• الحمدللہ محدث فورم کو نئےسافٹ ویئر زین فورو 2.1.7 پر کامیابی سے منتقل کر لیا گیا ہے۔ شکایات و مسائل درج کروانے کے لئے یہاں کلک کریں۔
  • آئیے! مجلس التحقیق الاسلامی کے زیر اہتمام جاری عظیم الشان دعوتی واصلاحی ویب سائٹس کے ساتھ ماہانہ تعاون کریں اور انٹر نیٹ کے میدان میں اسلام کے عالمگیر پیغام کو عام کرنے میں محدث ٹیم کے دست وبازو بنیں ۔تفصیلات جاننے کے لئے یہاں کلک کریں۔

کیا کسی فرد واحد کا قانون کو اپنے ہاتھ میں لینا جائز ہے؟؟

ریحان احمد

مشہور رکن
شمولیت
ستمبر 13، 2011
پیغامات
266
ری ایکشن اسکور
708
پوائنٹ
120
السلام علیکم

ایک اہم مسئلہ جس پر آج سارا دن عوام الناس کو تکلیف برداشت کرنا پڑی وہ ممتاز قادری کے حق میں مظاہرے تھے۔ امت مسلمہ اس بات پر متفق ہے کہ گستاخ رسول کی سزا موت ہے۔ لیکن سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ یہ سزا کون دے گا۔ ایک فرد یا پھر حکومت وقت؟؟ اگر حکومت وقت سزا نہیں دیتی تو کیا کسی فرد کے لئے سزا دینا جائز ہو جائے گا؟؟
 

ابوالحسن علوی

علمی نگران
رکن انتظامیہ
شمولیت
مارچ 08، 2011
پیغامات
2,521
ری ایکشن اسکور
11,557
پوائنٹ
641
ہمارے پاکستانی قانون میں توہین رسالت کی سزا مقرر ہے لہذا بہترین رویہ تو یہی تھا کہ قانونی رستے ہی کے ذریعے سے یہ فعل انجام پاتا۔ کسی فرد واحد کو بہر حال یہ اختیار حاصل نہیں ہے کہ وہ توہین رسالت کی سزا خود ہی نافذ کرتا پھرے کیونکہ سزا سے پہے جرم کا ثابت ہونا لازم امر ہے اور جرم کو ثابت کرنے کے لیے کسی عدالت کی طرف رجوع کرنا پڑے گا یعنی یہ رویہ درست نہیں ہے کہ انسان خود ہی عدالت لگا کر خود ہی فیصلہ سنائے کہ فلاں شخص توہین رسالت کا مجرم ہے اور خود ہی انتظامیہ بن کر اس پر سزا بھی نافذ کر دے۔

اب اس مسئلہ کا دوسرا پہلو ہے کہ اگر کسی نے وقعی جذبات یا اشتعال کے تحت کسی شخص کو توہین رسالت کے الزام میں قتل کر دیا ہے تو اس کا کیا حل ہے؟ میرے خیال میں ایسا ہونا تو نہیں چاہیے تھا لیکن اگر ہو گیا ہے تو اس کا حل یہ ہے کہ عدالت یہ تحقیق کرائے کہ مقتول واقعتا توہین رسالت کا مرتکب تھا یا نہیں؟ اگر ہوا تھا تو قاتل کو قانون اپنے ہاتھ میں لینے کے جرم کی سزا تو سنانی جائے لیکن قصاص نہ لیا جائے اور اگر عدالت اس تحقیق تک پہنچتی ہے کہ مقتول توہین رسالت کا مرتکب نہ تھا تو پھر اس صورت میں قاتل سے قصاص لیا جائے۔ واللہ اعلم بالصواب
 

