• الحمدللہ محدث فورم کو نئےسافٹ ویئر زین فورو 2.1.7 پر کامیابی سے منتقل کر لیا گیا ہے۔ شکایات و مسائل درج کروانے کے لئے یہاں کلک کریں۔
  • آئیے! مجلس التحقیق الاسلامی کے زیر اہتمام جاری عظیم الشان دعوتی واصلاحی ویب سائٹس کے ساتھ ماہانہ تعاون کریں اور انٹر نیٹ کے میدان میں اسلام کے عالمگیر پیغام کو عام کرنے میں محدث ٹیم کے دست وبازو بنیں ۔تفصیلات جاننے کے لئے یہاں کلک کریں۔

مصنوعی طریقے سے بچہ پیدا کرنا

مقبول احمد سلفی

سینئر رکن
شمولیت
نومبر 30، 2013
پیغامات
1,400
ری ایکشن اسکور
498
پوائنٹ
209
آج کل سائنس و ترقی کے نام پر متعدد ایسے حرام طریقے اپنائے جارہے ہیں جن کی اسلام میں قطعا گنجائش نہیں ۔ افسوس تو اس کا ہے کہ مسلمان بھی اس میں پیش پیش ہیں اور اس کام کی پرزور وکالت کرتے ہیں۔

مصنوعی حمل پہ اہل علم کے درمیان کافی بحث موجود ہے ۔ ان کا اختصار پیش خدمت ہے ۔

مصنوعی حمل کے ذریعہ بچہ پیدا کرنے کی مندرجہ ذیل صورتیں شرعا حرام ہیں ۔

(1) شوہر کی منی اور دوسری عورت کا بیضہ لیکر بیوی کے رحم میں ڈالا جائے ۔

(2) دوسرے مرد کی منی اور بیوی کا بیضہ لیکر بیوی کے رحم میں ڈالا جائے ۔

(3) شوہر کی منی اور بیوی کا بیضۃ لیکر دوسری عورت کے رحم میں ڈالا جائے ۔

(4) اجنبی مرد کی منی اور اجنبی عورت کا بیضہ لیکر بیوی کے رحم میں ڈالا جائے ۔

(5) شوہر کی منی اور پہلی بیوی کا بیضہ لیکر دوسری بیوی کے رحم میں ڈالا جائے ۔


ان صورتوں کے علاوہ بعض اہل علم نےضرورت کے تحت بعض صورتوں کو جائز قرار دیا ہے ۔

مثلا

(1) شوہر کی منی اور بیوی کا بیضہ لیکر باہر میں تلقیح کا عمل انجام دیا جائے پھر اسے بیوی کے رحم میں ڈالا جائے ۔

(2) شوہر کی منی لیکر بیوی کے رحم میں مناسب جگہ پہ رکھ کر تلقیح کا عمل کیا جائے ۔

پہلی پانچ صورتوں میں نسب کے اختلاط اور منی کے ضیاع کے ساتھ کئی حرام امور ہیں ، اور اوپر والی صورتوں کے ساتھ نیچے والی دو صورتوں میں بھی شرعی قباحتیں ہیں جیسے شوہر کے لئے جلق اور بیوی کی شرمگاہ کا ڈاکٹر کے سامنے کھولنا وغیرہ ۔

مذکورہ بالا سارے حالات میں میں یہ کہوں گا کہ بچے کی پیدائش کا معاملہ اللہ کے سپرد کردیا جائے کیونکہ وہ جسے چاہتا ہے اولاد سے نوازتا ہے ۔ فرمان باری تعالی ہے :
لِلّٰہِ مُلْکُ السَّمٰوٰتِ وَالْاَرْضِ یَخْلُقْ مَا یَشَآئُ، یَھَبُ لِمَنْ یَّشَآئُ اِنَاثاًوَّ یَھَبُ لِمَنْ یَّشَآئُ الذُّکُوْرَo اَوْیُزَوِّجُھُمْ ذُکْرَاناً وَّاِنَاثاً وَّیَجْعَلُ مَّنْ یَّشَآئُ عَقِیْماً، اِنَّہ، عَلِیْمٌ قَدِیْرٌo ﴿الشوریٰ:49-50﴾
ترجمہ : اللہ آسمانوں اور زمین کی بادشاہی کا مالک ہے جو کچھ چاہتا ہے پیدا کرتا ہے۔ جسے چاہتا ہے لڑکیاں دیتا ہے، جسے چاہتاہے لڑکے دیتا ہے، جسے چاہتا ہے لڑکے اور لڑکیاں ملا جلا کر دیتا ہے اور جسے چاہتا ہے بانجھ کردیتا ہے۔ وہ سب کچھ جانتا اور ہر چیز پر قادر ہے۔

اگرایک بیوی سے اولاد نہ ہو تو دوسری شادی کرے، دوسری سے بھی اولاد نہ ہو تو تیسری شادی کرے اور تیسری سے اولاد نہ ہو تو چوتھی شادی کرے اور اگر چوتھی سے بھی اولاد نہ ہو تو تقدیر کے لکھے پہ صبر کرے اور اللہ کے فیصلے سے راضی ہوجائے۔


