• الحمدللہ محدث فورم کو نئےسافٹ ویئر زین فورو 2.1.7 پر کامیابی سے منتقل کر لیا گیا ہے۔ شکایات و مسائل درج کروانے کے لئے یہاں کلک کریں۔
  • آئیے! مجلس التحقیق الاسلامی کے زیر اہتمام جاری عظیم الشان دعوتی واصلاحی ویب سائٹس کے ساتھ ماہانہ تعاون کریں اور انٹر نیٹ کے میدان میں اسلام کے عالمگیر پیغام کو عام کرنے میں محدث ٹیم کے دست وبازو بنیں ۔تفصیلات جاننے کے لئے یہاں کلک کریں۔

صحیح البخا ر ی میں امین بالجهر کی دلیلوں پر اعتراضات کا جواب درکار ہے

ابن قدامہ

مشہور رکن
شمولیت
جنوری 25، 2014
پیغامات
1,772
ری ایکشن اسکور
433
پوائنٹ
198
دلیل نمبر8:
عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ إِذَا أَمَّنَ الْإِمَامُ فَأَمِّنُوا فَإِنَّهُ مَنْ وَافَقَ تَأْمِينُهُ تَأْمِينَ الْمَلَائِكَةِ غُفِرَ لَهُ مَا تَقَدَّمَ مِنْ ذَنْبِهِ وَقَالَ ابْنُ شِهَابٍ وَكَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ آمِينَ۔ (صحیح البخا ری: بَاب جَهْرِ الْإِمَامِ بِالتَّأْمِينِ)
غیر مقلد کہتے ہیں کہ مقتدی کو پابند کیا گیا ہے کہ جب امام آمین کہے تم بھی آمین کہو۔ ظاہر ہے مقتدی کو آمین کا پتا اس وقت چلے گا جب امام زور سے آمین کہے۔
جواب1:
یہ بات طے شدہ ہے کہ غَيْرِ الْمَغْضُوبِ عَلَيْهِمْ وَلَا الضَّالِّينَ پر آمین کہنا ہے۔ اس لیے جب مقتدی غَيْرِ الْمَغْضُوبِ عَلَيْهِمْ وَلَا الضَّالِّينَ سنتا ہے تو اس کو علم ہو جاتا ہے کہ امام اب آمین کہے گا، لہذا اس سے جہر ثابت نہیں ہوتا۔ مولانا خلیل احمد سہارنپوری فرماتے ہیں:
موضعہ معلوم فلا یستلزم الجہربہ ۔ ( بذل المجہود ج2ص101 باب التامین وراء الامام )
أَمَّنَ ابْنُ الزُّبَيْرِ وَمَنْ وَرَاءَهُ حَتَّى إِنَّ لِلْمَسْجِدِ لَلَجَّةً(صحیح البخا ری :ج1ص107بَاب جَهْرِ الْإِمَامِ بِالتَّأْمِينِ)
جواب 1:
امام بخا ری نے اس کی سند بیا ن نہیں کی بلکہ تر جمۃ الباب میں لا ئے ہیں اور بقول زبیر علی زئی کے بے سند بات قابل حجت نہیں ۔
(الحدیث شمارہ 59:ص:33)
جواب 2:
یہ روایت عن ابن جریج عن عطا ء کے طریق سےمصنف عبد الرزاق(ج2،ص،63رقم الحدیث 2642 ،باب آمین )میں بھی موجود ہے ۔
اس کی سند کا پہلا راوی عبد الرزا ق طبقہ ثا لثہ کا مدلس ہے۔
(طبقات المدلسین لابن حجر :ص69، الفتح المبین از زبیر علی زئی :ص45 ،جزء منظوم لبدیع الدین راشدی :ص89، الحدیث شمارہ 32:ص13)
