• الحمدللہ محدث فورم کو نئےسافٹ ویئر زین فورو 2.1.7 پر کامیابی سے منتقل کر لیا گیا ہے۔ شکایات و مسائل درج کروانے کے لئے یہاں کلک کریں۔
  • آئیے! مجلس التحقیق الاسلامی کے زیر اہتمام جاری عظیم الشان دعوتی واصلاحی ویب سائٹس کے ساتھ ماہانہ تعاون کریں اور انٹر نیٹ کے میدان میں اسلام کے عالمگیر پیغام کو عام کرنے میں محدث ٹیم کے دست وبازو بنیں ۔تفصیلات جاننے کے لئے یہاں کلک کریں۔

ﺷﺮﮎ ﮐﯽ ﻗﺴﻤﯿﮟ

ابن قدامہ

مشہور رکن
شمولیت
جنوری 25، 2014
پیغامات
1,772
ری ایکشن اسکور
433
پوائنٹ
198
ﺷﺮﮎ ﮐﯽ ﻗﺴﻤﯿﮟ

٭ ﺷﺮﮎ ﺍﮐﺒﺮ
٭ ﺷﺮﮎ ﺍﺻﻐﺮ
٭ ﺷﺮﮎ ﺧﻔﯽ

(1 ) ﺷﺮﮎ ﺍﮐﺒﺮ : ﯾﮧ ﻭﮦ ﺷﺮﮎ ﮨﮯ ﺟﺲ ﮐﺎ ﻣﺮﺗﮑﺐ ﺍﮔﺮ ﺑﻐﯿﺮ ﺗﻮﺑﮧ ﮐﺌﮯ ﻣﺮ ﺟﺎﺋﮯ ﺗﻮ ﺍﻟﻠﮧ ﺍﺳﮯ ﻣﻌﺎﻑ ﮐﺮﻧﮯ ﻭﺍﻻ ﻧﮩﯿﮟ ﮨﮯ ﺍﻭﺭ ﺍﺱ ﮐﮯ ﺍﻭﭘﺮ ﺟﻨﺖ ﺣﺮﺍﻡ ﮨﮯ، ﮐﯿﻮﻧﮑﮧ ﺍﺱ ﮐﮯ ﺍﺭﺗﮑﺎﺏ ﺳﮯ ﺍﺱ ﮐﮯ ﺳﺎﺭﮮ ﻧﯿﮏ ﺍﻋﻤﺎﻝ ﺑﺮﺑﺎﺩ ﮨﻮ ﺟﺎﺗﮯ ﮨﯿﮟ ۔

ﺩﻻﺋﻞ :
ﺍﻟﻠﮧ ﺗﻌﺎﻟﯽ ﻓﺮﻣﺎﺗﺎ ﮨﮯ
(ﻭﻟﻮ ﺍﺷﺮﮐﻮﺍ ﻟﺤﺒﻂ ﻋﻨﮩﻢ ﻣﺎﮐﺎﻧﻮﺍﯾﻌﻤﻠﻮﻥ )
ﮐﮧ ﺍﮔﺮ ﯾﮧ ﺣﻀﺮﺍﺕ ﺷﺮﮎ ﮐﺮﺗﮯ ﺗﻮ ﺟﻮ ﮐﭽﮫ ﯾﮧ
ﺍﻋﻤﺎﻝ ﮐﺮﺗﮯ ﺗﮭﮯ ﺍﻧﮑﮯ ﺳﺐ ﺍﮐﺎﺭﺕ ﮨﻮﺟﺎﺗﮯ .
(ﺍﻻﻧﻌﺎﻡ : ۸۸ )

