• الحمدللہ محدث فورم کو نئےسافٹ ویئر زین فورو 2.1.7 پر کامیابی سے منتقل کر لیا گیا ہے۔ شکایات و مسائل درج کروانے کے لئے یہاں کلک کریں۔
  • آئیے! مجلس التحقیق الاسلامی کے زیر اہتمام جاری عظیم الشان دعوتی واصلاحی ویب سائٹس کے ساتھ ماہانہ تعاون کریں اور انٹر نیٹ کے میدان میں اسلام کے عالمگیر پیغام کو عام کرنے میں محدث ٹیم کے دست وبازو بنیں ۔تفصیلات جاننے کے لئے یہاں کلک کریں۔

عدالتی نکاح

کلیم حیدر

ناظم خاص
شمولیت
فروری 14، 2011
پیغامات
9,747
ری ایکشن اسکور
26,385
پوائنٹ
995
السلام علیکم ورحمۃ اللہ وبرکاتہ
آج کل عدالتی نکاح کے کیس بہت دیکھنے کو مل رہے ہیں۔آئے روز کوئی نہ کوئی واقعہ پڑھنے کو ملتا ہے کہ فلاں لڑکے اور لڑکی نے عدالت میں شادی کرلی ہے۔پوچھنا یہ ہے کہ اس نکاح کے بارےمیں کیا حکم ہے۔؟ کیا یہ نکاح ہوجائے گا یا نہیں ۔؟
 

ابوالحسن علوی

علمی نگران
رکن انتظامیہ
شمولیت
مارچ 08، 2011
پیغامات
2,521
ری ایکشن اسکور
11,557
پوائنٹ
641
عدالتی نکاح یا کورٹ میرج، نکاح کی کوئی قسم نہیں ہے بلکہ ہوتا یوں ہے کہ ایک لڑکا اور لڑکی گھر سے بھاگ کر کسی مولوی صاحب کی خدمات لے کر دو گواہوں کی موجودگی میں نکاح کر لیتے ہیں،
بعض اوقات تو اس میں دو گواہ بھی موجود نہیں ہوتے ہیں اور بس لڑکا اور لڑکی آپس میں ہی ایجاب و قبول کر لیتے ہیں
اور اب تو یہ آن لائن بھی ہونے لگا ہے کہ جس میں کاغذوں میں تو دو گواہ موجود ہوتے ہیں اور اس گواہی کی وہ فیس بھی لیتے ہیں جبکہ امر واقعہ میں نکاح کے وقت کوئی گواہ ایجاب و قبول کے وقت موجود نہیں ہوتا ہے۔
بعض اوقات خطبہ نکاح ہو جاتا ہے اور بعض اوقات نہیں ہوتا ہے۔
بعض اوقات یوں بھی ہوتا ہے کہ ایک تھانہ میں لڑکا اور لڑکی حاضر ہو کر ایس۔ایچ۔او کے سامنے ایجاب و قبول کر لیتے ہیں۔
یہ واضح رہے کہ یہ سب کچھ عدالت سے باہر ہوتا ہے۔ بعد ازاں لڑکا اور لڑکی اس عقد نکاح کا اقرار کسی مجسٹریٹ (جج) کے سامنے کر لیتے ہیں۔ اس اقرار نامے کو عموما عدالتی نکاح کا نام دیا جاتا ہے۔ جج کے سامنے یہ اقرار عاقدین اپنے تحفظ کے لیے کرتے ہیں۔ پس عدالتی نکاح میں ایک تو لڑکی کا ولی موجود نہیں ہوتا ہے اور دوسرا اکثر اوقات گواہان کاغذوں میں تو موجود ہوتے ہیں لیکن امر واقعہ میں نہیں ہوتے ہیں۔

لڑکی کے ولی اور عدم موجودگی اور بعض صورتوں میں گواہان کی بھی عدم موجودگی کے سبب سے یہ نکاح باطل ہے۔ اگرچہ یہ واضح رہے کہ کسی خاص کیس میں کسی لڑکی سے اضطرار کو دور کرنے کے لیے ولی کے بغیر نکاح کی اجازت دی جا سکتی ہے
مثلا اگر کوئی عیسائی یا قادیانی لڑکی مسلمان ہو جاتی ہے تو اس کی ولایت اس کے اولیاء سے اہل اسلام کی طرف منتقل ہو جائے گی
یا اگر کسی لڑکی کا والد اس کی شادی ہی نہیں کر رہا ہے اور اس کی شادی کی عمر گزر رہی ہے
یا کسی غلط جگہ اس کی شادی کر رہا ہے جیسا کہ پاکستان کے بعض علاقوں میں بیٹیوں کو شادی کے نام پر بیچ بھی دیا جاتا ہے وغیرہ
تو ایسی صورت میں بھی ولایت والد سے دیگر اولیاء کی طرف بالترتیب منتقل ہو جائے گی لیکن لڑکی کی شادی اس کی ولی ہی کی اجازت سے ہو گی۔

