیں:

علم:
یعنی اللہ تعالی کے ہی علم میں ہوتا ہے کہ معجزہ کیا ہو اور کیسا ہو۔ اس کا علم نبی کو نہیں ہوتا۔

قدرت:
معجزہ کا ظہور اس کی قدرت واختیار سے ہوتا ہے نہ کہ نبی یا رسول کی مرضی یا چاہت سے۔

غنا:
وہ چاہے تو دکھائے اور چاہے تو قوم کے مطالبے اور نبی کی خواہش کے باوجود نہ دکھاـئے۔ نیک باعمل مسلمان سے صادر ہونے والی کرامت میں بھی اختیار اللہ تعالی کے پاس ہوتا ہے۔
 

محمد نعیم یونس

خاص رکن
رکن انتظامیہ
شمولیت
اپریل 27، 2013
پیغامات
26,588
ری ایکشن اسکور
6,779
پوائنٹ
1,207
وہ اپنی قدرت کاملہ سے اگر آگ کو جلانے والی بناسکتا ہے تو اسے حکم دے کر ٹھنڈا بھی کرسکتا ہے۔جس نے چاند کو خود بنایا وہی اسے دو ٹکڑے بھی کرسکتا ہے۔جس نے زہر میں ماردینے کی خاصیت رکھی ہے وہی اس سے یہ خاصیت چھین بھی سکتا ہے۔جس نے اژدہے کو عدم سے پیدا کیا وہی لاٹھی کو اژدہے میں تبدیل بھی کرسکتا ہے۔ان کی غلط تأویلات نہیں کی جاسکتیں کہ معجزہ خارق العادۃ نہ رہے۔اور یہ کہنا کہ آدمی کے یقین اور اعتقاد پر اس کا انحصار ہوتا ہے جیسا کہ ایک جوان کنواری لڑکی جس کی شادی نہیں ہوئی اور نہ ہی کسی مرد نے اسے چھوا مگر وہ یہ سوچ لے کہ میں حاملہ ہوں تو وہ حاملہ ہوجاتی ہے!!!جیسے سیدہ مریم علیہا السلام ہوگئی تھیں۔یہ مفہوم انہوں نے بتایا تو سہی مگر خارق سے اخرق کی طرف نکل گئے۔اسی طرح فرشتہ، جن ، شیطان اور جنت وجہنم کی تاویلات انہوں نے کی ہیں۔جو عقل پر پردہ ہے۔ اور اللہ تعالی کی قدرت تسلیم نہ کرنے کا اعلان ہے۔

ماضی کے واقعات یا مستقبل میں ہونے والے واقعات کی اطلاع اور علم جیسے عیسیٰ علیہ السلام کا اپنی قوم کو یہ بتانا کہ تم کیا کھاتے ہو اور کیا گھروں میں جمع کرتے ہو، اسی طرح ہمارے رسول کا سابقہ امتوں کے حالات کا بتانا یا فتنوں اور قیامت کی نشانیوں سے متعلق پیشین گوئیاں کرنا۔ یہ سب علم سے تعلق رکھتے ہیں۔

مریم علیہا السلام کا فرشتے کی پھونک سے حاملہ ہونا ، لاٹھی کا اژدہے میں بدل جانا، برص وجذام کے مریض کا تندرست ہوجانا، مردے کا زندہ کرنا وغیرہ یہ سب اللہ سبحانہ وتعالی کی قدرت و اختیار سے تعلق رکھتے ہیں۔وہ اپنے محترم رسولوں کو لوگوں کے شر سے بچاتاہے۔ انہیں ہمت وطاقت دیتا ہے کہ کئی کئی دن بغیر کھائے پئے وصال کا روزہ رکھیں، پاس کنویں میں پڑے بیٹے کی خوشبو باپ کو نہیں سونگھاتا مگر چالیس سال بعد سینکڑوں میل دور رہائش پذیر بیٹے کی خوشبو بوڑھے والد کو پہنچ جاتی ہے۔ واقعہ افک میں آپ ﷺ کو ایک ماہ پریشان رکھتا ہے مگر اس میں امت کے لئے کتنی خیر ہے وہ بعد میں سجھاتا ہے۔یہ اس کی شان غناہے۔اس لئے کسی نبی کے پاس معجزہ پیش کرنے کا اختیار نہیں ہوا کرتا۔

حق کو ثابت کرنے کے لئے اللہ تعالیٰ رسو ل کو معجزہ اس وقت عطا کرتا ہے جب باطل خوب زوروں پر ہو۔ جیسے لاٹھی کا سانپ بن جانا، جذام اور کوڑھ کے مریض کو مسح سے درست کردینا، پہاڑ کے اندر سے اونٹنی کا پیدا کرنا اور وغیرہ ایسے واقعات تھے جن پر ایمان لانا فرض تھا چنانچہ جنہوں نے نہیں مانا انہیں شدید ترین آزمائشوں گذرنا پڑا۔ غیر نبی سے یہ کبھی صادر نہیں ہوتے۔ نبی بھی ان واقعات کی نسبت اللہ تعالیٰ کی طرف کرتا ہے مگر بہت کم لوگ ایمان لاتے ہیں۔
 

محمد نعیم یونس

خاص رکن
رکن انتظامیہ
شمولیت
اپریل 27، 2013
پیغامات
26,588
ری ایکشن اسکور
6,779
پوائنٹ
1,207
دلائل اعجاز

یہ موضوع تو قرآن پاک نے چیلنج کے طور پر پیش کیا جسے سبھی نے تسلیم بھی کیا مگر معجزہ قرآن کی ایک نرالی وانحرافی تعریف نے علماء کومجبور کیا کہ ان خیالات کا جواب دیا جائے۔یہ دو قسم کے انحرافی خیالات تھے:

٭…قرآن کریم کے مقابلہ کے باوجود اللہ تعالی نے عربوں کی صلاحیت اور خیال کو دوسرا رخ دے دیا تھا۔ورنہ وہ اس کا مقابل لانے کے اہل تھے۔یہ صاحب ابو اسحاق ابراہیم بن سیار النَّظّام(م: ۲۳۱ھ) ہے جو معتزلی امام ہیں۔ وہ اسے صَرفَہ کا نام دیتے ہیں۔ان کے اس خیال کو ماننے والے نظاّمی کہلاتے ہیں۔

دوسرے صاحب رافضی ہیں اور مرتضی کہلاتے ہیں۔انہوں نے صَرفَہ کی تعریف یہ کردی کہ اللہ تعالی نے عربوں سے وہ علوم سلب کرلئے جو قرآن کریم کا مقابلہ کرنے میں معاون ہوسکتے تھے۔اس لئے ان میں استطاعت ہی نہیں تھی۔

یہ دونوں نظریات انتہائی بودے اور قرآنی آیات کے علم سے بے نوری کی علامت ہیں۔قرآن جنہیں بار بار یہ چیلنج کررہا ہو کہ اس جیسا ، یا ایک سورت یا ایک آیت ہی بناکے لاؤ اور سبھی اپنے وسائل سمیت جمع ہوجاؤ تب بھی تم نہیں لاسکتے اور نہ لاسکوگے۔جو دعوت رسول کی راہ میں رکاوٹ بنیں ، اٹھتے بیٹھتے اور سوتے جاگتے جن کے خون کھولتے ہوں وہ ہر کام انتہائی چالاکی وعیاری سے کرنا جانتے ہوں، اپنی خطابت کے جوہر جگہ جگہ دکھاتے پھرتے ہوں، شاعری جن کی گھٹی میں پڑی ہو اور قرآن کریم کو کبھی جادو کبھی کلام کاہن اور کبھی شعر کہیں جو یہودیوں سے آپ ﷺ کے رسول ہونے کی تصدیق کرائیں یا ان سے قرآن کا جواب پوچھیں۔ کیا انہی کو اللہ تعالی نے اس کے مقابلے کے لئے پھیرنا تھا یا ان کی صلاحیتیں سلب کرنا تھیں یا ان امیوں کو ان کے گہرے علوم سے محروم کرنا تھا۔ ان دونوں نظریات میں جو نرالا پن ہے محسوس ہوتا ہے کہ عقل مندوں کی عقل کام کرنا چھوڑ گئی ہے۔ورنہ یہ سب تک بندیاں ہیں جن کا علم سے کوئی تعلق نہیں۔
 

