• الحمدللہ محدث فورم کو نئےسافٹ ویئر زین فورو 2.1.7 پر کامیابی سے منتقل کر لیا گیا ہے۔ شکایات و مسائل درج کروانے کے لئے یہاں کلک کریں۔
  • آئیے! مجلس التحقیق الاسلامی کے زیر اہتمام جاری عظیم الشان دعوتی واصلاحی ویب سائٹس کے ساتھ ماہانہ تعاون کریں اور انٹر نیٹ کے میدان میں اسلام کے عالمگیر پیغام کو عام کرنے میں محدث ٹیم کے دست وبازو بنیں ۔تفصیلات جاننے کے لئے یہاں کلک کریں۔
شمولیت
دسمبر 01، 2016
پیغامات
143
ری ایکشن اسکور
26
پوائنٹ
71
طرحی غزل​

محمد مزمل دانش​

پیاری زباں ہماری اردو زباں ہماری
سب کے لبوں پہ جاری اردو زباں ہماری

لوری سنا کے بچوں کو ماں سلا رہی ہے
شیریں زباں ہماری اردو زباں ہماری

محفل میں چھا رہی ہے سب کو ہنسا رہی ہے
کتنی ہے بھولی بھالی اردو زباں ہماری

آسان ہے وہ اتنی کہ خواب میں بھی آئے
اپنوں میں بھی وہ جاری اردو زباں ہماری

دانشؔ غزل جو سارے عالم پہ چھا رہی ہے
سب کی بنی دلاری اردو زباں ہماری
 
شمولیت
دسمبر 01، 2016
پیغامات
143
ری ایکشن اسکور
26
پوائنٹ
71
غزل​

احمد بنگلورى​

سجدے اور نمازوں سے رب کو میں منا لوں گا
رب کو میرے منوا کردو جہاں سجا لوں گا

آج گر فرنگی ہوں کل خدا کی مرضی سے
رب کی ساری باتوں کو سینے سے لگا لوں گا

لفظ زندگی میں خود پیچ و خم عیاں ہیں جب
زندگی سے ڈر کیوں کر، موت کو لبھا لوں گا

اہل علم سے لوگو! علم جتنا ہو سیکھو
رب نے بول رکھا ہے علم کو اٹھا لوں گا

فرقہ بندیوں میں جب لوگ بٹتے جاتے ہیں
سب کو ایک کرنے کو فرقہ اک بنا لوں گا

ایک ضربِ غربت سے بے مکاں ہوا احمدؔ
کل خدا کی مرضی سے آشیاں سجا لوں گا
 
شمولیت
دسمبر 01، 2016
پیغامات
143
ری ایکشن اسکور
26
پوائنٹ
71
غزل​

ساجد عبد البارى ساجد​

تاکتے بس تمہیں رات بھر رہ گئے
اور کھوئے ہوے تم کدھر رہ گئے

کیسی نفرت کی دیوار حائل ہوی
ہم اِدھر رہ گئے وہ اُدھر رہ گئے

جب حکومت چلی ہر سوالات پر
ہو کے پامال سارے ہنر رہ گئے

آج کل ظلم کی انتہا ہوگئی
خوں کی بارش میں سب بھیگ کر رہ گئے

کتنا مشکل ہوا آج جینا مرا
اجنبی بن کے دیوار و در رہ گئے

ایک طرفہ محبت نے الجھا دیا
حال ساجدؔ سے وہ بے خبر رہ گئے
 
شمولیت
دسمبر 01، 2016
پیغامات
143
ری ایکشن اسکور
26
پوائنٹ
71
غزل​

الماس فتح پورى
​
مرے ٹوٹے ہوے دل میں ترا کیوں آنا جانا ہے؟
قسم کھائی ہے کیا تو نے مجھے کب تک رلانا ہے؟

محبت کا رچا کر ڈھونگ تڑپانا ترا مجھ کو
محبت نام دھوکے کا ہے یا بس اک فسانہ ہے؟

ہوی کیا اک خطا مجھ سے نظر کی بن گیا مجرم
ہزاروں جرم تیرے معاف یہ کیسا زمانہ ہے؟

بُھلانے کی تجھے تو خود ہی اک ترکیب بتلا دے
ورق سے دل کے تیرا نام اب مجھ کو مٹانا ہے

مرے خوابوں میں آکر وعدۂ الفت یہ آخر کیوں؟
بہایا اب تلک آنسو تھا اب کیا خوں بہانا ہے؟

ملے یا نہ ملے مجھ سا کوی اس کو زمانہ میں
مرے الماسؔ اس کو بس خدا را بھول جانا ہے
 
شمولیت
دسمبر 01، 2016
پیغامات
143
ری ایکشن اسکور
26
پوائنٹ
71
غزل​

اظهر بنگلورى​

دنیا میں مرا کوئی بھی غمخوار نہیں ہے
یاں میرا کوئی یار وفادار نہیں ہے

اللہ حفاظت کرے عورت کی جہاں میں
مریم سى، عائشہ سی، حیا دار نہیں ہے

کیوں لوگ مغفرت کی دعائیں نہیں کرتے؟
کیا کوی بھی انسان خطا کار نہیں ہے؟

کیوں غیر کے دربار میں سر اپنا جھکائیں؟
دنیا میں کیا اللہ کا دربار نہیں ہے؟

اک ہی بشر نے دنیا کا نقشہ بدل دیا
لوگو بتاؤ کیا یہ چمتکار نہیں ہے؟

دنیا سے کیوں ہوا ہے تو بیزار اے اظہرؔ؟
کیا تیرا یہاں کوی بھی دلدار نہیں ہے
 
Top