محمد عامر یونس
خاص رکن
- شمولیت
- اگست 11، 2013
- پیغامات
- 17,117
- ری ایکشن اسکور
- 6,822
- پوائنٹ
- 1,069
جماعت الدعوه کی ثالثی کونسل.........اور خون پینے والے ڈریکولا
ایک ہی خبر کے کئی پہلو ہیں..کس کس پر بات کی جائے....؟؟....جماعت الدعوه کے کتنے ہی معاملات سے ہم کو بھی اختلاف ہے....لیکن اس کے کئی کام ایسے ہیں کہ محض تحسین کافی نہیں ہوتی ، دل سے دعا نکلتی ہے....
اندھوں کو بھی نظر آتا ہے کہ جیو ٹی وی کا یہ پروگرام جو جماعت الدعوه کی مصالحتی کونسل پر کیا گیا.....یہ بنا کسی ایجنڈے کے نہیں ہو گیا بلکہ خاص ہدف کے تحت کیا گیا ہے.....
مقصد وہی ! کہ لال مسجد والا ماحول لاہور میں بھی پیدا کیا جا سکے... مولویوں کو ریاست کا باغی قرار دیا جائے...اور حکومت کو دباؤ میں لایا جائے.......آج بھی لوگ لال مسجد والے قصے میں میڈیا کا مکروہ چہرہ بھول نہیں پائے...بیسیوں ایسے مواقع آئے جب قتل و غارت گری رک سکتی تھی ...لیکن خون پینے والے ڈریکولا اس بیچ کہاں جاتے ان کی پیاس کیسے بجھتی؟؟ ...سو بچے قتل ہووے اور خوب خون بہا.. ...بلکہ میڈیا پر بیٹھے "انسانیت" کے نام نہاد سیوک ان دنوں "مار دو ، جانے نہ پائے " کے نعرے لگاتے رہے....پھر چشم کائنات نے سینکڑوں معصوم بچیوں کی المناک موت کو دیکھا...لیکن حیرت اس امر پر ہے کہ آج تک ان میں سے کسی کا ضمیر نہیں جاگا....آپ ضمیر کی بات کرتے ہیں ...جن کو رات گیارہ بجے کے بعد اتنی ہوش نہیں ہوتی کہ محرمات کون ہیں ان سے زندہ ضمیری کا تقاضا بذات خود لطیفہ ہے
.....ان کی جہالت کی حالت یہ ہے..... کہ ہر گاؤں اور بہت سے شہروں میں باضابطہ "پنچایت" ہوتی ہے لیکن اس پر ان کی نظر کبھی نہیں گئی....زیادہ پرانی بات نہیں کہ ان پنچایتوں کے فیصلوں کو عدالتیں بھی اہمیت دیتی تھیں...لیکن "جہل مرکب" کا نام جب "ٹاک شو" رکھ دیا جائے تو ایسے ہی "ڈرامے " ریلیز ہوں گے......کسی کے "پے رول" پر ہو کے بات کرنا یا انڈیا کو خوش کرنے کے لیے پروگرام کرنا آسان ہے ، لیکن حقیقی سچ بولنا بہت مشکل ہے...کیا خوانین خیبر پی کے اور بلوچ سردار سب نے اپنے اپنے علاقے میں عدالتیں نہیں سجائی ہوئیں..؟...کیا وہ ظالمانہ فیصلے نہیں کرتے؟. کیا انہوں نے قانون کو بازیچہ اطفال بنا کر نہیں رکھ دیا ..؟ ان کو اندرون سندھ کے سرداروں کے جرگے دکھائی نہیں دیتے جہاں حکمران اشرافیہ اور "ایس پیز سے لے کر آئ جیز" تک ہاتھ جوڑے "نمستے سرکار" کر رہے ہوتے ہیں...سب دکھتا ہے میرے بھائی..لیکن مجال ہے یہ نام نہاد صحافی ادھر ایک آنکھ بھی اٹھا سکیں .... وہاں تو ان کو اگر مجبوری سے بھی بات کرنا پڑ جائے تو حفظ ما تقدم کے لیے "پمپر" باندھنا پڑتا ہے......
محض ایک مصالحتی کمیٹی کو بدیانتی سے "عدالت" بنا کے پیش کرنا ضمیر کی موت ہی ہے...اس پروگرام کا واضح مقصد ہے کہ حکومتی رٹ کا رونا رویا جائے... سوال یہ ہے کہ ایسا کس کے اشارے پر کیا گیا ہے؟....تو اس کا جواب کوی مسلہ " فیثا غورث" نہیں جو حل ہونا مشکل ہو....کبھی اس پر بھی بات رہے گی..
رہے رانا ثناء اللہ .....حیرت ہے جنہوں نے اس ملک میں کرپشن اور لاقانونیت کے نت نئے ریکارڈ بنائے وہ قانون کی بات کر رہے ہیں...ان کو تو یہی کہنا کافی ہے کہ حضرت جس گلی میں آپ کی جماعت پیدا ہوئی وہاں شرافت اور ضمیر ہمیشہ منہ چھپا کے گزرتے ہیں ....آپ سے کیا کہیں؟...
