• الحمدللہ محدث فورم کو نئےسافٹ ویئر زین فورو 2.1.7 پر کامیابی سے منتقل کر لیا گیا ہے۔ شکایات و مسائل درج کروانے کے لئے یہاں کلک کریں۔
  • آئیے! مجلس التحقیق الاسلامی کے زیر اہتمام جاری عظیم الشان دعوتی واصلاحی ویب سائٹس کے ساتھ ماہانہ تعاون کریں اور انٹر نیٹ کے میدان میں اسلام کے عالمگیر پیغام کو عام کرنے میں محدث ٹیم کے دست وبازو بنیں ۔تفصیلات جاننے کے لئے یہاں کلک کریں۔

اونٹ میں کتنے حصے ہیں؟

محمد ارسلان

خاص رکن
شمولیت
مارچ 09، 2011
پیغامات
17,859
ری ایکشن اسکور
41,101
پوائنٹ
1,155
السلام علیکم
اللہ کے پیارے رسول صلی اللہ علیہ وسلم نے اونٹ کی قربانی میں کتنے حصے مقرر کئے ہیں جیسے گائے یا بھینس میں سات حصے ہوتے ہیں۔
 

ابوالحسن علوی

علمی نگران
رکن انتظامیہ
شمولیت
مارچ 08، 2011
پیغامات
2,521
ری ایکشن اسکور
11,557
پوائنٹ
641
شیخ صالح المنجد ایک سوال کے جواب میں فرماتے ہیں:
سوال : كيا قربانى ميں حصہ ڈالنا جائز ہے، ايك قربانى ميں كتنے مسلمان شريك ہو سكتے ہيں ؟

الحمد للہ:​
اگر اونٹ يا گائے كى قربانى ہو تو اس ميں حصہ ڈالا جا سكتا ہے، ليكن اگر بكرى اور بھيڑ يا دنبہ كى قربانى كى جائے تو پھر اس ميں حصہ نہيں ڈالا جا سكتا، اور ايك گائے يا ايك اونٹ ميں سات حصہ دار شريك ہو سكتے ہيں.
صحابہ كرام رضى اللہ عنہم سے حج يا عمرہ كى ھدى ميں ايك اونٹ يا گائے ميں سات افراد كا شريك ہونا سے ثابت ہے.
امام مسلم رحمہ اللہ نے جابر بن عبد اللہ رضى اللہ تعالى عنہما سے روايت كيا ہے وہ بيان كرتے ہيں كہ:
" ہم نے حديبيہ ميں رسول كريم صلى اللہ عليہ وسلم كے ساتھ ايك اونٹ اور ايك گائے سات سات افراد كى جانب سے ذبح كى تھى "
صحيح مسلم حديث نمبر ( 1318 ).
اور ايك روايت ميں ہے كہ جابر بن عبد اللہ رضى اللہ تعالى عنہما بيا كرتے ہيں كہ:
" ہم نے رسول كريم صلى اللہ عليہ وسلم كے ساتھ حج كيا اور ايك اونٹ اور ايك گائے سات افراد كى جانب سے ذبح كي "
اور ابو داود كى روايت ميں ہے جابر بن عبد اللہ رضى اللہ تعالى عنہما بيان كرتے ہيں كہ رسول كريم صلى اللہ عليہ وسلم نے فرمايا:
" گائے سات افراد كى جانب سے ہے، اور اونٹ سات افراد كى جانب سے "
سنن ابو داود حديث نمبر ( 2808 ) علامہ البانى رحمہ اللہ نے صحيح ابو داود ميں اسے صحيح قرار ديا ہے.
امام نووى رحمہ اللہ مسلم كى شرح ميں رقمطراز ہيں:
" ان احاديث ميں قربانى كے جانور ميں حصہ ڈالنے كى دليل پائى جاتى ہے، اور علماء اس پر متفق ہيں كہ بكرے ميں حصہ ڈالنا جائز نہيں، اور ان احاديث ميں يہ بيان ہوا ہے كہ ايك اونٹ سات افراد كى جانب سے كافى ہوگا، اور گائے بھى سات افراد كى جانب سے، اور ہر ايك سات بكريوں كے قائم مقام ہے، حتى كہ اگر محرم شخص پر شكار كے فديہ كے علاوہ سات دم ہوں تو وہ ايك گائے يا اونٹ نحر كر دے تو سب سے كفائت كر جائيگا " انتہى مختصرا.
اور مستقل فتوى كميٹى سے قربانى ميں حصہ ڈالنے كے متعلق دريافت كيا گيا تو ان كا جواب تھا:
" ايك اونٹ اور ايك گائے سات افراد كى جانب سے كفائت كرتى ہے، چاہے وہ ايك ہى گھر كے افراد ہوں، يا پھر مختلف گھروں كے، اور چاہے ان كے مابين كوئى قرابت و رشتہ دارى ہو يا نہ ہو؛ كيونكہ نبى كريم صلى اللہ عليہ وسلم نے صحابہ كرام كو ايك گائے اور ايك اونٹ ميں سات افراد شريك ہونے كى اجازت دى تھى، اور اس ميں كوئى فرق نہيں كيا " انتہى.
ديكھيں: فتاوى اللجنۃ الدائمۃ للبحوث العلميۃ والافتاء ( 11 / 401 )
اور " احكام الاضحيۃ " ميں شيخ ابن عثيمين رحمہ اللہ كہتے ہيں:
" اور بكرى ايك شخص كى جانب سے كفائت كرےگى، اور اونٹ يا گائے ان سات افراد كى جانب سے كافى ہے جن كى جانب سے سات بكرياں كفائت كرتى ہيں " انتہى.
يعنى سات حصے ہونگے.
واللہ اعلم .
الاسلام سوال و جواب
 
Top