ایک مسئلہ ہے کہ لڑکی کی شادی یا نکاح کہاں ہوں تو اس میں اختلاف کی صورت میں ولی اور لڑکی میں سے لڑکی رائے کو ترجیح حاصل ہے اور ایک مسئلہ ہے کہ لڑکی کی شادی یا نکاح کون کرے تو اس میں صرف ایک ہی آپشن ہے اور وہ ولی کا ہے یعنی لڑکی کو اپنی پسند کی جگہ نکاح کی اجازت تو ہے لیکن ولی کے ذریعہ اور اگر ولی اس جگہ نکاح پر راضی نہ ہو رہا ہو تو ایسی صورت میں کسی مفسدہ کے لاحق ہونے کی صورت میں ولایت باپ سے کسی دوسرے رشتہ دار مثلا دادا، چچا، بھائی کی طرف منتقل ہو جائے گی جو لڑکی کی ذمہ داری لے کر اس کا نکاح اس جگہ کر دے جہاں وہ کرنا چاہتی ہے،لیکن لڑکی اپنا نکاح ہر صورت ولی ہی کے ذریعہ کرے گی نہ کہ ولی کے بغیر۔

سوال : میں اجنبی ملک میں رہائش پزیرہوں اورکسی اورملک کی ایک نصرانی لڑکی سے شادی کی ہے ، ہم دونوں کا اس ملک میں کوئي بھی قریبی رہائش پزیر نہیں ، میں نے اسے شادی کا پیغام دیا تووہ شادی پر رضامند ہوگئی بعد میں ہمارا ایجاب وقبول بھی ہوا لیکن میں مہر دینا بھول گيا اور بعد میں اسے کچھ رقم دی ، اس لڑکی کا کوئي وصی نہیں وہ بالغ اوربا اختیار ہے ، اوراس شادی کے کوئي گواہ بھی نہیں ۔
توکیا یہ شادی صحیح ہے ، ہم نے معاشرے کے رسم و رواج سے ہٹ کر صرف اللہ تعالی کی رضا کے لیے شادی کی تھی ، اس خدشہ سے کہ کہیں ہماری یہ شادی غلط نہ ہوایک دوسرے کو طلاق دے دی ، توکیا ایسا کرنا صحیح تھا، اورکیا اب گواہوں اوراس کے کسی ولی کی موجودگي میں عقد نکاح کرنا واجب ہوگا ؟

الحمد للہ :

اول :

جمہور علماء کرام جن میں امام شافعی ، امام احمد ، امام مالک رحمہ اللہ تعالی کامسلک ہے کہ کسی بھی مرد کے لیےحلال نہیں کہ وہ عورت سے اس کے ولی کے بغیر شادی کرے چاہے وہ عورت کنواری ہو یا شادی شدہ ۔

ان کے دلائل میں مندرجہ ذيل آیات شامل ہیں :

اللہ سبحانہ وتعالی کافرمان ہے :

{ اورتم انہیں اپنے خاوندوں سے شادی کرنے سے نہ روکو }

اورایک دوسرے مقام پر کچھ اس طرح فرمایا :

{ اورمشرکوں سے اس وقت تک شادی نہ کرو جب تک وہ ایمان نہيں لے آتے } ۔

اورایک مقام پر یہ فرمایا :

{ اوراپنے میں سے بے نکاح مرد و عورت کا نکاح کردو } ۔

ان آیات میں نکاح میں ولی کی شرط بیان ہوئي ہے اوراس کی وجہ دلالت یہ ہے کہ اللہ تعالی نے ان سب آیات میں عورت کے ولی کو عقدنکاح کے بارہ میں مخاطب کیا ہے اوراگر معاملہ ولی کا نہیں بلکہ صرف عورت کے لیے ہوتا تو پھر اس کے ولی کو مخاطب کرنے کی ضرورت ہی نہیں تھی ۔

