• الحمدللہ محدث فورم کو نئےسافٹ ویئر زین فورو 2.1.7 پر کامیابی سے منتقل کر لیا گیا ہے۔ شکایات و مسائل درج کروانے کے لئے یہاں کلک کریں۔
  • آئیے! مجلس التحقیق الاسلامی کے زیر اہتمام جاری عظیم الشان دعوتی واصلاحی ویب سائٹس کے ساتھ ماہانہ تعاون کریں اور انٹر نیٹ کے میدان میں اسلام کے عالمگیر پیغام کو عام کرنے میں محدث ٹیم کے دست وبازو بنیں ۔تفصیلات جاننے کے لئے یہاں کلک کریں۔

قربانی کی دعا

abulwafa80

رکن
شمولیت
مئی 28، 2015
پیغامات
64
ری ایکشن اسکور
6
پوائنٹ
57
شمولیت
جون 05، 2018
پیغامات
431
ری ایکشن اسکور
16
پوائنٹ
79
.

کیا قربانی کرتے وقت کی دعا ضعیف ہے؟


سوال
السلام عليكم ورحمة الله وبركاته
میں نے پچھلے ماہ الاعتصام لگوایا تھا۔ رسالہ اپنی وسعت معلومات کی وجہ سے واقعی بہت اچھا ہے۔ اس سال جلدنمبر۵۰ شمارہ نمبر۱۳ میں ایک مضمون’’فضائل ومسائل عید الاضحی‘‘ میری نظر سے گزرا اس میں ایک بات کی طرف توجہ دلانا چاہتا ہوں۔ صفحہ ۹ اور ۱۰ پر قربانی کرتے وقت کی دعا :
’إِنِّی وَجَّهْتُ وَجْهِیَ لِلَّذِی فَطَرَ السَّمَوَاتِ وَالْأَرْضَ حَنِیفًا وَمَا أَنَا مِنَ الْمُشْرِکِینَ…‘ (سنن أبی داؤد،بَابُ مَا یُسْتَحَبُّ مِنَ الضَّحَایَا،رقم: ۲۷۹۵،سنن ابن ماجه،بَابُ أَضَاحِیِّ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّی اللهُ عَلَیْهِ وَسَلَّمَ،رقم:۳۱۲۱)
راقم الحروف کے نزدیک سخت ضعیف ہے۔ یہ روایت ابوداؤد کے ساتھ ’’مسند احمد‘‘، مشکوٰۃ شریف اور اس کے علاوہ اور بھی کتابوں میں مذکور ہے۔ لیکن ہر ایک کے سلسلۂ اسناد میں ضعف پایا جاتا ہے۔ میں کوئی عالم تو نہیں ہوں کہ اس پر مزید بحث کروں لیکن اگر تفصیل دیکھنی ہو تو اس کتاب(مشکوٰۃ المصابیح للالبانی) میں مذکور باب کے نیچے دیکھیں۔( فیصل مختار) (۳ جولائی ۱۹۹۸ء)


الجواب بعون الوهاب بشرط صحة السؤال

وعلیکم السلام ورحمة الله وبرکاته!

الحمد لله، والصلاة والسلام علىٰ رسول الله، أما بعد!

روایتِ ہذا ضعیف ہے کیونکہ اس میں راوی عبدالمطلب بن عبداللہ بن حنطب کے بارے میں کہا جاتا ہے۔ جابر رضی اللہ عنہ سے اس کا سماع نہیں لیکن منذری اور ابوحاتم رازی نے کہا ممکن ہے اس کو پایا ہو۔ ابن حجر رحمہ اللہ نے ’’تہذیب التہذیب‘‘ میں اور ابن ابی حاتم نے’’المراسیل‘‘ میں عَنْ اَبِیہ کہا جابر سے اس کا سماع نہیں لیکن جابر رضی اللہ عنہ کی ایک دوسری روایت جس کو ابویعلیٰ نے ذکر کیا اس کے بارے میں امام ہیثمی رحمہ اللہ نے کہا اس کی سند حسن درجہ کی ہے۔ اور امام ابوداؤد کا بھی اس پر سکوت ہے۔(بحوالہ مرعاۃ المفاتیح)

ھذا ما عندي والله أعلم بالصواب

فتاویٰ حافظ ثناء اللہ مدنی

جلد:3، کتاب الصوم: صفحہ: 365
محدث فتویٰ


.
 
