• الحمدللہ محدث فورم کو نئےسافٹ ویئر زین فورو 2.1.7 پر کامیابی سے منتقل کر لیا گیا ہے۔ شکایات و مسائل درج کروانے کے لئے یہاں کلک کریں۔
  • آئیے! مجلس التحقیق الاسلامی کے زیر اہتمام جاری عظیم الشان دعوتی واصلاحی ویب سائٹس کے ساتھ ماہانہ تعاون کریں اور انٹر نیٹ کے میدان میں اسلام کے عالمگیر پیغام کو عام کرنے میں محدث ٹیم کے دست وبازو بنیں ۔تفصیلات جاننے کے لئے یہاں کلک کریں۔

قحطان قبیلے کا ایک شخص لوگوں کو اپنی چھڑی سے نہ ہانکے

محمد نعیم یونس

خاص رکن
رکن انتظامیہ
شمولیت
اپریل 27، 2013
پیغامات
26,588
ری ایکشن اسکور
6,779
پوائنٹ
1,207
السلام علیکم ورحمۃ اللہ وبرکاتہ!
محترم شیخ @اسحاق سلفی صاحب!

اس حدیث مبارکہ کی شرح مطلوب ہے.
صحیح بخاری، کتاب الفتن حدیث؛7119

حَدَّثَنَا عَبْدُ الْعَزِيزِ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ، حَدَّثَنِي سُلَيْمَانُ، عَنْ ثَوْرٍ، عَنْ أَبِي الْغَيْثِ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم قَالَ
"‏ لاَ تَقُومُ السَّاعَةُ حَتَّى يَخْرُجَ رَجُلٌ مِنْ قَحْطَانَ يَسُوقُ النَّاسَ بِعَصَاهُ ‏"


رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا قیامت اس وقت تک قائم نہ ہو گی جب تک قحطان قبیلے کا ایک شخص لوگوں کو اپنی چھڑی سے نہ ہانکے.
 

اسحاق سلفی

فعال رکن
رکن انتظامیہ
شمولیت
اگست 25، 2014
پیغامات
6,372
ری ایکشن اسکور
2,632
پوائنٹ
791
السلام علیکم ورحمۃ اللہ وبرکاتہ!
اس حدیث مبارکہ کی شرح مطلوب ہے.
صحیح بخاری، کتاب الفتن حدیث؛7119
حَدَّثَنَا عَبْدُ الْعَزِيزِ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ، حَدَّثَنِي سُلَيْمَانُ، عَنْ ثَوْرٍ، عَنْ أَبِي الْغَيْثِ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم قَالَ
"‏ لاَ تَقُومُ السَّاعَةُ حَتَّى يَخْرُجَ رَجُلٌ مِنْ قَحْطَانَ يَسُوقُ النَّاسَ بِعَصَاهُ ‏"
وعلیکم السلام ورحمۃ اللہ وبرکاتہ
امام بخاری لکھتے ہیں :
باب تغيير الزمان حتى يعبدوا الأوثان:
باب: قیامت کے قریب زمانہ کا بدلنا یہاں تک کہ وہ لوگ بتوں کی عبادت کریں گے

عن ابي هريرة ان رسول الله صلى الله عليه وسلم قال:‏‏‏‏"لا تقوم الساعة حتى يخرج رجل من قحطان يسوق الناس بعصاه".
(صحیح البخاری ،حدیث نمبر: 7117 )
سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ”قیامت اس وقت تک قائم نہ ہو گی یہاں تک کہ قحطان کا ایک شخص (بادشاہ بن کر) نکلے گا اور لوگوں کو اپنے ڈنڈے سے ہانکے گا۔“

