• الحمدللہ محدث فورم کو نئےسافٹ ویئر زین فورو 2.1.7 پر کامیابی سے منتقل کر لیا گیا ہے۔ شکایات و مسائل درج کروانے کے لئے یہاں کلک کریں۔
  • آئیے! مجلس التحقیق الاسلامی کے زیر اہتمام جاری عظیم الشان دعوتی واصلاحی ویب سائٹس کے ساتھ ماہانہ تعاون کریں اور انٹر نیٹ کے میدان میں اسلام کے عالمگیر پیغام کو عام کرنے میں محدث ٹیم کے دست وبازو بنیں ۔تفصیلات جاننے کے لئے یہاں کلک کریں۔

ایک حدیث کی تحقیق درکار ہے

اسحاق سلفی

فعال رکن
رکن انتظامیہ
شمولیت
اگست 25، 2014
پیغامات
6,372
ری ایکشن اسکور
2,634
پوائنٹ
791
تحقیق حدیث کے زمرے میں محترم بھائی akramali1436ram نے درج ذیل سوال پوچھا ہے ؛
ــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ
@akramali1436ram i
غزوہ بدر کے موقع پر صفیں درست کرواتے وقت جب آپ صلی اللہ علیہ و سلم کے تیر کا دباؤ سواد بن غزیہ کے پیٹ پر پڑا...
بعد میں اس نے بدلہ مانگا اور نبی کریم صلی اللہ علیہ و سلم کے پیٹ مبارک پر بوسہ دیا
یہ واقعہ سیرت رحیق المختوم میں نقل ہوا ہے مگر بغیر حوالہ کے.. اس کی مکمل تخریج درکار ہے.
اسحاق سلفی بھائی
خضر حیات بھائی
ـــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ
جواب :
بسم اللہ الرحمن الرحیم
الرحیق المختوم میں درج واقعہ علامہ البانی نے ( سلسلة الأحاديث الصحيحة ) میں نقل کرکے اس کی سند کو حسن کہا ہے :

" استو يا سواد! ".
أخرجه ابن إسحاق في " السيرة " (2 / 266 - سيرة ابن هشام) ومن طريقه أبونعيم في " معرفة الصحابة "
(ق 303 / 1) وابن الأثير في " أسد الغابة " (2 /332)
قال ابن إسحاق: وحدثني حبان بن واسع بن حبان عن أشياخ من قومه: أن
رسول الله صلى الله عليه وسلم عدل صفوف أصحابه يوم بدر، وفي يده قدح يعدل به القوم، فمر بسواد بن غزية - حليف بني عدي بن النجار - وهو مستنتل من الصف،فطعن في بطنه بالقدح،
وقال: " استو يا سواد "، فقال: يا رسول الله! أوجعتني وقد بعثك الله بالحق والعدل، فأقدني. قال: فكشف رسول الله صلىالله عليه وسلم عن بطنه، وقال: " استقد "، قال: فاعتنقه فقبل بطنه، فقال: " ما حملك على هذا يا سواد؟ " قال: يا رسول الله! حضر ما ترى، فأردت أن
يكون آخر العهد بك: أن يمس جلدي جلدك! فدعا له رسول الله صلى الله عليه وسلم بخير وقال له: فذكره.
قلت: وهذا إسناد حسن إن شاء الله تعالى لأن الأشياخ من قوم حبان من الأنصار، فإن كانوا من الصحابة فلا إشكال، وإن كانوا منالتابعين فهم من كبارهم، لأن حبان تابعي من الخامسة عند الحافظ، وهم جمع لايضر جهالتهم كما هو معروف عند أهل العلم. وروايتهم لهذه القصة تدل على أنها كانت مشهورة عندهم، متداولة بينهم. وقد ذكر لها الحافظ في " الإصابة " شاهدا
من مرسل جعفر بن محمد عن أبيه: أن النبي صلى الله عليه وسلم كان يتخطى بعرجون، فأصاب به سواد بن غزية الأنصاري.. فذكر القصة. قلت: وأخرجها ابن سعد فيترجمة سواد بن غزية (3 / 516 - 517) بسند صحيح عن الحسن مرسلا بلفظ: " رأىسواد بن عمرو.. " قال ابن سعد: هكذا قال إسماعيل. يعني ابن علية. ومالالحافظ إلى تعدد القصة. والله أعلم.



جنگ ِبدر میں صفوں کی درستگی کے دوران ایک واقعہ پیش آیا۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے ہاتھ میں ایک تیر تھا، جس کے ذریعے آپ صلی اللہ علیہ وسلم صف سیدھی فرما رہے تھے کہ سواد بن غزیہ کے پیٹ پر،جو صف سے کچھ آگے نکلے ہوئے تھے، ہلکا دباؤ ڈالتے ہوئے فرمایا: سواد برابر ہوجاؤ۔ سواد نے کہا: اے اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم ! آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھے تکلیف پہنچائی ہے، بدلہ دیجئے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنا پیٹ کھول دیا اور فرمایا: بدلہ لے لو۔ سوادؓ آپ صلی اللہ علیہ وسلم سے چمٹ گئے اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے پیٹ کو چومنے لگے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اے سواد! تجھے ایسا کرنے پر کس بات نے آمادہ کیا؟ انہوں نے کہا: اے اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم ! جو کچھ درپیش ہے، آپ دیکھ ہی رہے ہیں، شاید یہ میری آپ سے آخری ملاقات ہو تو میں نے چاہا کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ آخری ملاقات اس طرح ہو کہ میری جلد آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی جلد سے چھو جائے۔ اس پر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان کے لئے دعا فرمائی۔‘‘
علامہ البانی کہتے ہیں : ابن اسحاق اس واقعہ کو ’’ سیرۃ ‘‘ اور امام ابو نعیم نے ’’ معرفۃ الصحابہ ‘‘ میں اور ابن اثیر نے ’’ اسد الغابہ ‘‘ میں نقل کیا ہے
اس کی سند حسن ہے
 
Top