محمد ارسلان
خاص رکن
- شمولیت
- مارچ 09، 2011
- پیغامات
- 17,859
- ری ایکشن اسکور
- 41,102
- پوائنٹ
- 1,155
السلام علیکم
کیاکسی کا باپ کلمہ گو مشرکوں (بریلوی،شیعہ وغیرہ)میں سے ہو تو اس کے مرنے کے بعد اس کی موحد اولاد اس کے مال و جائیداد کی وارث بن سکتی ہے؟اور اگر کسی کو پتہ نہ ہو کہ مرنے والے کا عقیدہ کیا تھا تو اس صورت میں کیا کرنا چاہیے؟
کیاکسی کا باپ کلمہ گو مشرکوں (بریلوی،شیعہ وغیرہ)میں سے ہو تو اس کے مرنے کے بعد اس کی موحد اولاد اس کے مال و جائیداد کی وارث بن سکتی ہے؟اور اگر کسی کو پتہ نہ ہو کہ مرنے والے کا عقیدہ کیا تھا تو اس صورت میں کیا کرنا چاہیے؟