محمد نعیم یونس

خاص رکن
رکن انتظامیہ
شمولیت
اپریل 27، 2013
پیغامات
26,588
ری ایکشن اسکور
6,779
پوائنٹ
1,207
بہرحال علماء کو ان خیالات کا جواب دینے اور ان سے متأثرین کو صحیح راہ پر لانے کے لئے ان دلائل ، وجوہات یا اسباب کو جمع کیا گیا جن کی بنا پر قرآن پاک کو ایک معجزہ قرار دیا گیا ، وجوہ اعجاز یا دلائل کہلاتی ہیں۔ ان میں سے چند اہم درج ذیل ہیں۔

الفاظ کا انتخاب:
قرآن کریم میں جو الفاظ استعمال کئے گئے وہ معجزانہ شان کے حامل ہیں۔ یہ الفاظ عبارت کے سیاق، معنی کی ادائیگی اور اسلوب کے اعتبار سے انتہائی موزوں ترین ہیں۔ عربی زبان ایک انتہا ئی وسیع زبان ہے۔ اس میں ایک معنی کے لئے معمولی فرق والے کئی الفاظ استعمال کئے جاتے ہیں۔ قرآن ان الفاظ میں سے ان موزوں ترین الفاظ کا چناؤ کرتا ہے۔ جو اس کے مفہوم کو پوری طرح واضح کر سکیں۔

چند مثالیں:

۱۔ ریاح(جمع) کا لفظ قرآن مجید میں خیر ورحمت کے لئے استعمال ہوا ہے اور ریح(واحد) کا لفظ خرابی اور سزا کے معنی میں۔مثلاً خیر ورحمت کے لئے : {وَہُوَ الَّذِیْ یُرْسِلُ الرِّیٰحَ بُشْرًامبَیْنَ یَدَیْ رَحْمَتِہ۔۔}(الأعراف: ۵۷)۔ اسی طرح دیکھئے الفرقان: ۴۸، اور النمل : ۶۳۔و الروم: ۴۶ ۔

تباہی اور سزا کے لئے{کَمَثَلِ رِیْحٍٍ فِیْہَا صِرٌّ اَصَابَتْ حَرْثَ قَوْمٍ ظَلَمُوْآ اَنْفُسَہُمْ فَاَہْلَکَتْہُ۔۔} (آل عمران:۱۱۷) { رِیْحٌ فِیْہَا عَذَابٌ اَلِیْمٌ } (الأحقاف: ۲۴)، { فَاُہْلِکُوْا بِرِیْحٍ صَرْصَرٍ عَاتِیَۃٍ } (الحاقۃ: ۶)۔

۲۔ اسی طرح مطر کا لفظ قرآن مجید میں انتقام کی جگہ پر استعمال ہوا ہے اور رحمت وخیر کے لئے غیث کا ۔

۳۔ عیون اور أعین دونوں عین کی جمع ہیں۔ عیون کا لفظ چشمے کے لئے استعمال ہوا ہے اور دیکھنے والی آنکھ کے لئے أعین کا۔

۴۔ وصّی اور أوصی کے الفاظ بھی مستعمل ہوئے ہیں۔وصّی تشدید کے ساتھ دینی اور معنوی معاملات کے لئے استعمال کیاگیا ہے اور أوصی مادی معاملات کے لئے۔