اور غیر مقلدین کے نزدیک طبقہ ثا لثہ کے مدلس کی حد یث بغیر تصریح سماع کے قابل حجت نہیں ۔لہذا یہ حد یث ضعیف ، اورنا قابل حجت ہے ۔
اس سند میں دوسرا راوی ابن جر یج طبقہ ثا لثہ کا مدلس ہے ۔ (طبقات المدلسین لابن حجر :ص:95، الفتح المبین از زبیر علی زئی :ص:55)
اور خود علی زئی نے ایک مقام پر تصریح کی ہے :ابن جریج مشہور مدلس ہےاور آ گے لکھا ہے : ابن جر یج کی یہ روایت ’’عن ‘‘سے ہے او ر عا م طا لب علمو ں کو بھی معلوم ہے کہ غیر صحیحین میں مدلس کی عن والی روایت ضعیف ہو تی ہے لہذا یہ روایت ضعیف ہے ۔ (الحدیث شمارہ 32:ص:15)
جواب 3:
سیدناحضرت ابن زبیر اور دیگر لو گ سب امتی ہیں اور غیر مقلدین ان کے افعا ل واقوال حجت نہیں ۔ (حوالہ جات گزر چکے)
جواب4:
اس اثر میں یہ تصریح نہیں ہے کہ یہ سورۃ فاتحہ کے بعد والی آمین ہے۔ ممکن ہے کہ یہ آمین قنوت نازلہ فی الفجر والی ہو۔ چنانچہ خاتم المحدثین علامہ محمد انور شاہ کشمیری رحمۃ اللہ علیہ فرماتے ہیں:
و لعلہ حین کان یقنت فی الفجر علی عبد الملک وکان ہو یقنت علی ابن زبیر و فی مثل ھذ ہ الایام تجری المبالغات
(فیض الباری ج2ص290 باب جہر الامام بالتامین)
جواب 5:
صحیح بخاری کے اس اثر میں أَمَّنَ ابْنُ الزُّبَيْرِ (فعل ماضی) کا ذکر ہے ، اس سے دوام اور تکرار ثابت نہیں ہوتا۔
جواب6:
حضرت ابن زبیر صغار صحابہ میں سے ہیں۔ ہجرت کے بعد اول مولود فی المدینۃ کہلائے۔ آپ نے آمین بالجہر کا عمل کیا جبکہ کبار صحابہ مثلاً حضرت عمر، حضرت عبد اللہ بن مسعود، حضرت علی کے ہاں اس طرح کی آمین کا ثبوت نہیں ملتا۔اس سے صاف معلوم ہوا کہ ان تمام حضرات کے خلاف یہ عمل اختیار کرنے میں ضرور کوئی مصلحت ہے اور وہ تعلیم ہی ہو سکتی ہے۔ مثلاً حضرت عبد اللہ بن زبیر ہی سے بسم اللہ الرحمن الرحیم جہراً پڑھنے کا اثر منقول ہے۔ علامہ زیلعی نے اس کی مصلحت یہ بیان فرمائی ہے:
قَالَ ابْنُ عَبْدِ الْهَادِي: إسْنَادُهُ صَحِيحٌ، لَكِنَّهُ يُحْمَلُ عَلَى الْإِعْلَامِ بِأَنَّ قِرَاءَتَهَا سُنَّةٌ، فَإِنَّ الْخُلَفَاءَ الرَّاشِدِينَ كَانُوا يُسِرُّونَ بِهَا، فَظَنَّ كَثِيرٌ مِنْ النَّاسِ أَنَّ قِرَاءَتَهَا بِدْعَةٌ، فَجَهَرَ بِهَا مَنْ جَهَرَ مِنْ الصَّحَابَةِ لِيُعْلِمُوا النَّاسَ أَنَّ قِرَاءَتَهَا سُنَّةٌ، لَا أَنَّهُ فِعْلُهُ دَائِمًا
( نصب الرایۃ ج 1ص357 باب صفۃ الصلاۃ)
یہی بات ہم آمین بالسر میں کہتے ہیں کہ عبد اللہ بن زبیر نے آمین جہراً کہ کر لوگوں کو تعلیم دی کہ اس مقام پر آمین کہنا سنت ہے
 