امام بخاری رحمہ اللہ تعالی کی فقہ ہے کہ انہوں نے اپنی صحیح بخاری میں ان آیات پر یہ کہتے ہوئے باب باندھا ہے ( باب من قال ) " لانکاح الا بولی " بغیر ولی کے نکاح نہیں ہونے کے قول کے بارہ میں باب ۔

اورحدیث میں بھی یہ وارد ہے کہ : ابوموسی رضي اللہ تعالی عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا :

( ولی کے بغیر نکاح نہیں ہوتا ) سنن ترمذي حدیث نمبر ( 1101 ) سنن ابوداود حدیث نمبر ( 2085 ) سنن ابن ماجہ حدیث نمبر( 1881 ) ۔

علامہ البانی رحمہ اللہ تعالی نے صحیح سنن ترمذی ( 1 / 318 ) میں اس حدیث کو صحیح قرار دیا ہے ۔

اورام المومنین عائشہ رضي اللہ تعالی عنہا بیان کرتی ہيں کہ رسول مکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا :

( جوعورت بھی اپنے ولی کے بغیر نکاح کرے اس کا نکاح باطل ہے ، اس کا نکاح باطل ہے ، اس کا نکاح باطل ہے ، اوراگر ( خاوندنے ) اس سے دخول کرلیا تو اس سے نفع حاصل اوراستمتاع کرنے کی وجہ سے اسے مہر دینا ہوگا ، اوراگر وہ آپس میں جھگڑا کریں اور جس کاولی نہیں حکمران اس کا ولی ہوگا ) سنن ترمذی حدیث نمبر ( 1102 ) سنن ابوداود حدیث نمبر ( 2083 ) سنن ابن ماجہ حدیث نمبر ( 1879 ) علامہ البانی رحمہ اللہ تعالی نے ارواء الغلیل ( 1840 ) میں اسے صحیح قرار دیاہے ۔

حدیث میں اشتجروا کا معنی تنازعوا یعنی تنازع ہے ۔

دوم :

اگر عورت کا ولی اسے اپنی پسند کی شادی بغیر کسی عذر کے نہیں کرنے دیتا تواس کی ولایت ختم ہوکر اس کے نزدیکی کے منتقل ہوجائے گی مثلا باب کی بجائے دادا ولی بن جائے گا ۔

سوم :

اوراگر اس کے سب اولیاء نے اسے بغیر کسی عذر شرعی کے شادی کرنے سے روکا تو سابقہ حدیث کی وجہ سے حکمران ولی بنے گا کیونکہ حدیث میں ہے ( ۔۔۔ اگر وہ جھگڑا کریں تو جس کا ولی نہ ہو حکمران اس کا ولی ہے ) ۔

چہارم :

اگر نہ توولی ہواور نہ ہی حکمران تو پھر وہ شخص اس کی شادی کرے گا جسے سلطہ اور اختیار حاصل ہو مثلا گاؤں کا نمبردار ، یا گورنر ، وغیرہ ،اوراگر یہ بھی نہ ہوں تووہ عورت اپنی شادی کے لیے کسی مسلمان امین شخص کو اپنی شادی کے لیے وکیل بنائے ۔

شیخ الاسلام ابن تیمیہ رحمہ اللہ تعالی کہتے ہیں :

اگر نکاح کا ولی نہ ہو تواس حالت میں ولایت اس شخص کی طرف منتقل ہوگی جسے نکاح کے علاوہ دوسرے معاملات میں ولایت حاصل ہو مثلا گا‎ؤں کا نمبردار ، یا قافلے کا امیر وغیرہ ۔ دیکھیں الاختیارات ص ( 350 ) ۔

اورابن قدامہ مقدسی رحمہ اللہ تعالی کہتے ہیں :

اگرعورت کا ولی نہ ہو اورنہ ہی حکمران ملے تو امام احمد کا قول ہے کہ اس عورت کی اجازت سے کوئي عادل شخص اس کی شادی کردے ۔ دیکھیں المغنی ( 9 / 362 ) ۔

اورشیخ عمر الاشقر کہتے ہیں :

جب مسلمانوں کی طاقت ختم ہوجائے اورانہیں سلطہ حاصل نہ ہو یا پھر عورت کسی ایسی جگہ رہتی ہو جہاں پر مسلمان اقلیت میں ہوں اورانہیں کوئي اختیار نہ ہو ان کا حکمران نہ ہو اورعورت کا ولی بھی نہ ہو جس طرح کے امریکہ وغیرہ میں مسلمان بستے ہیں ۔

