• الحمدللہ محدث فورم کو نئےسافٹ ویئر زین فورو 2.1.7 پر کامیابی سے منتقل کر لیا گیا ہے۔ شکایات و مسائل درج کروانے کے لئے یہاں کلک کریں۔
  • آئیے! مجلس التحقیق الاسلامی کے زیر اہتمام جاری عظیم الشان دعوتی واصلاحی ویب سائٹس کے ساتھ ماہانہ تعاون کریں اور انٹر نیٹ کے میدان میں اسلام کے عالمگیر پیغام کو عام کرنے میں محدث ٹیم کے دست وبازو بنیں ۔تفصیلات جاننے کے لئے یہاں کلک کریں۔

حذیفہ رضی اللہ عنہ کا مریض کے ہاتھ سے دھاگا کاٹنا

شمولیت
اکتوبر 28، 2011
پیغامات
1
ری ایکشن اسکور
0
پوائنٹ
43
اسلام و علیکم:
ایک کتاب غیر محسوس شرک پڑھتے ہوے میں نے ایک حدیث پڑھی جو اس پوسٹ کے ساتھ منسلک ہے۔ اس حدیث کے ریفرنس میں لکھا ہے ابو داود، ترمذی لیکن ان کتابوں میں یہ حدیث میں نہیں ڈھونڈ پایا، آگر واقعی یہ حدیث ان کتابوں میں ہے تو براے مہربانی باب کا نام اور حدیث نمبر بتا دیں۔
s2.jpg
 

کفایت اللہ

عام رکن
شمولیت
مارچ 14، 2011
پیغامات
5,006
ری ایکشن اسکور
9,809
پوائنٹ
773
اس روایت کے لئے ابوداؤد ، ترمذی ، ابن حبان ، اور احمد کے حوالے صحیح نہیں ہیں غالبا کہیں اور کا حوالہ غلطی سے یہاں لکھ دیا گیا ہے۔
البتہ اس روایت کے لئے کے شروع میں جو ابن ابی حاتم کا حوالہ دیا گیا ہے تو یہ حوالہ درست ہے چنانچہ:

امام ابن أبي حاتم رحمه الله (المتوفى327)نے کہا:
حدثنا محمد بن الحسين بن إبراهيم بن إشكاب، ثنا يونس بن محمد ثنا حماد بن سلمة، عن عاصم الأحول، عن عزرة قال: دخل حذيفة على مريض فرأى في عضده سيرا فقطعه أو انتزعه، ثم قال: وما يؤمن أكثرهم بالله إلا وهم مشركون[تفسير ابن أبي حاتم: 7/ 2208]

لیکن یہ روایت منقطع ہے کیونکہ عزرہ (عزرة بن عبد الرحمن بن زرارة الخزاعى) کا حذیفہ رضی اللہ عنہ سے سماع ثابت نہیں ہے۔

البتہ اس کی او رسندیں بھی ہیں مثلا:

امام ابن أبي شيبة رحمه الله (المتوفى235)نے کہا:
حدثنا علي بن مسهر ، عن يزيد ، قال : أخبرني زيد بن وهب ، قال : انطلق حذيفة إلى رجل من النخع يعوده ، فانطلق وانطلقت معه ، فدخل عليه ودخلت معه ، فلمس عضده ، فرأى فيه خيطا ، فأخذه فقطعه ، ثم قال : لو مت وهذا في عضدك ما صليت عليك[مصنف ابن أبي شيبة. سلفية: 7/ 373]

اس کی سند میں موجود یزید بن ابی زیا د ضعیف ہے دیکھئے ہماری کتاب: یزید بن معاویہ پر الزامات کا علمی جائزہ :ص 396۔

حدثنا أبو عبد الله، قال: ثنا وكيع، قال: ثنا الأعمش، عن أبي ظبيان، قال: دخل حذيفة على رجل من عبس يعوده، فمس عضده، فإذا فيه خيط، قال: ما هذا؟ قال: شيئا رقي لي فيه. فقطعه وقال: «لو مت وهو عليك، ما صليت عليك»[السنة لأبي بكر بن الخلال 5/ 14]

اس کی سند میں اعمش کا عنعنہ ہے اور حذیفہ رضی اللہ عنہ سے ابوظبیان کا سماع محل نظر ہے۔
 
Top