• الحمدللہ محدث فورم کو نئےسافٹ ویئر زین فورو 2.1.7 پر کامیابی سے منتقل کر لیا گیا ہے۔ شکایات و مسائل درج کروانے کے لئے یہاں کلک کریں۔
  • آئیے! مجلس التحقیق الاسلامی کے زیر اہتمام جاری عظیم الشان دعوتی واصلاحی ویب سائٹس کے ساتھ ماہانہ تعاون کریں اور انٹر نیٹ کے میدان میں اسلام کے عالمگیر پیغام کو عام کرنے میں محدث ٹیم کے دست وبازو بنیں ۔تفصیلات جاننے کے لئے یہاں کلک کریں۔

لگ جا بیٹا لائن میں

شمولیت
اگست 11، 2013
پیغامات
17,117
ری ایکشن اسکور
6,823
پوائنٹ
1,069
لگ جا بیٹا لائن میں

میرشاہد حسین 4 گھنٹے پہلے


اب آپ کیا چاہتے ہو بغیر لائن کے تمہارا کام ہوجائے؟ بھلا یہ کیسے ممکن ہے؟ آپ زرداری کے بیٹے بلاول ہو؟ یا آپ کا تعلق شریف خاندان سے ہے؟
”ہمارے یہاں عقلمندوں کی کمی نہیں، ایک ڈھونڈو ہزار ملتے ہیں۔“
”جب ہزار ملتے ہیں تو پھر ڈھونڈنے کی کیا ضرورت ہے؟“
” اسی لئے ڈھونڈنے کی زحمت نہیں کی جاتی بلکہ جو مل جائے اسی سے کام چلا لیا جاتا ہے۔“
” ایسا کیا ہوگیا، کچھ بتاؤ گے بھی یا پہیلیاں ہی بھجواتے رہو گے؟“
”اب دیکھو ناں ہمارے ملک میں جو عقلمند ملتے ہیں وہ عوام کے خادم نہیں بلکہ عوام کے حاکم ہوتے ہیں۔ اسی لئے وہ عقلمندی کے ایسے جوہر دکھاتے ہیں کہ جس سے عوام کے چودہ طبق روشن ہوجاتے ہیں۔“
” ایسا کیا ہوگیا جو تم ایسی بہکی بہکی باتیں کررہے ہو؟“
”وارداتیں ہورہی ہیں یا ہونے کا خطرہ ہے تو ڈبل سواری پر پابندی لگا دو۔ موبائل سے ریکی کی جاتی ہے تو موبائل کا نیٹ ورک بند کردو۔ بجلی کی ادائیگی کسی علاقے میں کم ہورہی ہے تو وہاں پر لوڈ شیڈنگ کرو۔ آٹا مہنگا ہے تو ڈبل روٹی کھا لو۔ “
”واقعی یہ بات تو تم نے ٹھیک کہی، لیکن اصل بات کیا ہے؟ وہ بتاؤ، یہ پرانی باتیں ہیں۔“
”عوام کے نصیب میں دربدر کی ٹھوکریں کھانا لکھا ہے۔ کبھی یوٹیلٹی بلوں کے لئے لائن میں لگایا جاتا ہے، کہیں گیس بھروانے کی لائن میں لگایا گیا، کہیں پیٹرول نایاب کرکے لائن میں لگایا گیا، کہیں سم رجسٹریشن کے نام پر لائن میں لگایا گیا، کہیں ووٹ ڈالنے کے لئے لائن میں لگایا، کہیں لائسنس کے لئے لائن میں لگایا اور کہیں شناختی کارڈ کے حصول کے لیے نادرا کی لائن میں لگایا ۔“
”جو قوم لائن پر نہیں آتی پھر اسے اسی طرح لائن میں لگایا جاتا ہے۔ تم یہ بتاؤ کہ ابھی کون سی لائن لگنے والی ہے؟“
”سنا ہے چھ ماہ میں شناختی کارڈ کی دوبارہ تصدیق ہوگی۔“
”ٹھیک سنا ہے۔“
”مطلب ایک بار پھر دوبارہ سے لائن میں لگ کر تصدیق کرنی ہوگی؟“
