• الحمدللہ محدث فورم کو نئےسافٹ ویئر زین فورو 2.1.7 پر کامیابی سے منتقل کر لیا گیا ہے۔ شکایات و مسائل درج کروانے کے لئے یہاں کلک کریں۔
  • آئیے! مجلس التحقیق الاسلامی کے زیر اہتمام جاری عظیم الشان دعوتی واصلاحی ویب سائٹس کے ساتھ ماہانہ تعاون کریں اور انٹر نیٹ کے میدان میں اسلام کے عالمگیر پیغام کو عام کرنے میں محدث ٹیم کے دست وبازو بنیں ۔تفصیلات جاننے کے لئے یہاں کلک کریں۔

صحیح بخاری ! اردو اور انگلش ترجمعے کے ساتھ :

شمولیت
اگست 11، 2013
پیغامات
17,117
ری ایکشن اسکور
6,823
پوائنٹ
1,069
10928984_1559886454289342_4807833011954833048_n.jpg


رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم پر ( نزول ) وحی کا آغاز :
​
باب: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی طرف وحی کی ابتداء کس طرح ہوئی (یعنی اس کا ظہور کیونکر ہوا)۔

Volume 1, Book 1, Number 1 :​

Narrated by 'Umar bin Al-Khattab​
I heard Allah's Apostle saying, "The reward of deeds depends upon the intentions and every person will get the reward according to what he has intended. So whoever emigrated for worldly benefits or for a woman to marry, his emigration was for what he emigrated for."

خلیفہ راشد سیدنا عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ فرماتے سنا: تمام اعمال کا دارومدار نیت پر ہے اور عمل کا نتیجہ ہر انسان کو اس کی نیت کے مطابق ہی ملے گا۔ پس جس کی ہجرت (ترک وطن) دولت ‘ دنیا حاصل کرنے کیلئے ہو یا کسی عورت سے شادی کی غرض سے ہو ‘ پس اس کی ہجرت انہی چیزوں کے لیے (شمار) ہو گی جن کو حاصل کرنے کے لیے اس نے ہجرت کی ہے۔

صحیح بخاری : حدیث نمبر: 1​
 
Last edited:
شمولیت
اگست 11، 2013
پیغامات
17,117
ری ایکشن اسکور
6,823
پوائنٹ
1,069
10996172_1559886977622623_4936247903963013749_n.jpg

رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم پر ( نزول ) وحی کا آغاز :​

باب: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی طرف وحی کی ابتداء کس طرح ہوئی (یعنی اس کا ظہور کیونکر ہوا)۔

Narrated by 'Aisha
(the mother of the faithful believers) Al-Harith bin Hisham asked Allah's Apostle "O Allah's Apostle! How is the Divine Inspiration revealed to you?" Allah's Apostle replied, "Sometimes it is (revealed) like the ringing of a bell, this form of Inspiration is the hardest of all and then this state passes ' off after I have grasped what is inspired. Sometimes the Angel comes in the form of a man and talks to me and I grasp whatever he says." 'Aisha added: Verily I saw the Prophet being inspired Divinely on a very cold day and noticed the Sweat dropping from his forehead (as the Inspiration was over).


ام المؤمنین عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا سے (روایت ہے) کہ حارث بن ہشام نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے دریافت کیا یا رسول اللہ! آپ پر وحی کس طرح آتی ہے؟ تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”کبھی تو میرے پاس گھنٹی کی آواز کی طرح کی آواز آتی ہے اور (نزول وحی کی تمام حالتوں میں) یہ (حالت) مجھ پر زیادہ دشوار ہے۔ پھر (یہ حالت) مجھ سے دور (موقوف) ہو جاتی ہے اس حال میں کہ (فرشتے نے) جو کچھ کہا اس کو اخذ کر چکا ہوتا ہوں اور کبھی فرشتہ میرے سامنے آدمی کی صورت میں آتا ہے اور مجھ سے کلام کرتا ہے تو جو کچھ وہ کہتا ہے اس کو میں حفظ کر لیتا ہوں۔“ ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں کہ بیشک میں نے سخت سردی والے دن آپ صلی اللہ علیہ وسلم پر وحی اترتے ہوئے دیکھی اور سلسلہ منقطع ہونے پر (یہ دیکھا کہ اس وقت) آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی (مقدس) پیشانی سے پسینہ بہنے لگتا تھا۔

صحیح بخاری : حدیث نمبر: 2​
 
شمولیت
اگست 11، 2013
پیغامات
17,117
ری ایکشن اسکور
6,823
پوائنٹ
1,069
10991152_1560147077596613_1477759019616166235_n.jpg