شمولیت
جون 05، 2018
پیغامات
431
ری ایکشن اسکور
16
پوائنٹ
79
سلفی تحقیقی اسلامی لائبریری:
۔

جانور ذبح کرنے،عقیقہ اورقربانی کی دعاء

https://telegram.me/salafitehqiqikutub/682


ہ ےےےےےےےہ


1 ۔
سب حلال جانور ذبح کرنےکی مسنون و ضروری دعاء بس ایک ہی ہے

" بسم اللہ "

ہاں نیت الگ الگ رہیگی قربانی میں قربانی کی نیت،

اجتماعی قربانی میں ان تمام افرادکی جانب سےنیت،

عقیقہ میں جن کا عقیقہ ہےان کی جانب سےنیت،

عام جانور ذبح کرنےمیں بس حلال کرنےکی نیت ۔

وغیرہ وغیرہ

بقیہ دیگر الفاظ میں جو دعائیں آئیں ہیں اگر یادہےتو تھیک ہےپڑھیں،ورنہ مسنون ہیں بس،ضروری و فرض نہیں ۔

و اللہ اعلم

طالب علم
عزیر ادونوی


ہ ےےےےےےےہ


2 ۔
شیخ عقیقہ کی کوئ دعا ھے؟
ذبح کرتےوقت کچھ پڑھتےھیں؟

ایک روایت ملی ھے:
عقیقہ کا جانور مولودکا نام لےکر ذبح کرنامستحب ہے۔

حضرت عائشہ صدیقہؓ سےمروی ہےکہ نبی ﷺ نےارشادفرمایا:

''اذبحوا علی اسمه فقولوا،بسم اللہ اللھم لك وإلیك ھٰذہ عقیقة فلان'' iii

''(مولود) کےنام پر ذبح کرو او ریہ دعا پڑھو۔''

''بسم اللہ اللھم لك وإلیك ھٰذا عقیقة فلان''

(فلاں کی جگہ مولودکا نام لیاجائے)''۔

رواہ ابن المنذر و کذا في حصن حصین لابن الجزري

کیایہ صحیح ھے؟۔
جزاکم اللہ خیر
عمر اثری


جواب :

محترم بھائی آپ نےجس روایت کےمتعلق سوال کیاہے،وہ مسندابی یعلی،اورالسنن الکبری بیہقی اورمصنف عبدالرزاق میں موجودہے،

مسندابی یعلی میں درج ذیل سندو متن کےساتھ ہے:

عن ابن جريج،عن يحيى بن سعيد،عن عمرة،عن عائشة قالت: يعق عن الغلام شاتان مكافئتان،وعن الجارية شاة قالت عائشة:
" فعق رسول الله صلى الله عليه وسلم عن الحسن والحسين شاتين شاتين يوم السابع،وأمر أن يماط عن رأسه الأذى."
وقال:
" اذبحوا على اسمه وقولوا: بِسْمِ اللَّهِ اللَّهُ أَكْبَرُ،اللَّهُمَّ مِنْكَ وَلَكَ هَذِهِ عَقِيقَةُ فُلَانٍ "۔

[حكم حسين سليم أسد] : إسناده صحيح
مسندکی تحقیق میں علامہ حسین سلیم اسدلکھتےہیں کہ اس کی سندصحیح ہے۔

اورامام ابن قیم رحمہ اللہ نے’’ تحفة المودودبأحكام المولود‘‘
میں بھی اسےنقل فرمایاہے۔

اسحاق سلفی

ہ ےےےےےےےہ


3 ۔
قربانی کی دعاء


إِنِّي وَجَّهْتُ وَجْهِيَ لِلَّذِي فَطَرَ السَّمَاوَاتِ وَالْأَرْضَ حَنِيفًا وَمَا أَنَا مِنَ الْمُشْرِكِينَ،إِنَّ صَلَاتِي وَنُسُكِي وَمَحْيَايَ وَمَمَاتِي لِلَّهِ رَبِّ الْعَالَمِينَ،لَا شَرِيكَ لَهُ وَبِذَلِكَ أُمِرْتُ وَأَنَا أَوَّلُ الْمُسْلِمِينَ. اللَّهُمَّ إِنَّ هَذَا مِنْكَ وَلَكَ،عَنْ مُحَمَّدٍ وَأُمَّتِهِ،بسم الله والله أكبر

[سنن الدارمي:1989،مسندأحمد:15022]

نوٹ:دعا میں مذکور الفاظ (عن محمدوأمتہ) کی بجائےاپنااوراہل وعیال کا نام لیں،یاجس کی طرف سےقربانی کرنی ہے،اس کا نام لیں۔

العلماء


ہ ےےےےےےےہ


4 ۔
قربانی کا جانور ذبح کرتےوقت کی مسنون دعاء


سوال :

قربانی کا جانور ذبح کرتےوقت کی مسنون دعا ذکر فرمائیں۔

جواب :

جانور ذبح کرنےکی مسنون دعا :