” اب تک تو آپ کو لائن میں لگنے کی عادت ہوجانی چاہیئے تھی۔ لیکن چونکہ یہ قوم لائن میں لگنے کی عادی نہیں اس لیے یہ عمل بار بار دہرایا جاتا ہے۔“
”اب آپ کیا چاہتے ہو بغیر لائن کے تمہارا کام ہوجائے؟ بھلا یہ کیسے ممکن ہے؟ آپ زرداری کے بیٹے بلاول تو نہیں ہیں یا آپ شریف خاندان سے تو تعلق نہیں رکھتے جو آپ بغیر لائن میں لگے اپنا کام کروا سکیں۔“
”تو پھر ایک کام کیوں نہیں کرتے۔ سب کو لائن میں لگا کر چار چار جوتے کیوں نہیں لگائے جاتے تاکہ سب کی عقل ٹھکانے آجائے“۔
”ایسی ذلت بھلا کون پسند کرے گا؟“
”ذلت عوام کا مقدر ہے کیونکہ ان کے پاس شعور نہیں۔ انہوں نے اس کو اپنا نصیب سمجھ لیا ہے اور کوئی یہ نہیں کہتا کہ یہ عقلمند ہم پر کیوں حکومت کررہے ہیں جو ہمارے ووٹ لے کرآتے ہیں اور ہمارے ہی پیسوں پر پلتے ہیں اور ہمارے درمیان اس طرح وی آئی پی انداز میں نکلتے ہیں، جیسے یہ انسان ہیں اور ہم سب گدھے۔ ان کی جان کی قیمت ہے اور ہم چیونٹیاں ہیں جس کے جی میں آئے پاؤں تلے روند جائے۔“
”تو تمہارے خیال میں عوام کیا کرسکتی ہے؟“
” کہہ تو رہا ہوں چار جوتے سب کو لگائے جائیں کیونکہ سب کو جلدی ہے۔ کسی کے پاس ان حکمرانوں سے پوچھنے کا وقت نہیں کہ یہ سب ہمارے لئے ہی کیوں ہے؟ کیا حکمران بھی اس لائن میں لگتے ہیں؟“
”سوال ہی پیدا نہیں ہوتا، آج تو تم لیڈروں جیسی باتیں کررہے ہو۔ کہیں الیکشن لڑنے کا پروگرام تو نہیں؟“
”شناختی کارڈ کی تصدیق توضروری ہے یہ ملکی سالمیت کا معاملہ ہے۔“
”جن لوگوں نے جعلی شناختی کارڈ تصدیق کرکے بنوا لیے ہیں کیا وہ دوبارہ تصدیق نہیں کرواسکتے؟ بجائے نظام ٹھیک کرنے کے آپ نظام الدین کو ٹھیک کرنے میں لگے ہیں بھلا اس طرح بھی کچھ حاصل ہوگا؟“
”جب تک یہ عقلمند موجود ہیں یہ نظام کبھی ٹھیک نہیں ہوسکتا، یہ بات نظام الدین کو سمجھنی ہوگی ورنہ، ورنہ لگ جا بیٹا لائن میں“۔


http://www.express.pk/story/524407/
 

کنعان

فعال رکن
شمولیت
جون 29، 2011
پیغامات
3,564
ری ایکشن اسکور
4,425
پوائنٹ
521
السلام علیکم

یہ کام اب بھی سرمایا دار یا مافیا کے ذریعے لائن کے بغیر ہو ہی گا اور اب بھی اسی طرح معمول کے مطابق جعلی کارڈ بنیں گے۔ مشکلات صرف سادہ لوہ عوام کی ہونگی جن کے کارڈ پہلے ہی درست ہیں۔

پچھلے دنوں ایک رپورٹ پیش کی گئی تھی کہ ایک انڈین جو انڈیا میں ہے اس کا کارڈ اور پاکستانی پاسپورٹ پاکستان سے بنا وہ پاسپورٹ لندن الطاف حسین کے آفس سے انڈیا جانا تھا مگر الطاف حسین کے آفس میں چھاپا کے دوران وہ پاسپورٹ پولیس نے قبضہ میں لیا اور انکورائی کے دوران صورت حال معلوم ہوئی۔