ﺍﻭﺭ ﺍﻟﻠﮧ ﻧﮯ ﻓﺮﻣﺎﯾﺎ
( ﺍﻥ ﺍﻟﻠﮧ ﻻ ﯾﻐﻔﺮ ﺍﻥ ﯾﺸﺮﮎ ﺑﮧ ﻭﯾﻐﻔﺮ ﻣﺎ ﺩﻭﻥ ﺫﺍﻟﮏ ﻟﻤﻦ ﯾﺸﺎﺀ )
ﮐﮧ ﺍﻟﻠﮧ ﺍﭘﻨﮯ ﺳﺎﺗﮫ ﺷﺮﯾﮏ ﮐﺮﻧﮯ ﻭﺍﻟﻮﮞ ﮐﻮ ﻣﻌﺎﻑ ﮐﺮﻧﮯ ﻭﺍﻻ ﻧﮩﯿﮟ ﮨﮯ ﺍﻭﺭ ﺷﺮﮎ ﮐﮯ ﻋﻼﻭﮦ ﺍﮔﺮ ﮐﻮﺋﯽ ﮔﻨﺎﮦ ﮨﮯ ﺗﻮ ﺍﻟﻠﮧ ﭼﺎﮨﮯ ﺗﻮ ﻭﮦ ﻣﻌﺎﻑ ﮐﺮﻧﯿﻮﺍﻻ ﮨﮯ .

ﺍﻟﻠﮧ ﺗﻌﺎﻟﯽ ﻓﺮﻣﺎﺗﺎ ﮨﮯ
( ﺍﻧﮧ ﻣﻦ ﯾﺸﺮﮎ ﺑﺎﻟﻠﮧ ﻓﻘﺪ ﺣﺮﻡ ﺍﻟﻠﮧ ﻋﻠﯿﮧ ﺍﻟﺠﻨۃ ﻭﻣﺎﻭﺍﮦ ﺍﻟﻨﺎﺭ ﻭﻣﺎ ﻟﻠﻈﺎﻟﻤﯿﻦﻣﻦﺍﻧﺼﺎﺭ )
ﯾﻘﯿﻦ ﻣﺎﻧﻮ ﮐﮧ ﺟﻮ ﺷﺨﺺ ﺍﻟﻠﮧ ﮐﮯ ﺳﺎﺗﮫ ﺷﺮﯾﮏ ﮐﺮﺗﺎ ﮨﮯ، ﺍﻟﻠﮧ ﺗﻌﺎﻟﯽ ﻧﮯ ﺍﺱ ﭘﺮ ﺟﻨﺖ ﺣﺮﺍﻡ ﮐﺮﺩﯼ ﮨﮯ، ﺍﺱ ﮐﺎ ﭨﮭﮑﺎﻧﮧ ﺟﮩﻨﻢ ﮨﯽ ﮨﮯ ﺍﻭﺭ ﮔﻨﮩﮕﺎﺭﻭﮞ ﮐﯽ ﻣﺪﺩ ﮐﺮﻧﮯ ﻭﺍﻻ ﮐﻮﺋﯽ ﻧﮩﯿﮟ ﮨﻮﮔﺎ .
( ﺍﻟﻤﺎﺋﺪۃ : ۲۷ )

( 1)ﺷﺮﮎ ﺍﮐﺒﺮ ﮐﯽ ﻣﺜﺎﻝ :
ﺟﯿﺴﮯ ﻣﺮﺩﻭﮞ ﮐﻮ ﭘﮑﺎﺭﻧﺎ ﺍﻥ ﮐﻮ ﻣﺪﺩ ﮐﮯ ﻟﺌﮯ ﺑﻼﻧﺎ، ﺍﻥ ﮐﯽ ﻧﺬﺭ ﻣﺎﻧﻨﺎ ﺍﻭﺭ ﺍﻥ ﮐﮯ ﻟﺌﮯ
ﻗﺮﺑﺎﻧﯽ ﺩﯾﻨﺎ .