ابن قدامہ

مشہور رکن
شمولیت
جنوری 25، 2014
پیغامات
1,772
ری ایکشن اسکور
433
پوائنٹ
198
دلیل نمبر8:
عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ إِذَا أَمَّنَ الْإِمَامُ فَأَمِّنُوا فَإِنَّهُ مَنْ وَافَقَ تَأْمِينُهُ تَأْمِينَ الْمَلَائِكَةِ غُفِرَ لَهُ مَا تَقَدَّمَ مِنْ ذَنْبِهِ وَقَالَ ابْنُ شِهَابٍ وَكَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ آمِينَ۔ (صحیح البخا ری: بَاب جَهْرِ الْإِمَامِ بِالتَّأْمِينِ)
غیر مقلد کہتے ہیں کہ مقتدی کو پابند کیا گیا ہے کہ جب امام آمین کہے تم بھی آمین کہو۔ ظاہر ہے مقتدی کو آمین کا پتا اس وقت چلے گا جب امام زور سے آمین کہے۔
جواب1:
یہ بات طے شدہ ہے کہ غَيْرِ الْمَغْضُوبِ عَلَيْهِمْ وَلَا الضَّالِّينَ پر آمین کہنا ہے۔ اس لیے جب مقتدی غَيْرِ الْمَغْضُوبِ عَلَيْهِمْ وَلَا الضَّالِّينَ سنتا ہے تو اس کو علم ہو جاتا ہے کہ امام اب آمین کہے گا، لہذا اس سے جہر ثابت نہیں ہوتا۔ مولانا خلیل احمد سہارنپوری فرماتے ہیں:
موضعہ معلوم فلا یستلزم الجہربہ ۔ ( بذل المجہود ج2ص101 باب التامین وراء الامام )
أَمَّنَ ابْنُ الزُّبَيْرِ وَمَنْ وَرَاءَهُ حَتَّى إِنَّ لِلْمَسْجِدِ لَلَجَّةً(صحیح البخا ری :ج1ص107بَاب جَهْرِ الْإِمَامِ بِالتَّأْمِينِ)
جواب 1:
امام بخا ری نے اس کی سند بیا ن نہیں کی بلکہ تر جمۃ الباب میں لا ئے ہیں اور بقول زبیر علی زئی کے بے سند بات قابل حجت نہیں ۔
(الحدیث شمارہ 59:ص:33)
جواب 2:
یہ روایت عن ابن جریج عن عطا ء کے طریق سےمصنف عبد الرزاق(ج2،ص،63رقم الحدیث 2642 ،باب آمین )میں بھی موجود ہے ۔
اس کی سند کا پہلا راوی عبد الرزا ق طبقہ ثا لثہ کا مدلس ہے۔
(طبقات المدلسین لابن حجر :ص69، الفتح المبین از زبیر علی زئی :ص45 ،جزء منظوم لبدیع الدین راشدی :ص89، الحدیث شمارہ 32:ص13)
اور غیر مقلدین کے نزدیک طبقہ ثا لثہ کے مدلس کی حد یث بغیر تصریح سماع کے قابل حجت نہیں ۔لہذا یہ حد یث ضعیف ، اورنا قابل حجت ہے ۔
اس سند میں دوسرا راوی ابن جر یج طبقہ ثا لثہ کا مدلس ہے ۔ (طبقات المدلسین لابن حجر :ص:95، الفتح المبین از زبیر علی زئی :ص:55)
اور خود علی زئی نے ایک مقام پر تصریح کی ہے :ابن جریج مشہور مدلس ہےاور آ گے لکھا ہے : ابن جر یج کی یہ روایت ’’عن ‘‘سے ہے او ر عا م طا لب علمو ں کو بھی معلوم ہے کہ غیر صحیحین میں مدلس کی عن والی روایت ضعیف ہو تی ہے لہذا یہ روایت ضعیف ہے ۔ (الحدیث شمارہ 32:ص:15)
جواب 3:
سیدناحضرت ابن زبیر اور دیگر لو گ سب امتی ہیں اور غیر مقلدین ان کے افعا ل واقوال حجت نہیں ۔ (حوالہ جات گزر چکے)
جواب4:
اس اثر میں یہ تصریح نہیں ہے کہ یہ سورۃ فاتحہ کے بعد والی آمین ہے۔ ممکن ہے کہ یہ آمین قنوت نازلہ فی الفجر والی ہو۔ چنانچہ خاتم المحدثین علامہ محمد انور شاہ کشمیری رحمۃ اللہ علیہ فرماتے ہیں:
و لعلہ حین کان یقنت فی الفجر علی عبد الملک وکان ہو یقنت علی ابن زبیر و فی مثل ھذ ہ الایام تجری المبالغات
(فیض الباری ج2ص290 باب جہر الامام بالتامین)
جواب 5:
صحیح بخاری کے اس اثر میں أَمَّنَ ابْنُ الزُّبَيْرِ (فعل ماضی) کا ذکر ہے ، اس سے دوام اور تکرار ثابت نہیں ہوتا۔
جواب6:
حضرت ابن زبیر صغار صحابہ میں سے ہیں۔ ہجرت کے بعد اول مولود فی المدینۃ کہلائے۔ آپ نے آمین بالجہر کا عمل کیا جبکہ کبار صحابہ مثلاً حضرت عمر، حضرت عبد اللہ بن مسعود، حضرت علی کے ہاں اس طرح کی آمین کا ثبوت نہیں ملتا۔اس سے صاف معلوم ہوا کہ ان تمام حضرات کے خلاف یہ عمل اختیار کرنے میں ضرور کوئی مصلحت ہے اور وہ تعلیم ہی ہو سکتی ہے۔ مثلاً حضرت عبد اللہ بن زبیر ہی سے بسم اللہ الرحمن الرحیم جہراً پڑھنے کا اثر منقول ہے۔ علامہ زیلعی نے اس کی مصلحت یہ بیان فرمائی ہے:
قَالَ ابْنُ عَبْدِ الْهَادِي: إسْنَادُهُ صَحِيحٌ، لَكِنَّهُ يُحْمَلُ عَلَى الْإِعْلَامِ بِأَنَّ قِرَاءَتَهَا سُنَّةٌ، فَإِنَّ الْخُلَفَاءَ الرَّاشِدِينَ كَانُوا يُسِرُّونَ بِهَا، فَظَنَّ كَثِيرٌ مِنْ النَّاسِ أَنَّ قِرَاءَتَهَا بِدْعَةٌ، فَجَهَرَ بِهَا مَنْ جَهَرَ مِنْ الصَّحَابَةِ لِيُعْلِمُوا النَّاسَ أَنَّ قِرَاءَتَهَا سُنَّةٌ، لَا أَنَّهُ فِعْلُهُ دَائِمًا
( نصب الرایۃ ج 1ص357 باب صفۃ الصلاۃ)
یہی بات ہم آمین بالسر میں کہتے ہیں کہ عبد اللہ بن زبیر نے آمین جہراً کہ کر لوگوں کو تعلیم دی کہ اس مقام پر آمین کہنا سنت ہے
@اسحاق سلفی
 