۵۔ لفظ رسالۃکو صالح علیہ السلام کے لئے واحد استعمال کیا گیا (الأعراف: ۷۹) اور شعیب علیہ السلام کے لئے رسالات (جمع) فرمایا۔(الأعراف: ۹۳) کیوں؟ ۔ غور کریں تو معلوم ہوتا ہے کہ صالح علیہ السلام ایک قوم کی طرف مبعوث ہوئے تھے اور شعیب علیہ السلام دو قوموں کی طرف۔ ایک مدین اور دوسری أصحاب الأیکۃ، (الأعراف: ۸۵، الشعراء: ۱۷۶۔۱۷۷) مدین ، أصحاب الأیکۃ،سے جدا ایک مقام ہے۔ اسی لئے مدین کو جب ذکر فرمایا تو{وَاِلٰی مَدْیَنَ اَخَاہُمْ شُعَیْبًا}۔۔ (الأعراف: ۸۵) ہود: ۸۴،المؤمنون: ۳۶۔ مگر اصحاب الئیکۃ کے ذکر کے وقت أخاہم کا ذکر نہیں فرمایا جب کہ باقی انبیاء کرام کو أخوہم کہہ کر یادفرمایا۔ دیکھئے سورہ الشعراء۔ مگر أصحاب الأیکۃ، شعیب علیہ السلام کی قوم نہیں تھی اس لئے اخوہم کا لفظ وہاں ارشاد نہیں فرمایا۔ نیز صالح ؑوشعیب ؑکے تبلیغی اہداف کو اگر دیکھیں تو شعیب علیہ السلام کی ذمہ داریاں، اوامر ونواہی زیادہ ہیں۔ دیکھئے الشعرا ء: ۱۵۰تا ۱۵۳تک اور ۱۷۶تا ۱۸۵تک۔ اس لئے لفظ رسالت صالح علیہ السلام کے لئے واحد ہی درست ہے اور شعیب علیہ السلام کے لئے رسالات جمع ہی زیادہ بہتر ہے۔ ایک کے حق میں ایک رسالت ہے اور دوسرے کے حق میں رسالات ہیں۔

۶۔ زمانہ جاہلیت میں موت کے مفہوم کو ادا کرنے کے لئے کم وبیش چوبیس الفاظ موجود تھے۔ مثلاً: موت، ہلاک، فنا، شعوب اور حمام وغیرہ۔ ان میں سے اکثر الفاظ سے اہل عرب کا یہ نظریہ جھلکتا تھا کہ موت کے ذریعے انسان ہمیشہ کے لئے فنا ہو جاتا ہے او ر اس کا دوبارہ زندہ ہونا ممکن نہیں۔ لیکن قرآن نے ان تمام الفاظ کو چھوڑ کر ایک انتہائی جامع، مختصر اور فصیح لفظ اختیار کیا۔ جو موت کی صحیح حقیقت کو مکمل طور پر واضح کرتا ہے۔ یہ لفظ ہے "تَوَفّٰی"جس کے لغوی معنی ہیں؛ کسی چیز کو پورا پورا وصول کر لینا۔

۷ ۔ قرآن مجید نے جب اپنی فصاحت و بلاغت کا دعویٰ کیا تو عربوں نے انتہائی غوروفکر کے بعد تین الفاظ پر اعتراض کیا کہ وہ عربی محاورے کے خلاف ہیں۔ یہ الفاظ کبار، ھزوا اور عجاب تھے۔ معاملہ نبی کریم ﷺ کے سامنے پیش ہوا۔ آپ ﷺ نے معترضین کے مشورے سے ایک بوڑھے شخص کو منصف بنایا۔ جب وہ شخص آیا اور بیٹھنے لگا تو آپ ﷺ نے فرمایا: ادھر بیٹھ جائیں ۔ وہ بیٹھنے لگا تو آپ ﷺ نے فرمایا: ادھر بیٹھ جائیں۔ جب وہ شخص ادھر بیٹھنے لگا تو پھر اشارہ کر کے فرمایا: ادھر بیٹھ جائیں۔ اس پر اس شخص کو غصہ آ گیا اور اس نے کہا: "أَنَا شَیْخٌ کُبَّارٌ، أَتَتَّخِذُنِيْ ھُزُوًا، ھَذَا شَيئٌ عُجَابٌ"۔ یوں اس نے ایک ہی جملے میں تینوں الفاظ استعمال کر دیئے۔ اس پر سب خاموش ہو گئے۔
 

محمد نعیم یونس

خاص رکن
رکن انتظامیہ
شمولیت
اپریل 27، 2013
پیغامات
26,588
ری ایکشن اسکور
6,779
پوائنٹ
1,207
 اصطلاحات

قرآن مجید نے عربی زبان کے مروجہ الفاظ کو اصطلاح کا درجہ دیا جو معروف اور نئے مفہوم میں مستعمل ہونے لگے۔ مثلاً: صلٰوۃ، صوم، زکوٰۃ، کفر، شیطان، نفاق وغیرہ۔