(2 ) ﺷﺮﮎ ﺍﺻﻐﺮ :
ﯾﮧ ﻭﮦ ﺷﺮﮎ ﮨﮯ ﺟﺲ ﮐﺎ ﻣﺮﺗﮑﺐ ﻧﮧ ﺗﻮ ﺍﺱ ﮐﮯ ﺍﻋﻤﺎﻝ ﺑﺮﺑﺎﺩ ﮨﻮ ﺗﮯ ﮨﯿﮟ ﺍﻭﺭ ﻧﮧ ﮨﯽ ﻭﮦ ﺟﮩﻨﻢ ﻣﯿﮟ ﮨﻤﯿﺸﮕﯽ ﮐﺎ ﻣﻮﺟﺐ ﮨﮯ، ﻣﮕﺮ ﮨﺎﮞ ﺍﺱ ﮐﯽ ﻭﺟﮧ ﺳﮯ ﮐﻤﺎﻝ ﺗﻮﺣﯿﺪ ﻣﯿﮟ ﻧﻘﺺ ﺁﺟﺎﺗﺎ ﮨﮯ ﯾﻌﻨﯽ ﮐﺎﻣﻞ ﺗﻮﺣﯿﺪ ﺍﺱ ﻣﯿﮟ ﻧﮩﯿﮟ ﭘﺎﺋﯽ ﺟﺎﺗﯽ۔

ﺩﻻﺋﻞ :
٭ﺍﻟﻠﮧ ﮐﮯ
ﺭﺳﻮﻝﷺ ﻧﮯ ﻓﺮﻣﺎﯾﺎ :
(ﻣﻦ ﺣﻠﻒ
ﺑﻐﯿﺮ ﺍﻟﻠﮧ ﻓﻘﺪ ﮐﻔﺮ ﺍﻭ ﺍﺷﺮﮎ) ﮐﮧ ﺟﺲ ﻧﮯ ﺑﮭﯽ ﺍﻟﻠﮧ ﮐﮯ
ﻋﻼﻭﮦ ﮐﺴﯽ ﮐﯽ ﻗﺴﻢ ﮐﮭﺎﺋﯽ ﺍﺱ ﻧﮯ ﮐﻔﺮ ﮐﯿﺎ ﯾﺎ ﺷﺮﮎ ﮐﯿﺎ .

ﺍﻭﺭ ﺩﻭﺳﺮﯼ ﺣﺪﯾﺚ ﻣﯿﮟ ﮨﮯ ﮐﮧ ﺗﻢ ﯾﮧ ﻣﺖ ﮐﮩﻮ ﮐﮧ ﺍﻟﻠﮧ
ﻧﮯ ﺍﻭﺭ ﻓﻼﮞ ﻧﮯ ﭼﺎﮨﺎ ﺗﻮ ﺍﯾﺴﺎ ﮨﻮﺍ، ﺑﻠﮑﮧ ﯾﮧ ﮐﮩﻮ ﮐﮧ ﺍﻟﻠﮧ ﻧﮯ
ﭼﺎﮨﺎ ﺍﻭﺭ ﭘﮭﺮ ﻓﻼﮞ ﻧﮯ ﭼﺎﮨﺎ ﺗﻮ ﺍﯾﺴﺎ ﮨﻮﺍ.

ﺷﺮﮎ ﺍﺻﻐﺮ ﮐﯽ ﻣﺜﺎﻝ : ﺟﯿﺴﮯ ﺍﻟﻠﮧ ﮐﮯ ﻋﻼﻭﮦ ﮐﺴﯽ ﮐﯽ ﻗﺴﻢ ﮐﮭﺎﻧﺎ، ﺍﻭﺭ ﯾﮧ ﮐﮩﻨﺎ ﮐﮧ ﺍﻟﻠﮧ ﻧﮯ ﺍﻭﺭ ﻓﻼﮞ ﻧﮯ ﭼﺎﮨﺎ ﺗﻮﺍﯾﺴﺎ ﮨﻮﺍ، ﻭﻏﯿﺮﮦ ﮨﮯ .

