عبد الرشید
رکن ادارہ محدث
- شمولیت
- مارچ 02، 2011
- پیغامات
- 5,539
- ری ایکشن اسکور
- 9,997
- پوائنٹ
- 667
کتاب کا نام
مقام صحابہؓ اور سیدنا معاویہ رضی اللہ عنہ
ناشر
نشریات لاہور
تبصرہ
رسول اللہ ﷺ نے جن لوگوں کو دین کی دعوت دی اور ان میں میں سے جو لوگ آپﷺ پر ایمان لائے وہ آپ ﷺ کے صحابہ کہلائے۔صحابی ہو نے کا یہ مقام کسبی نہیں ہے اور نہ یہ ارتقا اور محنت ہی سے حاصل ہوسکتا ہے، بلکہ یہ مقام اللہ تعالیٰ کا انتخاب ہے اور اس کا چناؤ ہے۔اور صحابہ کرام کے باری میں پوری امت مسلمہ کا یہ متفقہ اور اجماعی عقیدہے کہ تمام صحابہ کی تعظیم وتکریم کرنا اور ان سے اور ان سے اپنی محبت کا اظہار کرنا واجب ہے۔یہ بات کسی کے لیے جائز نہیں کہ وہ صحابہ کرام کی برائی کرے یا ان کی ذوات میں کوئی عیب نکالے۔جو ایسا کرے وہ بقول حافظ ابن تیمیہؒ اس کو سزا دی جائے گی۔’’الصارم المسلول‘‘کیونکہ صحابہ کے بارے میں اللہ رب العزت کا یہ فیصلہ ہے کہ ،اللہ ان سے راضی ہے اور وہ اللہ سے راضی ہیں اور ان کو دنیا میں ہی جنت کی بشارت دی ہے۔’’وَالسَّابِقُونَ الْأَوَّلُونَ مِنَ الْمُهَاجِرِينَ وَالْأَنْصَارِ وَالَّذِينَ اتَّبَعُوهُمْ بِإِحْسَانٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمْ وَرَضُوا عَنْهُ وَأَعَدَّ لَهُمْ جَنَّاتٍ تَجْرِي تَحْتَهَا الْأَنْهَارُ خَالِدِينَ فِيهَا أَبَدًا ذَلِكَ الْفَوْزُ الْعَظِيمُ ‘‘(القرآن) زیر تبصرہ کتاب ’’مقام صحابہ اور سیدنا معاویہ‘‘پروفیسر حافظ اظہر محمود کی تصنیف کرداہے جس میں انہوں نے حضرت امیر معاویہ کاتب وحی،صحابی رسول، خلیفةالمسلمین جرنیل اسلام، فاتح عرب وعجم، امام تدبیر وسیاست، محسن اسلام حضر ت امیر معاویہ کی ذات اور ان کی دور حکمت پر کیے جانے والے اعتراضات کے جوابات دیے ہیں، امیر معاویہ وہ خوش نصیب انسان ہیں جن کو جلیل القدر صحابی ہونے کے ساتھ کاتب وحی اور پہلے اسلامی بحری بیڑے کے امیر ہونے کا اعزاز بھی حاصل ہے۔ اور آپ کے لیے حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی زبان سے کئی دفعہ دعائیں اور بشارتیں نکلیں، آپ کی بہن حضرت سیدہ ام حبیبہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا کو حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی زوجہ محترمہ اور ام المومنین ہونے کا شرف بھی حاصل ہے۔اللہ رب العزت سے دعا کرتے ہیں کہ اللہ فاضل مصنف کو اس کار خیر پر اجرے عظیم سے نوازے۔آمین (شعیب خان)
مقام صحابہؓ اور سیدنا معاویہ رضی اللہ عنہ
مصنف
پروفیسر حافظ اظہر محمودناشر
نشریات لاہور
تبصرہ
رسول اللہ ﷺ نے جن لوگوں کو دین کی دعوت دی اور ان میں میں سے جو لوگ آپﷺ پر ایمان لائے وہ آپ ﷺ کے صحابہ کہلائے۔صحابی ہو نے کا یہ مقام کسبی نہیں ہے اور نہ یہ ارتقا اور محنت ہی سے حاصل ہوسکتا ہے، بلکہ یہ مقام اللہ تعالیٰ کا انتخاب ہے اور اس کا چناؤ ہے۔اور صحابہ کرام کے باری میں پوری امت مسلمہ کا یہ متفقہ اور اجماعی عقیدہے کہ تمام صحابہ کی تعظیم وتکریم کرنا اور ان سے اور ان سے اپنی محبت کا اظہار کرنا واجب ہے۔یہ بات کسی کے لیے جائز نہیں کہ وہ صحابہ کرام کی برائی کرے یا ان کی ذوات میں کوئی عیب نکالے۔جو ایسا کرے وہ بقول حافظ ابن تیمیہؒ اس کو سزا دی جائے گی۔’’الصارم المسلول‘‘کیونکہ صحابہ کے بارے میں اللہ رب العزت کا یہ فیصلہ ہے کہ ،اللہ ان سے راضی ہے اور وہ اللہ سے راضی ہیں اور ان کو دنیا میں ہی جنت کی بشارت دی ہے۔’’وَالسَّابِقُونَ الْأَوَّلُونَ مِنَ الْمُهَاجِرِينَ وَالْأَنْصَارِ وَالَّذِينَ اتَّبَعُوهُمْ بِإِحْسَانٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمْ وَرَضُوا عَنْهُ وَأَعَدَّ لَهُمْ جَنَّاتٍ تَجْرِي تَحْتَهَا الْأَنْهَارُ خَالِدِينَ فِيهَا أَبَدًا ذَلِكَ الْفَوْزُ الْعَظِيمُ ‘‘(القرآن) زیر تبصرہ کتاب ’’مقام صحابہ اور سیدنا معاویہ‘‘پروفیسر حافظ اظہر محمود کی تصنیف کرداہے جس میں انہوں نے حضرت امیر معاویہ کاتب وحی،صحابی رسول، خلیفةالمسلمین جرنیل اسلام، فاتح عرب وعجم، امام تدبیر وسیاست، محسن اسلام حضر ت امیر معاویہ کی ذات اور ان کی دور حکمت پر کیے جانے والے اعتراضات کے جوابات دیے ہیں، امیر معاویہ وہ خوش نصیب انسان ہیں جن کو جلیل القدر صحابی ہونے کے ساتھ کاتب وحی اور پہلے اسلامی بحری بیڑے کے امیر ہونے کا اعزاز بھی حاصل ہے۔ اور آپ کے لیے حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی زبان سے کئی دفعہ دعائیں اور بشارتیں نکلیں، آپ کی بہن حضرت سیدہ ام حبیبہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا کو حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی زوجہ محترمہ اور ام المومنین ہونے کا شرف بھی حاصل ہے۔اللہ رب العزت سے دعا کرتے ہیں کہ اللہ فاضل مصنف کو اس کار خیر پر اجرے عظیم سے نوازے۔آمین (شعیب خان)