علامہ ابن حجر رحمہ اللہ فتح الباری میں لکھتے ہیں :
قَالَ الْقُرْطُبِيُّ فِي التَّذْكِرَةِ قَوْلُهُ يَسُوقُ النَّاسَ بِعَصَاهُ كِنَايَةٌ عَنْ غَلَبَتِهِ عَلَيْهِمْ وَانْقِيَادِهِمْ لَهُ وَلَمْ يُرِدْ نَفْسَ الْعَصَا لَكِنْ فِي ذِكْرِهَا إِشَارَةٌ إِلَى خُشُونَتِهِ عَلَيْهِمْ وَعَسْفِهِ بِهِمْ ۔۔۔۔۔۔
کہ علامہ قرطبی ؒ اپنی کتاب ’’ التذکرہ ‘‘ میں فرماتے ہیں کہ کہ :
اس حدیث میں موجود ارشاد نبوی ’’ ڈنڈے سے ہانکے گا“ سے مراد یہ ہے کہ اس کا لوگوں پر غلبہ ہوگا ،اور وہ اس کی اطاعت پر کاربند ہونگے ،
ہاں ضمناً یہ اشارہ پایا جاتا ہے کہ اس میں کسی قدر سختی بھی ہوگی ،انتہی
ابن حجر فتح الباری میں لکھتے ہیں :
وَأَخْرَجَهُ بِإِسْنَادٍ جيد أَيْضا من حَدِيث بن عَبَّاسٍ قَالَ فِيهِ وَرَجُلٌ مِنْ قَحْطَانَ كُلُّهُمْ صَالِحٌ ‘‘
یعنی امام ابو نعیم نے بہترین سند سے ابن عباس سے نقل کیا کہ انہوں نے خلفاء کا تذکرہ کیا اور فرمایا ان میں ایک خلیفہ قحطان میں سے ہوگا ،اور یہ تمام خلفاء نیک لوگ ہونگے ‘‘
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
قحطان
امام ابن کثیر البدایہ و النہایہ میں فرماتے ہیں :
صحیح اور مشہور قول یہ ہے کہ عرب دو حصوں میں منقسم ہیں۔ ان میں سے حضرت اسمٰعیل علیہ السلام سے قبل کے عرب باشندے عرب عاربہ کہلاتے ہیں ۔ عاد ، ثمود ، طسم ، امیم ، جرھم اور عمالیق اور اسی طرح کی بعض دوسری اقوم انھی کی قبیل سے ہیں۔یہ وہ لوگ ہیں جو حضرت ابراہیم علیہ السلام کی آمد سے بھی پہلے عرب میں آباد تھے اور ان کی نسل میں سے لوگوں کی کچھ تعداد ان کے زمانے میں بھی موجود تھی ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
جمہور کا فیصلہ یہی ہے کہ قحطانی عرب یمن اور دوسرے علاقوں کے رہنے والے ہیں ۔ یہ اسمٰعیل علیہ السلام کی اولاد میں سے نہیں ہیں۔اور ان کے نزدیک تمام عرب قحطانی اور عدنانی ،دو ہی قبائل میں سے کسی ایک سے تعلق رکھتے ہیں۔قحطانی عرب دو شاخوں سبا اور حضرموت میں منقسم ہو گئے ہیں۔اسی طرح عدنانیوں کی بھی دو شاخیں ربیعہ اور مضر ہیں۔یہ دونوں گروہ نزار بن معد بن عدنان کی اولاد میں سے ہیں۔
ان کی دوسری قسم عرب مستعربہ کہلاتی ہے ۔ اس نسل کے لوگ عرب کے علاقے حجاز کے باشندے ہیں اور ان کا تعلق حضرت ابراہیم علیہ السلام کے بیٹے حضرت اسمٰعیل علیہ السلام سے ہے۔
یمن میں آباد عرب حمیر کہلاتے ہیں ۔ابن ماکول کی روایت کے مطابق وہ قحطان نام کے ایک شخص کی اولاد میں سے ہیں جس کا اصل نام مہزم تھا۔ مورخین کے بیان کے مطابق وہ چار بھائی تھے ۔قحطا ن کے علاوہ باقی بھائیوں کے نام قاحط ، مقحط اور فالغ ہیں۔