(3 ) ﺷﺮﮎ ﺧﻔﯽ :
ﺍﻭﺭ ﯾﮧ ﺭﯾﺎ ﮐﺎﺭﯼ ﺍﻭﺭ ﺩﮐﮭﺎﻭﺍ ﮨﮯ۔

ﺩﻟﯿﻞ :
ﺍﻟﻠﮧ ﮐﮯ ﺭﺳﻮﻝ ﷺ ﻧﮯ ﻓﺮﻣﺎﯾﺎ ))ﮐﯿﺎ ﻣﯿﮟ
ﺗﻤﮩﯿﮟ ﺍﺱ ﭼﯿﺰ ﮐﯽ ﺧﺒﺮ ﻧﮧ ﺩﻭﮞ ﺟﻮ ﻣﯿﺮﮮ ﻧﺰﺩﯾﮏ
ﻣﺴﯿﺢ ﺩﺟﺎﻝ ﺳﮯ ﺑﮭﯽ ﺯﯾﺎﺩﮦ ﺗﻤﮩﺎﺭﮮ ﺍﻭﭘﺮﺧﻮﻑ ﮐﮭﺎﻧﮯ
ﻭﺍﻟﯽ ﺑﺎﺕ ﮨﮯ،؟
ﺻﺤﺎﺑﮧ ﮐﺮﺍﻡ ﻧﮯ ﮐﮩﺎ، ﺿﺮﻭﺭ ﺑﺘﺎﺋﯿﮯ ﺍﮮ ﺍﻟﻠﮧﮐﮯ ﺭﺳﻮﻝ؟
ﺁﭖ ﻧﮯ ﻓﺮﻣﺎﯾﺎ ﻭﮦ ﺷﺮﮎ ﺧﻔﯽ ﮨﮯ ..
ﺍﯾﮏ ﺁﺩﻣﯽ ﻧﻤﺎﺯ ﮐﻮ ﻣﺰﯾﻦ ﮐﺮﮐﮯ ﺍﺱ ﻟﺌﮯ ﭘﮍﮬﺘﺎ ﮨﮯ ﺗﺎﮐﮧ ﻟﻮﮒ ﺍﺱ ﮐﯽ ﻃﺮﻑ ﺩﯾﮑﮭﯿﮟ

:ﺍﻟﻠﮧ ﺗﻌﺎﻟﯽ ﮨﻢ ﺳﺐ ﮐﻮ ﺷﺮﮎ ﺳﮯ ﺑﭽﺎﺋﮯ ﺍﻭﺭ ﺳﭽﺎ ﭘﮑﺎ ﻣﺆﺣﺪ ﺑﻨﺎﺋﮯ ﺍﻭﺭ ﮨﻤﺎﺭﺍ ﺧﺎﺗﻤﮧ ﺍﺱ ﺣﺎﻝ ﻣﯿﮟ ﮨﻮ ﮐﮧ ﺷﺮﮎ ﺳﮯ ﺩﺍﻣﻦ ﭘﺎﮎ ﮨﻮ۔

ﺁﻣﯿﻦ ﯾﺎﺍﻟﮧ ﺍﻟﻌﺎﻟﻤﯿﻦ
 

Abu Hashir

مبتدی
شمولیت
فروری 06، 2025
پیغامات
47
ری ایکشن اسکور
6
پوائنٹ
16
وَ مَا یُؤْمِنُ اَكْثَرُهُمْ بِاللّٰهِ اِلَّا وَ هُمْ مُّشْرِكُوْنَ(یوسف 106)
ان میں سے اکثر اللہ کو مانتے ہیں مگر اس طرح کہ اس کے ساتھ دوسروں کو شریک ٹھہراتے ہیں


مشرکین مکہ کے اصل عقیدہ کی وضاحت اس تلبیہ سے صاف واضح ہوتی ہے جو وہ حج وعمرہ کے احرام باندھتے وقت یوں پکارتے تھے :- ( لیبک لا شریک لک الا شریکا ھولک تملکہ وماملک) (مسلم، کتاب الحج، باب التلبیۃ) یعنی اے اللہ میں حاضر ہوں، تیرا کوئی شریک نہیں سوائے اس کے جسے تو نے اختیار دے رکھا ہے وہ خود کوئی اختیار نہیں رکھتا) - یہی عقیدہ شرک کی سب سے بڑی بنیاد ہے اور یہ آج بھی ویسے ہی پایا جاتا ہے۔ جیسا کہ مشرکین مکہ میں یا ان سے بھی پہلے پایا جاتا تھا۔ آج بھی لوگ اولیاء اللہ کے تصرفات کے بڑی شدت سے قائل ہیں اور کہتے ہیں کہ یہ تصرفات اور اختیارات انھیں اللہ ہی نے عطا کئے ہوئے ہیں جس کے جواب میں اللہ تعالیٰ نے یہ فرمایا کہ یہ بات تم کسی الہامی کتاب سے دکھلا سکتے ہو کہ اللہ نے فلاں فلاں قسم کے اختیارات فلاں فلاں لوگوں کو تفویض کر رکھے ہیں ؟
 