’ بِسْمِ اللّٰهِ وَ اللّٰه اَکْبَر ‘ ۔

(متفق علیه،سنن ابن ماجه،بَابٌ فِی الشَّاةِ یُضَحَّی بِهَا عَنْ جَمَاعَةٍ،رقم:۲۸۱۰)

فتاویٰ حافظ ثناء اللہ مدنی
جلد:3،کتاب الصوم،صفحہ : 365 ۔


ہ ےےےےےےےہ


5 ۔
ذبح کرنےکی دعا


سوال :

کیاقربانی کاجانورذبح کرنےوقت کی دعا پڑھنی اوربسم اللہ اوراللہ اکبر کہنااورجن لوگوں کی طرف سےقربانی کی جائے انکانام لیناضروری ہےیامحض نیت کرلینی کافی ہے؟


جواب :

بہتریہ ہےکہ قربانی کرنےوالااپناجانورہاتھ سےذبح کرےاوراگردوسرےذبح کرائےتوبہتریہ ہےکہ وہاں حاضراورموجودرہے۔

وان ذبحهابيده كان افضل بيده لان النبىﷺضَحَّى بِكَبْشَيْنِ أَقْرَنَيْنِ أَمْلَحَيْنِ،ذَبَحَهُمَا بِيَدِهِ،وَسَمَّى وَكَبَّرَ،وَوَضَعَ رِجْلَهُ عَلَى صِفَاحِهِمَا. وَنَحَرَ الْبَدَنَاتِ السِّتَّ بِيَدِهِ. وَنَحَرَ مِنْ الْبُدْنِ الَّتِي سَاقَهَا فِي حِجَّتِهِ ثَلَاثًاوَسِتِّينَ بَدَنَةً بِيَدِهِ.وَلِأَنَّ فِعْلَهُ قُرْبَةٌ،وَفِعْلُ الْقُرْبَةِأَوْلَى مِنْ اسْتِنَابَتِهِ فِيهَافَإِنْ اسْتَنَابَ فِيهَا،جَازَ،لِأَنَّ النَّبِيَّﷺ اسْتَنَابَ مَنْ نَحَرَبَاقِيَ بُدْنِهِ بَعْدَ ثَلَاثٍ وَسِتِّينَ.وَهَذَالَاشَكَّ فِيهِ.وَيُسْتَحَبُّ أَنْ يَحْضُرَذَبْحَهَا،لِأَنَّ فِي حَدِيثِ ابْنِ عَبَّاسٍ الطَّوِيلِ "وَاحْضُرُوهَاإذَاذَبَحْتُمْ فَإِنَّهُ يُغْفَرُ لَكُمْ عِنْدَأَوَّلِ قَطْرَةٍ مِنْ دَمِهَا"۔وَرُوِيَ أَنَّ النَّبِيَّﷺقَالَ لِفَاطِمَةَاُحْضُرِي أُضْحِيَّتَك،يُغْفَرْلَك بِأَوَّلِ قَطْرَةٍ مِنْ دَمِهَا.
المغتى13/389/390

وامرابوموسى الاشعرى بناته ان يضحين بايديهن۔
(بخاري)

* ذبح کےوقت بسم اللہ کہنافرض ہے،اگرقصدادیدہ دانستہ چھوڑدیاتووہ ذبیحہ حرام ہوگابھول کی وجہ سےنہیں کہہ سکاتوبلاشک وشبہ حلال ہوگا:
وَأَمَّاالذَّبِيحَةُ فَالْمَشْهُورُمِنْ مَذْهَبِ أَحْمَدَ،أَنَّهَاشَرْطٌ مَعَ الذِّكْرِ،وَتَسْقُطُ بِالسَّهْوِ.
وَرُوِيَ ذَلِكَ عَنْ ابْنِ عَبَّاسٍ وَبِهِ قَالَ مَالِكٌ،وَالثَّوْرِيُّ،وَأَبُو حَنِيفَةَ،وَإِسْحَاقُ.
وَمِمَّنْ أَبَاحَ مَانَسِيَتْ التَّسْمِيَةُ عَلَيْهِ،عَطَاءٌ،وَطَاوُسٌ،وَسَعِيدُبْنُ الْمُسَيِّبِ،وَالْحَسَنُ،وَعَبْدُالرَّحْمَنِ بْنِ أَبِي لَيْلَى،وَجَعْفَرُبْنُ مُحَمَّدٍ،وَرَبِيعَةُ،وَعَنْ أَحْمَدَ،أَنَّهَامُسْتَحَبَّةٌ غَيْرُوَاجِبَةٍ فِي عَمْدٍوَلَاسَهْوٍ.وَبِهِ قَالَ الشَّافِعِيُّ،لِمَاذَكَرْنَافِي الصَّيْدِقَالَ أَحْمَدُ:إنَّمَاقَالَ اللَّهُ تَعَالَى:{وَلاتَأْكُلُوامِمَّالَمْ يُذْكَرِاسْمُ اللَّهِ عَلَيْهِ}الأنعام: 121.يَعْنِي الْمَيْتَةَ.