انس

منتظم اعلیٰ
رکن انتظامیہ
شمولیت
مارچ 03، 2011
پیغامات
4,178
ری ایکشن اسکور
15,357
پوائنٹ
800
أَخْبَرَنَا عُثْمَانُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ قَالَ حَدَّثَنَا عَبَّادُ بْنُ مُوسَى قَالَ حَدَّثَنَا إِسْمَعِيلُ بْنُ جَعْفَرٍ قَالَ حَدَّثَنِي إِسْرَائِيلُ عَنْ عُثْمَانَ الشَّحَّامِ، قَالَ: كُنْتُ أَقُودُ رَجُلًا أَعْمَى فَانْتَهَيْتُ إِلَى عِكْرِمَةَ فَأَنْشَأَ يُحَدِّثُنَا، قَالَ حَدَّثَنِي ابْنُ عَبَّاسٍ أَنَّ أَعْمَى كَانَ عَلَى عَهْدِ رَسُولِ اللَّهِﷺ وَكَانَتْ لَهُ أُمُّ وَلَدٍ وَكَانَ لَهُ مِنْهَا ابْنَانِ وَكَانَتْ تُكْثِرُ الْوَقِيعَةَ بِرَسُولِ اللَّهِﷺ وَتَسُبُّهُ، فَيَزْجُرُهَا فَلَا تَنْزَجِرُ وَيَنْهَاهَا فَلَا تَنْتَهِي، فَلَمَّا كَانَ ذَاتَ لَيْلَةٍ ذَكَرْتُ النَّبِيَّ ﷺ فَوَقَعَتْ فِيهِ فَلَمْ أَصْبِرْ أَنْ قُمْتُ إِلَى الْمِغْوَلِ فَوَضَعْتُهُ فِي بَطْنِهَا فَاتَّكَأْتُ عَلَيْهِ فَقَتَلْتُهَا فَأَصْبَحَتْ قَتِيلًا، فَذُكِرَ ذَلِكَ لِلنَّبِيِّﷺ فَجَمَعَ النَّاسَ وَقَالَ: « أَنْشُدُ اللَّهَ رَجُلًا لِي عَلَيْهِ حَقٌّ فَعَلَ مَا فَعَلَ إِلَّا قَامَ » فَأَقْبَلَ الْأَعْمَى يَتَدَلْدَلُ فَقَالَ: يَا رَسُولَ اللَّهِ! أَنَا صَاحِبُهَا كَانَتْ أُمَّ وَلَدِي وَكَانَتْ بِي لَطِيفَةً رَفِيقَةً وَلِي مِنْهَا ابْنَانِ مِثْلُ اللُّؤْلُؤَتَيْنِ وَلَكِنَّهَا كَانَتْ تُكْثِرُ الْوَقِيعَةَ فِيكَ وَتَشْتُمُكَ فَأَنْهَاهَا فَلَا تَنْتَهِي وَأَزْجُرُهَا فَلَا تَنْزَجِرُ فَلَمَّا كَانَتْ الْبَارِحَةُ ذَكَرْتُكَ فَوَقَعَتْ فِيكَ فَقُمْتُ إِلَى الْمِغْوَلِ فَوَضَعْتُهُ فِي بَطْنِهَا فَاتَّكَأْتُ عَلَيْهَا حَتَّى قَتَلْتُهَا فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ ﷺ: « أَلَا اشْهَدُوا أَنَّ دَمَهَا هَدَرٌ » ... صحيح سنن النسائي: 4081

نبی کریمﷺ کے زمانے میں ایک نابینا شخص تھا، جس کی ایک لونڈی تھی جس سے اس کے دو بچے تھے، وہ اکثر نبی کریمﷺ کے متعلق بکواس اور سب وشتم کرتی تھی، وہ (نا بینا) صحابی اسے ڈانٹتے اور روکتے، لیکن وہ باز نہ آتی۔ (نا بینا صحابی﷜ بیان کرتے ہیں کہ) ایک رات میں نے نبی کریمﷺ کا ذکر کیا تو اس نے پھر آپﷺ کو برا بھلا کہا تو مجھ سے صبر نہ ہو سکا، میں نے نیزہ لیا، اس کے پیٹ پر رکھ کر بوجھ ڈالا، وہ مر گئی۔ جب نبی کریمﷺ کے سامنے اس کا تذکرہ ہوا تو آپ نے لوگوں کو جمع فرمایا اور کہا: ’’میں اس آدمی کو اللہ کی قسم دیتا ہوں، میرا اس پر حق ہے، جس نے یہ کام کیا ہے وہ کھڑا ہوجائے۔‘‘ تو یہ نابینا صحابی کھڑا ہوا اور لڑکھڑاتا ہوا آپ کے قریب آیا اور عرض کیا کہ میں نے یہ کام کیا ہے وہ میری لونڈی تھی اور میرے ساتھ بہت اچھی تھی اور میرے اس سے موتیوں جیسے دو بچے بھی ہیں، لیکن وہ آپ کو برا بھلا کہا کرتی اور گالیاں نکالا کرتی تھی، میں نے اسے منع کرتا تو وہ نہ رکتی۔ کل رات میں آپ کا ذکر کیا تو اس نے آپ کو برا بھلا کہا۔ میں نے اس کے پیٹ میں نیزہ مار کر اسے قتل کر دیا۔ رسول کریمﷺ نے فرمایا: ’’گواہ رہو کہ اس کا خون رائیگاں ہے۔‘‘
 

ریحان احمد

مشہور رکن
شمولیت
ستمبر 13، 2011
پیغامات
266
ری ایکشن اسکور
708
پوائنٹ
120
اب یہاں ایک سوال اور اٹھتا ہے۔۔۔۔
نابینا صحابی کی لونڈی حضرت محمد صلی اللہ علیہ وسلم کو گالیاں دیتی تھی۔ صحابی نے پہلے اسے سمجھایا، جب وہ سمجھانے پر بھی باز نہ آئی تو اسکو قتل کر دیا اور پھر نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی تقریر سے اسکی تائید ہو گئی۔۔ لیکن کیا سلمان تاثیر کے معاملے میں اسے سمجھانے کی کوئی کوشش کی گئی اور سلمان تاثیر نے بھی ایسی واضح گستاخی کی تھی جیسی کہ اس لونڈی نے؟؟
 
Top