ترکیب کلام

قرآن کی اکائی آیت ہے۔ آیت کا مطلب نشانی ہے۔ یعنی ہر آیت اللہ تعالیٰ کے علم کامل کی نشانی ہے۔ قرآن مجید کا اعجاز آیتوں کی ترکیب سے بھی ظاہر ہوتا ہے۔ یہ ترکیب توقیفی ہے۔ قرآن کی آیات اختصار، جامعیت اور معنویت کا شاہکار ہیں۔نہ صرف اپنے بیان کی پاکیزگی کے لحاظ سے بلکہ اپنی وسعت ، گہرائی اور بلندی کے اعتبار سے بھی اپنی مثال آپ ہے۔اس کے کلمات میں سنجیدگی اور خوبصورتی پائی جاتی ہے۔ اور ہر قسم کے بیانات مناسب ہیں۔ اس آیت میں مندرجہ ذیل خصوصیت قابل ذکر ہے۔ مثلاً: خیالات کی جامعیت ہے جو ابتداء ہی سے واضح ہے جن کے سمجھنے کا دارومدار آیت کے اختتام پر نہیں بلکہ بسا اوقات انتہائے سورۃ تک چلا جاتا ہے۔اور اس کا ایک ایک لفظ اپنے مطالب کی طرف کھینچتا چلا جاتا ہے۔پھر یہ خیالات ، الفاظ کے ساتھ پوری مطابقت کرتے ہیں۔ اس میں نہ کمی ہے نہ زیادتی۔
{وَقَالُوْا لَوْلَآ اُنْزِلَ عَلَیْہِ اٰیٰتٌ مِّنْ رَّبِّہٖط قُلْ اِنَّمَا الْاٰیٰتُ عِنْدَ اللّٰہِط وَاِنَّمَآ اَنَا نَذِیْرٌ مُّبِیْنٌ، اَوَلَمْ یَکْفِہِمْ اَنَّآ اَنْزَلْنَا عَلَیْکَ الْکِتٰبَ یُتْلٰی عَلَیْہِمْط اِنَّ فِیْ ذٰلِکَ لَرَحْمَۃً وَّذِکْرٰی لِقَوْمٍ یُّؤْمِنُوْنَں} (العنکبوت:۵۰،۵۱)
کہتے ہیں کہ اس پر معجزہ کیوں نہیں نازل ہوتا۔ ان سے کہو۔ معجزات تو اللہ کے پاس ہیں اور میں تو ایک کھلم کھلا متنبہ کرنے والا ہوں۔ کیا انہیں یہ کافی نہیں کہ ہم نے آپ پر کتاب کو اتارا ہے جو ان پر تلاوت کی جاتی ہے ۔ بے شک اس عظیم کتاب میں بھی ایمان دار لوگوں کے لئے یقیناً ایک رحمت اور نصیحت ہے۔

آیات کی ساخت میں حسن ہے اور غیر موزوں بندشوں کا کہیں وجود نہیں۔پھر ان میں مشابہت بھی ہے۔ مثلاً:

--- { لَا تَسْمَعُوْا لِہٰذَا الْقُرْاٰنِ وَالْغَوْا فِیْہِ لَعَلَّکُمْ تَغْلِبُوْنَ } (فصلت:۲۶)کلام اللہ میں اتنی تأثیر ہے تو قرآنی تعلیم کے خلاف کفار کا یہ منصوبہ ہے کہ اسے نہ سنا جائے اورنہ سنوایا جائے۔

--- { لَوْ اَنْزَلْنَا ہٰذَا الْقُرْاٰنَ عَلٰی جَبَلٍ لَّرَاَیْتَہٗ خَاشِعًا مُّتَصَدِّعًا مِّنْ خَشْیَۃِ اللّٰہِ}(الحشر:۲۱) اگر پہاڑ جیسی بے جان وجامد چیز اسے سن کر ریزہ ریزہ ہوسکتی ہے تو حضرت انسان جو دل ودماغ رکھتا ہے وہ اندر سے کیوں نہیں ٹوٹ پھوٹ سکتا ؟ اسی لئے تواس کی سوچ، عمل اور تمام زاویے بدل جاتے ہیں۔

