محمد ارسلان
خاص رکن
- شمولیت
- مارچ 09، 2011
- پیغامات
- 17,859
- ری ایکشن اسکور
- 41,102
- پوائنٹ
- 1,155
السلام علیکم
کیا عورتوں کی جماعت کرانا صحیح ہے؟
کیا عورتوں کی جماعت کرانا صحیح ہے؟
آپ نے يہ فرمان مدينہ ميں جارى كيا تھا، حالانكہ مسجد نبوى ميں نماز ادا كرنا بہت زيادہ افضل ہے، اور اس ليے بھى كہ عورت كا گھر ميں نماز ادا كرنا زيادہ پردے كا باعث اور فتنہ و فساد سے دور ہے، وہ اپنے گھر ميں نماز ادا كرے تو يہ زيادہ بہتر اور اولى ہے"" اللہ كى بنديوں كو اللہ تعالى كى مساجد ميں نماز ادا كرنے سے مت روكو، اور ان كے گھر ان كے ليے بہتر ہيں "
مسند احمد مسند باقى الانصار حديث نمبر ( 25842 ) علامہ البانى رحمہ اللہ تعالى نے صحيح الترغيب و الترھيب حديث نمبر ( 337 ) ميں اسے حسن قرار ديا ہے." مجھے علم ہے كہ تم ميرے ساتھ نماز ادا كرنا پسند كرتى ہو..... اور تيرى تيرے گھر ميں نماز ادا كرنا تيرا اپنى قوم كى مسجد ميں نماز ادا كرنے سے بہتر ہے .... "
ديكھيں: المغنى ( 1 / 347 ).اسى طرح عورتوں كى امامت كروانے والى كے ليے ہر حالت ميں عورتوں كے درميان كھڑا ہونا مسنون ہے، كيونكہ وہ سب كى سب پردہ ہيں.
ديكھيں: المجموع شرح المھذب ( 4 / 192 )." سنت يہ ہے كہ عورت كى امام كروانے و الى ان كے وسط اور درميان ميں كھڑى ہو گى، اس كى دليل عائشہ اور ام سلمہ رضى اللہ تعالى عنہما كى حديث ہے كہ انہوں نے عورتوں كى امامت كروائى اور وہ ان كے وسط ميں كھڑى ہوئيں "
يہ صحابيہ كا فعل ہے، جب اس كى مخالفت ميں كوئى نص نہيں تو صحيح يہى ہے كہ يہ حجب ہے، اور عورت ايك عورت كے ساتھ ہو تو وہ ايك مرد كے ساتھ كھڑا ہونے كى طرح ہى عورت كے پہلو ميں كھڑى ہو گى "اور " اگر عورتيں نماز باجماعت ادا كريں تو ان كى امام عورت ان كے وسط ميں كھڑى ہو گى، كيونكہ اس ميں زيادہ ستر اور پردہ ہے، اور پھر عورت سے تو بقدر استطاعت پردہ اور ستر مطلوب ہے، اور يہ معلوم ہے كہ عورت كا عورتوں كے درميان كھڑا ہونا ان كے سامنے كھڑا ہونے سے زيادہ پردہ اور ستر ہے اس كى دليل عائشہ اور ام سلمہ رضى اللہ تعالى عنہما كى حديث ہے:
" وہ دونوں جب امامت كرواتيں تو ان كى صف ميں كھڑى ہوتيں "