Abu Hashir

مبتدی
شمولیت
فروری 06، 2025
پیغامات
47
ری ایکشن اسکور
6
پوائنٹ
16
ارشاد باری تعالیٰ ہے:
{فَلاَ تَجْعَلُواْ لِلّهِ أَندَاداً وَأَنتُمْ تَعْلَمُونَ}
”خبردار باوجود جاننے کے اللہ کے شریک مقرر نہ کرو“

ابن عباس رضی اللہ عنہما اس آیت کی تفسیر میں فرماتے ہیں: ”الأنداد: هو الشرك، أخفى من دَبِيبِ النمل على صَفَاةٍ سوداء في ظلمة الليل“ انداد: یہ ایسا شرک ہے جو کہ سیاہ چٹان پر سیاہ رات میں چیونٹی کی چال سے بھی زیادہ مخفی ہے۔



قول الله تعالى : {فَلا تَجْعَلُوا لِلَّهِ أَنْدَادًا وَأَنْتُمْ تَعْلَمُونَ}. قال ابن عباس في الآية: "الأنداد: هو الشرك، أخفى من دَبِيبِ النمل على صَفَاةٍ سوداء في ظلمة الليل". وهو أن تقول: والله وحياتك يا فلان، وحياتي، وتقول: لولا كُلَيْبَةُ هذا لأتانا اللصوص، ولولا البط في الدار لأتانا اللصوص، وقول الرجل لصاحبه: ما شاء الله وشئت، وقول الرجل: لولا الله وفلان، لا تجعل فيها فلانا؛ هذا كله به شرك".
[صحيح. ملحوظة: لم نجد له حكما للألباني، ولكن قال ابن حجر: (سنده قوي). وقال سليمان آل الشيخ: (وسنده جيد). العجاب في بيان الأسباب (ص 51)، تيسير العزيز الحميد (ص587)] - [رواه ابن أبي حاتم]

ارشاد باری تعالیٰ ہے:{فَلاَ تَجْعَلُواْ لِلّهِ أَندَاداً وَأَنتُمْ تَعْلَمُونَ} ”خبردار باوجود جاننے کے اللہ کے شریک مقرر نہ کرو“ ابن عباس رضی اللہ عنہما اس آیت کی تفسیر میں فرماتے ہیں: ”الأنداد: هو الشرك، أخفى من دَبِيبِ النمل على صَفَاةٍ سوداء في ظلمة الليل“ انداد: یہ ایسا شرک ہے جو کہ سیاہ چٹان پر سیاہ رات میں چیونٹی کی چال سے بھی زیادہ مخفی ہے۔ اور وہ یہ ہے کہ تو اس طرح کہے: اے فلاں !اللہ اور تیری جان کی قسم، یا میری جان کی قسم۔ یا تو اس طرح کہے: اگر یہ کتا نہ ہوتا تو چور آجاتے، اگر بطخ نہ ہوتی تو چور داخل ہو جاتے۔ اور اسی طرح آدمی کا کسی کے بارے میں یہ کہنا کہ:جو اللہ چاہے اور تو چاہے۔ اور آدمی کا یہ کہنا:اگر اللہ اورفلاں نہ ہوتا۔اس میں فلاں کو شامل نہ کر، کیوں کہ یہ سب اللہ کے ساتھ شرک کرنا ہے۔
[صحیح] - [اسے ابنِ ابی حاتم نے روایت کیا ہے۔]
 
Top