قحطان کون تھا ؟ اس کے بارے میں مؤرخین میں اختلاف ہے۔ان میں سے بعض روایات کے مطابق :
۱۔قحطان حضرت ہود علیہ السلام کا بیٹا تھا۔
۲۔قحطان ہود علیہ السلام ہی کا دوسرا نام ہے۔
۳۔قحطان ہود علیہ السلام کی اولاد میں سے تھا ۔
۴۔قحطان حضرت اسمٰعیل علیہ السلام کی نسل سے تھا ۔
بعض علماے انساب نے ان کا سلسلۂ نسب یہ بیان کیا ہے:
قحطان بن ہمیسع بن تیمن بن قیذر بن نبت بن اسمٰعیل علیہ السلام۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
سہیلی کی تحقیق کے مطابق قحطان وہ پہلا شخص تھا جسے 'ابیت اللعن' کا خطاب دیا گیا،اور وہ پہلا شخص تھا جسے 'انعم صباحاً' کہا گیا۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
امام ابن حجر رحمہ اللہ فتح الباری میں مزید لکھتے ہیں :وَذكر بن بَطَّالٍ أَنَّ الْمُهَلَّبَ أَجَابَ بِأَنَّ وَجْهَهُ أَنَّ الْقَحْطَانِيَّ إِذَا قَامَ وَلَيْسَ مِنْ بَيْتِ النُّبُوَّةِ وَلَا مِنْ قُرَيْشٍ الَّذِينَ جَعَلَ اللَّهُ فِيهِمُ الْخِلَافَةَ فَهُوَ مِنْ أَكْبَرِ تَغَيُّرِ الزَّمَانِ وَتَبْدِيلِ الْأَحْكَامِ بِأَنْ يُطَاعَ فِي الدِّينِ مَنْ لَيْسَ أَهْلًا لِذَلِكَ انْتَهَى وَحَاصِلُهُ أَنَّهُ مُطَابِقٌ لِصَدْرِ التَّرْجَمَةِ وَهُوَ تَغَيُّرُ الزَّمَانِ وَتَغَيُّرُهُ أَعَمُّ مِنْ أَنْ يَكُونَ فِيمَا يَرْجِعُ إِلَى الْفِسْقِ أَوِ الْكُفْرِ وَغَايَتُهُ أَنْ يَنْتَهِيَ إِلَى الْكُفْرِ فَقِصَّةُ الْقَحْطَانِيِّ مُطَابِقَةٌ لِلتَّغَيُّرِ بِالْفِسْقِ مَثَلًا وَقِصَّةُ ذِي الخلصة للتغير بالْكفْر ‘‘
کہ امام ابن بطال فرماتے ہیں : کہ مذکور قحطانی نہ تو خاندان نبوی سے ہوگا ، اور نہ ہی قریش سے ، جن میں اللہ نے حکومت وخلافت رکھی ہے ،
اس لحاظ سے یہ حالات میں بہت بڑا بگاڑ یا تبدیلی ہوگی جو واقع ہوگی ،
اور دین میں تبدیلی اس امر میں یوں ہوگی کہ دین کے حوالے سے اس کی اطاعت کی جائے حالانکہ وہ اس کا اہل نہیں ہوگا ،انتھی
تو اس وضاحت کا حاصل یہ ہے کہ : یہ حدیث عنوان باب کے مطابق ہے کہ
’’ قیامت کے قریب زمانہ کا بدلنا ‘‘
اور ’’ تبدیلی ‘‘ سے مراد عمومی تبدیلی ہے کسی ایک شعبہ زندگی کی تبدیلی مراد نہیں ،
(اور بڑی تبدیلی یہ ہوگی کہ خلافت جس کے اہل صرف قریش ہیں وہ ان سے نکل کر قحطانیوں میں چلی جائے گی ،نبی اکرم ﷺ کا فرمان ذی شان ہے کہ
إِنَّ هَذَا الْأَمْرَ فِي قُرَيْشٍ لَا يُعَادِيهِمْ أَحَدٌ إِلَّا كَبَّهُ اللَّهُ عَلَى وَجْهِهِ مَا أَقَامُوا الدِّينَ.
(صحیح البخاری ۳۵۰۰ )
کہ یہ خلافت قریش میں رہے گی اور جو بھی ان سے دشمنی کرے گا اللہ تعالیٰ اس کو سرنگوں اور اوندھا کر دے گا جب تک وہ (قریش) دین کو قائم رکھیں گے۔
 
Top