اگر ان ممالک میں اسلامی تنظیمیں ہوں جو مسلمانوں کے حالات کا خیال رکھتی ہوں تویہی تنظیم بھی اس عورت کا شادی کرے گی ، اوراسی طرح اگر مسلمانوں کا کوئي ایسا امیر ہوجس کی بات تسلیم کی جاتی ہواور وہ اس کی اطاعت ہوتی ہو یا کوئي مسئول جو اس کے حالات کی دیکھ بھال کرتا ہو وہ عورت کا ولی بنے گا ۔ دیکھیں : الواضع فی شرح قانون الاحوال الشخصیۃ الاردنی ص ( 70 ) ۔

عقد نکاح میں واجب اورضروری ہے کہ دو عدد عاقل بالغ مسلمان اس عقدنکاح کی گواہی دیں ۔ آپ اس کی تفصیل دیکھنے کے لیے سوال نمبر ( 2127 ) کے جواب کا مطالعہ کریں ۔

اس لیے آپ کی پہلی شادی باطل تھی اب آپ کو دوبارہ نکاح کرنا چاہیے اوراس میں عورت کے ولی اور دوگواہوں کا ہونا ضروری ہے جیسا کہ پہلے بیان کیا جا چکا ہے ۔

واللہ اعلم .

الاسلام سوال وجواب
 

کلیم حیدر

ناظم خاص
شمولیت
فروری 14، 2011
پیغامات
9,747
ری ایکشن اسکور
26,385
پوائنٹ
995
علوی بھائی جان جزاک اللہ خیرا
آپ نےکہا کہ عدالتی نکاح یا کورٹ میرج کوئی نکاح نہیں ۔
جو نکاح اس وقت تک ہوچکے ہیں ۔ان کےبارے میں کیا حکم ہے۔؟
اور پھر آپ نے کہا کہ
خاص کیس میں کسی لڑکی سے اضطرار کو دور کرنے کے لیے ولی کے بغیر نکاح کی اجازت دی جا سکتی ہے۔
جس میں آپ نے یہ صورتیں بیان کی ہیں۔
مثلا اگر کوئی عیسائی یا قادیانی لڑکی مسلمان ہو جاتی ہے تو اس کی ولایت اس کے اولیاء سے اہل اسلام کی طرف منتقل ہو جائے گی
یا اگر کسی لڑکی کا والد اس کی شادی ہی نہیں کر رہا ہے اور اس کی شادی کی عمر گزر رہی ہے
یا کسی غلط جگہ اس کی شادی کر رہا ہے جیسا کہ پاکستان کے بعض علاقوں میں بیٹیوں کو شادی کے نام پر بیچ بھی دیا جاتا ہے وغیرہ
یہ صورتیں بیان کرکے آپ نے کہا کہ
تو ایسی صورت میں بھی ولایت والد سے دیگر اولیاء کی طرف بالترتیب منتقل ہو جائے گی لیکن لڑکی کی شادی اس کی ولی ہی کی اجازت سے ہو گی۔
یہاں سمجھ نہیں آئی کہ اوپر آپ نے کہا کہ
خاص کیس میں ولی کے بغیر لڑکی سے اضطرار دور کرنے کےلیے نکاح کی اجازت دی جاسکتی ہے ۔اور یہاں پر آپ نے کہا کہ ولایت منتقل ہوجائے گی۔کیا دونوں میں فرق نہیں ۔؟
اور اس کے علاوہ جو لوگ عدالتی نکاح یا کورٹ میرج کے جائز کا فتوی دیتے ہیں ۔جس طرح ’یہاں‘ تو پھر اس بارے کیا حکم ہے۔؟ کہ ایک آدمی جو ان پڑھ ہے اور وہ جاکر ان سے فتوی لے کر کورٹ میرج کرلیتا ہے۔تو اس کے نکاح بارے کیا حکم ہے۔؟
اس میں ایک اور سوال بھی ہے کہ
لڑکی ایک جگہ شادی کرنا چاہتی ہے ۔لیکن ولی نہیں مان رہا تو کیا ولی پرزبردستی کرکے ولی کی اجازت لی جاسکتی ہے۔کیونکہ حدیث کے الفاظ ’’لا نکاح الا بولی ‘‘ اس پر دلالت کررہے ہیں کہ ولی ضروری ہے ۔اب یہ نہیں کہ ولی کس کیفیت میں ضروری ہے۔؟اس بارے کچھ تفصیل ۔؟
الاسوال والجواب سے آپ نے جو فتوی لگایا ہے اس سے میں نے تو یہ سمجھا ہے ۔
کہ مجبوری ،اضطراری حالت میں لڑکی اپنا نکاح کرواسکتی ہے۔لیکن ایک شرط کے ساتھ کہ دو عدد عاقل بالغ مسلمان اس عقد کی گواہی دیں۔
اگر عدالت میں ایسا ہو کہ دو مسلمان گواہی دیں اور اضطرار بھی ہو تو کیا نکاح ہوجائے گا۔؟
اضطرار کی موجود ہ صورتوں کے علاوہ اور بھی صورتیں مثلا لڑکی اپنے خاندان میں شادی کرنا ہی نہیں چاہتی کیونکہ وہ اس میں بھلائی ہی نہیں سمجھتی یا وہ جس قوم سے تعلق رکھتی ہے وہ سخت اور جھگڑالوں قوم ہے وہ اپنی قوم سے باہر جانا چاہتی ہے لیکن کوئی راضی نہیں ۔یا وہ کسی خاص لڑکے سے شادی کرنا چاہتی ہے لیکن ولی اجازت نہیں دے رہا۔وغیرہ
تو کیا یہاں اصل ولیوں سے ولایت منتقل ہوکر حکمران،سلطہ اور اختیار والا،مسلمان امین،اسلامی تنظیمیں،مسلمانوں کا امیر ،مسؤل،میں آجائے گی۔؟
 