اسحاق سلفی

فعال رکن
رکن انتظامیہ
شمولیت
اگست 25، 2014
پیغامات
6,372
ری ایکشن اسکور
2,633
پوائنٹ
791
عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ إِذَا أَمَّنَ الْإِمَامُ فَأَمِّنُوا فَإِنَّهُ مَنْ وَافَقَ تَأْمِينُهُ تَأْمِينَ الْمَلَائِكَةِ غُفِرَ لَهُ مَا تَقَدَّمَ مِنْ ذَنْبِهِ وَقَالَ ابْنُ شِهَابٍ وَكَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ آمِينَ۔ (صحیح البخا ری: بَاب جَهْرِ الْإِمَامِ بِالتَّأْمِينِ)
غیر مقلد کہتے ہیں کہ مقتدی کو پابند کیا گیا ہے کہ جب امام آمین کہے تم بھی آمین کہو۔ ظاہر ہے مقتدی کو آمین کا پتا اس وقت چلے گا جب امام زور سے آمین کہے۔
جواب1:
یہ بات طے شدہ ہے کہ غَيْرِ الْمَغْضُوبِ عَلَيْهِمْ وَلَا الضَّالِّينَ پر آمین کہنا ہے۔ اس لیے جب مقتدی غَيْرِ الْمَغْضُوبِ عَلَيْهِمْ وَلَا الضَّالِّينَ سنتا ہے تو اس کو علم ہو جاتا ہے کہ امام اب آمین کہے گا، لہذا اس سے جہر ثابت نہیں ہوتا۔ مولانا خلیل احمد سہارنپوری فرماتے ہیں:
موضعہ معلوم فلا یستلزم الجہربہ ۔ ( بذل المجہود ج2ص101 باب التامین وراء الامام )
مولوی خلیل صاحب ۔۔ بذل المجہود ۔۔لکھتے وقت شاید کچھ زیادہ نشہ تقلید میں سرشار تھے ۔۔۔۔
سید المرسلین کا واضح فرمان تو یہ تھا کہ ۔۔إِذَا أَمَّنَ الْإِمَامُ فَأَمِّنُوا۔۔ جب امام آمین کہے ،تم تب آمین کہنا،
یہاں عام طلباء بھی جانتے ہیں کہ یہ کلام ۔۔شرط ،اور جواب شرط۔۔ ہے۔یعنی جب تک امام آمین نہیں کہتا ۔۔تم آمین نہیں کہہ سکتے۔