لیکن جماعت الدعوه والوں سے بھی عرض ہے کہ ہمیں معلوم ہے کہ آپ ان میڈیا والوں کو کچھ نہیں کہیں گے.. بلکہ مسکرا کے "معاف" کر دیں گے....لیکن آپ کی تاریخ میں ایسا دور گزرا ہے کہ جب آپ اہل حدیثوں کے بزرگ ان سے ذرا بھی بلیک میل نہیں ہوتے تھے....یہ پھر بھی ان کی خبریں لگانے پر مجبور ہوتے تھے.......لیکن اس میں ذرا لگتی ہے محنت زیادہ
......................................ابو بکر قدوسی
ایک ہی خبر کے کئی پہلو ہیں..کس کس پر بات کی جائے....؟؟....جماعت الدعوه کے کتنے ہی معاملات سے ہم کو بھی اختلاف ہے....لیکن اس کے کئی کام ایسے ہیں کہ محض تحسین کافی نہیں ہوتی ، دل سے دعا نکلتی ہے....
اندھوں کو بھی نظر آتا ہے کہ جیو ٹی وی کا یہ پروگرام جو جماعت الدعوه کی مصالحتی کونسل پر کیا گیا.....یہ بنا کسی ایجنڈے کے نہیں ہو گیا بلکہ خاص ہدف کے تحت کیا گیا ہے.....
مقصد وہی ! کہ لال مسجد والا ماحول لاہور میں بھی پیدا کیا جا سکے... مولویوں کو ریاست کا باغی قرار دیا جائے...اور حکومت کو دباؤ میں لایا جائے.......آج بھی لوگ لال مسجد والے قصے میں میڈیا کا مکروہ چہرہ بھول نہیں پائے...بیسیوں ایسے مواقع آئے جب قتل و غارت گری رک سکتی تھی ...لیکن خون پینے والے ڈریکولا اس بیچ کہاں جاتے ان کی پیاس کیسے بجھتی؟؟ ...سو بچے قتل ہووے اور خوب خون بہا.. ...بلکہ میڈیا پر بیٹھے "انسانیت" کے نام نہاد سیوک ان دنوں "مار دو ، جانے نہ پائے " کے نعرے لگاتے رہے....پھر چشم کائنات نے سینکڑوں معصوم بچیوں کی المناک موت کو دیکھا...لیکن حیرت اس امر پر ہے کہ آج تک ان میں سے کسی کا ضمیر نہیں جاگا....آپ ضمیر کی بات کرتے ہیں ...جن کو رات گیارہ بجے کے بعد اتنی ہوش نہیں ہوتی کہ محرمات کون ہیں ان سے زندہ ضمیری کا تقاضا بذات خود لطیفہ ہے
.....ان کی جہالت کی حالت یہ ہے..... کہ ہر گاؤں اور بہت سے شہروں میں باضابطہ "پنچایت" ہوتی ہے لیکن اس پر ان کی نظر کبھی نہیں گئی....زیادہ پرانی بات نہیں کہ ان پنچایتوں کے فیصلوں کو عدالتیں بھی اہمیت دیتی تھیں...لیکن "جہل مرکب" کا نام جب "ٹاک شو" رکھ دیا جائے تو ایسے ہی "ڈرامے " ریلیز ہوں گے......کسی کے "پے رول" پر ہو کے بات کرنا یا انڈیا کو خوش کرنے کے لیے پروگرام کرنا آسان ہے ، لیکن حقیقی سچ بولنا بہت مشکل ہے...کیا خوانین خیبر پی کے اور بلوچ سردار سب نے اپنے اپنے علاقے میں عدالتیں نہیں سجائی ہوئیں..؟...کیا وہ ظالمانہ فیصلے نہیں کرتے؟. کیا انہوں نے قانون کو بازیچہ اطفال بنا کر نہیں رکھ دیا ..؟ ان کو اندرون سندھ کے سرداروں کے جرگے دکھائی نہیں دیتے جہاں حکمران اشرافیہ اور "ایس پیز سے لے کر آئ جیز" تک ہاتھ جوڑے "نمستے سرکار" کر رہے ہوتے ہیں...سب دکھتا ہے میرے بھائی..لیکن مجال ہے یہ نام نہاد صحافی ادھر ایک آنکھ بھی اٹھا سکیں .... وہاں تو ان کو اگر مجبوری سے بھی بات کرنا پڑ جائے تو حفظ ما تقدم کے لیے "پمپر" باندھنا پڑتا ہے......
محض ایک مصالحتی کمیٹی کو بدیانتی سے "عدالت" بنا کے پیش کرنا ضمیر کی موت ہی ہے...اس پروگرام کا واضح مقصد ہے کہ حکومتی رٹ کا رونا رویا جائے... سوال یہ ہے کہ ایسا کس کے اشارے پر کیا گیا ہے؟....تو اس کا جواب کوی مسلہ " فیثا غورث" نہیں جو حل ہونا مشکل ہو....کبھی اس پر بھی بات رہے گی..
رہے رانا ثناء اللہ .....حیرت ہے جنہوں نے اس ملک میں کرپشن اور لاقانونیت کے نت نئے ریکارڈ بنائے وہ قانون کی بات کر رہے ہیں...ان کو تو یہی کہنا کافی ہے کہ حضرت جس گلی میں آپ کی جماعت پیدا ہوئی وہاں شرافت اور ضمیر ہمیشہ منہ چھپا کے گزرتے ہیں ....آپ سے کیا کہیں؟...
لیکن جماعت الدعوه والوں سے بھی عرض ہے کہ ہمیں معلوم ہے کہ آپ ان میڈیا والوں کو کچھ نہیں کہیں گے.. بلکہ مسکرا کے "معاف" کر دیں گے....لیکن آپ کی تاریخ میں ایسا دور گزرا ہے کہ جب آپ اہل حدیثوں کے بزرگ ان سے ذرا بھی بلیک میل نہیں ہوتے تھے....یہ پھر بھی ان کی خبریں لگانے پر مجبور ہوتے تھے.......لیکن اس میں ذرا لگتی ہے محنت زیادہ
......................................ابو بکر قدوسی