- شمولیت
- ستمبر 26، 2011
- پیغامات
- 2,767
- ری ایکشن اسکور
- 5,412
- پوائنٹ
- 562
حسب سابق آج پشاور اور ملحقہ قبائلی علاقوں میں عید منائی جارہی ہے۔ جبکہ پاکستان کے دیگر علاقوں میں عید کل منائی جائے گی۔ بعض احباب اس طرح الگ الگ عید منانے کو ملک و قوم کے لئے ایک ”بُرا شگون“ قرار دیتے ہیں۔ بلکہ ہمارے بعض نام نہاد مسلمان دانشور (جن کی اپنی معمولات زندگی میں اسلام کا نام و نشان دوردور تلک نہیں ملتا)، وہ تو یہاں تک کہتے ہیں کہ پوری دنیا کے مسلمانوں کو ”ایک ہی دن“ عید منانی چاہئے۔ جیسے عیسائی برادری دنیا بھر میں ”ایک ہی دن“ یعنی 25 دسمبر کو کرسمس مناتے ہیں۔ کفار کی پیروی کے جوش میں وہ یہ بات بھول جاتے ہیں کہ آج بھی مسلمان پوری دنیا میں ”ایک ہی دن“ عید مناتے ہیں یعنی ”یکم شوال“ کو۔ اور اگر ان کی مراد یہ ہوتی ہے کہ دنیا کے سارے مسلمان ”بیک وقت“ عید منائیں، جیسا کہ عیسائی کرسمس مناتے ہیں تو پھر وہ یہ بات دانستہ یا نادانستہ بھول جاتے ہیں 25 دسمبر بھی پوری دنیا میں ”بیک وقت“ نہیں آتی۔
خیر یہ تو یہ ایک جملہ بلکہ ”پیرایائے معترضہ“ تھا، جو اعتراض برائے اعتراض کے جواب میں اسی رنگ میں لکھا گیا تھا۔ اصل بات یہ ہے کہ عیدین اسلام میں صرف ایک ”تہوار“ نہیں بلکہ دیگر عبادات کی طرح باقاعدہ ایک عبادت ہے۔ عید کا آغاز ہی ہم نماز سے کرتے ہیں، جو اس بات کا بین ثبوت ہے۔ زمانی اعتبار سے اسلام میں دو اقسام کی عبادات ہیں۔ ایک وہ جو 24 گھنٹہ کے اندر ہر روز ادا کی جاتی ہیں۔ اس قسم کی عبادات سورج کی گردش سے منسلک ہیں۔ مثلاً پانچ نمازوں کا تعین سورج کے نکلنے اور غروب ہونے کے اوقات سے منسلک ہیں۔ اسی طرح روزہ رکھنا اور افطار کرنا یہ سورج کے اوقات طلوع و غروب سے ”منسلک“ ہیں۔ ان عبادات کے لئے طلوع و غروب آفتاب کا ”مشاہدہ“ کرنا ضروری نہیں ہے۔ یعنی موسم ابر آلود ہو تب بھی ہم اپنے سابقہ تجربات سے ”آج“ کے طلوع و غروب آفتاب کے اوقات سے باخبر ہوتے ہیں۔ چنانچہ گھڑی دیکھ کر ہم آج کے پانچوں نماز اور روزہ رکھنے اور کھولنے کے درست وقت کا تعین کر سکتے ہیں۔
دوسری قسم کی زمانی عبادات تقویم یعنی کیلنڈر اور وہ بھی قمری کیلنڈر سے منسلک ہے۔ جیسے ماہ رمضان کا آگاز، عیدین، حج وغیرہ۔ گو قمری تقویم کا آغاز چاند کے ”طلوع ہوجانے “ سے ہوجاتا ہے۔ اور آج علم فلکیات اتنی زیادہ ترقی کرگئی ہے کہ ہم اگلے سوسال تک درست قمری تاریخوں کا تعین کرسکتے ہیں۔ لیکن اسلامی احکامات پر عملدر آمد کا انحصار چونکہ ”ٹیکنالوجی یا عصری علوم“ پر منحصر نہیں ہے۔ بلکہ ایسے طریقوں پر ہے،جن پر ہر دور اور ہر علاقوں کے پڑھے لکھے لوگ بیک وقت عمل کرسکتے ہیں (جاری ہے)
خیر یہ تو یہ ایک جملہ بلکہ ”پیرایائے معترضہ“ تھا، جو اعتراض برائے اعتراض کے جواب میں اسی رنگ میں لکھا گیا تھا۔ اصل بات یہ ہے کہ عیدین اسلام میں صرف ایک ”تہوار“ نہیں بلکہ دیگر عبادات کی طرح باقاعدہ ایک عبادت ہے۔ عید کا آغاز ہی ہم نماز سے کرتے ہیں، جو اس بات کا بین ثبوت ہے۔ زمانی اعتبار سے اسلام میں دو اقسام کی عبادات ہیں۔ ایک وہ جو 24 گھنٹہ کے اندر ہر روز ادا کی جاتی ہیں۔ اس قسم کی عبادات سورج کی گردش سے منسلک ہیں۔ مثلاً پانچ نمازوں کا تعین سورج کے نکلنے اور غروب ہونے کے اوقات سے منسلک ہیں۔ اسی طرح روزہ رکھنا اور افطار کرنا یہ سورج کے اوقات طلوع و غروب سے ”منسلک“ ہیں۔ ان عبادات کے لئے طلوع و غروب آفتاب کا ”مشاہدہ“ کرنا ضروری نہیں ہے۔ یعنی موسم ابر آلود ہو تب بھی ہم اپنے سابقہ تجربات سے ”آج“ کے طلوع و غروب آفتاب کے اوقات سے باخبر ہوتے ہیں۔ چنانچہ گھڑی دیکھ کر ہم آج کے پانچوں نماز اور روزہ رکھنے اور کھولنے کے درست وقت کا تعین کر سکتے ہیں۔
دوسری قسم کی زمانی عبادات تقویم یعنی کیلنڈر اور وہ بھی قمری کیلنڈر سے منسلک ہے۔ جیسے ماہ رمضان کا آگاز، عیدین، حج وغیرہ۔ گو قمری تقویم کا آغاز چاند کے ”طلوع ہوجانے “ سے ہوجاتا ہے۔ اور آج علم فلکیات اتنی زیادہ ترقی کرگئی ہے کہ ہم اگلے سوسال تک درست قمری تاریخوں کا تعین کرسکتے ہیں۔ لیکن اسلامی احکامات پر عملدر آمد کا انحصار چونکہ ”ٹیکنالوجی یا عصری علوم“ پر منحصر نہیں ہے۔ بلکہ ایسے طریقوں پر ہے،جن پر ہر دور اور ہر علاقوں کے پڑھے لکھے لوگ بیک وقت عمل کرسکتے ہیں (جاری ہے)