جیسے قرآن کریم میں رب کا فرمان ہے :{فَإِذَا قُضِيَتِ الصَّلَاةُ فَانْتَشِرُوا فِي الْأَرْضِ وَابْتَغُوا مِنْ فَضْلِ اللَّهِ ) جب تم نماز پوری کر چکو ۔۔۔۔۔۔تو زمین میں پھیل جاو ،اور اللہ کا فضل تلاش کرو ۔‘‘
تو سیدھی سی بات ہے کہ نماز کا پورا ہونا انتشار کیلئے شرط ہے ،یعنی ۔ جب تک نماز پوری نہیں ہوجاتی ۔۔تم زمین پر پھیل نہیں سکتے ۔
نہ کہ مسجد میں موجود نمازی فرض نماز جمعہ کی تکمیل سے پہلے ہی ،،رزق کی تلاش میں اس لئے بھاگ کھڑا ہو کہ چلو اب امام مکمل کر ہی لے گا ،
اسلئے بات واضح ہے کہ جہری نمازوں میں امام کی آمین سننا ضروری ہے ،تاکہ حدیث کے مطابق مقتدی اس کی آمین سن کر آمین کہہ سکیں ۔
 

اسحاق سلفی

فعال رکن
رکن انتظامیہ
شمولیت
اگست 25، 2014
پیغامات
6,372
ری ایکشن اسکور
2,633
پوائنٹ
791
صحیح بخاری کے اس اثر میں أَمَّنَ ابْنُ الزُّبَيْرِ (فعل ماضی) کا ذکر ہے ، اس سے دوام اور تکرار ثابت نہیں ہوتا۔
یہ بات محض طفلانہ ہے ،اور نری جاہلانہ ہے ۔کیونکہ :
’‘ إذا ‘‘ قرآن مجید میں تکرار و استمرار کیلئے اکثر استعمال ہوا ۔ذیل میں اس کے شواہد دیکھیں :
[«شرح الكافية»:2/101]: میں ہے :
«وقد تكون (إذا) مع جملتها لاستمرار الزمان، نحو قوله تعالى: {وَإِذَا قِيلَ لَهُمْ لَا تُفْسِدُوا فِي الْأَرْضِ قَالُوا} [2: 11]، أي هذا عادتهم المستمرة،
’’ جب بھی ان سے کہا جاتا ہے کہ زمین فساد مت پھیلاو ،تو وہ کہتے ہیں ۔۔۔۔۔)یعنی یہ انکی ہمیشہ کی عادت ہے ۔

ومثله كثير: نحو قوله تعالى: {وَإِذَا لَقُوا الَّذِينَ آَمَنُوا} [2: 14]، {إِذَا مَا أَتَوْكَ لِتَحْمِلَهُمْ قُلْتَ لَا أَجِدُ} [9: 92]».
’’اور (منافقین) جب بھی اہل ایمان سے ملتے ہیں تو ‘‘ اور دوسری جگہ فرمایا :جب بھی تیرے پاس آتے ہیں ۔۔
وقال في [1: 95]: «وليس (إذا) للاستقبال هاهنا، بل هو للاستمرار، كما في قوله تعالى: {وَإِذَا قِيلَ لَهُمْ لَا تُفْسِدُوا فِي الْأَرْضِ}» [2: 11]، وقوله: {وَإِذَا مَا غَضِبُوا هُمْ يَغْفِرُونَ} [42: 37].
وفي [البرهان:4/197]: «أصل (إذا) الظرفية لما يستقبل من الزمان؛ كما أن (إذ) لما مضى منه، ثم يتوسع فيها، فتستعمل في الفعل المستمر في الأحوال كلها: الحاضرة، والماضية، والمستقبلة، فهي في ذلك شقيقة الفعل المستقبل الذي هو (يفعل) حيث يفعل به نحو ذلك، قالوا: إذا استعطى فلان أعطى، وإذا استنصر نصر، كما قالوا: فلان يعطي الراغب، وينصر المستغيث من غير تخصيص وقت دون وقت، قاله الزمخشري في كشافه القديم».
 