والسلام
 

خضر حیات

علمی نگران
رکن انتظامیہ
شمولیت
اپریل 14، 2011
پیغامات
8,767
ری ایکشن اسکور
8,515
پوائنٹ
964
مشکلات صرف سادہ لوہ عوام کی ہونگی جن کے کارڈ پہلے ہی درست ہیں۔
اکثر نظام نہ سہی تو نظاموں کی ایک کثیر تعداد غریب عوام کو ذلیل کرنے کے سوا اور کچھ نہیں ۔
چند دن پہلے ایک حادثہ پیش آیا ، کسی کی بچی کی لاپتہ ہوگئی ، اتفاق سے جہاں گم ہوئی ، وہاں پورا علاقہ کیمروں کی نگرانی میں تھا ، بیچارے دو تین دن ذلیل ہوئے ، منتیں سماجتیں کیں کہ ہمیں اس جگہ کے کیمروں کا ریکارڈ دکھا دیں ، ہمیں ہماری بیٹی نہ بھی ملی تو کافی تسلی اور آسانی ہو جائے گی ، لیکن کسی کے کان پر جوں تک نہ رینگی ۔
آخر تھک ہار کر وہ تین چار سو کلومیٹر سفر کرکے واپس اپنے علاقے میں چلے گئے ، قصہ مختصر وہاں جاکر انہیں بیٹی مل گئی ، اب وہی ادارے جن سے نا امید ہو کر وہ واپس چلے گئے ، ان کا مطالبہ ہے کہ وہاں سے لڑکی ہمارے سامنے پیش کی جائے ۔ گویا ایک مصیبت ٹلی تو دوسری نے منہ کھول لیا ، اب ہر دفتر میں جاکر کہیں گے کہ یہ بچی گم ہوئی تھی ، اب مل گئی ہے ، اور تفتیش کرنے والے اس میں ’ ویلے ‘ بیٹھ کر ’ نکتے ‘ نکالتے رہیں گے ۔
اب یہاں قانونی تقاضے جو بھی ہوں ، سوال یہ ہے کہ ایک عام آدمی کے لیے یہ قانون سہولت کا باعث ہے یا پریشانی کا ؟
 

خضر حیات

علمی نگران
رکن انتظامیہ
شمولیت
اپریل 14، 2011
پیغامات
8,767
ری ایکشن اسکور
8,515
پوائنٹ
964
شناختی کارڈ ، پاسپورٹ لے لیں ، غریب اور سادہ لوح عوام نے قانونی بنوانا ہوتا ہے ، تو کئی کئی دن دھوپ میں دھکے کھاتے ہیں ، ملازمین ( جن میں کئی جاہل بھی ہوتے ہیں ) کی کڑوی کسیلی سنتے ہیں ، لیکن جن چند افراد کے فساد اور لا قانونیت کو روکنے کے لیے ساری عوام کو عذاب میں ڈالا جاتا ہے ، ان کے لیے یہ سب چیزیں تیار شدہ گھر بیٹھے بٹھائے مل جاتی ہیں ۔
”جن لوگوں نے جعلی شناختی کارڈ تصدیق کرکے بنوا لیے ہیں کیا وہ دوبارہ تصدیق نہیں کرواسکتے؟ بجائے نظام ٹھیک کرنے کے آپ نظام الدین کو ٹھیک کرنے میں لگے ہیں بھلا اس طرح بھی کچھ حاصل ہوگا؟“
”جب تک یہ عقلمند موجود ہیں یہ نظام کبھی ٹھیک نہیں ہوسکتا، یہ بات نظام الدین کو سمجھنی ہوگی ورنہ، ورنہ لگ جا بیٹا لائن میں“۔
صاحب مضمون نے بجا فرمایا کہ ساری عوام کو ذلیل کرنے کی بجائے ، سسٹم میں کام کرنے والے بندوں کی ’ تربیت ‘ اور ’ نگرانی ‘ کا مناسب انتظام کیا جائے ۔
 
Top