واللہ اعلم
 

مقبول احمد سلفی

سینئر رکن
شمولیت
نومبر 30، 2013
پیغامات
1,400
ری ایکشن اسکور
498
پوائنٹ
209
اس موضوع پہ اہل علم کی مزید توجہ درکار ہےتاکہ موضوع نکھر کر سامنے آجائے ۔
 

عامر عدنان

مشہور رکن
شمولیت
جون 22، 2015
پیغامات
922
ری ایکشن اسکور
267
پوائنٹ
142
آج کل سائنس و ترقی کے نام پر متعدد ایسے حرام طریقے اپنائے جارہے ہیں جن کی اسلام میں قطعا گنجائش نہیں ۔ افسوس تو اس کا ہے کہ مسلمان بھی اس میں پیش پیش ہیں اور اس کام کی پرزور وکالت کرتے ہیں۔

مصنوعی حمل پہ اہل علم کے درمیان کافی بحث موجود ہے ۔ ان کا اختصار پیش خدمت ہے ۔

مصنوعی حمل کے ذریعہ بچہ پیدا کرنے کی مندرجہ ذیل صورتیں شرعا حرام ہیں ۔

(1) شوہر کی منی اور دوسری عورت کا بیضہ لیکر بیوی کے رحم میں ڈالا جائے ۔

(2) دوسرے مرد کی منی اور بیوی کا بیضہ لیکر بیوی کے رحم میں ڈالا جائے ۔

(3) شوہر کی منی اور بیوی کا بیضۃ لیکر دوسری عورت کے رحم میں ڈالا جائے ۔

(4) اجنبی مرد کی منی اور اجنبی عورت کا بیضہ لیکر بیوی کے رحم میں ڈالا جائے ۔

(5) شوہر کی منی اور پہلی بیوی کا بیضہ لیکر دوسری بیوی کے رحم میں ڈالا جائے ۔


ان صورتوں کے علاوہ بعض اہل علم نےضرورت کے تحت بعض صورتوں کو جائز قرار دیا ہے ۔

مثلا

(1) شوہر کی منی اور بیوی کا بیضہ لیکر باہر میں تلقیح کا عمل انجام دیا جائے پھر اسے بیوی کے رحم میں ڈالا جائے ۔

(2) شوہر کی منی لیکر بیوی کے رحم میں مناسب جگہ پہ رکھ کر تلقیح کا عمل کیا جائے ۔

پہلی پانچ صورتوں میں نسب کے اختلاط اور منی کے ضیاع کے ساتھ کئی حرام امور ہیں ، اور اوپر والی صورتوں کے ساتھ نیچے والی دو صورتوں میں بھی شرعی قباحتیں ہیں جیسے شوہر کے لئے جلق اور بیوی کی شرمگاہ کا ڈاکٹر کے سامنے کھولنا وغیرہ ۔

مذکورہ بالا سارے حالات میں میں یہ کہوں گا کہ بچے کی پیدائش کا معاملہ اللہ کے سپرد کردیا جائے کیونکہ وہ جسے چاہتا ہے اولاد سے نوازتا ہے ۔ فرمان باری تعالی ہے :
لِلّٰہِ مُلْکُ السَّمٰوٰتِ وَالْاَرْضِ یَخْلُقْ مَا یَشَآئُ، یَھَبُ لِمَنْ یَّشَآئُ اِنَاثاًوَّ یَھَبُ لِمَنْ یَّشَآئُ الذُّکُوْرَo اَوْیُزَوِّجُھُمْ ذُکْرَاناً وَّاِنَاثاً وَّیَجْعَلُ مَّنْ یَّشَآئُ عَقِیْماً، اِنَّہ، عَلِیْمٌ قَدِیْرٌo ﴿الشوریٰ:49-50﴾
ترجمہ : اللہ آسمانوں اور زمین کی بادشاہی کا مالک ہے جو کچھ چاہتا ہے پیدا کرتا ہے۔ جسے چاہتا ہے لڑکیاں دیتا ہے، جسے چاہتاہے لڑکے دیتا ہے، جسے چاہتا ہے لڑکے اور لڑکیاں ملا جلا کر دیتا ہے اور جسے چاہتا ہے بانجھ کردیتا ہے۔ وہ سب کچھ جانتا اور ہر چیز پر قادر ہے۔

اگرایک بیوی سے اولاد نہ ہو تو دوسری شادی کرے، دوسری سے بھی اولاد نہ ہو تو تیسری شادی کرے اور تیسری سے اولاد نہ ہو تو چوتھی شادی کرے اور اگر چوتھی سے بھی اولاد نہ ہو تو تقدیر کے لکھے پہ صبر کرے اور اللہ کے فیصلے سے راضی ہوجائے۔


واللہ اعلم
جزاک اللہ خیر
 
Top