محمد عامر یونس
خاص رکن
- شمولیت
- اگست 11، 2013
- پیغامات
- 17,117
- ری ایکشن اسکور
- 6,822
- پوائنٹ
- 1,069
گناہ کو چھوڑنے میں مدد کرنے والے امور :
نصر اللہ
شیخ العرب صالح العثیمین رحمہ اللہ سے سوال ہوا کہ وہ کونسے امور ہیں جو انسان کے گناہ چھوڑنے پر مدد کر سکتے ہیں تو انہوں نے جو جواب دیا اس کا ترجمہ پیش خدمت ہے۔
سوال :
وہ کو نسے ایسے کام ہیں جو انسان کے گناہ چھوڑنے میں مدد کر سکتے ہیں؟
جواب:
گناہ چھوڑنے میں سب سے اہم چیز جو انسان کا تعاون کر سکتی ہے وہ اللہ کا ڈر ہے۔اور یہ کہ آدمی باربار اللہ کے اس قول کو سوچے:
يٰٓاَيُّهَا الْاِنْسَانُ اِنَّكَ كَادِحٌ اِلٰى رَبِّكَ كَدْحًا فَمُلٰقِيْهِ
اے انسان ! تو کشاں کشاں اپنے رب کی طرف چلا جا رہا ہے اور اس سے ملنے والا ہے ۔(6)
اور انسان اس بات پر ایمان اور یقین رکھے کے وہ جو بھی عمل کرے گا اسی عمل کے ساتھ اللہ رب العزت سے ملاقات کرے گا۔
2: انسان اپنے انجام کی فکر کرے کہ گناہوں کا انجام کیا ہے؟ یقنا گناہوں کا انجام برا ہی ہے۔کیونکہ یہ گناہ انسان کو اللہ کی نافرمانی پر آسان کر دیتے ہیں،ہمیشہ آدمی کے ساتھ شیطان رہتا ہے یہاں تک کہ وہ اس کو شرک تک پہنچا دیتاہے۔
اسی لئے بعض اہل علم فرماتے ہیں کہ:
بیشک گناہ کفر کا راستہ ہیں،یعنی انسان اس میں رفتہ رفتہ داخل ہوتارہتا ہے یہاں تک کے اس کے انجام (کفر) تک پہنچ جاتا ہے۔العیاذ باللہ۔ اور اس پر اللہ رب العزت کا یہ فرمان دلیل ہے:
اِذَا تُتْلٰى عَلَيْهِ اٰيٰـتُنَا قَالَ اَسَاطِيْرُ الْاَوَّلِيْنَ 13ۭ
اسے جب ہماری آیات سنائی جاتی ہیں تو کہتا ہے یہ تو اگلے وقتوں کی کہانیاں ہیں۔ (13
(كَلَّا بَلْ ۫ رَانَ عَلٰي قُلُوْبِهِمْ مَّا كَانُوْا يَكْسِبُوْنَ 14) 83۔المطففین:14)
ہر گز نہیں ! بلکہ دراصل اِن کے دلوں پر اِن کے برے اعمال کا زنگ چڑھ گیا ہے۔(14)
جب گناہ انسان کے دل کو ڈھانپ لیتے ہیں تو قرآن پاک کو اس کےلئے ایسے کر دیتے ہیں کہ جیسے پہلے لوگوں کی قصے کہانیاں لگتی ہیں،لہذا جب بھی انسان گناہ کے انجام میں غور و فکر کرتا ہے تو یہ اس کے گناہ چھوڑنے کا سبب بنتا ہے۔
3: لہذا انسان کو جان لینا چاہئے کہ گناہ انسان کو صرف و صرف اللہ رب العزت سے دور کرتے ہیں،اور جب وہ اللہ سے دور ہو جاتا ہے تولوگ اس سے دور ہو جاتے ہیں،
کیونکہ جب انسان اللہ سے دور ہوتا ہے تو اس کے دل میں وحشت پیدا ہو جاتی ہے،اور وہ لوگوں کے سامنے ایک کھلے صفحہ کی مانند ہو جا تا ہے گویا کہ لو گ اس کے گناہ اور عیوب پڑھ رہے ہوتے ہیں۔ اور آپ اس کو اس حال میں پائیں گے گویا کہ اس پر ذلت کو لکھ دیا گیا ہے، پس ایسی اور اس جیسی چیزوں پر غور کرنا چاہئے،کیونکہ ایسی چیزوں پر غور کرنا انسان کو گناہ چھوڑنے پر آمادہ کرتا ہے۔
4: اور ان ہی اسباب میں سےخاص کر کےجب گناہ برے لوگوں کی صحبت کی وجہ سے ہو تو ان سے دور ہو جانا چاہئے اور ان سےبچ جانا چاہئے، کیونکہ رسول اللہ ﷺ نے برے لوگوں کے ساتھ بیٹھنے والے لوگوں کی مثال آگ میں پھونک مارنے (لوہار)والے کی طرح دی ہے۔
رسول اللہ ﷺ نے فرمایا:
إِمَّا أَنْ يُحْرِقَ ثِيَابَكَ، وَإِمَّا أَنْ تَجِدَ منہ رِيحًا خَبِيثَةً "
ترجمہ: یا تو وہ تمہارے کپڑے جلا دےگا ، یا پھر تم اس سے بدبو کو پاؤ گے۔
Last edited: