اللہ سبحانہ وتعالی نے انسان کیلئے جو چیزیں حلال قرار دی ہیں ،وہ نہ صرف پاک بلکہ عمدہ اور نفیس بھی ہیں ؛
اور جن اشیاء کو حرام کیا ہے ،وہ نہ صرف یہ کہ ناپاک ہیں ۔بلکہ انسان کے ظاہر باطن کےلئے نقصان دہ بھی ہیں ؛
اور علامہ ابن کثیر ؒ اس آیت کے ذیل میں لکھتے ہیں :
كُلُّ مَا أَحَلَّ اللَّهُ تَعَالَى، فَهُوَ طَيِّبٌ نَافِعٌ فِي الْبَدَنِ وَالدِّينِ، وَكُلُّ مَا حَرَّمَهُ، فَهُوَ خَبِيثٌ ضَارٌّ فِي الْبَدَنِ وَالدِّينِ.
اللہ تعالی نے جو چیز حلال کی ہےوہ پاک ہونے کے ساتھ عمدہ اور نفیس ہیں اور بدن ،اور دین دونوں کےلئے نفع بخش ہیں؛
اور جن اشیاء کو حرام کیا ہے ،وہ نہ صرف یہ کہ ناپاک ہیں ۔بلکہ انسان کے ظاہر وباطن،اور دین کےلئے نقصان دہ بھی ہیں ؛
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
خنزیر کا گوشت حرام کیوں ہے؟سائنسسی تحقیق میں خوفناک وجہ سامنے آگئی
لندن (نیوز ڈیسک) اسلام میں خنزیر کو ناپاک اور حرام قرار دیا گیا ہے مگر مغرب میں لوگ اس جانور کے گوشت کے نہایت شوقین ہیں۔ ہم خوش قسمت ہیں کہ ہمارے دین نے ہمیں اس جانور سے دور رہنے کا حکم دیا ہے کیونکہ جدید سائنسی تحقیق میں یہ ثابت ہوگیا ہے کہ ٹیپ ورم نامی کیڑے کی ایک خاص قسم سؤر سے انسانوں میں منتقل ہوتی ہے اور یہ کیڑا دماغ میں پہنچ کر اسے کھانا شروع کردیتا ہے۔ سائنسدانوں نے اس کیڑے کو سوءر کے ساتھ تعلق کی وجہ سے اس کا نام بھی Pork Tapeworm یعنی ”سؤر ٹیپ ورم“ رکھا ہے۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ ٹیپ ورم کی متعدد اقسام میں سے ایک خصوصی طور پر ایسا ہے کہ جو انسانی دماغ پر حملہ آور ہونے کی صلاحیت رکھتا ہے۔ لندن سکول آف ہائی جین اینڈ ٹراپیکل میڈیسن کی ڈاکٹر ہیلنا ہیلبی کہتی ہیں کہ پورک ٹیپ ورم خاص طور پر انسانی دماغ کو نشانہ بناتا ہے۔
اس کیڑے کی قسم Teenia Solium دو طرح سے انسانی جسم میں داخل ہوسکتی ہے۔ پہلی صورت یہ ہے کہ سﺅر کا نیم گلا ہوا گوشت کھا لیا جائے۔ گوشت پوری طرح پکا نہ ہونے کی صورت میں کیڑے کے انڈے اس میں موجود رہتے ہیں اور آنتوں میں جاکر ان انڈوں سے کیڑے نکل آتے ہیں جو اعصابی نظام میں شامل ہوکر سیدھے دماغ تک جاتے ہیں۔ د