اسحاق سلفی

فعال رکن
رکن انتظامیہ
شمولیت
اگست 25، 2014
پیغامات
6,372
ری ایکشن اسکور
2,633
پوائنٹ
791
اس اثر میں یہ تصریح نہیں ہے کہ یہ سورۃ فاتحہ کے بعد والی آمین ہے۔ ممکن ہے کہ یہ آمین قنوت نازلہ فی الفجر والی ہو۔ چنانچہ خاتم المحدثین علامہ محمد انور شاہ کشمیری رحمۃ اللہ علیہ فرماتے ہیں:
و لعلہ حین کان یقنت فی الفجر علی عبد الملک وکان ہو یقنت علی ابن زبیر و فی مثل ھذ ہ الایام تجری المبالغات
مولوی محمد انور شاہ کشمیری نے اگر ایسا کہا ہے ،تو اپنی بے خبری۔۔یا۔۔تعصب کا ثبوت دیا ہے ۔۔کیونکہ ۔۔مصنف عبد الرزاق میں ابن الزبیر کے اس ’’ اثر ‘‘ میں تصریح
ہے کہ یہ سورۃ فاتحہ کے بعد والی ۔۔آمین۔۔ تھی ۔(( جسے سن کر مقلدین کیلئے اپنا وضوء برقرار رکھنا مشکل ہو جاتا ہے ))
قال الامام عبد الرزاق :
عَنِ ابْنِ جُرَيْجٍ، عَنْ عَطَاءٍ قَالَ: قُلْتُ لَهُ: أَكَانَ ابْنُ الزُّبَيْرِ يُؤَمِّنُ عَلَى إِثْرِ أُمِّ الْقُرْآنِ؟۔۔ قَالَ: «نَعَمْ، وَيُؤَمِّنُ مَنْ وَرَاءَهُ حَتَّى أَنَّ لِلْمَسْجِدِ لَلَجَّةً»
کیا ابن زبیر سورۃ فاتحہ کے بعد آمین کہا کرتے تھے ؟۔۔کہا۔۔ہاں آمین کہتے تھے ، اور انکے پیچھے مقتدی بھی آمین اس قدر بلند آواز سے کہتے کہ مسجد میں گونج پیدا ہو جاتی‘‘مصنف عبد الرزاق ، جلد ۲ ص ۹۶
 
Last edited:

اسحاق سلفی

فعال رکن
رکن انتظامیہ
شمولیت
اگست 25، 2014
پیغامات
6,372
ری ایکشن اسکور
2,633
پوائنٹ
791
یہی بات ہم آمین بالسر میں کہتے ہیں کہ عبد اللہ بن زبیر نے آمین جہراً کہ کر لوگوں کو تعلیم دی کہ اس مقام پر آمین کہنا سنت ہے
یہ بات محض ایک گپ ہے ۔۔۔۔۔۔۔۔۔اس کا نقلی ثبوت چاہیئے
 

مون لائیٹ آفریدی

مشہور رکن
شمولیت
جولائی 30، 2011
پیغامات
640
ری ایکشن اسکور
409
پوائنٹ
127
یہی بات ہم آمین بالسر میں کہتے ہیں کہ عبد اللہ بن زبیر نے آمین جہراً کہ کر لوگوں کو تعلیم دی کہ اس مقام پر آمین کہنا سنت ہے
یہ مبتدعین کی عادت ہے کہ جب کوئی حدیث ان کے مذہب کے خلاف جاتی ہو تو کوئی نہ کوئی بہانہ بناتے ہیں ۔مثلاً " تورک " اور جلسہ استراحت" کے بارے میں کہتے ہیں کہ یہ آپ ﷺ نے بڑھاپے میں کیا تھا ۔
 

ibnequrbani

مبتدی
شمولیت
مئی 18، 2015
پیغامات
32
ری ایکشن اسکور
6
پوائنٹ
13
۱. جلسہ استراحت-وہ تو بڈھاپے میں کیا تھا
۲. رفع یدین - وہ تو بغل میں بت چھپا لیے تھے
۳. علم غیب نہی تھا- یہ تو آپکی انکساری تھی
[emoji6] [emoji5] [emoji5]
 
Top