Narrated by 'Aisha
(the mother of the faithful believers) The commencement of the Divine Inspiration to Allah's Apostle was in the form of good dreams which came true like bright day light, and then the love of seclusion was bestowed upon him. He used to go in seclusion in the cave of Hira where he used to worship (Allah alone) continuously for many days before his desire to see his family. He used to take with him the journey food for the stay and then come back to (his wife) Khadija to take his food like-wise again till suddenly the Truth descended upon him while he was in the cave of Hira. The angel came to him and asked him to read. The Prophet replied, "I do not know how to read. The Prophet added, "The angel caught me (forcefully) and pressed me so hard that I could not bear it any more. He then released me and again asked me to read and I replied, 'I do not know how to read.' Thereupon he caught me again and pressed me a second time till I could not bear it any more. He then released me and again asked me to read but again I replied, 'I do not know how to read (or what shall I read)?' Thereupon he caught me for the third time and pressed me, and then released me and said, 'Read in the name of your Lord, who has created (all that exists) has created man from a clot. Read! And your Lord is the Most Generous." (96.1, 96.2, 96.3) Then Allah's Apostle returned with the Inspiration and with his heart beating severely. Then he went to Khadija bint Khuwailid and said, "Cover me! Cover me!" They covered him till his fear was over and after that he told her everything that had happened and said, "I fear that something may happen to me." Khadija replied, "Never! By Allah, Allah will never disgrace you. You keep good relations with your Kith and kin, help the poor and the destitute, serve your guests generously and assist the deserving calamity-afflicted ones." Khadija then accompanied him to her cousin Waraqa bin Naufal bin Asad bin 'Abdul 'Uzza, who, during the PreIslamic Period became a Christian and used to write the writing with Hebrew letters. He would write from the Gospel in Hebrew as much as Allah wished him to write. He was an old man and had lost his eyesight. Khadija said to Waraqa, "Listen to the story of your nephew, O my cousin!" Waraqa asked, "O my nephew! What have you seen?" Allah's Apostle described whatever he had seen. Waraqa said, "This is the same one who keeps the secrets (angel Gabriel) whom Allah had sent to Moses. I wish I were young and could live up to the time when your people would turn you out." Allah's Apostle asked, "Will they drive me out?" Waraqa replied in the affirmative and said, "Anyone (man) who came with something similar to what you have brought was treated with hostility; and if I should remain alive till the day when you will be turned out then I would support you strongly." But after a few days Waraqa died and the Divine Inspiration was also paused for a while. Narrated Jabir bin 'Abdullah Al-Ansari while talking about the period of pause in revelation reporting the speech of the Prophet "While I was walking, all of a sudden I heard a voice from the sky. I looked up and saw the same angel who had visited me at the cave of Hira' sitting on a chair between the sky and the earth. I got afraid of him and came back home and said, 'Wrap me (in blankets).' And then Allah revealed the following Holy Verses (of Quran): 'O you (i.e. Muhammad)! wrapped up in garments!' Arise and warn (the people against Allah's Punishment),... up to 'and desert the idols.' (74.1-5) After this the revelation started coming strongly, frequently and regularly."


Volume 1, Book 1, Number 3


رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم پر ( نزول ) وحی کا آغاز :
​

باب: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی طرف وحی کی ابتداء کس طرح ہوئی (یعنی اس کا ظہور کیونکر ہوا)۔

ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے کہ انھوں نے کہا سب سے پہلی وحی جو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم پر شروع ہوئی وہ اچھے خواب تھے۔ پس جو خواب آپ صلی اللہ علیہ وسلم دیکھتے تھے وہ (صاف صاف) صبح کی روشنی کے مثل ظاہر ہو جاتا تھا۔ (پھر اللہ کی طرف سے) خلوت کی محبت آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو دے دی گئی۔ چنانچہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم غار حرا میں خلوت فرمایا کرتے تھے اور وہاں آپ کئی رات (لگاتار) عبادت کیا کرتے تھے۔ بغیر اس کے کہ اپنے گھر والوں کے پاس لوٹ کر آتے اور اسی قدر زادراہ بھی لے جاتے یہاں تک کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس وحی آ گئی اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم غار حرا میں تھے یعنی فرشتہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آیا اور اس نے (آپ صلی اللہ علیہ وسلم سے) کہا کہ پڑھو! آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: میں پڑھا ہوا نہیں ہوں۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں پھر فرشتے نے مجھے پکڑ لیا اور مجھے (زور سے) بھینچا یہاں تک کہ مجھے تکلیف ہوئی۔ پھر مجھے چھوڑ دیا اور کہا کہ پڑھیے! تو میں نے کہا کہ میں پڑھا ہوا نہیں ہوں۔ پھر فرشتے نے مجھے پکڑ لیا اور (زور سے) بھینچا یہاں تک کہ مجھے تکلیف ہوئی پھر مجھے چھوڑ دیا اور کہا کہ پڑھیے۔ تو میں نے کہا کہ میں پڑھا ہوا نہیں ہوں۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں کہ فرشتے نے مجھے پھر پکڑ لیا اور سہ بار مجھے (زور سے) بھینچا پھر مجھ سے کہا کہ ((اقرا باسم ربک)) الخ (العلق: 1 - 3) ”اپنے پروردگار کے نام (کی برکت) سے پڑھو جس نے (ہر چیز کو) پیدا کیا انسان کو جمے ہوئے خون سے پیدا کیا پڑھو اور (یقین کر لو کہ) تمہارا پروردگار بڑا بزرگ ہے“۔ پس رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا دل اس واقعہ کے سبب سے (مارے خوف کے) کانپنے لگا اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم ام المؤمنین خدیجہ رضی اللہ عنہا کے پاس تشریف لائے اور (وہاں موجود لوگوں سے) کہا کہ مجھے کمبل اوڑھا دو، مجھے کمبل اوڑھا دو۔ چنانچہ انھوں نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو کمبل اوڑھا دیا یہاں تک کہ (جب) آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے دل سے خوف جاتا رہا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے خدیجہ رضی اللہ عنہا سے سب حال (جو غار میں گزرا تھا) بیان کر کے کہا کہ بلاشبہ مجھے اپنی جان کا خوف ہے۔ خدیجہ رضی اللہ عنہا بولیں کہ ہرگز نہیں۔ اللہ کی قسم! اللہ آپ کو کبھی رسوا نہیں کرے گا۔ یقیناً آپ صلہ رحمی کرتے ہیں ناتواں کا بوجھ اٹھاتے ہیں، جو چیز لوگوں کے پاس نہیں وہ انہیں کما دیتے ہیں مہمان کی خاطر تواضع کرتے ہیں اور (اللہ کی راہ میں) مدد کرتے ہیں۔ پھر خدیجہ رضی اللہ عنہا آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو لے کر چلیں اور ورقہ بن نوفل بن اسد بن عبد العزی جو کہ خدیجہ رضی اللہ عنہا کے چچا کے بیٹے تھے، کے پاس آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو لائیں اور ورقہ وہ شخص تھا جو زمانہ جاہلیت میں نصرانی ہو گیا تھا اور عبرانی کتاب لکھا کرتا تھا۔ یعنی جس قدر اللہ کو منظور ہوتا تھا انجیل کو عبرانی میں لکھا کرتا تھا اور بڑا بوڑھا آدمی تھا کہ بینائی جا چکی تھی۔ تو اس سے ام المؤمنین خدیجہ رضی اللہ عنہا نے کہا کہ اے میرے چچا کے بیٹے! اپنے بھتیجے ( صلی اللہ علیہ وسلم ) سے (ان کا حال) سنو! ورقہ بولے، اے میرے بھتیجے! تم کیا دیکھتے ہو؟ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے جو کچھ دیکھا تھا ان سے بیان کر دیا تو ورقہ نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم سے کہا کہ یہ وہ فرشتہ ہے جسے اللہ تعالیٰ نے موسیٰ علیہ السلام پر نازل کیا تھا۔ اے کاش! میں اس وقت (جب آپ صلی اللہ علیہ وسلم نبی ہوں گے) جوان ہوتا۔ اے کاش میں (اس وقت تک) زندہ رہتا جب کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو آپ کی قوم (مکہ سے) نکالے گی۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے (یہ سن کر بہت تعجب سے) فرمایا: کیا یہ لوگ مجھے نکالیں گے؟ ورقہ نے کہا ہاں جس شخص نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم جیسی بات بیان کی اس سے (ہمیشہ) دشمنی کی گئی اور اگر مجھے آپ صلی اللہ علیہ وسلم (کی نبوت) کا دور مل گیا تو میں آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی بہت ہی بھرپور طریقے سے مدد کروں گا۔ مگر چند ہی روز گزرے تھے کہ ورقہ کی وفات ہو گئی اور وحی (کی آمد عارضی طور پر چند روز کے لیے) رک گئی۔

صحیح بخاری : حدیث نمبر: 3​
 
Top