--- { اَللّٰہُ نَزَّلَ اَحْسَنَ الْحَدِیْث کِتٰبًا مُّتَشَابِہًا مَّثَانِیَ تَقْشَعِرُّ مِنْہُ جُلُوْدُ الَّذِیْنَ یَخْشَوْنَ رَبَّہُمْج ثُمَّ تَلِیْنُ جُلُوْدُہُمْ وَقُلُوْبُہُمْ اِلٰی ذِکْرِ اللّٰہ}(الزمر:۲۳) یہ کلام بندے کو رب کے حضور جھکا کر چھوٹا بنادیتا ہے۔ اس کا انگ انگ اللہ کا حکم سننے اور ماننے کے لئے ہمہ وقت تیار ہوجاتا ہے۔

--- { اَلَیْسَ الصُّبْحُ بِقَرِیْب}(ھود:۸۱) عذاب کا کوڑا برسانے کا فیصلہ اگر اللہ کرلے تو پھر اس کے آنے میں کون سی دیر؟۔

--- {طُوْبٰی لَہُمْ وَحُسْنُ مَاٰب} (الرعد:۲۹)دنیا میں جیتے جی اگر ہدف آخرت ہو تو ہوش کی زندگی گذارنے والوں کو کیوں اللہ تعالی کی جناب اور فرشتوں سے ایسی مبارکباد نہ ملے۔

---{وَتَقُوْلُ ہَلْ مِنْ مَّزِیْدٍ } (ق:۳۰)جہنم کی وسعت اور اس کا جوش انتقام ظالموں کو لرزا دینے والا ہوگا اور مزید انسانی ایندھن مانگے گی اس لئے کہ یہ تیار بھی تو انہیں کے لئے کی گئی ہے جو رب کے نافرمان تھے اور اسے جھٹلاتے تھے۔
 

محمد نعیم یونس

خاص رکن
رکن انتظامیہ
شمولیت
اپریل 27، 2013
پیغامات
26,588
ری ایکشن اسکور
6,779
پوائنٹ
1,207
اسلوب بیان:
قرآن پاک کا انداز عام کتاب جیسا نہیں ہے۔ اس میں ابواب ہیں اور نہ ہی کسی ایک موضوع پر بحث ہے۔ اور نہ ہی یہ مقالات کا مجموعہ ہے۔ بلکہ ایک ایسا منفرد خطیبانہ انداز ہے کہ ایک بات کے بیچ میں دوسری بات شروع ہو جاتی ہے اور مخاطب بدل جاتے ہیں۔کسی بھی اچھے خطبہ میں ابتدائیہ جاندارہوتاہے اور اختتامیہ بھی ،یہ دونوں خوبیاں ہرسورت کے آغازاور اس کے اختتام میں دیکھی جاسکتی ہیں۔

عربوں کے طرز کلام وخطاب میں دو چیزیں بکثرت رائج تھیں؛ نثر اور نظم۔ نثرمسبحع یا غیر مسبحع ہوتی تھی جوگفتگو اور خطابت میں عام تھی،ہر ایک اس کا ما ہر تھا۔ پھر نظم اس کی بھی بے شمار اقسام تھیں۔ شاعری اس دور کا بلند پایہ مقدس فن تھا ۔ہر قبیلہ کو ایک اچھے شاعر کی ضرورت ہوتی تھی تاکہ شاعر کے موزوں اشعار اس کے قبیلے کا نام روشن کرسکیں۔قرآن کریم نثرہے یا نظم؟ دونوں میں کسی ایک کے ساتھ بھی مشابہت نہیں رکھتا۔ اس لئے کہ قرآن پاک نہ تو شاعری ہے اور نہ ہی نثر۔ لیکن اس کے باوجود اس میں شاعری کا حسن بھی ہے اور نثر کی سنجیدگی بھی۔ بیان میں تشبیہات، استعارات، کنایات، تمثیلات اور وہ تمام دیگر خصوصیات جو کسی کلام میں ہو سکتی ہیں سب موجود ہیں۔ یہ ایک نیا اسلوب تھا جو قرآن نے متعارف کرایا اور جو عربوں کے بس میں نہ تھا۔
 
Top