• الحمدللہ محدث فورم کو نئےسافٹ ویئر زین فورو 2.1.7 پر کامیابی سے منتقل کر لیا گیا ہے۔ شکایات و مسائل درج کروانے کے لئے یہاں کلک کریں۔
  • آئیے! مجلس التحقیق الاسلامی کے زیر اہتمام جاری عظیم الشان دعوتی واصلاحی ویب سائٹس کے ساتھ ماہانہ تعاون کریں اور انٹر نیٹ کے میدان میں اسلام کے عالمگیر پیغام کو عام کرنے میں محدث ٹیم کے دست وبازو بنیں ۔تفصیلات جاننے کے لئے یہاں کلک کریں۔

Parda

ابوالحسن علوی

علمی نگران
رکن انتظامیہ
شمولیت
مارچ 08، 2011
پیغامات
2,521
ری ایکشن اسکور
11,557
پوائنٹ
641
عورت کے لیے حجاب ونقاب ایک دینی فریضہ ہے اور دینی فرائض کی ادائیگی کے لیے والدین کی اجازت کی ضرورت نہیں ہے۔ اس کو آپ اس مثال سے سمجھیں کہ اگر آپ کی والدہ آپ کی نماز پڑھنے کے عمل کو ناپسند جانتی ہوں تو
کیا آپ کو نماز ترک کر دینی چاہیے ؟
یا نماز چھپ کر پڑھنی چاہیے اور والدہ کو جھوٹ کے ذریعے یقین دلاتی رہیں کہ آپ نماز نہیں پڑھتی ہیں۔
یا آپ نماز تو پڑھیں لیکن ساتھ ہی ساتھ والدہ کے ساتھ حسن سلوک میں اضافہ کر دیں۔
ہمارے خیال میں تیسرا طرز عمل دین کا مطالبہ ہے کہ ہمیں اپنے فرائض دینیہ کی ادائیگی اور حرام امور سے اجتناب میں کسی ملامت کرنے والے کی ملامت کی پرواہ نہیں کرنی چاہیے اور ان فرائض کی ادائیگی بھی اعلانیہ کرنی چاہیے کیونکہ یہ ایک مسلمان معاشرہ ہے اور اس میں ان فرائض کی اعلانیہ ادائیگی پر کوئی جان مال کا خطرہ بھی نہیں ہے بلکہ اس فرض کی ادائیگی سے تو عورت کی عزت نفس زیادہ محفوظ ہوتی ہے۔
ہمیں یہ بھی ڈر ہے کہ اگر کوئی خاتون حجاب و نقاب کے اس فرض کو ادا کرتی ہیں اور اپنی والدہ کے ڈر سے ان کے سامنے جھوٹ بھی بولتی رہتی ہیں تو یہ طرز عمل کہیں ان میں نفاق پیدا نہ کر دے۔ ایمان تو ایک قوت و طاقت کا نام ہے جو مخلوق کی بجائے اللہ کا ڈر و خوف پیدا کرتا ہے۔
جزاکم اللہ خیرا۔
 
شمولیت
ستمبر 14، 2011
پیغامات
114
ری ایکشن اسکور
576
پوائنٹ
90
اس کا مطلب ہے کہ پہلے وو اپنی امی کو قائل کرنے کی کوشش کریں ؟ اگر وو اپنی امی کو بتاے بغیر پردہ شروع کر دیتی ہیں تو انکی امی کی ناراضگی ان سے بڑھ سکتی ہے اور کیا پھر یہ والدہ کی نافرمانی میں نہیں آ جاۓ گا؟
 

ابوالحسن علوی

علمی نگران
رکن انتظامیہ
شمولیت
مارچ 08، 2011
پیغامات
2,521
ری ایکشن اسکور
11,557
پوائنٹ
641
عورت کے لیے پردہ کرنا واجب اور فرض ہے اور اس کے لیے والدہ کی اجازت کی ضرورت نہیں ہے۔ اگر وہ ناراض ہوتی بھی ہوں تو پھر بھی خاتون کو صرف ناراضگی کے پیش نظر اپنا نقاب و حجاب ترک نہیں کرنا چاہیے۔
ہاں اگر یہ خدشہ ہو کہ گھر سے نکال دیں گے تو وہ علیحدہ بات ہے، اس صورت میں رخصت نکلتی ہے۔
 
Top