وَذُكِرَذَلِكَ عَنْ ابْنِ عَبَّاسٍ. وَلَنَا،قَوْلُ ابْنِ عَبَّاسٍ:مَنْ نَسِيَ التَّسْمِيَةَ فَلَابَأْسَ.وَرَوَى سَعِيدُبْنُ مَنْصُورٍ،بِإِسْنَادِهِ عَنْ رَاشِدِبْنِ رَبِيعَةَ،قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِﷺ: ذَبِيحَةُ الْمُسْلِمِ حَلَالٌ وَإِنْ لَمْ يُسَمِّ،إذَالَمْ يَتَعَمَّدْ.وَلِأَنَّهُ قَوْلُ مَنْ سَمَّيْنَا،وَلَمْ نَعْرِفْ لَهُمْ فِي الصَّحَابَةِ مُخَالِفًا.

وقَوْله تَعَالَى﴿وَلاتَأْكُلُوامِمَّالَمْ يُذْكَرِاسْمُ اللَّهِ عَلَيْهِ۔۔﴾الأنعام121 مَحْمُولٌ عَلَى مَاتُرِكَتْ التَّسْمِيَةُ عَلَيْهِ عَمْدًا،بِدَلِيلِ قَوْلِهِ:﴿وَإِنَّهُ لَفِسْقٌ۔۔﴾الأنعام121.وَالْأَكْلُ مِمَّانُسِيَتْ التَّسْمِيَةُ عَلَيْهِ لَيْسَ بِفِسْقٍ.
المغنى13/49


* قربانی کی دعاء:
وَجَّهْت وَجْهِي لِلَّذِي فَطَرَ السَّمَوَاتِ وَالْأَرْضَ ۔۔۔ الخ
پڑھنی سنت اورمستحب ہےضروری اورلازم نہیں۔حضرت جابرکی حدیث(ابوداود،ابن ماجہ،بیہقی)سےصرف استحباب وسنیت کاثبوت ہوتاہےپس اگر کوئی اس دعاءکوچھوڑدےگاتومحض تارک سنت ہوگا۔قربانی کایہ ذبیحہ بلاشک وشبہ حلال ہوگا

قال الشوکانی فی النیل5/212فی شرح حديث جابر:فيه استحباب تلاوة هذه الاية عندتوجيه الذبيحه للذبح


* اللہ اکبرکہنابھی ضروری نہیں۔

ثَبَتَ أَنَّ النَّبِيَّﷺكَانَ إذَاذَبَحَ قَالَ:بِسْمِ اللَّهِ،وَاَللَّهُ أَكْبَرُ،وَفِي حَدِيثِ أَنَسٌ:وَسَمَّى وَكَبَّرَ.وَكَذَلِكَ كَانَ يَقُولُ ابْنُ عُمَرَ.وَبِهِ يَقُولُ أَصْحَابُ الرَّأْيِ،وَلَانَعْلَمُ فِي اسْتِحْبَابِ هَذَاخِلَافًا،وَلَافِي أَنَّ التَّسْمِيَةَ مُجْزِئَةٌ.وَإِنْ نَسِيَ التَّسْمِيَةَ،أَجْزَأَهُ،عَلَى مَاذَكَرْنَافِي الذَّبَائِحِ.وَإِنْ زَادَفَقَالَ:اللَّهُمَّ هَذَا مِنْك وَلَك،اللَّهُمَّ تَقَبَّلْ مِنِّي،أَوْ مِنْ فُلَانٍ. فَحَسَنٌ.وَبِهِ قَالَ أَكْثَرُأَهْلِ الْعِلْمِ۔
المغی13/390

* ذبح کرنےکےوقت ان لوگوں کانام بولناضروری نہیں ہےجنکی طرف سےقربانی کی جانی ہوصرف انکی نیت کافی ہے۔

قال الخرقى فى مختصره:وليس عليه يقول عندالذبح عمن لان النية تجزى انتهى قال ابن قدامه:لااعلم خلافاان النية تجزئى وان ذكرمن يضحى عنه فحسن لماروينامن الحديث قالحسن:يقول بسم الله والله اكبرهذامنك ولك تقبل من فلان۔
المغنى13/391

فتاویٰ شیخ الحدیث مبارکپوری،
جلدنمبر2،کتاب الأضاحی والذبائح،ص 392 ۔

۔
 
Top