ابوالحسن علوی

علمی نگران
رکن انتظامیہ
شمولیت
مارچ 08، 2011
پیغامات
2,521
ری ایکشن اسکور
11,557
پوائنٹ
641
جہاں حالت اضطرار میں ولی کے بغیر نکاح کی بات کی گئی ہے تو وہاں ولی سے مراد لڑکی کا اولین ولی ہے کہ اس کے بغیر نکاح ہو جائے گا یعنی اس سے ولایت منتقل ہو کر۔
اس موضوع پر ایک کتاب مکمل کر رہا ہوں، ان شاء اللہ وقتا فوقتا فورم پر پوسٹ کر دوں گا۔ اجمال سے آپ کو مزید سوالات پیدا ہوں گے۔
خلاصہ یہ ہے کہ ائمہ ثلاثہ ولی کے بغیر نکاح کے قائل نہیں ہیں جبکہ فقہ حنفی میں اس بارے سات اقوال ان کی کتب میں مروی ہیں۔ دو امام ابو حنیفہ، تین قاضی ابو یوسف اور دو امام محمد سے اور ان اقوال میں باہم تعارض ہے لہذا حنفیہ میں بعض کسی قول کو ناسخ مانتے ہیں اور بعض کسی کو۔ فقہ حنفی کے اصحاب ترجیح نے فقہ حنفی کے ساتھ ظلم یہ کیا ہے کہ ولی کے بغیر والے قول کو ترجیح دے کر ما بعد کا قول قرار دیتے ہوئے فتوی دے دیا ہے اگرچہ احتیاط یہ کی کہ اسے کفو کے ساتھ مشروط کر دیا۔ امر واقعہ یہ ہے کہ کوئی بھی امام ولی کے بغیر نکاح کا قائل نہیں ہے اور یہی کتاب وسنت کا بھی قطعی فیصلہ ہے۔ اور ایسے لوگ اسلامی ریاست کی طرف سے تعزیر کے مستحق ہیں جو مطلقا بغیر ولی کے نکاح کو جائز قرار دیتے ہیں اور ان کے جائز قرار دینے سے کوئی حرام، حلال نہیں ہو جاتا ہے۔

باقی اضطراری حالات کو کھینچنا نہیں چاہیے کیونکہ وہ اصول نہیں ہیں اور ان پر ضرورت سے زیادہ بحث کا نتیجہ یہ نکلے گا کہ لوگ اسے کم علمی یا اپنے مفاد کی خاطر عمومی رویہ اور اصول بنا لیتے ہیں۔ کیس ٹو کیس میں ایک شخص کو اپنا مسئلہ مفتی کو بتلانا چاہیے اور مفتی اس کے حالات سن کر اسے کوئی فتوی جاری کر دے۔
 
Top