• الحمدللہ محدث فورم کو نئےسافٹ ویئر زین فورو 2.1.7 پر کامیابی سے منتقل کر لیا گیا ہے۔ شکایات و مسائل درج کروانے کے لئے یہاں کلک کریں۔
  • آئیے! مجلس التحقیق الاسلامی کے زیر اہتمام جاری عظیم الشان دعوتی واصلاحی ویب سائٹس کے ساتھ ماہانہ تعاون کریں اور انٹر نیٹ کے میدان میں اسلام کے عالمگیر پیغام کو عام کرنے میں محدث ٹیم کے دست وبازو بنیں ۔تفصیلات جاننے کے لئے یہاں کلک کریں۔

شیعوں کی اپنی کتاب میں خانہ کعبہ کی واضح گستاخی!!!

شمولیت
اگست 11، 2013
پیغامات
17,117
ری ایکشن اسکور
6,823
پوائنٹ
1,069
شیعوں کی اپنی کتاب میں خانہ کعبہ کی واضح گستاخی!!!

سطح ارض پر "بیت اللہ" پہلی مبارک عبادت گاہ ہے جو انسانوں کے لیے قائم کی گئی ہے اور جسے تمام جہاں والوں کے لیے مرکز ہدایت بنایا گیا۔حضرت آدم (علیہ السلام) سے لے کر رسول اکرم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) تک متعدد انبیاء نے ضرورت پڑنے پر کعبة اللہ کی تعمیر میں حصہ لیا۔کتنی متبرک و مقدس ہے یہ جگہ کہ اللہ کے جلیل القدر انبیاء نے اس کا طواف کیا اور کتنے مبارک تھے وہ لمحات کہ خاتم الانبیاء (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے اللہ کے گھر کا طواف کیا اور حجر اسود کو بوسہ دیا۔ ہزاروں صحابہ کرام (رضوان اللہ عنہم اجمعین) آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے جلو میں تھے۔یہ سلسلہ آج بھی جاری ہے ۔۔۔۔ دل شوق و محبت کے جذبات سے معمور اور آنکھیں بیت اللہ کی زیارت کے لیے بےتاب ہیں۔

سب سے پہلا مکان جس کو اللہ نے اطاعت و عبادت کےلئے مقرر کیا ۔نماز کا قبلہ و حج طواف کا موضع بتایا ۔ جس میں نیکیوں کے ثواب زیادہ ہوتے ہیں وہ کعبہ معظمہ ہے جو شہر مکہ معظمہ میں واقع ہے.اب کعبہ اللہ کی عظمت بھی قرآن سے دیکھئے

سورہ آل عمران آیت 96

إِنَّ أَوَّلَ بَيْتٍ وُضِعَ لِلنَّاسِ لَلَّذِي بِبَكَّةَ مُبَارَكًا وَهُدًى لِلْعَالَمِينَ

ترجمہ :بے شک پہلا گھر جو لوگوں کے لئے (بغرض عبادت) بنایا گیا وہی ہے جو مکہ میں ہے، بابرکت ہے اور جہانوں کے لئے موجب ہدایت ہے۔


جَعَلَ اللَّهُ الْكَعْبَةَ الْبَيْتَ الْحَرَامَ قِيَامًا لِلنَّاسِ
المائدہ 96

ترجمہ :اللہ نے لوگوں کےکے قیام کے واسطے کعبہ کو حرمت والا گھر بنایا


یہی وہ عز و شرف والا گھر ہے جسے آدم علیہ السلام نے بنایا، پھر نبی کریم ﷺ کے جد امجد ابراہیم و اسماعیل علیہما السلام نے تعمیر کیا۔ یہی وہ گھر ہے جسکی طرف منہ کرکے فریضہ صلوٰۃ ادا کرنے کا حکم دیا گیا۔ اور اسکا استقبال ادائیگی صلوٰۃ کی شرط لازم قرار دیا گیا۔ یہی وہ مقام ہے جسکے طواف کے بغیر حج جیسی افضل ترین عبادت نہیں ہوتی۔ نبی ﷺ اور ان سے پہلے انبیاء علیھم السلام نے اسکا طواف کیا، جہاں ادا کی جانے والی صلوٰۃ (اجروثواب میں) مسجد نبوی کی سو نمازوں اور دوسری نمازوں کی ایک لاکھ نمازوں سے افضل ہے۔ اس عظمت و کرامت والے گھر کا دیکھنا بھی ثواب ہے۔کعبہ شعائر اللہ میں سے ہے ، جسکی توہین کفر اور تعظیم تقویٰ ہے۔ لیکن شیعہ حضرات کی نظر میں شاید اسکی کوئی اہمیت نہیں ہے۔ جتنی کربلا کی عظمت و فضیلت شیعوں کی کتب میں بیان کی گئی ہے،اسکا عشر و عشیر بھی شیعہ لٹریچر میں کعبۃ اللہ اور مسجد نبوی ﷺ کی بیان نہیں کی گئی ہے۔ یہی وجہ ہے کہ انکے ذخیرہ ہائے کتب میں اس طرح کی خرافاتی روایات دیکھنے کو ملتی ہیں


جیسی ملاباقر مجلسی کی کتاب "بحارالانوار" کی یہ روایت ہے:

حضرت امام جعفر کہتے ہیں " اے مفصل! ایک مرتبہ زمین کے مختلف خطوں نے آپس میں تفاخر کیا، چنانچہ کعبہ بیت الحرام نے سرزمین کربلا کی مقابلہ پر فخر کیا تو اللہ تعالیٰ کی طرف سے اس کی جانب وحی ہوتی کہ "اے کعبہ بیت الحرام! چپ ہوجا، کربلا کے مقابلے میں فخر نہ کر۔

(بحارالانوار ، باب 28، صفحہ نمبر 489)


غالبا باقر مجلسی نے یہ روایت ، کتاب کامل الزیارات سے نقل کی گئی ہوگی، جو کہ حسب زیل ہے، اسکا میں اسکین بھی کمنٹ میں دونگا ۔ کامل الزیارات کی روایت یہ ہے " روایت کرتے ہیں کہ

ابوعبداللہ (جعفر صادق) نے فرمایا اللہ تعالیٰ نے کعبہ کی طرف یہ وحی کی: اے کعبہ، اگر کربلا کی مٹی نہ ہوتی تو میں تمہیں فضیلت نہ بخشتا اور اگر کربلا کی زمین کے لوگ نہ ہوتے تو میں تمہیں پیدا نہ کرتا اور نہ وہ گھر پیدا کرتا جسکی وجہ سے تو فخر کرتا ہے۔ لہذہ اسی فضیلت پر راضی ہوجا اور سکون کر اور رواضع اختیار کر، ذلیل و رسواہوکر اور کربلا کی زمین کے سامنے فخر و غرور نہ کر، وگرنہ میں تم پر ناراض ہوجاؤں گا اور تمہیں جہنم کی آگ میں جھونک دونگا۔

(کامل الزیارات ، روایت نمبر 275، صفحہ نمبر 450) ۔

لاحول ولا قوۃ الا باللہ العلی العظیم ۔ تو آپ نے دیکھا ان روایات میں کسطرح قرآنی آیات کی صریح تکذیب کی گئی

 
Top